مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 23: تیئیسویں داستان

تیئیسویں داستان

بیاہ ہونے میں تاج الملوک کے چتراوت سے اور کھو دینے

میں دَیر کے جس میں بکاؤلی تھی

جب شہزادے کو راجا چتر سین نے بندی خانے میں نہایت تنگ کیا کہ چتراوت سے شادی قبول کرے، لیکن وہ قید کی سختیاں ہر گز خاطر میں نہ لاتا تھا، بکاؤلی کے فراق میں دن رات چلّاتا تھا اور دیوار سے سر ٹکراتا تھا۔

ایک دن وہاں کے داروغہ نے راجا کی خدمت میں عرض کی کہ وہ نوگرفتار جو مانند مرغ نیم بسمل بے قرارانہ رات و دن خاک پر لوٹتا ہے، اگر اسے جلد آزاد نہ کیجیے گا تو خون ناحق سر پر لیجیے گا۔ چند روز میں تڑپ تڑپ کر مر جائے گا۔ مہا راج نے اسے تو کچھ جواب نہ دیا لیکن بیٹی کو کہلا بھیجا کہ تو جا کر اپنی شمع جمال کا پرتو اس پر ڈال۔ شاید تجھ پر پروانہ وار پگھل جائےاور اس کی متاع غرور جل جائے۔

چتراوت یہ بات سن کر نہایت شاد ہوئی، جلد آپ کو آراستہ کیا، حسن مادر زاد کو زیب و زینت سے دونا کر دیا پھر نرملا اور چیلا بھی بن ٹھن کر زُہرہ و مشتری کے مانند اس ماہر و کے ساتھ ہو لیں۔ غرض تینوں شہزادے کے پاس پہنچیں۔

گئی زنداں میں وہ رشک زلیخا وہاں اس یوسف ثانی کو دیکھا برائے نذر وہ لائی تھی جو جو رکھا فی الفور اس کے آگے سب کو وہ کیا تھی یعنی دندان مثل گوہر عقیق لب بھی برگِ گل سے خوش تر پھر ایسی ساعد سیمیں دکھائی

کہ چاندی چاند کی جن سے لجائی رخ گل رنگ کا وہ زر دکھایا چمک نے جس کی سورج کو جلایا سنگھائی عطر سے بو اپنے تن کی مہک شرمندہ کی مشکِ ختن کی پھر آنکھوں کے اسے دکھلائے بادام عوض عنبر کے زلفِ عنبریں فام رکھا سیبِ ذقن پھر اس کے آگے کہ اس کا بھی مزہ وہ شوخ چکھے مگر رکھے انارِ سینہ مخفی اطاعت اس نے کی شرم و حیا کی

لیکن شہزادے کی نظر قبول ان میں سے کسی پر نہ پڑی اور کوئی چیز اس کے نگاہ پر نہ چڑھی۔ فی الواقع اگر چتراوت کی آتش باطن تاثیر دار نہ ہوتی تو پھر اس کے تحفہ ظاہر ی خراب جاتے، ساری محنت رائگاں ہوتی۔

سن اے عزیز! رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کو بادشاہ حقیقی کے نذر کے لائق نہ دیکھا۔عجز سے کہا کہ عبادت تیری میں نے جیسی چاہیے، نہیں کی۔ پھر کس کا منہ ہے کہ اپنی عبادت پر نازاں ہو۔بہتر یہی ہے کہ آپ کو اس کی محبت کی کھریا میں یہاں پک پگھلائے کہ اکسیر کی مانند خاک ہو جائے، تا شاہانِ اکسیر پسند کی آنکھوں میں سونے سے زیادہ نظر آئے۔

القصہ جب چتراوت نے دیکھا کہ چشم جادو اور تیغ ابرو سے کچھ نہ ہو سکے گا،بے طاقت ہوکر شہزادے کے آگے گرپڑی، تڑپنے لگی، یہاں تک کہ شہزادے کے دل کو بھی صدمہ پہنچا۔بے اختیار اٹھ کھڑا ہوا اور اس کو آغوش میں کھینچ لیا،شادی قبول کی کیونکہ بے اس کی خاطر داری اور رضامندی کے کسی طرح اپنی رہائی نہ دیکھی۔نرملا‌نے فی الفور یہ خوش خبری راجا کو پہنچائی کہ چتراوت گل مراد سے دامن بھر کر گھر میں آئی۔ چترسین نے فی الفور شہزادے کو بندی خانے سے نکالا، حمام میں بھیجا اور خلعت شاہانہ مرحمت فرمایا۔ پھر ایک مکان دلچسپ رہنے کو دیا اور نیک ساعت دیکھ کر اپنے خاندان کی رسم کے موافق اس دُرِّ ناسُفتہ کو اس لعل گراں بہا کے ساتھ بیاہ دیا۔ تاج الملوک چتراوت کے خلوت کدے میں آیا۔ نرملا اورچیلا اپنے اپنے عہدے پر آکر کھڑی ہو ئیں اور انھوں نے بھی گرمیاں بہت دکھلائیں، لیکن شہزادے نے کسی کی طرف آنکھ اٹھاکر نہ دیکھا،سرنیچے کیے بیٹھا رہا۔

