بیسویں داستان
رخصت ہونے میں تاج الملوک اور بکاؤلی کے فیروز شاہ اور جمیلہ خاتون سے
ایک روز تاج الملوک نے بکاؤلی سے مشورت کرکے فیروز شاہ اور جمیلہ خاتون سے رخصت مانگی۔ انھوں نے کہا بہت بہتر، ہزار غلام قمر طلعت اور سینکڑوں لونڈیاں خوبصورت عنایت کیں اور دان جہیز کے سوا کچھ نقد و جنس اور لوازمہ سفر کا دیا۔ اگر اس کی تفصیل لکھوں تو یقین ہے کہ ایک کتاب اور تیار ہو جائے، اس لیے قلم انداز کیا۔
القصہ شہزادہ بڑی شان و شوکت اور جاہ و حشمت سے بکاؤلی کو لے کر اپنے ملک پہنچا۔ دلبر اور محمودہ کی جان میں جان آئی، کشتِ امید سوکھی ہوئی پھر لہلہائی، اس کا آنا ان کے حق میں ایسا ہوا جیسے بیمار کے واسطے مسیحا کا، لیکن بکاؤلی کو جو اس حسن و جمال اور مال ومنال سے دیکھا حیران ہو گئیں، آئے ہوئے جوش جاتے رہے، ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ پری نے جو یہ رنگ ڈھنگ دیکھا، ہر ایک کو گلے سے لگایا، دلاسا اور فرمایا کہ تم خاطر جمع رکھو، کسی طرح کا اندیشہ نہ کرو، میں تمھارے عیش میں مطلق خلل انداز نہ ہوں گی، بلکہ اپنی خوشی پر تمھاری نشاط کو مقدم جانوں گی۔
چنانچہ ہمیشہ شیر و شکر کی طرح آپس میں سب کی سب ملی جلی رہیں اور سوتاپے کی جلن بھی کسی کو نہ ہوئی۔ شہزادہ بھی ان غنچہ دہنوں کے ساتھ شگفتگی سے اوقات بسر کرنے اور عیش و عشرت سے رہنے لگا۔