چودھویں داستان
تاج الملوک کے دریائے محیط میں پڑنے کی
اور سلامت پہنچنے کی وہاں سے بیابان میں اور تبدیل ہوجانے میں صورتِ اصلی کے
کہتے ہیں کہ جب جمیلہ خاتون نے شہزادے کو ہوا پر پھینکا وہ ایک دریائے عظیم میں جا پڑا اور اس کے تلاطم سے تہ وبالا ہونے لگا۔ کبھی موتی کے مانند نیچے جاتا تھا اور کبھی کفِ دریا کی طرح پانی پر تیرتا پھرتا۔ چند روز کے بعد کنارے پر پہنچا۔ سچ ہے کہ عاشقوں کی جان عزیز تک اجل کا ہاتھ یک بیک نہیں پہنچتا اور موت کا پنجہ ان کی مرغ روح کی گردن نہیں مروڑ سکتا۔ کوئی رمق جان باقی رہی تھی، تری سے خشکی میں آیا۔ آفتاب کی گرمی سے ہاتھ پاؤں کھلے، حرکت کے قابل ہوئے اور بدن میں زور پیدا ہوا اور اٹھ کر ذرا آگے بڑھا۔ سامنے ایک جزیرہ نظر آیا، اس میں جا کر وارد ہوا۔ اقسام اقسام کے پھل میوے دار درخت اس میں تھے۔ ادھر ادھر پھرنے لگا۔ اتنے میں ایک ایسا باغ نظر آیا کہ اس کے درختوں کے پھل آدمیوں کے کلّے کے مانند تھے، ان سے دو چار ہوا۔ وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے پھر سب کے سب زمین پر گر پڑے۔ ایک ساعت کے بعد اور کلّے ان شاخوں میں پیدا ہوئے۔
شہزادہ یہ تماشا خدا کی قدرت کا دیکھ کر نہایت حیران ہوا بلکہ ڈرا اور وہاں سے آگے بڑھا۔ ایک باغ انار کا ملا، اس میں ہر ایک انار گھڑے کے برابر تھا۔ تاج الملوک نے ایک انار جو توڑا، اس میں سے چھوٹے چھوٹے چرند خوش رنگ نکل آئے، پھر سب کے سب چڑیوں کی طرح اڑگئے۔ شہزادہ صنعت خالق کی دیکھ کر اور بھی دنگ ہوا۔ علی ہذا القیاس ایسے ہی ایسے عجائب اور غرائب چند روز تک دیکھا کیا۔ غرض اس سرزمین پر جا بجا ایک نیا ہی تماشا نظر آتا، کسی طرح وہاں سے رہائی نہ پاتا تھا۔
ایک دن نہایت تنگ ہوکر ہر طرف سے لکڑیاں جمع کیں، پشتارا باندھا پھر خدا کا نام لے کر دریا میں ڈال دیا اور اس پر جا بیٹھا۔ کئی روز کے بعد وہ ایک کنارے پر جا لگا، یہ اتر کر آگے چلا۔ ایک بیابان ہولناک میں جا کر وارد ہوا، شام کے وقت درندوں کے ڈر سے درخت پر جا بیٹھا۔ پہر رات ہوگئی ایک سناٹے کی آواز دکھن کی طرف سے کان میں پہنچی۔ ہر چند شہزادے نے داہنے بائیں دیکھا لیکن کچھ نظر نہ آیا۔ آخرش ایک اژدہا پہاڑ سا نظر آیا اور اسی درخت کے نیچے کہ جس پر شہزادہ تھا آیا۔ اس کی صورت دیکھنے سے اس کے حواس اڑگئے۔ درخت کی ڈالی سے لپٹ کر دم بخود ہوگیا۔ ایک ساعت کے بعد اژدہے نے ایک کالا سانپ اپنے منہ سے نکالا اور اس نے ایک من آفتاب سا چمکتا ہوا اُگل کر درخت کے نیچے رکھ دیا۔ اس کی روشنی سے چار سو کوس کے عرصہ تک جتنے جنگل پہاڑ تھے روشن ہوگئے اور وحوش وطیور اس کے آگے آکر ناچنے لگے، آخر مدہوش ہو کر گر پڑے۔ وہ ان کو دم کی کشش سے کھینچ کھینچ کر نگلنے لگا یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر گیا۔ اس کے بعد سانپ من کو نگل گیا اور وہ سانپ کو لے کر جس طرف سے آیا تھا، اسی طرف کو چلاگیا۔
شہزادے کے جی میں یہ لہر آئی کہ ایسی تدبیر کیجیے کہ جو یہ من ہاتھ لگے۔ عقل دوڑانے لگا، آخر سوچتے سوچتے صبح ہوگئی۔ پھر دریا کی طرف گیا اور وہاں سے ایک بڑا لوندا کیچڑ کا اٹھا لایا اور شام کے وقت درخت پر چڑھ کر اسی طرح بیٹھ رہا۔
