مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 22: بائیسویں داستان

بائیسویں داستان

تاج الملوک کے سنگل دیپ میں پہنچنے کی اور بکاؤلی سے ملنا

اور چتراوت راجا کی بیٹی کا اس پر عاشق ہونا

کہتے ہیں کہ بکاؤلی راجا اندر کی بد دعا سے پتھر کی ہو کر وہاں سے غائب ہو گئی اور شہزادہ سیماب کے مانند بیتاب ہو کر لوٹنے لگا، تب اس کو پر یوں نے اٹھا کر نیچے ڈال دیا۔ وہ ایک جنگل میں جا پڑا۔ تین روز تک بے ہوش رہا، چوتھے دن جو آنکھ کھلی تو بجائے دلدار کے، پہلو میں خار دیکھے۔ ہر طرف جاکر شورو فریاد کرنے لگا اور بکاؤلی کی خبر ہر ایک درخت سے پوچھنے لگا۔ ایک دن اسی طرح ایک سنگ مرمر کے تالاپ پر جا پہنچا، چاروں طرف سیڑھیاں پاکیزہ اور خوبصورت بنی ہوئی تھیں اور میوہ دار درخت بھی بہت سے اس کے گرد لگے تھے۔

شہزادے نے ایک ساعت وہاں دم لیا پھر نہاکر ایک سایہ دار درخت کے نیچے پڑ رہا اور اپنی محبوبہ کے تصور میں سوگیا۔ ناگاہ کئی پریاں کہ اس کے حال سے واقف تھیں وہ بھی وہاں پہنچیں اور اسی تالاب میں نہا کر بال سکھانے لگیں۔ ان میں سے ایک کی نظر جو شہزادے پر جا پڑی، ساتھیوں سے کہنے لگی بکاؤلی کا پکھاوجی یہی ہے۔ تاج الملوک کے کان میں جونہی یہ آواز پڑی آنکھیں کھول دی اور پریوں سے باچشم خونبار پوچھا، تمھیں کچھ معلوم ہے کہ بکاؤلی کہاں ہے۔ ان کا دل اس کا حال زار دیکھ کر بھر آیا۔ بولیں کہ آنکھوں سے تو نہیں دیکھا مگر سنا ہے کہ سنگلدیپ میں ایک بتخانے میں ہے، مگر نیچے کا دھڑ ناف تک پتھر کا ہوگیا ہے۔ تمام دن اس مندر کا دروازہ بند رہتا ہے اور پھر رات کے بعد صبح تک کھلا۔ شہزادے نے پوچھا کہ وہ کس طرف ہے اور کتنی دور ہے؟ انھوں نے جواب دیا، راہ کی مصیبت تو ایک طرف آدمی اگر ساری عمر چلے جب بھی وہاں نہ پہنچے۔ تاج الملوک یہ سن کر مایوس ہوا اور اپنی زندگی سے ہاتھ اٹھا کر ٹکر یں مارنے لگا اور پتھروں سے سر پھوڑنے لگا۔ پریوں نے اس کے حال پر رحم کھا کر آپس میں مصلحت کی کہ اس آفت رسیدہ کو وہاں تک پہنچایا چاہیے۔ آگے اس کی قسمت میں جو ہونا ہے سو ہووے گا۔ اسے لے کر اڑیں اور بات کی بات میں وہاں پہنچادیا۔ ایک لمحہ کے بعد اس مایوس کو ذرا حواس آئے تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شہر رشکِ بہشتِ بریں زمین پر آباد ہے اور عجائب اس کا سواد ہے۔ رنڈی مرد وہاں کے کوئی بدصورت نظر نہیں آتا، بلکہ درخت بھی وہاں کے ایسے قد موزوں رکھتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہتے ہیں۔

آخر سیر کرتا کرتا بازار کی طرف جا نکلا، راہ میں ایک برہمن پجاری ملا۔ اس سے پوچھا کہ دیوتا تم کون سے ٹھاکر دوارے کے پجاری ہو۔ برہمن نے کہا کہ راجا چترسین جو اس ملک کا والی ہے، اس کے ٹھاکر دوارے کا میں پجاری ہوں۔ پھر تاج الملوک نے پوچھا کہ اس شہر میں کتنے ٹھاکروں کے مندر ہیں جو معروف ومشہور تھے۔ برہمن نے بتادیے پھر یہ کہا کہ تھوڑے دنوں سے دکھن کی طرف دریا کے کنارے ایک نیا مندر پیدا ہوا ہے، دن بھر اس کا دروازہ نہیں کھلتا، کوئی نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے۔ شہزادہ یہ بات سن کر خوش ہوا اور اسی طرف جا کر دریا کے کنارے مندر کے دروازے پر بیٹھا رہا۔

