سولھویں داستان
پہنچنے میں تاج الملوک کے دیو سیاہ پیکر کے مکان میں اور
ملنے میں بکاؤلی کی چچا زاد بہن روح افزا سے
نقّاشِ سخن اس حکایت کی تصویر صفحۂ بیان پر یوں کھینچتا ہے کہ جب تاج الملوک نے یہ صدمے اٹھائے، پھر زمین پر پاؤں رکھنا چھوڑ دیا۔ سبز میوے کی قوت سے ہوا پر جاتا تھا۔ ایک روز ایسے پہاڑ پر گزرا کہ کوہ قاف بھی اس کے آگے ایک پشّہ سا نظر آئے۔ اس پر ایک پتھرکی حویلی دیکھی۔ شہزادہ تفتیش حال کے لیے اس میں گیا، ہر چند پھرا لیکن ذی حیات کا اثر وہاں نہ دیکھا۔ ہر ایک مکان کو ڈھونڈھنے لگا، ناگاہ ایک آواز دردناک اس کے کان میں آئی۔ وہاں جاکر دیکھا کہ ایک عورت خوب حسین کہ جس کی صفائی پر نظر پھسلی جاتی تھی بلکہ اس کے دیکھنے سے ہاتھ پاؤں میں سنسناہٹ چلی آتی تھی، پلنگ پر لیٹی ہچکیاں لے لے کر روتی تھی۔
شہزادے نے سر سے ٹوپی اتار کر اس سے پوچھا کہ اے آرام جاں! اس جوانی کے عالم میں تیری جدائی تیرے عاشق بے دل کے دل پر ایک ستم ہے اور تیرے تریاقِ وصل سے دوری اس کے حق میں سُم ہے۔ تو نے اس سے کنارہ کیوں کیا اور داغ فراق کا اس بیچارے مشتاق کے دل پر کس واسطے رکھا۔ اس نازنین کو یہ کلام رندانہ سن کر بہت حیا آئی اور اس چھیڑ چھاڑ کی باتوں سے نہایت شرمائی۔ پھر دوپٹے کا آنچل منہ پر لے کر بولی، ارے تو کون ہے؟ مگر متلاشی عزرائیل کا ہے۔ جلد یہاں سے بھاگ، نہیں تو ابھی مارا جائے گا۔
تاج الملوک بولا اگر میرے سر کی، جو فی الحقیقت میرے نزدیک ایک بار ہے، تجھے رغبت ہو تو حاضر ہے اور جو کسی دشمن سے ڈراتی ہے تو ہرگز میں نہیں ڈرتا۔
نہیں ڈرتا میں مرنے سے ڈراتی ہے تو کیا مجھ کو کہ جی پر کھیلنا ہے سہل رندِ لا ابالی کا
بہرحال تو مجھے اپنے حال سے مطلع کر۔
اس زہرہ جبین نے سر اٹھا کر کہا کہ میں پری ہوں اور میرا نام روح افزا ہے۔ مظفر شاہ تخت نشین جزیرۂ فردوس کا میرا باپ ہے۔ ایک روز میں اپنے چچا کی بیٹی کی عیادت کے لیے کہ اس کا نام بکاؤلی ہے، گلستان ارم میں گئی تھی۔ پھرتے ہوئے ایک دیو سیاہ رو نے راہ میں مجھے پکڑا اور یہاں لے آیا۔ اب مجھ سے نزدیکی کیا چاہتا ہے اور میں دور بھاگتی ہوں۔ اس واسطے مجھ کو نئی نئی طرح سے ستاتا ہے اور ہر روز ایک آفت تازہ میرے سر پر لاتا ہے۔ یہ سن کر تاج الملوک نے پوچھا کہ تیرے چچا کی بیٹی کو کیا مرض ہے۔ اس نے کہا کہ وہ کسی آدم زاد سے عشق رکھتی ہے مگر ایک مدت کے بعد اسے بہزار خرابی وہ ملا تھا، ایسا بجوگ پڑا کہ پھر جدا ہوگیا۔ اب اس کے فراق میں وہ رشک حور مجنون کے مانند دیوانی ہورہی ہے اور اپنی جان شیریں کو اس فرہادِ وقت کے غم میں کھورہی ہے۔ کچھ اس کا تدارک نہیں ہوسکتا۔ اس لیے میرے چچا نے اس کو قید کیا ہے اور ناچاری سے اس کی اذیت کا صدمہ اپنے دل پر لیا ہے۔
