مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 24: چوبیسویں داستان

چوبیسویں داستان

بکاؤلی کے پیدا ہونے کی ایک کسان کے گھر میں اور

تاج الملوک اور چتراوت کے ملنے میں اور پہنچنے میں ملک نگاریں کے

کہتے ہیں کہ اس بت خانہ کی زمین کو ایک کسان نے جوتا اور وہاں سرسوں بوئی۔ تاج الملوک وہاں کبھی کبھی سبزے کو دیکھنے جاتا تھا اور اپنے دلِ بے قرار کو وہاں کے سبزے سے تسکین دیتا تھا۔ جب وہ پھولی اور اس نے بہار پیدا کی، تب شہزادہ وہاں دونوں وقت جانے لگا اور یہ رباعی پڑھنے لگا:

کیا رنگ تمہارا ہے کبھو تو پھولو آتی ہے مجھے عشق کی اس رنگ سے بو نکلے ہو زمین سے اس لیے پوچھتا ہوں گلشن سے میرے کچھ بھی خبر رکھتی ہو؟

القصہ وہ کھیت پکا اور کسان نے کاٹ کر اس کا تیل نکالا۔ ازبسکہ کسانوں کا چلن یہ ہے کہ جو چیز کھیت میں اگتی ہے، اس کو پہلے آپ کھاتے ہیں، اس لیے وہ اس کے جورو (بیوی) کے کھانے میں آیا۔ باوجودکہ وہ بانجھ تھی، خدا کی قدرتِ کاملہ سے حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد لڑکی پری پیکر جنی۔ کسان کا گھر بے چراغ اندھیرا تھا؛ اس شمع کے پرتو سے روشن ہو گیا۔ ہر طرف دھوم پڑی کہ ایک بانجھ کے گھر سرسوں کے تیل کی تاثیر سے ایک لڑکی نہایت حسین ایسی پیدا ہوئی ہے کہ اس کے حسن کی تحریر و تقریر کسی سے نہیں ہو سکتی۔ منہ کی چمک نے چودھویں رات کے چاند کو ماند کر دیا۔ جب چودہ برس کی ہوگی تو سورج کو بھی داغ دے گی۔

رفتہ رفتہ یہ بات تاج الملوک کے بھی کان تک پہنچی۔ جانا کہ یہ تاثیر اسی سرسوں کی ہے۔ کسان کو اس کی بیٹی سمیت بلوا بھیجا۔ جوں ہی نظر اس لڑکی پر پڑی اس کی شکل اپنی معشوقہ کے مطابق پائی۔ نہایت شاد ہوا ۔سمجھا کہ یہاں اس نے جنم لیا ہے، بہت سے روپے اس کسان کو دے کر رخصت کیا کہ اس لڑکی کی بخوبی پرورش کر۔ جب وہ سات برس کی ہوئی، ہر طرف سے اس کی شادی کے پیغام کسان کو آنے لگے لیکن وہ اس اندیشے سے کہ شہزادے نے پرورش کے واسطے شدید تاکید کی تھی، خدا جانے آگے اسے کیا منظور ہے، ایسا نہ ہو کہ میری جان پر آ بنے، سب کو صاف جواب دیتا تھا اور بہانہ یہ دیتا کہ جس وقت وہ سیانی ہوگی، جسے پسند کرے گی اس کے ساتھ بیاہ دوں گا۔

قصہ مختصر جب اس نے دسویں برس میں پاؤں رکھا، تاج الملوک نے اس دہقان کے پاس ایک مشّاطہ کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا کہ اپنی لڑکی کی شادی مجھ سے کر دے۔ یہ سن کر وہ بیچارہ کانپنے لگا اور بولا کہ مجھ غریب عاجز کا یہ منہ کہاں کہ بادشاہ کے داماد کو اپنا داماد کروں۔ اس کا آخر یہی پھل ہوگا کہ میری بیٹی لونڈی ہو کر رہے گی۔ ہزار افسوس! ایسی مہا سندر کو راجا کی بیٹی کی چپراسی بناؤں اور اس کے آگے اسے کمواؤں۔ یہ سن کر لڑکی نے کہا، سنو بابا میرا نام بکاؤلی ہے، میں پری ہوں، تم ایسے اندیشے نہ کرو، سب طرح خاطر جمع رکھو۔ کچھ وسواس نہیں کہ گل رنگین کی جگہ آخر سر پر ہے اور دُرّ بے بہا کا مکان شا ہوں کا افسر ہے۔ تم شہزادے سے کہلا بھیجو کہ چند ے اور بھی توقف کرے۔

