مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 17: سترھویں داستان

سترھویں داستان

خط لکھنا مظفر شاہ کا فیروز شاہ کو روح افزا کے پہنچنے کا اور

آنا بکاؤلی کا ماں کے ساتھ اس کی ملاقات کے لیے

راوی شیریں زباں یوں بیان کرتا ہے کہ مظفر شاہ نے ایک خط روح افزا کے پہنچنے کا فیروز شاہ کو لکھ کر بھیجا۔ وہ اس کو پڑھ کر نہایت شاد ہوا اور فرمایا کہ جمیلہ خاتون روح افزا کے دیکھنے کو جلد جائے اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے۔

بکاؤلی نے جو ماں کے جانے کی خبر سنی، کہلا بھیجا کہ میں بھی بہن کی ملاقات کو تمھارے ساتھ چلوں گی۔ جمیلہ خاتون نے اس بات کو غنیمت جانا، اس واسطے کہ شاید وہاں کے جانے سے اس کا غنچۂ دل کھلے اور مکانات مختلفہ کی سیر سے زنگِ کدورت آئینۂ دل سے جائے۔ پاؤں کی زنجیر کاٹ دی اور اپنے ساتھ لے کر جزیرۂ فردوس کی راہ لی۔

مظفر شاہ نے جب سنا کہ جمیلہ خاتون مع بکاؤلی آتی ہے۔ روح افزا کو استقبال کے لیے بھیجا، جب اس سے دوچار ہوئی روح افزا نے چچی کو جھک کر سلام کیا اور قدموں پر گرپڑی۔ اس نے سر اٹھا کر چھاتی سے لگایا، آنکھیں چومیں، بلائیں لیں پھر دونوں بہنیں آپس میں دیر تک گلے ملیں، مبارک سلامت کی صدا طرفین سے بلند ہوئی۔ پھر روح افزا نے مسکرا کر بکاؤلی کے کان میں کہا تمھیں بھی اپنے چاہتے حکیم کا آنا مبارک ہو، اب اس کو شوق سے نبض دکھاؤ اور شربت وصل پیو۔ یہ سن کے ماں کے خوف سے اس وقت تو خاموش ہورہی، پوچھ نہ سکی پر دل ہی دل میں کچھ شاد کچھ مغموم ہوئی۔ القصہ روح افزا دونوں کو اپنے گھر بہ آئین شائستہ لائی۔ مظفر شاہ اور حسن آرا بھی جمیلہ خاتون سے ملے، نہایت شفقت اور مہربانی سے پیش آئے۔ پھر ادھر ادھر کا مذکور نکلا، دروازہ گفتگو کا کھلا۔ آخرش روح افزا کی رہائی کا ذکر بھی درمیان میں آیا اور اس نے اس کو اور ہی ڈھب سے ادا کیا۔

غرض جمیلہ خاتون ایک رات رہ کر دوسرے دن رخصت ہوئی۔ روح افزا نے اس وقت عرض کی کہ میں چاہتی ہوں چند روز بکاؤلی میرے پاس رہے۔ شاید یہاں کے رہنے سے اس کے آئینۂ طبع کا زنگ کدورت چھٹے، نور عقل اس میں نمایاں ہو اور تاریکیٔ سودا پنہاں۔ جمیلہ خاتون نے کہا اچھا کیا مضائقہ ہے۔ چنانچہ ایک ہفتے کی اجازت دی اور گلستانِ ارم کی راہ لی۔

روح افزا بکاؤلی کو اکیلا لے کر بیٹھی، باتیں عشق آمیز کرنے لگی، طول بہت سا دیا۔ آخر تاج الملوک کے سوز و گداز سے بھی کچھ کنایہ کیا۔ بکاؤلی ہم چشمی کے سبب سے شرمندہ ہوگئی اور مارے حیا کے پانی ہوگئی۔ پھر غصے سے منہ پھیر کر بولی واہ واہ بوا مجھے یہ ہنسی خوش نہیں آتی اور ایسی چھیڑ چھاڑ نہیں بھاتی، یہ تم اپنی بیتی ہوئی میرے پردے میں سناتی ہو۔ میں نے جانا کہ تم اس دیو کا دل ہی دل میں غم کھاتی ہو۔ یہ کہاوت تم پر پھب گئی۔ مثل: “ہاتھوں مہندی پاؤں مہندی اپنے لچھن اوروں دیندی”۔ بس زیادہ بے ہودہ مت بکو، قسم ہے حضرت سلیمانؑ کی میں ابھی اپنے گھر چلی جاؤں گی۔ پھر کبھی تمھارے گھر نہ آؤں گی۔ بھلا شمع فانوس کو پروانے سے کیا نسبت اور غنچۂ سر بستہ کو بلبل سے کیا مناسبت، کہاں پری کہاں انسان، یہ تمھارا صرف گمان ہے۔

