مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 15: پندرھویں داستان

پندرھویں داستان

پہنچنے میں تاج الملوک کے ایک حوض پر اور اس میں

غوطہ مار کے تبدیل ہونا اس کی شکل کا

نقل ہے کہ تاج الملوک ایک سنگ مرمر کے حوض پر جس کے چاروں طرف رنگ برنگ کے پھول پھولے ہوئے تھے، جا پہنچا۔ وہ سہانی جگھ اور ٹھنڈی چھاؤں دیکھ کر شہزادہ ایک آن سوگیا۔ جب آنکھ کھلی اور پانی کی صفائی ملاحظہ فرمائی، ٹوپی اور عصا ایک درخت کے نیچے رکھ کر اس میں اترا اور غوطہ مارا۔ جوں ہی پانی سے باہر نکلا، اس حوض اور مکان کو نہ پایا بلکہ ایک شہر کے متصل جا پہنچا۔ اس کے سوا کیا دیکھتا ہے کہ علامت مردی کی جاتی رہی اور صورت عورتوں کی سی ہوگئی۔ گل سے رخسار کہ خط سبز سے سبزہ زار تھے، یاسمین کے مانند مصفا ہوگئے اور صندل سی چھاتی پر آثار کچوں کے نمودار ہوئے۔

تاج الملوک اس آفتِ ناگہانی سے نہایت گھبرایا۔ صبر کے سوا اور کچھ تدبیر نہ سوجھی۔ ناچار شکیبائی اختیار کی اور ایک جگہ شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا۔

اس میں ایک جوان وہاں آیا، اس نے دیکھا کہ ایک عورت نوجوان پاکیزہ رو نہایت حسین بیٹھی ہے، اگر حور کہیے تو روا ہے اور پری کہیے تو بجا ہے۔ غرض جوان کا دل اس پر آگیا۔ پوچھا اے نازنین تجھ پر کیا آفت پڑی ہے جو اس ویرانے میں آکر بیٹھی ہے۔ اس نے کہا میرا باپ تاجر تھا جہاں تجارت کے واسطے جاتا تھا، مجھ کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ کل اس جنگل میں مع قافلہ آکر اترا، آدھی رات کو ڈاکہ پڑا، بہت مال لٹ گیا۔ وہ رفیقوں سمیت مارا گیا، ساتھ چھٹ گیا، قافلے کے لوگ اپنی اپنی جان لے کر بھاگ گئے، فقط میں اس ویرانی میں بیکس رہ گئی۔ اب یہاں نہ کہیں رہنے کا ٹھکانا ہے نہ بیٹھنے کا۔ نہ طاقت چلنے کی ہے۔ جوان نے کہا اے نازنین اگر تو مجھے قبول کرے تو میں تجھے اپنے گھر لے چلوں اور صاحب خانہ بنا کر رکھوں۔ اس کی بھی آتش شہوت جوان کے دیکھنے سے شعلہ زن ہوئی تھی، اس بات پر راضی ہو کر اس کے ساتھ گیا۔ جو رو بننے کے سوا اور کچھ بن نہ آیا۔ اس واردات عجیب سے کبھی ہنستا اور کبھی روتا، ہر طرح سے اپنے دن کاٹتا۔ اس اثنا میں اسے حمل نمودار ہوا، نو مہینے کے بعد ایک لڑکا جنا۔ چالیسویں روز ایک حوض میں کہ اس کے گھر کے نزدیک تھا جاکے ایک غوطہ مارا۔ جوں ہی سر اٹھایا تو دیکھا نہ وہ سر زمین ہے اور نہ وہ صورت۔ خدا کی قدرت سے آپ کو ایک حبشی جوان کی شکل دیکھا۔ کہا الحمد للہ اگرچہ جمال اصلی تو نہیں ملا لیکن عورت سے پھر مرد تو ہوا۔

