مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 11: گیارھویں داستان

گیارھویں داستان

جانے میں زین الملوک کی، لشکر اور ارکانِ دولت کے ساتھ ضیافت کھانے کو تاج الملوک کے مکان میں

آخر کوتوال نے وزیر سے رخصت لے کر ملکِ نگاریں کی راہ لی۔ جب تھوڑی سی راہ طے ہوئی، ہراول پکار اٹھا اس جنگل میں ایسی آگ لگ رہی ہے کہ اس کے شعلے آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اتنے میں سواری کچھ اور آگے بڑھی۔ سونے کی زمین نظر آئی اور جڑاؤ عمارت، جب ظاہر ہوا کہ جس پر آتش کا گمان کیا تھا وہ یہی ہے، شعلے نہ تھے وہ اس کی چمک تھی۔ اتنے میں تاج الملوک نے جو کوتوال کے آنے کی خبر سنی، فرمایا کہ حوضوں کو بھرواؤ، فوارے چھڑواؤ اور اُسے یاقوت کے دالان میں بِٹھاؤ۔

اہلکار حسب الحکم کوتوال کو حویلی میں لے گئے۔ وہ جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا جگمگاہٹ سے جواہرات کی چکا چوند لگ جاتی تھی۔ بعد ایک ساعت کے تاج الملوک نے بھی تخت شوکت کو زیب و زینت بخشی۔ کوتوال اٹھ کر آداب بجا لایا اور دعا و ثنا کے بعد عرض کرنے لگا۔ جب حضرت کے مکان بنانے اور ملک بسانے کی اس جنگل میں خبر شرقستان کے بادشاہ کی جناب میں پہنچی، تب اس خانہ زاد کو تحقیقات حال کے لیے بھیجا ہے۔ گستاخی معاف! اگر آپ کے دل میں خواہش سلطنت کی اور ارادہ فساد کا ہو تو ادھر سے بھی کچھ درنگ نہیں۔ واِلّا طوق بندگی گلے میں ڈال کر بارگاہ سلطانی میں حاضر ہو جائیے، کیونکہ دو تلواریں ایک میان میں نہیں رہتیں اور نہ دو بادشاہ ایک ولایت میں۔

تاج الملوک یہ سن کر بولا، میں نے تواس حیوانات کے وطن میں ایک عبادت گاہ بنائی ہے، خدا تعالی کی بندگی میں مشغول رہتا ہوں، خواہش بادشاہی کی مطلق نہیں بلکہ دعوائے دولت خواہی ہے۔

کوتوال نے جو یہ کلمات شائستہ سنے، خوشی خوشی رخصت ہوا اور جو کہ دیکھا سنا تھا وزیر سے مفصل کہا۔ وہ سن کر ایک لمحہ تو بحر فکر میں ڈوبا رہا، پھر بادشاہ کے حضور میں جا کر جو کیفیت سنی تھی عرض کی۔ بعضوں نے تو سچ جانا اور کتنوں نے جھوٹ جان کر نہ مانا۔ بکاؤلی کہ زین الملوک کی خدمت میں حاضر تھی یہ سن کر اپنے دل میں کہنے لگی الحمد للہ اتنے دنوں بعد عقدۂ بستہ کی صورتِ کشائش اور شبِ ناامیدی کے بعد صبحِ آسائش کے ہونے کی شکل نظرآئی:

طپش دل نے خبر یار کے آنے کی دی خوش ہو اے چشم کہ یہ زمزمہ افواہ نہیں

بادشاہ بھی اس ماجرے کو وزیر سے سن کر ایک ساعت گریبان تفکر میں سر ڈالے رہا، اس کے بعد فرمایا اگر یہی صورت ہے تو ایک نہ ایک دن زوال سلطنت کا موجب ہوگا۔ وزیر نے آداب بجا لا کر عرض کیا کہ عقلمندوں نے کہا ہے، جس دشمن سے لڑائی میں بر نہ آسکے اس سے دارومدار کرکے مل جائے۔

خوشی سے برآمد جو ہو کام کی تو کیجے نہ تندی و گردن کشی

اب تدبیر یہ ہے کہ قبلۂ عالم اُس سے اخلاص بڑھاویں اور رشتہ محبت کا اس کی گردن میں ڈالیں۔ بادشاہ نے فرمایا تیرے سِوا اور کسی کو اس بات کے لائق نہیں دیکھتا ہوں، تو ہی وہاں جا اور رابطہ اس سے بہم پہنچا۔ لیکن وہ کام کیجو کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، یعنی میری شان نہ گھٹے اور اخلاص بڑھے۔