اژدہا بھی اپنے وقت معین پر آپہنچا اور بدستور سانپ کو منہ سے نکالا اور اس نے من کو۔ شہزادہ گھات میں بیٹھا تھا، اس حکمت سے اس گل حکمت کا لوندا من پر ڈالا کہ گل حکمت کر دیا۔ تمام اندھیرا ہوگیا، ہاتھ سے ہاتھ سوجھنے سے رہ گیا۔ اژدہا اور سانپ سر پٹک پٹک کر مرگئے۔ شہزادہ نور کے تڑکے درخت سے اترا اور وہ مہرۂ نورانی کیچڑ سے نکال کر اپنی کمر میں باندھا اور آبادی کی توقع پر آگے چلا۔
تمام دن دشت پیمائی اور صحرا نوردی میں کاٹتا تھا، جب رات ہوتی تھی کسی درخت پر چڑھ کر بیٹھ رہتا تھا۔ غرض دن رات اسی طرح بسر کرتا تھا۔ اتفاقاً ایک رات کو جس درخت پر بیٹھا تھا اس پر ایک بولتی ہوئی مینا کا آشیانہ تھا، وہ اپنے بچوں کو اکثر کہانیاں نقلیں سنایا کرتی تھی اور ہر ایک فن کی گھاتیں بتایا کرتی تھی، اس لیے کہ کان پڑی بات ایک نہ ایک دن کام آرہتی ہے۔ اس رات بچوں نے مینا سے کہا اے اماں جان کوئی بات اس بیابان کی تو کہو، مینا بولی کہ اس جنگل میں کنج بے شمار جا بجا گڑا ہے اور اس کے سوا یہاں سے دکھن کی طرف ایک حوض کے کنارے ایک بڑا درخت ہے کہ اس کو سراج القرطب کہتے ہیں۔ اگر کوئی اس کے پوست کی ٹوپی بنا کر پہنے تو وہ کسی کو نظر نہ آئے اور وہ سب کو دیکھے، لیکن اس تک کوئی پہنچ نہیں سکتا کیونکہ اس کا ایک بڑا سانپ نگہبان ہے۔ اس پر تلوار وتیر کچھ کارگر نہیں ہوتا۔ بچوں نے مینا سے پوچھا کہ پھر کس طرح کوئی وہاں پہنچے، مینا نے کہا ایسا کوئی جوانمرد ہو کہ گھبرا نہ جاوے اور ہمت باندھے ہوئے اس حوض کے کنارے آپ کو پہنچائے، وہ سانپ لپک کر جب اس پر آوے وہ حوض میں کود پڑے فوراً اس کی صورت کوّے کی ہو جائے گی، کچھ اس کا اندیشہ نہ کرے اور اڑ کر اس درخت کے پچھم طرف ڈالی پر جا بیٹھے۔ اس میں کتنے سبز اور کتنے لال پھل لگے ہیں۔ اگر ایک لال پھل توڑ کر کھا جائے تو پھر اپنی اصلی صورت پر آ جائے اور سبز پھل کی یہ تاثیر ہے کہ جو اس کو سر پر رکھے تو کوئی حربہ بدن پر اثر نہ کرے، اگر کمر پر باندھے تو ہوا میں اڑتا پھرے اور اس کے پتوں کا خواص یہ ہےکہ زخم پر انھیں رکھے تو فوراً بھر آئے۔ اگر اس کی لکڑی ہزار من لوہے کے قفل کو چھوائے تو اسی وقت کھل جائے۔تاج الملوک عجیب و غریب باتیں سن کر حد سے زیادہ اس درخت کا مشتاق ہوا۔
صبح ہوتے ہی اس پتے پر چلا، بہر صورت آپ کو اس حوض تک پہنچایا۔ سانپ بھی اس کو دیکھتے ہی لپکا مگر شہزادہ مطلق نہ جھجکا،حوض میں کود پڑا پھر کوا بن کر اس درخت کی اسی میوہ دار ڈالی پر جا بیٹھا اور ایک لال پھل کھا کر اپنی اصلی صورت پر آ گیا پھر اس کے بعد کچھ سبز پھل توڑ کر کمر میں باندھے اور ایک لکڑی بھی لاٹھی کے موافق لے لی۔ پھر تھوڑی سی چھال کہ جس میں ٹوپی بنے اور کچھ پتے لے کر وہاں سے اڑا۔ چند روز کے بعد جنگل سے باہر نکلا۔ آثار آبادی کے دکھائی دیے۔ وہاں ایک نوک دار لکڑی لے کر اپنی ران کو چیرا اور کالے کا مَن رکھ کر وہی پتے زخم پر رکھ دیے، فوراً اچھا ہو گیا پھر وہاں سے آبادی کی راہ لی۔