مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 21: اکیسویں داستان

اکیسویں داستان

بکاؤلی کے جانے کی راجا اندر کے اکھاڑے میں اور ناچنا گانا

اس کے حضور میں اور تفرقہ پڑنا تاج الملوک میں اور اس میں

اہل ہند کی کتابوں میں یوں لکھتے ہیں کہ امر نگر نام ایک شہر بستا ہے، وہاں کے باشندے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور راجا اندر وہاں کا راج کرتا ہے۔ دن رات پریوں کے عیش و عشرت میں رہتا ہے، اس کا کام یہی ہے اور غذا اس کی ناچ اور راگ۔ عالم جنات بھی اس کے تابع ہیں، ساری پریاں اس کی مجلس میں جاتی ہیں اور رات دن ناچتی گاتی ہیں۔

ایک رات کا ذکر ہے کہ راجا نے فرمایا، بکاؤلی فیرو شاہ کی بیٹی مدت سے ہماری مجلس میں نہیں آئی، اس کا سبب کیا ہے؟ اور یہاں کے آنے کا مانع کون ہے؟ پریوں میں سے ایک پری نے عرض کی کہ وہ ایک انسان کے دام عشق میں گرفتار ہوئی ہے، بلبل بے قرار کی مانند نالہ و فریاد کیا کرتی ہے اور مدام اس کے عشق میں سرشار رہا کرتی ہے اور اپنے بیگانے سے اسے نفرت ہے۔ فقط اسی سے صحبت ہے، شراب وصل اس کے ساتھ پیتی ہے اور اس کے دم سے جیتی ہے۔

راجا یہ ماجرا سن کر غصہ میں آیا اور شعلۂ غضب اور بھی بھڑکا۔ کئی پریوں کی طرف اشارہ کیا کہ اس کو اسی وقت حاضر کرو۔ وہ تخت رواں لے کر تاج الملوک کے باغ میں آئیں اور بکاؤلی کو جگا کر راجا کے اعتراض اور غضبناک ہونے کا حال بیان کیا۔ وہ چار و ناچار اس پر سوار ہوکر امرنگر کو گئی اور وہاں کانپتی ہوئی راجا کے سامنے آکر آداب بجا لائی، ہاتھ باندھ کر کھڑی رہی۔

مہاراج نے نگاہ قہر سے اسے دیکھا اور بہت سا جھڑکا۔ آخر فرمایا کہ اس کو آگ میں ڈال دو کہ انسان کے بدن کی بو باس اس میں نہ رہے اور یہاں کی صحبت کے قابل ہو۔ پریوں نے فوراً اس نسترنِ باغِ لطافت کو اور یاسمین چمن نزاکت کو ہاتھوں ہاتھ وہاں سےباہر لاکر آتش کدے میں ڈال دیا، وہ جل کر راکھ ہو گئی:

جل گیا عاشق تو کیا غم ہے کہ اس کی چشم تر دیکھتی ہے یار کو گلشن میں مانندِ خلیل

اس کے بعدپانی پر کچھ منتر پڑھ کر اس پر چھڑکا،فی الفور جی اٹھی اور ہیئت اصلی پر آکر مجلس میں ناچنے لگی۔ پہلی ہی ٹھوکر سے اہل مجلس کے دلوں کو پامال کیااور ایک ہی آمد و رفت میں تماشائیوں کو بے حال کیا۔ غرض ناچنے کا جو حق تھا ادا کیا۔ ساری مجلس کو محو کردیا، پھر تو واہ واہ کی صدا ہر ایک کے منہ سے نکلنے لگی اور آفرین و تحسین کی آواز ہر طرف سے بلند ہوئی۔ بکاؤلی آداب بجا لاکر راجا سے رخصت ہوئی، تخت پر بیٹھ کر اپنے باغ میں آئی،گلاب کے حوض میں نہا دھو کر شہزادے کی بغل میں سو رہی۔ صبح کو اپنے معمول پر اٹھی، سنگار کیا،لوگ بھی اندر باہر کے اپنے اپنے کام میں مشغول ہوئے۔

