مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 19: انیسویں داستان

انیسویں داستان

تاج الملوک اور بکاؤلی کے بیاہ کا

باغبان اس گلستان کا گل اور بلبل کی مواصلت یوں بیان کرتا ہے کہ جمیلہ خاتون نے جو گفتگو کہ حسن آرا میں اور اس میں ہوئی تھی، فیروز شاہ سے جا کر اظہار کی اور تصویر شہزادے کی دکھائی۔ اس نے سمن رو کے ہاتھ بکاؤلی کے پاس بھیج دی کہ یہ تصویر شرقستان کے شہزادے کی ہے۔ بالفعل اس زمانے میں ایسا جوان کہیں نہیں، تو کہ آدم زاد کے سودے میں دیوانی ہورہی ہے اور جانِ لطیف ایک خاکی کثیف کے پیچھے کھو رہی ہے، تیری مرضی ہو تو اس کے ساتھ بیاہ کردوں؟ میری دانست میں تو نوع انسان میں ایسا شخص کمتر ہوگا، بلکہ پریوں پر بھی حرف ہے۔

وہ خوشی خوشی تصویر لیے ہوئے شہزادی کے پاس آئی اور بادشاہ کی زبانی جو حقیقت سنی تھی کہہ کر سنائی۔ اس محو جلوۂ ناز نے اس کو نگاہ غور سے دیکھا تو اپنے ورقِ دل کی صورت کے مطابق پایا بلکہ خط و خال میں بھی سر مو فرق نہ دیکھا۔ جی میں سمجھی کہ یہ کار پردازی اور نیرنگ سازی بہن روح افزا کی ہے۔ واقعی وہ چھتیسی اپنے قول کی بڑی سچی ہے۔ مسکرا کر سمن رو پری سے کہا کہ دیکھ تجھے میرے سر کی قسم! یہ اسی شخص کی تصویر ہے جس کے خزانِ غم سے میرا گل نارسیدہ کمھلایا ہے اور غنچۂ نو دمیدہ مرجھایا ہے۔

وہ ملاحظہ کرکے بے اختیار مارے خوشی کے اچھل پڑی اور بولی، ہاں شہزادی بے شک یہ تصویر شہزادے کی ہے۔ لو اب ہنسو بولو، خوشیاں کرو جو تمھارا مطلب تھا سو خدا نے پورا کیا۔ یہ کہہ کر بادشاہ کے حضور میں آئی اور یوں عرض کی کہ حضرت فرزند ماں باپ کے تابع ہیں۔ ان کی سعادتمندی اسی میں ہے کہ والدین کی مرضی کے خلاف نہ کریں اور ہر حال میں ان کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھیں۔ اگر دیو ان کے پسند پڑے تو بیٹی اس کو غلمان سمجھے اور جو وہ ایک سیاہ اس کے واسطے تجویز کریں تو اس کو ماہ کنعان جانے۔

فیروز شاہ اس کی گفتگو سے نہایت شاد ہوا اور شادی کی تیاری کا حکم دے دیا۔ تمام جزیرۂ ارم کی دکانوں کو نقش و نگار تازہ سے آرائش دی۔ اندر باہر نئے فرش بچھ گئے، ناچ رنگ ہونے لگا، چار طرف شادی کی دھوم مچ گئی۔ جا بجا رقعے بھجوائے، پریوں کے غول کے غول چاروں طرف سے آئے، مجلس نشاط آراستہ ہوئی، شراب چلنے لگی، تورے جانے لگے، لوگ ضیافتیں کھانے لگے۔

فیروز شاہ ہر ایک کے رتبے کے موافق اس کی خاطر داری اور مہمانداری آپ بھی کرتا تھا۔ اہلکار جو اس کام پر معین تھے ان پر غافل نہ رہتا تھا۔ آغاز کار کا بخوبی انجام ہوا اور جزیرۂ فردوس میں مظفر شاہ نے بھی اسی طرح سے تاج الملوک کی شادی کی تیاری اور لوگوں کی مہمانداری شروع کی۔