پہر رات جب گزری، اس استھان کے کواڑ یکایک کھل گئے۔ تاج الملوک اندر گیا، دیکھا کہ بکاؤلی آدھی بصورت اصلی اور آدھی پتھر کی دیوار کا تکیہ لگائے پاؤں پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے۔ اس کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا تو یہاں کیوں کر آیا؟ اس نے تمام ماجرا کہہ کر سنایا، پھر ساری رات دونوں باتوں میں مشغول رہے۔ پھر صبح ہونے لگی، بکاؤلی نے شہزادے سے کہا اب تو یہاں سے جا۔ اگر آفتاب نکل آئے گا تو مجھ ساتو بھی ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک موتی اپنے کان سے نکال کر اس نے دیا کہ بالفعل اسے بیچ کر اسباب درست کر اور چندے اوقات کاٹ۔

تاج الملوک اسے لے کر شہر میں آیا اور اسے کئی ہزار روپے میں بیچ کر ایک حویلی پختہ مول لی۔ اسباب ضروری بھی بنالیا اور کئی خدمت گار نوکر رکھے۔ جب رات ہوتی، بکاؤلی کے پاس جاتا اور صبح اپنے بیگانے میں آتا۔ اسی طرح ایک مدت گزر گئی، بعضے بعضے اشخاص ہمسائے کے شہزادے سے آشنا ہو گئے تھے۔ اس کو شہر کی سیر دکھانے لگے۔ ایک روز تاج الملوک ان کے ساتھ سیر کو نکلا تھا، ایک گروہ سر و پا برہنہ بحالت تباہ نظر آیا۔ شہزادے نے یاروں سے پوچھا کہ یہ اشخاص اگرچہ بہ لباس فقیر ہیں لیکن بصورت امیر معلوم ہوتے ہیں، خدا جانے اس کا سبب کیا ہے۔ ان میں سے ایک بولا، ان میں بعضے شہزادے ہیں اور کئی امیرزادے لیکن سب جلے ہوئے آتش عشق اور اشتیاق کے اور نشانے ناوکِ فراق کے ہیں۔ قصہ ان کا یوں ہے کہ راجا چتر سین کی ایک بیٹی مہ پارہ بلکہ آسمان خوبی کا ستارہ ہے، اس کے مانند کوئی عورت حسین اس سرزمین میں نہیں ہے:

ناز ظاہر ہے قد موزوں سے مے ٹپکتی ہے چشم مے گوں سے سیکڑوں کُشتے اس کی ابرو کے لاکھ بندی ہیں تارِ گیسو کے زلف اس کی ہے جس قدر شب گوں ہے سیہ بخت اُس قدر مفتون امرت اور زہر آنکھیں ہیں اُس کی دم میں ماریں بھی اور جِلائیں بھی ننگ و ناموس جو کہ ہاتھ سے دے اس کے کوچے کی سمت راہ وہ لے