جب پہر رات گزری، اٹھ کھڑا ہوا اور بکاؤلی کے مندر کی طرف چلا۔ چند روز سے اس گرفتار دام بلا کو نہ دیکھا تھا،تڑپ رہی تھی اور سر دے دے مارتی تھی۔ اتنے میں شہزادہ بھی جا‌پہنچا، دیکھتے ہی شاد ہوگئی اور سنبھل بیٹھی لیکن ہاتھ پاؤں کی مہدی دیکھ کر اس رشک سمن کا منہ غصے سے مثل لال ہوا، دل کوصدمہ کمال ہوا، طاقت خموشی کی جاتی رہی۔ کہنے لگی، واہ واہ شہزادے اتنے دنوں کے بعد آئے،مگر خوب رنگ لائے، عاشقوں کا نام ڈبویا،وفا کو داغ لگایا۔ زنہار عاشقی کا دم اب کبھی نہ بھرنا اور اپنا عشق کسی سے ظاہر نہ کرنا۔

ارے سنگ دل تونے یہ کیا کیا کر انصاف اپنے ہی دل میں ذرا مرا جسم گل رنگ ہو جائے سنگ حناکا ہو پھر تیرے ہاتھوں پہ رنگ میں پتھر کی ہوکر رہوں یوں پڑی کرے عیش تو غیر سے ہر گھڑی مرا غنچۂ دل یہاں داغ کھائے وہاں اور گل کو گلے تولگائے غضب ہے کہ معشوق غم سے جلے شب وروز دست تاسف ملے جو عاشق ہو خوش ہو کے دھومیں مچائے وہ ماتم نشیں ہو، یہ شادی رچائے نہ لے نام چاہت کا اے بد گہر پڑیں پتھر ایسی تری چاہ پر

اٹھے درد وغم کی مرے دل میں ہوک کرے چین تو حیف تاج الملوک جو رنجش کی باتوں کو اس نے سنا لگا بید سا کانپنے سر دُھنا کہا، ہے ترا کس طرف آج دھیان خیال ایسے دل میں نہ لا میری جان اگرچہ ہوں شہزادۂ نام دار مگر ہوں ترا بندۂ جان نثار بلاشبہ ہوں مالکِ تخت وجاہ میں تیرا ہوں مملوک اے رشک ماہ مرا گوشت اور پوست سب ہے ترا ترے ہاتھ مدت سے میں بک چکا یہ جلوے نے دیوانہ مجھ کو کیا کہ اپنوں سے بیگانہ مجھ کو کیا مرے دل کو جس دن سے بھائی ہے تو ان آنکھوں میں جیسے سمائی ہے تو جبھی سے کوئی چیز بھاتی نہیں نظر میں کوئی شے سماتی نہیں ترے پا‎ؤں سا منہ نہیں چاند کا تصدق ہے تجھ پر سے یہ دل مرا سوا ترے پھر کس سے اے دل ربا یہ عاشق ترا ہووے گا مبتلا

نہیں اور تجھ سی کوئی دوسری پڑی آنکھ کس پر بھلا اب مری نہ مجھ سے کبھی ہونا بدگمان میں عاشق بہ دل ہوں ترا میری جان یہ کیا دخل ہے حکم سے گر پھروں جو فرمائے فوراً کوئے(١) میں گروں تعلق نہیں اور کے ساتھ ہے مرا جینا مرنا ترے ہاتھ ہے مگر کیا کروں سخت ناچار تھا بڑی قید میں میں گرفتار تھا مجھے خواہش کتخدائی نہ تھی مگر بے کیے بھی رہائی نہ تھی نہ کرتا جو اس کام کو میں بھلا تو آکر تجھے کس طرح دیکھتا میں اس قید خانے میں مرتا ادھر تو اس بت کدے میں تڑپتی ادھر پہنچتی نہ میری خبر تجھ تلک نہ حالت ترے درد کی مجھ تلک فقط اپنا ہی دیکھتا جو ضرر تو کرتا نہ یہ بات اے سیم بر مجھے اپنا جی ایسا پیارا نہ تھا

مگر تیرا نقصان گورا نہ تھا یقین تھا مرے دل کو اس بات کا جیے گی نہ تو بھی جو میں مر گیا اسی ڈر سے یہ امر میں نے کیا مجھے ورنہ شادی سے کیا کا م تھا پری نے یہ سن کر غضب سے کہا “بھلا جھوٹ اتنا ہے کیوں بولتا کوئی بیاہ کرتا نہیں جبر سے حذر چاہیے ہے مرے صبر سے وفا اور محبت تری دیکھ لی یہ دو دن کی چاہت تری دیکھ لی تجھے عیش و عشرت مبارک رہے مجھے رنج و زحمت مبارک رہے تجھے مجھ سے اس حال میں کام کیا برے وقت کا کون ہے جز خدا” سنا اس طرح کا جو اس نے کلام لیا اپنا دل دونوں ہاتھوں سے تھام دم سرد بھر بھر کے رونے لگا دل و جان کو ہاتھوں سے کھونے لگا پری نے جو دیکھا اسے اشک بار لگی آپ بھی رونے بے اختیار یہ حالت بڑی دیر طاری رہی