پھر بروز معیّن وزیروں امیروں کو حکم کیا کہ لباس نئے رنگین پہنے اور سرداران لشکر کو بھی کہہ دیں کہ مع فوج آراستہ ہوئیں اور محل میں حسن آرا نے بھی اپنی مصاحبوں اور خواصوں کو بہ آئین شائستہ آراستہ کیا اور آپ نیا لباس اور زیور جواہر کا پہنا۔ اس کے بعد سُبھ گھڑی نیک ساعت دیکھ کر شہزادے کو ایک جڑاو چوکی پر بٹھلاکر شہانہ جوڑا پہنایا، شملہ سر پر رکھ کر پیچھے گوشوارہ، آگے موتیوں کا سہرا اور اس پر پھولوں کا سہرا باندھا۔ جیغہ کلغی سر پیچ لگایا، طُرّہ رکھا، گلے میں موتیوں کا مالا، پھولوں کی بدھی پہنائی، مرصّع کے نورتن بازوؤں پر باندھے۔ پھر ایک پری پیکر گھوڑ ے کے گنگا جمنی ساز لگا کر موتیوں کا سہرا باندھ کر اس پر سوار کر دیا۔

اس کے بعد مظفر شاہ کئی بادشاہوں سمیت شہزادے کو بیچ میں لیے، امیر اور سردار داہنے بائیں، سواروں اور ہاتھیوں کے پرے آگے، تخت رواں، شتر سوار، تلنگوں کی کمپنیاں، پیادوں کی پلٹنیں باجے بجاتی ہوئی، خاص بردار، برچھی بردار، بان برداروں کے غول، سواروں کے پرے، آتش بازی چھٹتی ہوئی اور آرائش لٹتی ہوئی اور پیچھے پیچھے زنانی سواریاں۔ اس طرح بیاہنے چڑھا اور جزیرۂ ارم کو روانہ ہوا۔

یہاں بکاؤلی کو عورتیں اس صورت سے آراستہ کرنے لگیں:

پرستاروں نے یہ اس کو بنایا جہاں میں حور جنت کو دکھایا عجب صورت سے کی بالوں میں کنگھی کہ بکھرا دیکھ کر ہر ایک کا جی لپٹ آئی جو ان زلفوں کی یکبار ہوئی کافور بوئے مشک تاتار کھجوری گوندھی وہ پاکیزہ چوٹی کہ سب اہل نظر کی جان لوٹی جب اس کی موتیوں کی مانگ بھردی فلک نے کہکشاں قربان کردی چُنی جب اس کی پیشانی پہ افشاں قمر پر ہوگئے تارے نمایاں

جو ٹیکا اس کے ماتھے پر لگایا قمر نے اپنے دل پر داغ کھایا برنگ مہر تاباں تھا جو چہرا ہوا نار شعاعی منہ پہ سہرا حسامِ ابرو پر خم بلا تھی یہ کہیے اس کے قبضے میں قضا تھی وہ آنکھیں بند کرنا بھی ادا تھی چق مژگاں میں پوشیدہ حیا تھی جب اس کے کان میں پہنایا جھمکا پریشاں ہو گیا عقد ثریا پہن کر نتھ خوشی سے رنگ دمکا وہ مکھڑا چاند سا گھونگھٹ میں چمکا مسی آلودہ دنداں پیارے پیارے چمکتے تھے شب یلدا میں تارے مسی مل کر جب اس نے پان کھایا یہ مطلع پڑھ کے ناسخ کا سنایا مسی بالیدہ لب پر رنگ پاں ہے تماشا ہے تہ آتش دھواں ہے بنایا خال کاجل سے ذقن پر عجب جوبن تھا اس رشک چمن پر چڑھی منہ پر دلہن کے ایسے شیریں کہ پھیکی پڑگئی نظروں سے شیریں گلے میں پہنا جب موتی کا مالا بنات النعش کو حیرت میں ڈالا اگر ہاتھوں میں ہیرے کے کڑے تھے زر خالص کے زیب پا چھڑے تھے بہت اس کے سوا بھی اور گہنا مناسب جس جگہ تھا اس نے پہنا کف رنگین میں جو دُزدِ حنا تھی چرانے کو دل عاشق بلا تھی اسے پہنائی ایسی لال انگیا دلوں کو صید کرتی جس کی چڑیا عجب انداز کا بنگلہ بنا تھا کہ اس پر ملک دل بنگلا بنا تھا وہ دوڑے آنکھ کے ڈوروں سے افزوں کٹوری اس کی جام چشم مے گوں کچیں ابھری ہوئیں برچھی کی نوکیں جو رستم سامنے آئے تو ٹوکیں وہ اس کا پیٹ گورا لال کرتی دل چالاک کی کھوتا تھا پھرتی نہ چھپتی تھی لطافت سیم تن کی نمایاں صاف تھی رنگت بدن کی نظر جس کی پڑی اس پر وہ بولا شفق میں دیکھنا کیا چاند نکلا