وزیر خجستہ تدبیر بموجب حکم کے بڑے کرّ و فَر سے روانہ ہوا۔ جب تاج الملوک کو اس کے آنے کی خبر پہنچی، فرمایا کہ فرش و فروش کی تیاری نئے سرے سے کریں، حوضوں کا گلاب بدلوائیں، فوارے چھڑوائیں اور اس کو لعل بدخشانی کے دالان میں بٹھائیں۔ جب وہ آیا، اہل کار اسی طرح عمل میں لائے۔ شہزادہ آپ بھی وہاں رونق افزا ہوا اور ایک جڑاؤ کرسی پر بیٹھا۔

وزیر نے اٹھ کر مجرا کیا، دعائیں دیں پھر التماس کیا کہ آگے اس سے ایک بادشاہی بندہ حضور میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ کا پیغام محبت انجام حضور معلیٰ میں پہنچایا۔ اوصاف پسندیدہ بھی بہت سے بیان کیے۔ بادشاہ کی آتش غضب کو سرد کر دیا۔ بلکہ قبلہ عالم کو حضرت کی ملاقات کا مشتاق کیا۔ اس سے کیا بہتر ہے کہ دو چشمے فیض و عطا کے اور دو دریا جود و سخا کے باہم ملیں۔

تاج الملوک نے کہا جو پیام کہ میری طرف سے لازم تھا، حضرت جہاں پناہ کی طرف سے آیا۔ بسر و چشم مجھے قبول ہے۔ میری بھی آرزو یہی تھی۔ پھر وزیر نے عرض کی، ان شاء اللہ تعالیٰ بعد ایک ہفتہ کے حضرت عالم پناہ یہاں رونق بخش ہوں گے۔

پھر خاصہ یاد فرمایا۔ بکاول رنگ برنگ کا طعام لذیذ اور خوشگوار جواہر نگار باسنوں میں نکلواکر چاندی سونے کے خوانوں میں لگاکر نعمت خانے میں لایا اور دسترخوان زربفت کا بچھواکر کھانا چُن دیا۔ شہزادے نے وزیر کے ساتھ نوش جان فرمایا اور اس کے بعد ارشاد کیا کہ وزیر کے ہمراہیوں کو بھی تقسیم کرو لیکن ظروف نقرئی اور طلائی پھیر نہ لیجو۔ جب لوگوں کو کھانے سے فراغت ہوئی، وزیر رخصت ہوکر شرقستان کو روانہ ہوا۔ شتاب حضور والا میں پہنچا۔ تمام ماجرا مفصل ظاہر کیا۔

کہتے ہیں انہیں دنوں میں تاج الملوک نے ایک رات حمالہ کے سر کا بال آگ پر رکھا،وہ ا سی دم ہزاروں دیووں سمیت وہاں آپہنچی۔ تاج الملوک اور محمودہ نے اٹھ کر سلام کیا، اس نے دو نوں کی بلائیں لیں، چھاتی سے لگایا، ماتھا چوما، خیر وعافیت پوچھی۔ تاج الملوک نے کہا، آپ کی سلامتی میں سب طرح کا چین وآرام میسر ہے۔ کچھ غم نہیں اور کسی چیز کی کمی نہیں۔ لیکن کل ضیافت بادشادہ شرقستان کی مقرر ہوئی ہے، وہ یہاں تشریف لائیں گے۔ میری خواہش یہ ہے کہ اس سرزمین سے اُن کے شہر تک فرش باناتی اور مخمل سرخ اور سبزکا بچھوادو اور کوس کوس بھر پر خیمے قاقم اور سنجاب کے، طنابیں ان کی کلابتونی، پردے دیبا اور اطلس کے، چوبیں گنگا جمنی، میخیں طلائی اور نُقرئی ہوں، استادہ کروادو۔ مگر اس افراط سے ہوں کہ بادشاہ کے ہر ایک چھوٹے بڑے امیر کو جداجدا آرامگاہ میسر ہوکہ مخلیٰ بالطبع رہے۔