قصۂ مختصر ایک تو وہ آپ ہی پری پیکر، قاتل گبرو مسلمان ہے، دوسرے اس کے ساتھ اور بھی دو کافر تن غارتگر ایمان ہیں، ایک تنبولی کی لڑکی نرملا نام اور دوسری مالی کی چیلا اسم با مسمّیٰ ہے۔ غرض تینوں آپس میں اخلاص دلی رکھتی ہیں۔ اٹھنا بیٹھنا جاگنا سونا کھانا پینا دن رات ایک جگہ ہے اور اپنے اپنے بیاہ کی بھی ہر ایک آپ مختار ہے۔ جسے پسند کرے اسی سے ہو۔ کسی کو اس بات میں دخل نہیں لیکن اب تک کوئی اس کا منظور نظر نہیں ہوا اور آنکھوں میں نہیں ٹھہرا۔ شہزادہ یہ سن کر چپکا ہو رہا۔ اتفاقاً ایک روز آوارۂ بیابانِ عشق اس حور سرشت کے محل کے نیچے جا نکلا۔ تماشائی اس کے گل رخسار کو بلبل وار تکتے تھے اور دیوانوں کی طرح آپس میں کچھ کچھ بکتے تھے اور وہ پری زاد بیٹھی جھروکے سے دیکھ رہی تھی کہ شہزادہ اس سے دو چار ہوا، عشق کا دل تیر کے پار ہوا، عنان صبر و شکیب ہاتھ سے چھٹ گئی، متاع ہوش و حواس لٹ گئی، بے خود ہو کر گر پڑی۔ نرملا اور چیلا نے دوڑ کر اٹھایا، منہ پر گلاب چھڑکا، عطر سونگھایا، کچھ ٹھر ی ہوش آیا لیکن سکتے کی سی حالت۔ ہر چند انھوں نے حال پوچھا، اس نے کچھ نہ بتایا۔ حیرت کو منہ پر اسی طرح رہنے دیا۔ تب نرملا نے کھڑکی سے نیچے جھانک کر شہزادے کو دیکھا اور چتراوت سے بیتابی کا سبب دریافت کیا پھر تسلی دے کر کہنے لگی کہ اے رانی تیری بے قراری نے تو ہم کو دیوانہ بنایا اور اضطرابی نے دامن صبر چھڑایا۔ اتنی کیوں گھبراتی ہے اور کس واسطے آپ کو دیوانہ بناتی ہے۔ تیرے باپ نے تو بیاہ کی تجویز تجھ پر موقوف رکھی ہے، جس کو تو پسند کرے گی اس سے تیری شادی کرے گا۔ خاطر جمع رکھ، اس جوان ابلق سوار کو، جس کو دیکھ کر تیری حالت تغیر ہوئی ہے، اگر فرشتہ ہے تو بھی تیرے دام سے جا نہیں سکتا اور کوئی اس کو چھڑا نہیں سکتا۔ دیکھ تو ایسے جال میں پھنساتی ہوں کہ ہل نہ سکے اور ایک قدم آگے چل نہ سکے۔

یہ کہہ کر ایک کٹنی اس کے حال کی تحقیقات کو بھیجی۔ وہ عجب شوخی و طنّازی سے آئی اور آتے ہی شہزادے کے گھوڑے کا شکار بند پکڑ کر کہنے لگی، تو نہیں جانتا کہ یہ شہر مقتل غربا ہے اور یہاں عاشقوں کو سولی دینا روا ہے۔ یہاں کے پری ر و مرغِ زیرک کو تارِ زلف میں ادا سے پھنسا لیتے ہیں اور ایک نگاہ ناز سے خاک پر گرا دیتے ہیں۔ تو کس جرات اور دلیری سے ادھر ادھر پھرتا ہے اور بادشاہوں کے محلوں کی طرف دیدہ بازی کرتا ہے، مگر آتش کا پر کالہ ہے جو شمع رُخوں کے دلوں کو پگھلاتا ہے اور سنگ دلوں کے کلیجوں کو موم بناتا ہے۔ کدھر سے آیا ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے؟ اپنے حسب اور نسب اور وطن سے آگاہ کر۔

تاج الملوک اس کی باتوں سے تاڑ گیا کہ کسی کی بھیجی ہوئی ہے۔ بولا، اے چمکو! بہت باتیں نہ بنا، میرے داغ دل سے روئی کو نہ اٹھا۔ جا اپنے کسی مجروح کے زخم پر مرہم لگا۔ سن وطن میرا مطلع خورشید سے روشن تر ہے اور نام میرا افسر سلاطین سے دریافت کرکے جس کی تو بھیجی ہوئی آئی ہے اس سے جا کر کہہ دے کہ مجھ سے مسافر مصیبت زدہ کی طرف خیال نہ کرے اور مجھ سودائی پر دھیان نہ رکھے:

خوش جو آنے سے ہو اس کے پاس جا ناز اس پر کر جو خواہاں ہو ترا

مشّاطہ جان گئی کہ وطن اس کا شرقستان ہے اور نام تاج الملوک۔ عالی نسب والاحسب ہے۔غرض تمام حال دریافت کرکے چتراوت سے آکر بیان کیا۔

