مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 12: بارھویں داستان

بارھویں داستان

بکاؤلی کے رخصت ہونے کی زین الملوک سے

اور نامہ لکھنے میں تاج الملوک کو

زین الملوک جب اپنے دار السلطنت میں داخل ہوا، بکاؤلی اس سے رخصت ہوکر اپنے باغ میں آئی اور ایک اشتیاق نامہ تاج الملوک کے لیے لکھا۔ پھر اس کو تاج الملوک کی انگوٹھی سمیت سمن رو پری کو کہ خفیہ اس کے ساتھ گئی تھی، حوالے کیا اور کہا جلد جا۔ جس وقت شہزادے کو کاروبار دنیا سے فارغ اور تنہا پائیو، ان دونوں کو اس کے ہاتھ میں دیجیو۔ وہ اڑن نا گن نامہ لے کر اسی وقت اڑی، ایک دم میں تاج الملوک کے محل میں آپہنچی اور کسی طرف گھات میں لگ رہی۔ جب تاج الملوک بکاؤلی کے دھیان میں اکیلے مکان میں آبیٹھا، یہ اس کے روبرو جاکر آداب بجا لائی اور وہ امانت حوالے کی۔ شہزادے نے اپنی انگوٹھی پہچانی اور خط کھول کر پڑھا۔ مضمون یہ تھا: نامۂ بکاؤلی

سخن ابتدا کر بنام خدا کہ ہے وہ مبرا از چون وچرا ستاروں سے روشن کیا آسماں کیے جن وانساں زمیں پر عیاں جمال اور کرشمے پری کو دیے جلایا دل آدمی عشق سے پری پر دیا پھر اس کو شرف کیا تیر الفت کا اس کو ہدف ذرا اپنے پر کو تو لیلیٰ پر ڈال ہوا قیس خود بن کے محو جمال عیاں حسن کو بن کے شیریں کیا وہی بن کے فرہاد شیدا ہوا ہے مہر اس کے جلوے کی ادنیٰ ضیا اسی پر ہے بیتاب ذرّہ سدا چراغ محبت کو روشن کیا شعور اس پر پروانہ ہو کہ جلا ہے بعد اس کے میرا سلام و پیام تجھے اے شہ خوب رو نیک نام تری چشم و ابرو نے اے شوخ و شنگ لگائے میرے دل پہ لاکھوں خدنگ اور اس زلف پُرخم نے اے گلعذار کیا مثل قمری مجھے طوق دار کیا ہے دل و جاں کو خوں عشق نے جلایا درون و بروں عشق نے مگر یہ سخن ہے غلط مشتہر کہ ایک دل کو ہے دوسرے کی خبر میں جلتی ہوں تجھ کو خبر کچھ نہیں مرے سوز دل میں اثر کچھ نہیں ترے ہجر میں غم کدہ ہے یہ گھر اگر تو نہ ہو خلد ہے سقر ذرا شربت وصل میں منہ میں چوا لبوں پر مرا دل ہے اے دلبرا کیا دل تیرے غم نے ایسا فگار ہوئے ایک ٹکڑے کے ٹکڑے ہزار میں ناسُفتہ گوہر ہوں اے خوش لقب ہے الماس کی مجھ کو تجھ سے طلب تو دریا ہے اور میں ہو تشنہ جگر بجھا پیاس کو میری جلد آکر ترے غم میں جی سے گزر جاؤں گی اگر تو نہ پہنچا تو مرجاؤں گی ولے میں جو اٹھوں گی روز جزا تو ہوں گی ترے لعل لبِ خوں بہا جواب اس کا پھر دے گا کیا تو مجھے جو پوچھوں گی کاہے کو مارا مجھے نہ بول آگے بس اے زبانِ قلم دکھانے کو دل کی نہیں یہ بھی کم

