تیرھویں داستان
تاج الملوک کے جانے کی بکاؤلی کے پاس
اور قید ہونے میں بکاؤلی کے
القصہ بکاؤلی نے تاج الملوک کا اشتیاق اپنے سے دونا پایا اور صبروقرار طرفین کا بغیر وصال کے محال نظر آیا۔ سمن رو سے کہا کہ حمالہ کو جلدی حاضر کرو۔ وہ سنتے ہی دوڑی، ایک پلک میں جا پہنچی۔ حمالہ اسکو مضطرب دیکھ کر پوچھنے لگی، اے بہنا! خیر ہے، ایسی گھبرائی ہوئی کیوں آئی ہو؟
وہ بولی خیریت ہے، شہزادی نے تم کو یاد کیا ہے۔ دیر نہ کرو جلدی چلو۔ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور غیر وقت کے بلانے سے بید کی طرح سے کانپتی ہوئی آئی۔ کیا دیکھتی ہے کہ بکاؤلی کی نرگسِ چشم فراقِ یارسے بیمار ہے اور پژمردہ فوارے کے مانند اشک بار ہے۔ ماتم زدوں کی صورت اس عشرت کدہ میں بنائے بیٹھی ہے۔ آداب بجالاکر سرسے پاؤں تک بلائیں لے کر کہنے لگی، اے سمن چمنِ نشاط و اے نسترن گلبنِ انبساط! تیرا غنچۂ دل ایسا کیوں تنگ آیا جو تونے اپنا یہ رنگ بنایا۔ کا ہے کو شبنم کی طرح روتی ہے، کس لیے پھول سے مکھڑے کو گرم گرم آنسوؤں سے دھو تی ہے، تیری بلا میرے جی کو لگے، تو ہمیشہ خوش رہے۔ خدا کے واسطے کچھ بات بول کر اپنے دل کے بھید کومجھ پر کھول۔
یہ سن کر بکاؤلی نے کہا، ڈھیٹھ دلالہ! اتنی باتیں کیوں بناتی ہے، جان بوجھ کر بھولی ہوئی جاتی ہے۔ یہ تیری ہی آگ لگائی اور بلا لائی ہوئی ہے۔ ان بتے بازیوں سے ہاتھ اٹھا اور اپنی لگائی کو بجھا۔ یہ کرتوت تیرے داماد کا ہے یا کسی اور کا؟ اور اس کو تونے یہاں تک پہنچایا یا کوئی اور لایا؟ غرض میرے پردہ ناموس میں رخنہ اس کے ہاتھ سے پڑا اور ننگے کھلے اس نے مجھے دیکھا۔ اگر اپنا بھلا چاہتی ہے تو جلد جا اور اسے مجھ تک لا۔
حمالہ یہ بات سن کر ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ تم نے اتنی ہی بات کے واسطے رو رو کر منہ سجایا ہے اور اپنا یہ حال بنایا ہے۔ تم اٹھو اور ہاتھ منہ دھوؤ، ہنسو بولو۔ اس کا لانا کتنا کام ہے، میں ابھی کان پکڑ لے آتی ہوں اور ایک آن میں تم سے ملاتی ہوں۔ آخر وہ لنکا شرقستان کی طرف دوڑی گئی۔ بات کی بات میں تاج الملوک کے پاس آ پہنچی اور مسکرا کر کہنے لگی، اٹھ رے پروانے ! اڑ چل، تجھے تیری شمع نے یاد کیا ہے۔ یہ سنتے ہی شہزادہ بے اختیار اس کے پاؤں پر گر پڑا، حمالہ نے اس کا سر اٹھا کر چھاتی سے لگایا، پھر کاندھے پر بٹھا کر بکاؤلی کے ملک کا راستہ لیا۔
اس اثنا میں جمیلہ خاتون کے کان میں یہ بھنک پڑی کہ تمہاری بیٹی بروگن سی بن گئی ہے، شاید کسی آدم پر وہ پری زاد دیوانی ہوئی ہے۔ اس بات کی تحقیق کرنے کو وہ بکاؤلی کے پاس آئی اور اثار عشق کے اس میں دیکھ کر بہت خفا ہوئی اور اپنا منہ پیٹ کر بولی، اری کواری تھتکاری تو ناپید ہو، یہ کس کے پیچھے بروگ لیا ہے اور کس کے لیے یہ جوگ سادھا ہے، پریوں کا ننگ و ناموس تونے کھویا اور کل کا نام ڈبویا۔
اس نے یہ باتیں سن کر کانوں پر ہاتھ رکھا اور صاف مکر گئی۔ قسمیں سخت سخت کھانے لگی، ماں کے پاؤں پر گر پڑی اور کہنے لگی، میں نے تو آج تک عشق کا نام نہیں سنا اور آدمی کو خواب میں بھی نہیں دیکھا، کس نے طوطیہ جوڑا اور تہمت کی۔ اس کا نام سچ بتاؤ نہیں تو میں اپنا خون کروں گی اور جان دوں گی، یہ حالت اس کی دیکھ کر ماں ہی تو تھی پگھل گئی، مگر ظاہر میں رکھائی سے بولی، چل چپ رہ اے چھنال، ٹھٹھولے نہ کر۔
اتنے میں حمالہ اس مشتاق کو لے کر پہنچی، سمن رو پری تو محرم راز تھی۔ اس نے اشارے سے آگاہ کر دیا کہ وہ مسافر بھی آ پہنچا، شہزادی نے بھی اشارے سے کہا کہ ایک مکان محفوظ میں چھپا کر رکھو۔ غرض پھر رات گئے تک تو بکاؤلی چار ناچار ماں کے پاس بیٹھی رہی اور جب وہ پلنگ پر جا کر سو رہی، بکاؤلی نے دیکھا کہ خوب غافل ہوئی۔ وہاں سے اٹھی اور دبے پاؤں چلی۔ دل خوف سے دھڑکتا تھا اور جی شوق سے پھڑکتا تھا۔