حمالہ نے دیووں کو حکم کیا۔ انہوں نے تمام رات میں ایسی ہی تیاری کردی اور آپ اپنے ملک کی راہ لی۔ صبح کے وقت شرقستان کے بادشاہ نے بموجبِ اقرار اپنے وزیروں امیروں کو حکم کیا کہ بھاری بھاری زرق برق کی پوشاکیں اور کئی ہزار سواروں کا پرا لباسِ گوناگوں اور ہتھیار بوقلموں سے آراستہ ہوکر داہنی طرف رہے اور ایسا ہی سجا سجایا بائیں طرف اور ایک غول سواروں کا مسلح اوپچی بنا ہوا آگے۔ اور ہاتھیوں کا حلقہ سنہرے روپہلے ہودے اور عماریوں سے پیچھے۔ ہر نوجوان بان نشان بادلے کا چمکتا ہوا ہاتھ میں لے کر چست ہوا،ٹھاٹ سواری کادرست ہوا۔ القصہ اس ہیئت سے سواری کے سامان تیار ہوئے۔

جہاں پناہ ایک جڑا ؤ عماری میں سوار ہوئے اور بکاؤلی مرادانہ لباس اور نہایت پرتکلف اور جواہر پہن کر کمرِ آرزو محکم باندھ کر خواصی میں آ بیٹھی۔ چاروں شہزادے بھی خلعت شاہانہ زیبِ بدن کرکے زرق برق سے اپنے اپنے ہاتھیوں پر سوار ہوئے۔ پھر سواری تاج الملوک کے ملک کو روانہ ہوئی۔ زین الملوک شہر سے کوس بھر آگے گیا ہوگا کہ ناگاہ زری کے خیموں کی چمک مانند شعاع آفتاب کے نظر آئی، بولا اغلب ہے کہ یہ وہی مکان ہے جس پر نگاہ نہیں ٹھہرتی اور آنکھ جھپکی جاتی ہے۔ وزیر نے عرض کی کہ ایں گل دیگر شگفت۔ حضرت رات کی رات میں کچھ کا کچھ رنگ بدل گیا۔ یہاں فقط جنگل تھا، جھاڑجھنکار کے سوا غلام نے کچھ نہیں دیکھا۔ دم مارنے کی جگہ نہیں۔ قادر کریم نے ایک مخلوق کو ایسی قدرت دی ہے کہ اس کی صنعت کی کُنہ صاحبانِ خرد کو دریافت نہیں ہوسکتی۔ اُن کی عقل وادی حیرت میں بھٹکتی ہے، ملک نگاریں بہت دور ہے۔ اُس عجائب روزگار نے یہ تماشا دکھایا ہے۔ اسے بھی ملاحظہ فرمائیے۔

بادشاہ وزیر انہیں باتوں میں تھے کہ اس کے ملازوں سے ایک شخص نے آکر عرض کی کہ ہمارے آقا کا حکم یوں ہے کہ عالم پناہ کی سواری جس جگہ سے آگے بڑھے وہاں کا اسباب وغیرہ غریب وغربا لوٹ لیں اور خود بدولت ہر ایک منزل میں جس خیمے کو پسند کریں، اس میں استراحت فرمائیں۔

چنانچہ بادشاہ جس جگہ تشریف لاتے، اساب ضیافت کا جو بھی زمین کے بادشاہوں کو میسر تھا وہ مہیا پاتے۔ غرض جس قدر سواری آگے بڑھتی جاتی تھی اس قدر اسباب کی زیادتی نظر آتی تھی اور عجائب سے طبیعت بیشتر حظ اٹھاتی تھی۔

تاج الملوک آپ بھی ایک منزل استقبال کے لیے آیا اور سارے لوازمِ آداب بجالایا۔ آخر بادشاہ کے ساتھ کمال خوشی اور خرمی سے اپنے قصر مبارک میں داخل ہوا۔ حضرت کو زمرد کے مکان میں اعزاز واکرام سے بٹھایا اور مکان کو آراستہ کیا۔ جا بجا نئے نئے فرش بچھ گئے، گلاب کے حوض میں فوارے چھوٹنے لگے، بادشاہ راہ کے عجائب سے تو متعجب ہورہے تھے، عمارت اور باغ کی ساخت اور تیاری ملاحظہ فرماکے بیخود ہوگئے۔ بکاؤلی بھی شہزادے کا جمال وکمال دیکھ کر دیوانی ہوگئی، ہوش سے جاتی رہی، سچ ہے۔:

جسدم کمان ابرو کوئی تیر کرشمہ چھوڑدے سارے دلوں کو چھوڑ دے عاشق کے دل کو توڑدے

ایک لمحہ کے بعد وہ ہر طرف آنکھوں کو مل کر دیکھنے لگی، جس مکان پر نظر پڑی اس کا نقش اور جواہر اپنے مکانوں سا دیکھا، متحیر ہوکر جی میں کہنے لگی یہ کوئی بڑا جادوگر ہے کہ میری عمارت کو معاً یہاں اٹھا لایا ہے اور اس جنگل کو عالم طلسم بنایا ہے۔ ایک پری جو اس کے ساتھ خدمت گاری میں آدمیوں کے بھیس میں تھی، اسے اشارہ کیا کہ نظر غور سے دیکھ اور بخوبی دریافت کر کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ اس نے متامل ہوکر عرض کی، آپ کے مکان جہاں تھے وہیں ہیں، کچھ اندیشہ نہ کیجیے۔ یہ نئی عمارت ہے، اس شخص نے یہ کام کیا ہے کہ ایسی نقل بنوائی ہے کہ اصل اور نقل میں فرق کرنا ہر ایک کا کام نہیں، آفریں اس کی چترائی اور دانائی کو۔

یہ سن کر بکاؤلی بہت خوش ہوئی کہ چور میں نے پکڑا اور مال اپنا پایا۔ چاہتی تھی کہ اسی وقت افشائے راز کرے اور پردہ درمیان سے اٹھا دے لیکن حیا مانع ہوئی۔ جبراً وقہراً قدم صبروتوکل کا گاڑے رہی۔ القصہ دسترخوان بچھا اور طرح طرح کا کھانے سونے روپے کے باسنوں میں چن دیا اور اس کی حلاوت کی تعریف کیونکر لکھیے کہ زبان قلم کی بند ہوئی جاتی ہے اور اس خوانِ کا فوری کاغذ میں نہیں سماتی ہے۔ حضرت اہل خدمت کی سلیقے اور اہل کاروں کے طریقے دیکھ کر بہت محظوظ ہوئے۔ خاصہ فرزندوں اور مصاحبوں سمیت خوشی خوشی نوش جان فرمایا۔ اتنے میں ارباب نشاط حاضر ہوئے، صحبت راگ ورنگ کی دیر تک رہی۔

مطربوں کی ہوئی بلند صدا ماہ پیکر لگے دکھانے ادا گل نغمہ گئے سراسر پھول دف و نے کام میں ہوئے مشغول

القصہ اس کے بعد بادشاہ اور تاج الملوک اختلاط کرنے لگے اور باتوں میں مشغول ہوئے۔ شہزادی نے پوچھا کہ آپ کے فرزند کَے ہیں؟ حضرت نے چاروں بیٹوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ ان کے سوا اب کوئی نہیں۔ ایک اور بھی تھا، اُس کے دیدار نحس کی بدولت یہ بلائے ناگہانی مجھ پر نازل ہوئی تھی۔ افضال الٰہی سے میں نے نجات پائی اور وہ اسی حالت میں خدا جانے کہاں نکل گیا۔

تاج الملوک نے یہ سن کر کہا کہ کس سبب سے اس نے اس درگاہ عالی کو چھوڑا اور اس درِ دولت سے منہ موڑا۔ کوئی اس مجلس میں اسے پہچانتا ہے یا نہیں؟

یہ سن کر زین الملوک نے اس کی پیدائش اور اپنی نابینائی کا ماجرا اول سے آخر تک ظاہر کیا، پھر ایک امیر کی طرف جو اس کا اتالیق تھا اشارہ کیا کہ اس کے سوا کوئی اس کی صورت سے واقف نہیں۔ شہزادہ اس کی طرف مخاطب ہوا کہ دیکھو تو مجلس میں کوئی اس کی شکل کے مشابہ ہے یا نہیں۔ اس جہاندیدہ نے شہزادے کا نقشہ اور گفتگو کا رویہ بغور ملاحظہ کرکے عرض کی کہ اتنوں میں کسی کو اس شہزادے کی صورت اور شکل کے موافق نہیں دیکھتا، مگر آپ کے چہرۂ مبارک میں اکثر اس کی علامتیں پائی جاتی ہیں اور بول چال کی وضع بھی بہت ملتی ہے۔

سنتے ہی اس کلام کو تاج الملوک اٹھ کر باپ کے قدموں پر گر پڑا اور عرض کی کہ میں وہی ناخلف ہوں جو اتنی مدت تک نحوستِ ایام اور طالع ناکام کے باعث سرگرداں پھرا اور اس درگاہ سے محروم رہا۔ شکر ہے کہ دیدار مبارک جس طرح سے جسے جی چاہتا تھا اسی طرح دیکھا اور قدم بوسی کی جس وضع سے آرزو تھی بر آئی۔