غرض تاج الملوک نے مضمون نامے کا کہ ہر لفظ بھرا ہوا شوق سے اور ہر ایک سطر اس کی پُر عشق کے ذوق سے تھی، دریافت کیا، عشق کی آگ کہ سینے میں دبی ہوئی تھی بھڑکی۔ سیماب کے مانند بیتاب ہوکر تڑپنے لگا۔ آخرش شمع شب افروز عشق نے جلا دیا اور دل مہجور کو داغوں سے معمور کیا، شور و فغاں سے حشر برپا ہوا، آہ کا دھواں چاروں طرف سے گھٹ گیا۔ دل کی بیقراری کو تھاما، چاروناچار صبر کیا۔ پھر قلم فراق رقم کو ہاتھ میں لے کر ایک بند کاغذ اٹھاکے نامے کا جواب یوں لکھا: نامۂ تاج الملوک

اے عاشقوں کی جلانے والی ہے طرز وفا تیری نرالی تو سیم تنوں کی صف شکن ہے تو عشق کی راہ میں راہزن ہے ابرو تری آنکھ پر وہ خم دار ہے مست کے پاس جیسے تلوار جادو ہے تری نگاہِ پنہاں یا برق برائے خرمن جاں غنچہ ہے ترے دہن سے دل تنگ آگے ترے لب کے لعل بے رنگ روشن ہے تجھی سے چشم امید میں ذرہ صفت ہوں تو ہے خورشید

اے نازنینِ زہرہ جبیں و اے رشک افزائے بتان چین! تیرے اشتیاق نامے کے مضامینِ آتش بار نے میرے استخواں کو برنگِ شمع جلا دیا اور دل مہجور کو داغوں سے معمور کیا۔ شور و فغاں سے حشر برپا ہوا، آہ کا دھواں چار طرف گھٹ گیا۔ اے شمع شب افروز! جو داغ تیرے عشق کی سوزش سے میرے سینے میں پڑے ہیں، ہر گز نہ مٹیں گے، بلکہ جب تک ماہ کے جگر میں کلف ہے یہ بھی چمکا کریں گے۔ یہ نہ جانیو کہ تیرا تصور میری آنکھوں سے کسی وقت جاتا ہے یا تیری یاد کسی دم میرا دل بہلاتی ہے۔ کوئی گھڑی نہیں کہ جس میں مجھ کو تیری جستجو نہیں اور تیرے ملنے کی آرزو نہیں۔ میں تو تیرا نام سن کر ایسا دیوانہ ہوا کہ آنکھوں سے راہ چلا، جان کا خطرہ نہ کیا، دیووں سے کس کس طرح سازش کی اور ان کی گردن میں کمند محبت ڈالی، تب کہیں تیرے جمال جہاں آرا کو ذرا دیکھا اور نمک دل کے زخم پر چھڑکا۔ فی الجملہ میرے سینۂ سوزاں کی وہ آگ ہے جس کی ایک چنگاری تیرے دل میں جا پڑی یا برق اشتیاق کی ایک تڑپ ہے جو تیرے خرمن کی طرف دوڑ گئی:

ہے فیض عشق کی سوزش جو تیرے سینے میں شراب ایک ہے لیکن دو آبگینے میں

میں کیا کہوں۔ مجھ سے کیا ہو سکتا ہے، جذبہ تیرا ہی کام کا ہے:

تا نہ ہو دلبر کی جانب سے کشش عاشق بیچارہ کہ کیا کر سکے

بس زیادہ اس راز سے قلم کو آشنا نہ کیا چاہیے کہ گئے ہیں ؏

قلم کب آشنا ہے راز مشتاقوں سے اے محرم

والسلام

پھر خط کو لفافہ کر کے اپنی چشم سرمہ سائے نم ناک کو بجائے مہر اس پر رکھا۔ اس کے بعد سمن رو پری کے ہاتھ میں دیا اور زبانی پیام باشتیاق تمام بہت سے دیے۔ آخر وہ رخصت ہوئی اور بکاؤلی کے پاس آ پہنچی۔ جواب نامے کا حوالے کیا اور زبانی بھی جو کچھ حال تھا کہہ سنایا۔