روح افزا نے جب دیکھا کہ یہ کسی طرح ہاتھ نہیں آتی اور کسی صورت دھوکا نہیں کھاتی، کہنے لگی اے بہن یہ تو میں نہیں کہتی کہ تو کسی کو چاہتی ہے یا خدانخواستہ کسی کے درد سے کراہتی ہے، بلکہ میں تو یہ کہتی ہوں کہ تو شمع فانوس ہے، کوئی پروانہ جو آپ سے آکر جلے تو تجھ کو اس کے جلنے سے کیا۔ اگر ہزاروں گل نیلوفر دریائے عشق میں ڈوبیں، سورج کو کیا پروا۔ غرض اسی وضع کے اور ذکر نکال کر اس کے غصے کو ٹال کر، بھلاوے میں ڈال کر، ہاتھ میں ہاتھ لے کر اس مکان کی روش پر کہ جس میں تاج الملوک رہتا تھا، آکر پھرنے لگی۔

اتنے میں آواز دردناک اس مریض عشق کی بکاؤلی کے کان میں پہنچی، سن کر بے چین ہوئی، آخر رہ نہ سکی۔ روح افزا سے پوچھا یہ کس کی صدا ہے؟ اس نے کہا ایک شکار نو گرفتار نالاں ہے۔ آ تجھے اس کا تماشا دکھاؤں اور اچھی طرح سے اس کی آواز سناؤں۔ غرض بکاؤلی کو دھوکا دے کر شہزادے کے آگے لا کھڑا کردیا۔ تاج الملوک سے دوچار ہوتے ہی اختیار کی باگ اس کے ہاتھ سے چھٹ گئی اور جنس صبر و قرار کی لٹ گئی۔ وہ بھی آتش شوق کا جلا ہوا صبر نہ کر سکا، دوڑ کر اس چشمۂ خوبی سے بے اختیار لپٹ گیا۔ بکاؤلی نے بھی دامن حیا کو چھوڑ کر اپنے ہاتھ اس کے گردن میں حمائل کردیے۔ پھر تو دونوں جلے ہوئے آتش فراق کے دل کھول کر روئے اور غم جدائی کے دفتر اپنے اپنے خوب دھوئے۔

روح افزا یہ حالت دیکھ کر ٹھٹھا مار کر ہنسنے اور کہنے لگی، بہنا تو تو اب تک دنیا کی لذت سے واقف نہیں، بیگانے مرد کا بھی منہ آج تک نہیں دیکھا، پھر اس نامحرم مردوے کے گلے لگ کر زار زار کیوں روتی ہے اور اس کے غم سے اپنا ننھا سا جیوڑا کس لیے کھوتی ہے۔ تو نے میرے چچا کا نام ڈبویا اور سارے کنبے کو کلنگ لگایا۔ یہ سن کر بکاؤلی نے کہا، اے روح افزا اگر تو نے مجھ سینہ فگار کے زخم پر مرہم لگایا ہے تو ناخن طعن سے نہ چھیل اور جو شربت دیدار پلایا ہے تو زہر ملامت نہ کھلا۔ اب تو تجھ پر میرا راز بالکل ظاہر ہوگیا اور پردہ کھل گیا، میرے حق میں جو تو چاہے سو کر مختار ہے۔

القصہ دو عندلیب شیدا اور دو گل رعنا چمن نشاط میں بخوبی ہنسے بولے اور اپنے اپنے اشتیاق کے ہر ایک نے دفتر کھولے۔ کئی دن بوس و کنار کی لذت خوب طرح اٹھائی اور جام وصل سے اپنی اپنی پیاس جی بھر کے بجھائی۔ آخر ایام وصال کے آخر ہوئے۔ بکاؤلی کی روانگی کا دن آپہنچا۔ تاج الملوک پھر بستر بے قراری پر گرا اور ماہیٔ بے آب کی مانند تڑپنے لگا۔ یہ حالت دیکھ کر اس نے بھی چاہا کہ حیا کے پردے کو اٹھا کے ویسا ہی اپنا حال بنائے کہ روح افزا بولی، زنہاراے بہن یہ حرکت نہ کرنا، ناحق رسوائی ہوگی اور جگ ہنسائی۔ چند روز اور صبر کر، ان شاء اللہ تعالیٰ تھوڑے دنوں میں تجھ کو تیرے چاہنے والے سے بخوبی ملاتی ہوں اور شربت وصال پلاتی ہوں۔ زمانہ فراق کا اب تھوڑا رہا ہے اور روز وصال کا نزدیک آپہنچا ہے۔ خاطر جمع رکھ، ماں باپ کی فرمانبرداری کر اور جناب الٰہی میں گریہ وزاری۔ پھر دیکھ پردۂ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے اور میری سعی اور کوشش کیا دکھاتی ہے۔

بکاؤلی یہ سن کر چا رونا چار گلستانِ ارم کو گئی اور ماں باپ کی خدمت میں مشغول ہوئی۔