قصہ مختصر اسی صورت سے شہزادے کے پاس پہنچی، اس کی نگاہ جوں ہی اس سراپا ناز پر پڑی ہوش جاتا رہا، غش ہو کر گر پڑا۔ جب تو یہ گھبرا کر دوڑی اس کا سر اٹھا کے اپنے زانو پہ رکھ لیا، منہ سے منہ اور گال سے گال رگڑنےلگی۔ اس غنچہ دہن کی بو گلاب سے بہتر تھی، سونگھتے ہی شہزادے کے دماغ میں قوت آگئی، ہوش میں آیا، آنکھیں کھول دیں۔ اپنے سر کو اس زہرا جبیں کے زانو پر دیکھا، کوکب بخت کو اوج پر پایا، خوش و خرم اٹھ بیٹھا تو پیار کی آنکھیں طرفین سے پڑنے لگیں۔ یہاں تک کہ ٹکٹکی بندھ گئی، آخر شرابِ شوق کا پیالہ چلنے لگا۔ نشۂ اشتیاق دونوں کو چڑھا، پر دۂ حجاب بیچ سے اٹھ گیا، چالاکی اور بے باکی کا بازار گرم ہوا، شرم وحیا نے کنارہ کیا، جام وصل دونوں نے پیا اور آتشِ فراق کو ٹھنڈا کیا۔
ہزار افسوس پھریہ چرخ پر زور کرے گا مشتری سے ماہ کو دور جہاں وہ شخص بیٹھے مل کے یکجا وہیں سنگ جدائی اس نے پھینکا جو دی ایک دل میں نور آشنائی تو بخشے اس کو سو داغ جدائی غلط ہے یہ، کہاں اس میں وفا ہے کمان میں اس کے بس تیر جفا ہے
اتفاقاً جمیلہ خاتون آدھی رات کے وقت چونک پڑی۔ چاندنی کی بہار سے باغ بھی اس وقت نورباغ بن رہا تھا۔ بے دھڑک اٹھ کھڑی ہوئی اور سیر کرنے لگی۔ ناگاہ اس جگہ جہاں وہ دونوں خوابیدہ بخت سوتے تھے جا نکلی۔ اس حالت کو دیکھتے ہی اس کی آتش غضب کا شعلہ بھڑکا، غصہ روکا نہ گیا۔تاج الملوک کو مانند سنگ فلاخن صحرائے طلسم میں پھینکا اور بکاؤلی کے گل رخسار کو طمانچوں سے گل ارغوان بنا دیا۔ اس کے بعد گلستان ارم میں کہ اس کے باپ کا تخت گاہ تھا، اپنے ساتھ لے گئی اور جو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا فیروز شاہ سے کہا۔ اس نے کتنی پر یاں خوش بیان، چرب زبان اس شمع روکی مصاحبت میں مقررکیں کہ اس کو نصیحت کیا کریں اور انسان کا نقش الفت اس کے لوح دل سے دھویا کریں۔
چنانچہ وہ اس کام میں دن رات مشغول تھیں لیکن بکاؤلی کی دبی ہوئی آگ عشق کی ان کی باتوں سے سلگ اٹھتی تھی، شعلۂ اشتیاق دو گنا بھڑک جاتا تھا۔ دن ہر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کاٹتی تھی اور رات بھر یار کے خیال میں جاگتی تھی اور یہ غزل اپنے حسب حال پڑتی تھی:
کوئی نہ میری طرح بھی ہو مبتلائے فراق خطاب دیتا ہے کیا مجھ کو بادشاہ فراق فراق کو تیری فرقت کا مبتلا یہ کروں فلک کے ہاتھ سے اب ٹوٹ جائے پائے فراق تمام عمر نہ سر سے گئی بلائے فراق ہمیشہ سینۂ سوزاں سے شعلے اٹھتے ہیں کہ خوب خون جگر روئیں دیدہ ہائے فراق میں داد پاؤں کہاں، کیا کروں، کہوں کس سے غریب و عاشق و بے دل فقیر سر گرداں دل و جگر کو جلاتے ہیں داغ ہائے فراق کہاں فراق، کہاں میں، کہاں وہ رنج و تعب فراق کو بھی، کوئی ہے، جو دے سزا ئے فراق
اگر فراق ملے مجھ کو جان سے ماروں سر شک دیدہ سے بھردوں میں خوں بہائے فراق یہ بیدلی ہے کہ حافظ کے اور مرے منہ سے برنگ مرغِ سحر آتی ہے صدائے فراق
جب پریوں نے اس کے مزاج میں دن بدن سودے کو پڑھتے پایا، جانا کہ عشق نے اس کے دل میں گھر بنایا۔ نا چار ہو کر فیروز شاہ سے عرض کیا کہ ہم نے اپنا بہتیرا مغز پھرایا مگر فائدہ کچھ نہ پایا۔ وہ کسی طرح نہیں سمجھتی، پتھر کو جونک نہیں لگتی۔ خبر شرط تھی سو کی، آگے جو ارشاد ہو۔
فیروز شاہ نے اس ماجرے کو سن کر جانا کہ بیٹی ہاتھ سے جا چکی، نصیحت مطلق نہیں سنتی۔ بکاؤلی کو طلسمات میں قید کیا اور سیم تن کے پاؤں میں سونے کی زنجیر کو بھردیا۔