کہ دونوں طرف آہ و زاری رہی پھر آخر کو وہ عاشق بے قرار گرا اس کے قدموں پہ بے اختیار پری بھی تحمل نہ کچھ کر سکی اٹھا کر سر اس کا گلے لگ گئی کہ میں تجھ سے جی میں نہیں کچھ خفا یہ شکوہ زبانی فقط تھا مرا ہے منظور بس مجھ کو تیری خوشی خفا ہونے والی میں صدقے گئی وہی مصلحت تھی جو تو نے کیا میں عورت ہوں آخر مری عقل کیا ہوا تجھ سے جو کچھ وہ مجھ کو قبول نہ ہو تو ذرا اپنے دل میں ملول ہزاروں ہوں گل رو اگر تیرے پاس تو ہے جان و دل سے مگر میرے پاس

القصہ اسی طرح کے کلام آپس میں رہے، ہر گھڑی ادھر سے ناز تھا اس طرف سے نیاز تھا۔ القصہ تاج الملوک نے اپنے قید ہونے کا اور چتراوت سے شادی کرنے کا ماجرا مفصّل بیان کیا اور اس آئینہ رو کے دل سے غبار کدورت بالکل دھویا۔

اتنے میں صبح نمود ہوئی۔ تاج الملوک گھر گیا اور چتراوت کے پلنگ پر سو رہا، اسی طرح بلا ناغہ ہر شب بکاؤلی کے پاس جاتا تھا اور دن چتراوت کے ساتھ نقل اور حکایت میں کاٹتا تھا۔ وہ شہزادے کی ایسی حرکت سے نہایت حیران تھی، اور اپنے دل میں کہتی تھی، یا الٰہی طرفہ ماجرا کیا ہے کہ باوجود اس قربت کے میرے دل کی آگ شہزادے کے پنبہ زار کو سلگاتی نہیں اور اس کے خرمن تحمل کو جلاتی نہیں۔ تعجب ہے کہ بے دل و دل آرام ایک گھر میں ہیں اور تفاوت پورب پچھم کا سا ہے۔ اے عزیز جب تک تیرے دل کی آنکھیں اغیار کے حسن کو دیکھنے والی ہیں، تجھے یار کی صورت نظر نہیں آتی۔ ہرچند بے پردہ ہو، پہلے خار رغبتِ اغیار کو دل کی سرزمین سے اکھاڑ کر پھینک دے، پھر گل رخسار یار کو آئینہ دل میں دیکھ لے۔ اگر تو اپنے گلشن وجود کو بہ نظر تامل دیکھے تو اس میں رنگ و بو کے سوا کچھ نہ پاوے۔

القصہ ایک دن چتراوت نے شہزادے کا گلہ اپنے باپ سے کیا اور اس کی بے التفاتی کا سارا حال کہا۔ راجا نے کئی جاسوس شہزادے کے پیچھے لگائے تاکہ اس بات کو جلد دریافت کریں یہ تمام رات کہاں رہتا ہے۔ وہ اسی تلاش میں تھے کہ یہ اسی وقت پھر گھر سے نکلا اور اسی مندر میں گیا۔ رات بھر رہا، صبح ہوتے ہی پھر محل میں داخل ہوا۔ فوراً انھوں نے راجا سے جا کر عرض کی کہ شہزادہ فلانے مندر میں صبح تک رہتا ہے۔ اس سیہ دل نے کئی سنگ تراش چالاک دست اسی وقت بھیجے کہ اس کو کھود کر پھینک دیں۔ انھوں نے بموجب حکم کے اس مندر کو بیخ و بنیاد سے اکھاڑ کر دریا میں ڈال دیا۔

تاج الملوک اپنی عادت پر جو وہاں گیا تو اس کا نشان بھی نہ پایا۔ دیوانوں کی مانند وہاں کی خاک پر لوٹنے لگا اور یہ رباعی پڑھنے لگا:

اے جان اگر کھوج تیرا پاؤں میں مرمر کے وہاں آپ کو پہنچاؤں میں کچھ ہو نہیں سکتا ہے کروں کیا اے کاش پھٹ جائے زمین اور سما جاؤں میں

آخر نا امید ہو کر دھاڑیں مار مار کر رویا اور پھر آیا۔

چند روز تو اس کو بےقراری کی لذت اور آہ و زاری کی کثرت رہی۔ جب اس صنم کے وصل سے بالکل مایوس ہوا، رونے کا بھی حاصل نہ دیکھا، چتراوت کی جادو بھری باتوں پر دھیان کیا۔ غرض نسیم وار اس کے غنچہ امید کو شگفتگی بخشی اور نیسانِ وصال سے اس کی صدف ِآرزو کو پُر گہر کیا۔