مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 18: اٹھارھویں داستان

اٹھارھویں داستان

روح افزا کے ظاہر کرنے میں ماں سے تاج الملوک اور بکاؤلی کے

عشق کی کیفیت اور جانا اس کا جمیلہ خاتون کے پاس ان دونوں کے بیاہ کی درخواست کے لیے

کہتے ہیں کہ جب بکاؤلی روح افزا سے رخصت ہو کر اپنے گھر گئی، روح افزا نے شہزادے اور بکاؤلی کے عشق کی تمام اور کمال کیفیت اپنی ماں سے ظاہر کی۔ حسن آرا یہ سن کر دیر تک گریبان تفکر میں سر ڈالے رہی، پھر سوچ کر بولی اگرچہ یہ ناتا رشتہ آدمی کا پری سے ہونا نہایت محال ہے لیکن اس نے میری بیٹی کو قید شدید سے چھڑایا ہے، مجھ کو لازم ہے کہ میں بھی اس کو زندانِ غم و الم سے چھڑاؤں اور مطلب کو پہنچاؤں۔ یہ کہہ کر اسی وقت ایک مصورِ شبیہ کش، چالاک دست کو بلاکر شہزادے کی تصویر کھچواکر گلستانِ ارم میں لے گئی اور فیروز شاہ اور جمیلہ خاتون سے ملی، بلکہ چند روز وہیں رہی۔

ایک دن کا مذکور ہے کہ جمیلہ خاتون سے باتیں کرتے کرتے مطلب کی بات پر آئی اور اس وضع سے کہنے لگی، اے بہن اگر کوئی غنچۂ رنگین آب و ہوا کے فیض سے کسی شاخ میں لگے اور اس کے پاس بلبل نہ بیٹھے تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور اگر آبدار موتی کسی کے ہاتھ لگے اور وہ اس کو رشتے سے الگ رکھے تو عقل سے باہر ہے۔ کب تک تو بکاؤلی کو کنوارا رکھے گی۔ بہتر یہی ہے کہ اس زہرہ جبین کو کسی ماہ رو کے پہلو میں بٹھا اور اس غنچۂ خوبی کو مونس بہار کا بنا۔

جمیلہ خاتون نے یہ سن کر کہا، اے حسن آرا! تو نے سنا ہوگا کہ اس نے آدم زاد سے دل لگایا ہے اور اسی کا سودا اس کے سر میں سمایا ہے۔ اپنے ہم جنس کو نہیں چاہتی اور غیر جنس کے واسطے دن رات کراہتی ہے۔ میں اس امر میں ناچار ہوں، بزرگوں کا چلن کیوں کر چھوڑوں اور اس علامہ کی خواہش سے قدیم سلسلے کو کس طرح توڑ دوں، اپنے کفو کے ہوتے غیر قوم میں کس نے کیا ہے جو میں کروں۔ پری کا آدمی سے کبھی بیاہ ہوا ہے کہ میں بیاہوں؟

حسن آرا نے کہا سچ کہتی ہے، لطیف کو ہم صحبتِ کثیف کرنا البتہ دانائی سے بعید ہے لیکن تو حضرت انسان کے کمالوں سے اگر واقف ہوتی تو ایسے ایسے خیال فاسد دل میں ہرگز نہ لاتی۔ سن اے نادان! بشر خلقتِ یزداں میں اور اس کی صنعتِ بے پایاں میں اشرف اور افضل ہے، اس کے رتبوں اور درجوں کی انتہا نہیں، وہ ایک نہنگ ہے دریا کا بہنے والا اور ایک قطرہ ہے حقیقت میں دریا، ہے جامع کمالات عالم کونی و الٰہی کا یعنی مادیات اور مجردات کا اور مجمع ہے مراتب بندگی اور بادشاہی کا:

انسان کی ذات برزخِ جامع ہے بے گماں ظل خدا و صورتِ خلق اس میں ہے عیاں

جان کہ صوفیہ ہر ایک کو عالم ارواح کے نوعوں میں سے باری تعالی کے ایک ایک اسم اور صفت کا مظہر خاص جانتے ہیں اور اس عالم صورت کو کہ حواس ظاہری اور باطنی سے نسبت رکھتا ہے، اس عالم کا سایہ۔ پس ہر ایک ذرہ فرد کائنات سے روشن ایک تجلی ابدی اور سراب ایک قطرۂ سرمدی سے ہے:

برگِ درختانِ سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار

اس عالم میں انسان کہ سارے افراد کون و فساد اس کے لازمے ہیں، خدا کے سارے اسموں اور صفتوں کا مظہر ہے اور اس کی تجلیاتِ خاص کا مقام کلام فضیلت انسان میں دریائے بے پایاں ہے، اسی قدر پر اکتفا کیا۔ اے جمیلہ خاتون! وہ اصل ہے اور ہمارا وجود طفیلی، وہ مخدوم اور ہم خادم۔ زہے شرف کہ شریف ہم سے ارادہ وصلت کا کرے اور مخدوم خادم سے قصد قربت کا رکھے۔

القصہ اس آب و تاب سے انسان کی تعریف کرکے فضیلتوں کا بیان کیا کہ اس کا شعلۂ غضب بجھ گیا۔ کہنے لگی، اچھا اس بد اطوار بدکردار کا ذکر نہ کیجیو کہ اپنی بیٹی ہرگز اسے نہ دوں گی اور ایسے خائن کو اپنی دامادی میں کبھی نہ لوں گی۔ آخر حسن آرا نے تاج الملوک کی تصویر جمیلہ خاتون کے ہاتھ میں دی اور کہا یہ تصویر شرقستان کے شہزادے کی ہے۔ دیکھ ایسا نقشہ قلم تقدیر نے صفحۂ عالم پر آج تک نہیں کھینچا اور اس پرداز کا چہرہ ورقِ جہاں پر دوسرا نہیں بنایا۔ اس یاسمین گلشن محبوبی کو اس گل خوبی کے ساتھ ملا اور اس زہرۂ فلک حسن کو اس ماہ برجِ سعادت کے پہلو میں بٹھا۔

الغرض وہ چارونا چار راضی ہوئی۔ کہنے لگی، بہنا اس کو کہاں ڈھونڈوں اور کس تدبیر سے لاؤں؟ حسن آرا نے کہا تم خاطر جمع سے شادی کی تیاری کرو۔ اس کو فلانی تاریخ دولہا بنا کر برات سمیت لے آتی ہوں۔ یہ کہہ کر رخصت ہوئی، پل مارتے ہی جزیرۂ فردوس میں آپہنچی اور یہ ذکر من و عن شہزادے کے آگے کیا، پھر وصل کا بھروسا دیا۔