القصہ ہر شب وہ غیرتِ ماہ امر نگر میں جاتی، پہلے تو اسے آگ میں جلاتے، پھر راجا کے حضور میں ناچتی گاتی، جب تھوڑی سی رات باقی رہتی، رخصت ہوکر اپنے گھر آتی اور گلاب کے حوض میں نہا کر اس دریائے خوبی سے ہم آغوش ہوتی اوراپنے جی کو ٹھنڈا کرتی:

قبول اس نے کیا جلنا سدا کا نہ چھوڑا وصل لیکن دلربا کا جلاتی تھی تن نازک کو ہر شب نہ کھلتے تھے شکایت کو کبھی لب وہ عاشق سے نہ کرتی تھی کنارا فراق اس کا نہ تھا ہر گز گوارا جو جل مرنے کو اپنے دل پہ ٹھانے وہ ہر آتش کدے کو آب جانے گوارا ہوتی ہے سب نارِ سوزاں سہا جاتا نہیں پر سوزِ ہجراں جسے ہو شمع رویوں کی محبت اسی سے پوچھیے جلنے کی لذت

مگر شہزادے کو ہرگز اس بات کی خبر نہ تھی۔ ایک رات کا ذکر ہے کہ بکاؤلی تو اپنے معمول پر وہاں گئی ہوئی تھی، یہاں شہزادے کی آنکھ کھل گئی۔ پلنگ پر اسے نہ دیکھا، ہر طرف قصر اور باغ میں جاکر ڈھونڈا، کہیں اس کا سراغ نہ ملا۔ نہایت تنگ ہوکر اپنے خلوت کدے میں آ کر بیٹھا اور یہاں تک اس رشک بُت چین کی راہ دیکھی کہ آنکھیں پتھرا گئیں۔ آخرش اسی حالت میں سوگیا۔ بکاؤلی بھی اپنے وقت پر آ کر اس کے پاس سو رہی۔

صبح کو تاج الملوک نے بدستور جو اس کو ساتھ سوتے دیکھا، زیادہ تر متعجب ہوا لیکن دم نہ مارا۔ اس راز کو مطلق نہ کھولا، مگر اس کی تحقیقات کے واسطے دوسری رات اپنی ایک انگلی چیر کر نمک چھڑک دیا کہ مبادا آنکھ نہ لگ جائے اور وہ بھید چھپے کا چھپا رہے۔

غرض آدھی رات گئے تخت پھر آ کر موجود ہوا۔ بکاؤلی اٹھ کر بناؤ سنگار کرنے لگی اور شہزادہ بھی چھپے چھپے جا کر اس تخت کا پایہ پکڑ کر بیٹھ رہا۔ اتنے میں وہ بھی آ کر سوار ہوئی اور پریاں اس کو لے کر اڑیں۔ تاج الملوک اسی پایہ میں لٹک گیا پھر اس قدر بلند ہوا کہ زمین اس کو نظر آنے سے رہ گئی۔ جھٹ پٹ راجا اندر کے دروازے پر جاکر اتار دیا۔ بکاؤلی اتر کر ایک طرف کھڑی ہو رہی اور یہ بھی الگ ہوکر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھنے لگا۔ غرض جس طرف آنکھ پڑتی تھی، ادھر پریوں کا جھرمٹ نظر آتا تھا اور ہر طرف آواز قسم قسم کے سازوں کی اور راگوں کی جو تمام عمر نہ سنی تھی متصل چلی آتی تھی۔ حاصل یہ کہ تاج الملوک نے وہ کچھ دیکھا جو کہیں نہ دیکھا تھا اور وہ سنا جو کہیں نہ سنا تھا، دنگ ہوکر رہ گیا۔ اتنے میں کئی پریاں دوڑیں اور بکاؤلی کو آتش کدے میں ڈال دیا وہ جل کر راکھ ہوگئی۔ وہ اس حادثہ کو دیکھ کر سب بھول گیا۔ بے اختیار دونوں ہاتھوں سے سر پیٹنے لگا اور جی میں یوں کہنے لگا، حیف ہے اس وقت طاقت نہیں رکھتا مَیں کہ پروانے کی مانند اس شمع رو کے ساتھ جلتا اور اپنے بدن کو راکھ کر کے اس سے ملتا۔ کیا کروں کچھ بس نہیں نہ قدرت فریاد کی ہے نہ جگہ داد کی۔