اس ماجرے کو سن کر شہزادے کی حالت تغیر ہوگئی، آنکھیں بھر آئیں، آہیں لب پر آئیں، دل ودماغ میں خلل ہوگیا، چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ روح افزا نے یہ حالت دیکھ کر کہا، باوجود ان گرمیوں کے موجب آہ سرد کا کیا ہے۔
شہزادہ بولا کہ میں وہی گرفتار بلائے دوری ہوں جس کی مجبوری سے تیرے چچا کی بیٹی کی وہ حالت ہوئی ہے۔ ادھر اس کا دل قید میں گھبراتا ہے اور میرا آوارگی میں جی چاہتا ہے۔
غرض شہزادے نے اپنا تمام قصہ روح افزا کے رو برو کہا۔ وہ سن کر نہایت متعجب ہوئی اور دونوں کی محبت پر ہزار ہزار آفریں کی۔ اس کے بعد کہنے لگی کہ اگر میں اس دیو کی قید سے نجات پاتی تو تیرے زخم پر مرہم لگاتی۔ شہزادے نے کہا کہ اب تجھ کو کون روک سکتا ہے، اس قید خانہ سے ابھی نکل، جس طرف جی چاہے تیرا شوق سے چل، اگر اس دیو کا تیرے جی میں ڈر ہے تو دیکھ لیجو کہ ایک ہی حملہ میں اس کا کیا حال کرتا ہوں۔ لیکن اندیشہ یہ ہے کہ میرے پاس کوئی حربہ نہیں۔
روح افزا نے دیو کا سِلح خانہ اس کو بتادیا۔ اس نے وہاں جا کر ایک تیغ آبدار اٹھا لیا اور اس کے پاس جا کر سراج القرطب کا عصا پاؤں میں چُھوایا، بیڑیاں اس نازنین کے پائے نازک سے کٹ کر گر پڑیں۔ اس کے بعد دونوں نے جزیرہ فردوس کی راہ لی۔ چنداں دور نہ گئے تھے کہ ناگاہ ایک آواز مہیب پیچھے سے آئی، روح افزا نے کہا اے شہزادے! ہوشیار رہو، دشمن خونخوار آن پہنچا۔ فوراً تاج الملوک نے کلاہ بغل سے نکال کر روح افزا کے سر پر رکھ دی اور آپ دیو کی طرف متوجہ ہوا اور دیو بھی سامنے آیا۔ شہزادے نے للکارتے ہوئے کہا اے دیو لعین! خبردار، قدم آگے نہ بڑھانا، نہیں تو ایک ہی ہاتھ میں دو ٹکڑے کروں گا۔
دیو سن کر بجلی کی طرح تڑپا اور دانت نکال کر بولا، عجیب تماشہ ہے کہ چیونٹی ہاتھی سے مقابلہ کیے چاہتی ہے اور چڑیا مرغ سے لڑنا چاہتی ہے۔ مجھے ننگ آتا ہے کہ مکھی کے خون سے کیا ہاتھ بھروں اور جس ہاتھ کے طمانچہ کا زور کوہ قاف کے منہ کو پھیردے ایک مشت خاک پر کیا ماروں۔ خیر میری معشوقہ کو مجھے دے اور تو اپنی راہ لے کہ میرا دل اس شمع جمال پر پروانے کی طرح جلتا ہے اور اس کے سوز عشق سے دم بہ دم پگھلتا ہے۔ شہزادے نے کہا، اے مردود گندہ دہن! لائق نہیں کہ تو روح افزا کو اپنی معشوقہ کہے۔ خدا کا خوف کرتا ہوں، نہیں تو ابھی تیری زبان کاٹتا۔