مغرّق ایسا پہنا پائے جامہ کہ جس کی مدح میں عاجز ہے خامہ لباس و زیور و حسن و ادا کا بیاں سب کا کروں، کب ہے یہ یارا جو تھا ذی روح وہ تھا محوِ دیدار جسے دیکھو بنا تھا نقشِ دیوار

القصہ جب برات قریب پہنچی تب فیروز شاہ نے کئی ارکانِ دولت استقبال کے لیے بھیجے۔ وہ نہایت تعظیم اور تکریم سے لے آئے اور جس جگہ محفل نشاط ومحفل انبساط برپا تھی، وہاں ہر ایک کو بڑی تعظیم وتواضع سے بٹھایا۔ آتش بازی چھٹنے لگی، آرائش لٹنے لگی۔

اور حسن آرا کے ساتھ اسی سلوک سے جمیلہ خاتون پیش آئی۔ سارے طریقے سمدھنوں کے بجالائی۔ غرض پچھلی پہر تک ناچ رنگ کی صحبت رہی، اس کے بعد اس گوہر یکتا کا اس لعل بے بہا کے ساتھ عقد باندھا۔ مبارک سلامت کا اندر باہر غل پڑگیا۔ پھر شربت پلانے لگے، شربت پلائی لینے لگے،گوٹوں کے اور پھولوں کے ہار پہنانے لگے، الائچیاں اور چکنی ڈلیاں، عطر کی شیشیاں دینے لگے۔ اس کے بعد دولہا کو گھر میں بلایا اور دلہن کو لا کر دولہا کے پاس شہانی مسند پر بٹھایا۔ نو بات چنوا کر، ٹونی گا کر، آرسی مصحف دکھا کر دولہا کو باہر رخصت کیا۔ دلہن کو ملنے کے لیے گود میں اٹھا کر لے گئے،جہیز نکلنے لگا۔ ادھر فیروز شاہ نے ایک مکان عظیم الشان کہ تخت گاہ سے قریب تھا، بیٹی داماد کے رات بھر رہنے کو نہایت تکلف سے سجوا یا۔ جب سب جہیز نکل چکا اور برات کے چلنے کی تیاری ہوئی، پھر دولہا کو گھر میں بلایا، ڈیوڑھی میں چھپّان لگا یا، دولہا نے دلہن کو گود میں لاکر کر چھپان میں سوار کیا پھر آپ اسی پری پیکر گھوڑے پر سوار ہوا۔ ہر ایک چھوٹا بڑا جلو میں چلنے کو تیار ہوا۔

اسی طرح آگے آگے تخت رواں، شتر سوار، پیادے اور سوار بےشمار، نقارچیوں کی قطار، روشن چوکی والے گاتے بجاتے ہوئے اور مہتمم دلہن کی سواری پر سے چاندی سونے کے پھول لٹاتے ہوئے اسی مکان پر پہنچے۔ ہر ایک باراتی اپنے اپنے گھر سدھارا، کہاروں نے دلہن کا چھپان اتارا،دولہا نے دلہن کو گود میں لے جا کر مسند پر بٹھایا۔ کھیر چٹائی، خدا خدا کرکے دن گزرا،رات آئی۔ سب کنارے ہوئے، خلوت ہوئی،پردے چُھوٹے، دولہا دلہن مسہری میں گئے،مزے لوٹے:

عاشق و معشوق بہم ہوں جہاں شوق بہت جوش میں آئے وہاں شمع کو پروانہ جو دیکھے کہیں رہ نہ سکے،گر پڑے اس پر وہیں صبر کرے پھول سے بلبل کہاں لے ہی لے آغوش میں مانندِ جاں طوطی جو آئینہ کو دیکھے کبھو چین نہ آوے اسے بے گفتگو دیکھا جو شہزادے نے اس دم وہاں اس گل بنجار کو بے باغبان لے کے بغل میں لیے بوسے کئی شوق نے کچھ صبر کی رخصت نہ دی لے چکا جب پستۂ لب کا مزا سیب زنخداں کی طرف جھک پڑا عارض گلرنگ کی خواہش جو کی

‌اس کی بھی لی خوب طرح چاشنی ابھری ہوئی چھاتیاں وہ سخت سخت گیند کے مانند جو پائیں کرخت رہ نہ سکا، ڈال دیا ان پہ ہاتھ چھوڑ دیا صبر و تحمل نے ساتھ گوہر و الماس ہوئے پھر بہم لینے لگے دونوں مزے دم بدم

جب خوب چھک گئے، ماندے ہوئے،پھر ہر ایک نے اپنا ساعد سیمیں دوسرے کا تکیہ بنایا،منہ سے منہ ملایا،سینے سے سینہ لگایا۔ غرض اس ہئیت سے آرام فرمایا۔

صبح ہوئی، مرغ نے بانگ دی۔ شہزادے نے اٹھ کر حمام کی راہ لی اور روح افزا اس عشرت گاہ میں آئی۔ بکاؤلی کو دیکھا، رات کی جاگی ملی۔ دلی غافل سوتی تھی،بال چھوٹے ہوئے ہیں،ہار ٹوٹے پڑے ہیں،ہونٹوں پر لاکھا نام کو نہیں رہا۔ آنکھوں کا کاجل سارا پھیل گیا، گالوں پر دانتوں کے اور چھاتیوں پر ہاتھوں کے نشان پڑے ہیں، یہ عالم دیکھ کر رہ نہ سکی، جلد اس کو جگایا اور مسکرا کر کہا، اے بہن اس روز تو مجھے کہتی تھی کہ تونے دیو مکار کے مدرسہ کنار میں شرح لوندی پڑھی ہے۔ آج تو تیرے اطوار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو تو یار کے مکتب آغوش میں اپنے مطلب کی کتابوں کو بخوبی مطالعہ کرکے بڑی علامہ ہوئی ہے۔ دیر تک تونے مصدر ملابست کو مختلف صیغوں کے ساتھ گردانا اور عشرت کے مزید فعلوں کو الف وصل سے ربط دیا، شان فاعل اور علامت مفعول کما ینبغی دریافت کی اور تجرید سے اپنے پاؤں باہر رکھے، بلکہ خلوت میں قضیہ موجبۂ مباشرت کو عکس مستوی بنایا اور اشکال مختلفہ کے ضروب نتیجہ سے نتیجہ موافق مطلوب کے پایا۔ وصل فصل کا بھی طریقہ لے لیا اور اپنے مثلث کے نقطہ پر خط عمود کو قائم کیا۔

بکاؤلی یہ سن کر مسکرائی اور کہنے لگی، بھلا تمہارے منہ میں پانی کیوں بھر آتا ہے، مجھ کو صاف ان کنایہ آمیز باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا بھی یہی ارادہ ہے۔ بہت بہتر، میں راضی ہوں، شوق سے اپنی وصلی اس مشتاق کے آگے رکھو، پھر اس کے قلم کی روانگی اور قوت دیکھو کہ کس کس طرح سے توڑ جوڑ لگاتا ہے اور کیا کیا گل بوٹا بناتا ہے۔

حاصل یہ ہے کہ باہم اس طرح ہنسیاں بولیاں رہیں، آخر روح افزا اپنے ماں باپ سمیت رخصت ہو کر اپنے گھر گئی اور تاج الملوک نے فیروز شاہ کے محل میں جاکر اپنی بود و باش اختیار کی۔