غرض اسی خیال میں تھا کہ ناگاہ ایک عورت حبشن کی سی وضع، اوپر کا ہونٹھ اس کی ناک کی پھننگ سے لگا ہوا اور نیچے کا ٹھوڑی کے نیچے پڑا ہوا، کان شانوں تک، چوچیاں رانوں تک، سر کھولے ہوئے، زبان سے ہونٹھ چاٹتی ہوئی سامنے سے نمودار ہوئی اور اس کی کمر پکڑ کر پکاری کہ اے بے حمیت تین دن سےلڑکے بھوکے پیاسے مرتے ہیں اور میں تیری تلاش میں سرگرداں پھرتی ہوں، کہاں چھپ رہا تھا۔ بھلا جو ہوا سو ہوا، اب دو تین دن کی لکڑیاں تو لا کہ ان کو بیچ کر لڑکے بالے کھانے کو لائیں۔

تاج الملوک نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا خدایا کب تک مجھ کو اس عذاب میں گرفتار رکھے گا۔ ابھی دیو کے ہاتھہ سے چھوٹ کر دم نہیں لیا کہ بلا کے پنجے میں پھنسا۔

قصہ کوتاہ وہ ناپاک کشاں کشاں اپنے گھر لے گئی۔ چار طرف سے لڑکوں نے آکر گھیرلیا کہ بابا ہمارے واسطے کیا لائے۔ شہزادہ چپکا ایک کا ایک منہ دیکھنے لگا، اتنے میں اس چڑیل نے ایک کلہاڑی تاج الملوک کے ہاتھ میں دی کہ جا کر لکڑیاں کاٹ لا۔ شہزادہ اس فرصت کو غنیمت سمجھا جنگل میں گیا لیکن اس طلسمات عجیب کی حالت سے حیران تھا۔ دل میں سوچا کہ دوبارہ حوض میں غوطہ مارنے سے صورت تبدیل ہوچکی ہے۔ تیسری دفعہ بھی امتحان کیجیے اور دیکھیے کہ اب کیسی شکل بنتی ہے۔ پھر ایک حوض میں جا کر غوطہ مارا، جب سر نکالا آپ کو بصورت اصلی پہلے حوض کے کنارے پر پایا۔ لاٹھی اور ٹوپی کو بے تفاوت رکھے ہوئے دیکھا۔ سجدہ شکر کا درگاہ الٰہی میں بجا لایا اور دل میں ٹھہرایا کہ اب کسی حوض میں غسل نہ کیجیے، بلکہ ہاتھ بھی نہ ڈالیے۔ پھر لاٹھی ہاتھ میں لے اور ٹوپی سر پر رکھ کر روانہ ہوا۔

اے یاران دہر! حق تعالی نے بنی آدم کے سر پر کرامت کی ٹوپی پہنا کر اور عظمت کا عصا ہاتھ میں دے کر طلسم گاہ دنیا میں کہ مزرع آخرت ہے، عافیت کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ گل و خار اور آب و سراب خوب پہچانے۔ ہر ایک باغ کے پھول کو نہ سونگھے، ہر ایک نہر سے گھڑا نہ بھرے کہ یہاں کانٹے گل سے رنگین اکثر ہیں اور سراب بصورت آب ادھر ادھر ہے۔ اے عزیز!اگر گوہر دنیا کے لینے کو چشمہ و جہاں میں غوطہ مارے گا، مقرر اس کا کلاہ اور عصا کھودے گا۔ یہ حکم اس بات پر ہے کہ طالب دنیا مؤنث ہیں اور طالب مولیٰ مرد ہیں۔

تیرا پیکر معانی جو مانند مرد کامل ہے بصورتِ زنان ناقص العقل ہوجائے گا۔ پس اس وقت شکیبائی کے سوا کچھ چارہ نہیں۔ چاہیے کہ دم بخود ہو کر پھر دریائے ذکر الٰہی میں غوطہ مارے۔ اس کے بعد جو سر اٹھاوے گا وہی عصا ہاتھ میں اور وہی ٹوپی سر پر دیکھے گا۔