یہ اسی ادھیڑ بن میں رہا کہ انہیں میں سے ایک پری نے پانی پڑھ کر اس کی راکھ پر چھڑکا، فی الفور زندہ ہوئی اور راجا کی مجلس میں آئی۔ شہزادہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ از بس کہ ازدحام تھا کوئی کسی کو پہچانتا نہ تھا، کسی نے نہ جانا کہ یہ کون ہے اور کیوں کھڑا ہے۔ اتفاقاً بکاؤلی کا پکھاوجی بڈھا ضعیف تھا، ناتوانی کے سبب اچھی طرح بجا نہ سکتا تھا، وہ رُک رُک کر ناچتی تھی اور باربار تیوری چڑھاتی تھی۔ شہزاہ یہ حال دیکھ کر بے چین ہوا، آخر رہ نہ سکا۔ سازندے کے کان میں جھک کر کہا اگر تیری مرضی ہو تو ایک دو گتیں میں بجاؤں کہ اس کام میں چالاک دست ہوں۔ اس نے اس بات کو غنیمت جانا، پکھا وج کو حوالے کیا۔ یہ تو اس کام میں بانی کارتھا اور اس کے دام محبت میں گرفتار۔ اس کی خواہش کے موافق بجانے لگا۔ پھر تو کیفیت ناچ کی ایسی بڑھی کہ در و دیوار سے واہ واہ کی صدا آنے لگی۔ راجا بھی یہاں تک محظوظ ہوا کہ اپنے گلے کا نو لکھا ہار اتار کر بکاؤلی کو عنایت کیا۔ وہ ناچتے ناچتے جو پیچھے ہٹی، بجنس پکھاوجی کے حوالے کیا۔ اس کے بعد مجلس راگ رنگ کی برخاست ہوئی۔

شہزادہ جس طرح گیا تھا اسی طرح اپنے باغ میں آیا۔ بکاؤلی گلاب کے حوض کی طرف گئی، یہ خواب گاہ میں جا کر سو رہا۔ لیکن صبح کے وقت مسکراتا تھا، پری نے پوچھا کہ غیر عادت مسکرانے کا کیا سبب ہے۔ کہا کہ رات کو عجیب خواب دیکھا ہے، اس واسطے ہر گھڑی مجھے ہنسی آتی ہے۔ وہ کہنے لگی خدا خوب کرے مگر میں بھی سنوں کیا دیکھا ہے۔ تاج الملوک بولا یہ دیکھا ہے کہ آدھی رات کو تو کہیں جاتی ہے اور مجھے خبر نہیں کرتی۔ بکاؤلی یہ سن کر ڈری کہ مبادا یہ بھید اس پر کھلا ہو اور احیاناً یہ بھی میرے ساتھ وہاں گیا ہو۔ بضد ہوئی کہ سارا سنے۔ پھر کہنے لگی اور بھی کچھ دیکھا یا نہیں۔ شہزادہ بولا گویا آج کی رات میں بھی تیرے ہمراہ گیا ہوں اس طرح کہ پریا ں ایک تخت لائیں، تو اس پر سوار ہوئی اور میں پائے سے لٹکا ہوا چلا گیا۔ بس آگے نہیں کہتا کہ خواب کی بات بے سرو پا ہوتی ہے، اعتبار نہیں رکھتی، خواب و خیال ہے، بے فائدہ کون بکے۔