دیو یہ زبان درازی اور لاف زنی شہزادے کی دیکھ کر دیگ کی مانند آتش غضب سے جوش میں آکر سومن کا پتھر اٹھا کر شہزادے کی طرف پھینکا۔ وہ اس سبز میوے کے زور سے اچک کر ہوا پر جاتا رہا اور سراج القرطب کا عصا دیو کی گردن پر مارا کہ تمام بدن اس کا کانپ گیا۔ اس کے بعد غصے سے کہا کہ دور ہو اے لعین! اب کی بار تو میں نے رحم کیا، اگر ایک ہاتھ اور مارتا تو دو ہی کر دیتا۔ جب دیو نے حریف کو نہایت شہ زور پایا، ایسا شور مچایا کہ چاروں طرف سے ہزاروں دیو گاؤ سر اور فیل تن آ پہنچے۔ شہزادے کو گھیر لیا۔
تاج الملوک نے بھی اسی میدان میں جیسی چاہیے ویسی ہی جواں مردی کی داد دی اور دیووں کی لڑائی بات کی بات میں مار لی:
چلائی یہ تلوار اس نے وہاں زمین ہل گئی کانپ اٹھا آسماں لڑائی نے ہر سمت گاڑے تھے پا کہیں صلح کی ہاتھ آئی نہ جا کیے قتل اس نے تو لاکھوں پلید یہ تیغ اس کی کہتی تھی ھل مِن مَزید وہ انسان دیووں سے ایسا لڑا کہ مریخ کہنے لگا مرحبا تڑپتے تھے وہ خاک پر بیشمار زمین ہو گئی تھی کف رعشہ دار بہا جاتا تھا یہ ان کے تنوں سے لہو کہ تھی کوہ پُر خون کی آبجو غرض جو بچے بھاگے پُھرتی کے ساتھ رہا کھیت بس شہزادے کے ہاتھ
لیکن تاج الملوک لڑتے لڑتے اور چالاکیاں کرتے کرتے بہت تھک گیا تھا، غش کھا کر گر پڑا۔ روح افزا دوڑی آئی اور سر اٹھا کر اپنے زانو پر رکھا، گلبرگ سا ہاتھ اس کے سینے پر پھیرا اور اپنے بوئے دہن سے کہ رشکِ غنچۂ گل تھی، ہوش میں لائی اور ٹوپی سر سے اتار کر شہزادے کے آگے رکھ دی اور اس کی جواں مردی پر ہزار ہزار آفریں کی۔ پھر اٹھ کر جزیرہ فردوس کی راہ لی۔
جب دونوں نزدیک شہر کے پہنچے، روح افزا نے تاج الملوک کو ایک باغ میں کہ اس کا نام بھی روح افزا تھا، بٹھا کر آپ ماں باپ کی ملاقات کے لیے گئی۔ انہوں نے اس کے آنے سے زندگی دوبارہ پائی۔ اس کا ماتھا اور آنکھیں چومیں پھر سرگزشت پوچھی۔ روح افزا نے اذیت دیو ستمگر کی اور مروت اور جوانمردی شہزادے شجاعت شعار کی بیان کی لیکن یہ نہ کہا کہ بکاؤلی کا عاشق وہی ہے۔
مظفر شاہ سنتے ہی اٹھ کر باغ میں گیا اور شہزادے کا شکر و احسان بہ مرتبہ بجا لایا۔ مدارات بہت سی کی، ایک مسند پاکیزہ اور نئی بچھوائی۔ پھر کئی پریاں اس کی خدمت میں مقرر کرکے اپنے دولت خانہ پر آیا۔