شہزادہ روز پوشاک بدلتااور اس کے جھروکے کے نیچے سے ہوکر نکلتا۔چتراوت اس کے فراق سے چودھویں رات کے چاند کی طرح گھلنے لگی اور اس کے دردِ غم سے دل ہی دل میں گھٹنے لگی۔ چند روز تو یہ راز چھپا رہا، آخرش کھل گیا۔یہاں تک کہ ماں باپ نے بھی سنا،تب راجا نے ایک دلّالہ بڑی ہوشیار پختہ کار بلائی اور شہزادے کے پاس بھیجی کہ لڑکی کی نسبت کا پیغام اس کو دے اور اس کے دل کو ہر طرح سے لبھائے۔القصہ اس نے چترسین کا پیغام شہزادے کو دیااور اس گل اندام کا حسن بیان کیا۔اس نے تمام وکمال سن کر جواب دیا کہ تو میری طرف سے بعد سلام ونیاز کے راجا کی خدمت میں عرض کرنا کہ جو کوئی قبائے شاہی اور تاج شہنشاہی چھوڑ کر رنج سفر اور خرقۂ فقر اختیار کرے اور اپنے بیگانے سے کنارہ پکڑے، اس کی پابندی کا خیال کرنا‌فی الحقیقت پانی پر نقش بنانا اور ہوا کو گرہ میں باندھنا ہے۔یہ کہا اور اس کو رخصت کیا۔دلالہ نے تاج الملوک کے انکار کرنے کی کیفیت بادشاہ سے عرض کی۔ چتر سین اس کے اغماض کرنے سے متفکر ہوااور وزیر سے مشورت کی۔ اس نے عرض کی کہ ایک غریب بے خانماں کو اگر بادشاہ مطیع کرنا چاہےتوکیا بڑی بات ہے۔ آپ دیکھیے میں اس کو کس گھاٹ اتارتا ہوں۔ الغرض وہ مکار اس بات کے درپے ہوا کہ شہزادے کو چوری کی تہمت لگاکر گنہ گار ٹھہرائے اور اپنا کام اس کے ہاتھ سے یوں نکالے۔ سچ ہے کہ جو کوئی حکمت حکیم مطلق کی گوناگوں تامل کی نظر سے دیکھے تو کسی چیز کو خالی شر سے نہ پاوے اور ہر ایک شر کے بعد خیر ملاحظہ کرے۔

اے عزیز حق تعالیٰ نے عالم ارواح کو بدن سے نسبت دی ہے۔ پس جو حرکت کہ بظاہر بدن سے ہو، حقیقت میں روح سے ہے۔غرض جو فساد کہ اس عالم کون وفساد میں ہوتو اس کی طرف سے جان لیکن شر نہ سمجھ کہ درپردہ وہ خیر ہے، کیونکہ وہاں شر کی گنجائش نہیں۔

القصہ تاج الملوک کو خرچ کی احتیاج ہوئی۔ چاہا کہ بکاؤلی سے مانگے۔اس میں وہ سانپ کا من اپنی ران کا رکھا ہوا یاد آیا۔ جرّاح کو بلواکر ران چیر ڈالی اور مہرہ نکال کر زخم پر مرہم لگا دیا۔ جب کہ اچھا ہوا بازار میں لے گیا۔ جوہری دیکھ کر حیران ہوئے،وزیر کو جاکر خبر کی کہ ایک شخص ایسا جواہر بیچنے لایا ہے کہ ہم نے ساری عمر نہیں دیکھا اور بادشاہ کے سوا کوئی بھی اس کی قیمت دے ہی نہیں سکتا۔ سنتے ہی وزیر نے کئی جوان اس کے ساتھ کر دیے اور اس غریب الوطن کو ناحق پکڑاویا اور بلوایا۔ دیکھا تو وہی شخص ہے، فی الفور اسے چوری کی تہمت لگا کر قید کیا اور راجا کو یہ مژدہ سنایا کہ پرندہ دام توڑ کر اڑ گیا تھا، آج فریب سے میں نے اسے پھر پکڑا، اب یقین ہے کہ جو آپ کہیں گے قبول ہوگا۔