کسان بے چارہ چپ ہو رہا۔ مشّاطہ نے آکر سب ماجرا حضور میں عرض کیا۔ تاج الملوک سنتے ہی مارے خوشی کے پھول گیا، سارا غم و الم بھول گیا اوراس کو بہت سا انعام دے کر رخصت کیا۔

جب بکاؤلی کے نحوست کے دن آخر ہوئے، سیکڑوں پریاں چاروں طرف سے وہاں آئیں اور سمن رو پری بھی پوشاک پر تکلف اور جواہرات بیش قیمت لے کر مع تخت زریں لے کر حاضر ہوئی۔ بادشاہ زادی نے کپڑے بدلے، گہنا پہنا۔ جب بن ٹھن چکی، ماں باپ سے کہا کہ میں اتنے دنوں تمھارے گھر مہمان تھی، اب رخصت ہوتی ہوں۔ باپ کا ہاتھ پکڑ کے اس کے مکان کے پچھواڑے لے گئی اور اشرفیوں کا دیگچہ کسی زمانے کا گڑا ہوا بتا دیا کہ اس کو نکال کر اپنے خرچ میں لاؤ۔ پھر رخصت ہوئی اور تخت پر سوار ہو بیٹھی۔

پریاں فی الفور اس کو اٹھا کر لے اڑیں اور جس جگہ کہ تاج الملک، چتراوت اور نرملا اور چیلا کو لے بیٹھا تھا آ کر اتریں۔ بکاؤلی نے سب کو وہیں چھوڑا، آپ اکیلی اندر گئی اور چتراوت کا ہاتھ پکڑ کر بہنوں کی طرح ناز سے گلے لگ گئی۔ وہ اس کی سج دھج دیکھ کر بے حواس ہوئی کہ مسند سے دب کر بیٹھی۔ پھر پری نے تمام اپنی سرگزشت شہزادی سے کہی اور اس کی سنی۔ پھر چتراوت سے کہا کہ اگر شہزادے کی رفاقت منظور ہو تو بسم اللہ، اٹھ کھڑی ہو، وہ تمھار گھر ہے۔ کچھ اندیشہ نہ کرو۔ چتراوت نے کہا کہ میری جان شہزادے کے ساتھ ہے، پھر اس جسم خالی کو کیونکر رکھ سکوں گی، بہ دل حاضر ہوں۔ اس وقت بکاؤلی نے پریوں کو اشارے سے کہا کہ تم ظاہر ہو۔

نقل کرتے ہیں کہ چپہ بھر زمین سنگل دیپ کی پریوں سے خالی نہ رہی۔ شہر میں دھوم پڑ گئی، لوگ گھبرائے، یہاں تک کہ راجا مضطرب ہو کر بیٹی کے محل میں دوڑا آیا۔ دیکھتے ہی اس کو شہزادہ استقبال کے واسطے اٹھ کھڑا ہوا، چند قدم بڑھا اور اپنی مسند پر بٹھایا۔ پھر اپنا اور بکاؤلی کا احوال مفصل کہہ کر سنایا۔ وہ پہلے تو بہت سا کُڑھا پھر نہایت خوش ہوا اور چتراوت کا ہاتھ پکڑ کر بکاؤلی کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ یہ میری اکلوتی بیٹی ہے، تیری پرستاری کے واسطے دیتا ہوں، توقع کہ اس پر نظر مہربانی کی رکھیو اور اپنی لونڈی جانیو۔ یہ کہہ کر رخصت کیا۔

تاج الملوک تخت پر سوار ہوا۔ بکاؤلی اور چتراوت داہنے بائیں بیٹھیں اور نرملا اور چیلا ادب سے سامنے۔ پھر پریاں تخت کو لے کر اڑیں، بات کی بات میں تاج الملوک کی ڈیوڑھی پر جا کر رکھ دیا۔

بکاؤلی اور چتراوت جو اندر گئیں، زین الملوک کے وزیر کا بیٹا بہرام نام کہ ملک نگاریں اور باغ اور قصر کا علاقہ اسی کا تھا، نذر لے کر دوڑا آیا اور آداب بجا لا کر اپنا نام و نشان بتایا۔ تاج الملوک نے اس پر بہت سی نوازش فرمائی، نذر لی، خلعت دیا پھر دولت خانے میں داخل ہوئے۔

دلبر اور محمودہ دیکھتے ہی شہزادے کو نہایت شاد ہوئیں پھر بکاؤلی اور چتراوت سے خوشی بخوشی ملیں۔