بکاؤلی بولی کہ تجھے میرے سر کی قسم جو دیکھا ہے سب کہہ۔ غرض تاج الملوک تھوڑا کہتا پھر خاموش ہو رہتا اور وہ قسمیں دے دے کر پوچھتی جاتی۔ آخر سارا ماجرا اس نے آخر تک ہو بہو کہہ کر سنایا اور وہ ہار راجا کا بخشا ہوا تکیے کے نیچے سے نکال کر دکھلایا۔ تب پری نے اپنا سر پیٹ لیا اور سُن ہو گئی۔ ایک دم کے بعد بولی، شہزادےیہ تو نے کیا کیا۔ اپنا دشمن تو آپ بنا۔ دیکھ میں نے تیری خاطر ماں باپ کے ہاتھ سے کیا کیا رنج اٹھائے اور ہر کس و نا کس کے طعنے کھائے۔ یہاں تک کہ ہر رات آگ میں جلنا قبول کیا مگر تجھے نہ چھوڑ ا اور تیری راہ سے منہ نہ موڑا۔ چنانچہ تو نے آنکھوں سے بھی یہ تماشا دیکھا، کچھ کہنے کی حاجت نہیں، کا ش کہ تو اس مجلس میں نہ جاتا اور اپنے گھر میں مری جدائی کا صدمہ اٹھاتا تو بہت بہتر تھا، کیونکہ اس کا انجام اچھا نہیں۔ اب حیران ہوں اگر تجھے نہ لے جاؤں تو بنتی نہیں، جو لے جاؤں تو کہاں تک چھپائے رکھوں۔ خیر جو کچھ تقدیر میں ہےسو اَمِٹ ہے مگر آج طالع آزماتی ہوں، تجھے لے جاتی ہوں، اپنی کر گزرتی ہوں، آگے جو مرضی خدا کی۔ چنانچہ معمول کے وقت تاج الملوک سمیت گئی اور راجا سے سلام مجرے کے بعد عرض کی کہ آج ایک بجانے والا بہت چالاک اپنے ساتھ لائی ہوں، اگر حکم ہو تو یہاں آکر بجائے۔ راجا نے فرمایا، بہت اچھا ہماری عین خوشی ہے۔ الغرض وہ بجانے لگا اور وہ نازنیں ناچنے لگی۔ آخر یہ کیفیت ہوئی کہ ساری محفل غش کر گئی۔ راجا بھی مست ہو کر جھومنے لگا اوراسی عالم میں فرمایا مانگ جو مانگنا چاہتی ہے، محروم نہ جائے گی۔ یہ سن کر بکاؤلی نے آداب بجا لا کر عرض کی کہ مہاراج کی بدولت لونڈی کو کسی چیز کی کمی نہیں اور کچھ ہوس دل میں باقی نہیں، مگر اس پکھا وجی کو بخشیے کہ یہی آرزو ہے۔ سنتے ہی اس سخن کے راجا برہم ہوا اور شہزادے کی طرف غضب سے دیکھ کر بولا کہ اے آدم زاد تو ہی اس کو چاہتا ہے اور یہ تجھے چاہتی ہے؟ بہت اچھا! ذرا تو اس کا مزاچکھ اور لذت اٹھا۔ تو چاہتا ہے کہ بکاؤلی سی پری کو بے محنت و مشقت یہاں سے لے جاؤں اور اپنی بغل گرم کروں یہ نہ ہوگا۔ پھر بکاؤلی کی طرف منہ پھیر کر کہا اے مشاطہ! کیا کروں سخن تجھ سے ہار چکا ہوں۔ جا اسے تجھے بخشا لیکن بارہ برس تک تیرا نیچے کا دھڑ پتھر کا رہے گا۔

یہ حرف جو اس سنگدل کے منہ سے نکلا وہ سیم تن اسی ہئیت کی ہو کر غائب ہو گئی۔

ہیہات ازل سے ہے یہ عالم شادی و غمی ہوئی ہے تواَم دم بھر کی بہار میہماں ہے آخر وہی باغ میں خزاں ہے گہ سر پہ ہو تیرے تاج شاہی گہ خاک پہ بستر تباہی گل سا کبھی دل فراغ دیکھے گہ دل پہ ہزار داغ دیکھے دم بھر جو نشاط و عیش ہووے خمیازہ پھر اس کا طیش ہووے