زین الملوک نے یہ گفتگو سن کر مارے خوشی کے شہزادے کو چھاتی سے لگایا، سر اور آنکھیں چومیں، سجدۂ شکر بجالایا پھر بیٹے سے کہنے لگا، یہ حشمت و اقبال کہ ایزد متعال نے تم کو بخشا ہے ہم کو پہلے ہی اس کا حال تمہارے روز تولد کے زائچہ سے معلوم ہوا تھا۔ الحمد اللہ کہ چہرۂ مقصود کو آئینہ ظہور میں حسب دل خواہ دیکھا۔ ہماری آنکھوں میں روشنی دوچند ہوئی۔ یہ کہو کہ آج تک کہاں تھے اور سروِ آزاد ہو یا کسی شمشاد قد سے پیوند کیا ہے؟

شہزادہ بولا کہ غلام کی دو منکوحہ ہیں۔ اگر حکم ہو تو باریاب ہوویں اور قدم بوسی حاصل کریں۔ حضرت نے فرمایا اس سے کیا بہتر۔ شہزادہ محل میں جاکر دلبر اور محمود ہ کو بادشاہ کی خدمت میں لایا۔ وہ دونوں پری پیکر اس مکان کے قریب آکر ٹھٹھک رہیں، تب زین الملوک نے کہا کہ یہاں کیوں نہیں آتیں جو ان کے دیدارِ فرحت آثار سے میں نرگس چشم کو منور کروں اور سینے کو سرور سے بھرو ں۔

تاج الملوک نے التماس کیا کہ آپ کی یہ لونڈیاں حیا سے نہیں آتی ہیں کہ چاروں شہزادے ان کے بندۂ آزاد ہیں۔ چنانچہ ان کی مہر سے ان کے چوتڑوں پر داغ موجود ہیں، مزاج چاہے تو حضرت بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس راز کے کھلنے سے چاروں کے منہ کا رنگ اڑ گیا۔ شرمندہ ہوکر وہاں سے اٹھ گئے۔ تب وہ دونوں آکر قدم بوس ہوئیں، پھر زین الملوک نے تمام سرگزشت ایام جدائی کی اور دلبر اور محمودہ جان کا احوال استفسار کیا۔ شہزادے نے بھی شدائد سفر اور محنت بیابان کی، اور احوال بھائیوں کے داغ کھانے کا دلبر کے ہاتھ سے، اور مروّت حمالہ کی، بیاہنا محمودہ کا، لینا گل بکاؤلی کا گلاب کے حوض سے اور بکاؤلی کے دیکھنے کی کیفیت خواب کی حالت میں اور گل مذکور چھین لینا بھائیوں کا، اور بنانا باغ اور حویلی کا بیابان میں مفصل ظاہر کیا۔

اتنے میں بادشاہ کو تاج الملوک کی بات یاد آگئی۔ بولے کہ تم نے تو میری آنکھیں گل بکاؤلی سے روشن کیں اور اپنے دیدار سے دروازہ سرور کا دل غم ناک کے آگے کھول دیا، اب مجھ کو بھی لازم ہے کہ اس دردِ انتظار کی ماری تماری ماں کو یہ مژدہ جاں بخش سناؤں اور اس مبتلائے رنج فراق اور تشنۂ دیدار کو تمہارے آنے کی خوش خبری کا شربت پلاؤں۔ یہ کہہ کر بادشاہ اٹھ کھڑے ہوئے اور قلعہ مبارک میں تشریف لاکر تاج الملوک کی ماں کے پاس گئے اور ایام گذشتہ کی بدسلوکیوں کا بہت سا عذر کیا۔ آگے سے زیادہ سرفراز کیا اور بیٹے کے آنے کا مژدہ دیا۔

اے عزیز! تیری عزت بادشاہ کے دربار میں تیری خدمت کے موافق ہوگی۔ چاہیے کہ شہزادے کے مانند کار شائستہ کرے تو تیری محنت شاہ کے دل میں موثر ہو اور پیغام اپنی ملاقات کا تجھے بھیجے بلکہ بے باکانہ آپ ہی تیرے پاس چلا آئے اور بے اختیار تیرا سر اپنی چھاتی سے لگائے۔ اگرچہ پہلے دیدار کے لائق نہ ہو لیکن آخر کار اسی مقام میں آپ کو پہنچائے کہ وہاں تیرا کوئی شریک نہ ہوسکے۔ پھر ایسا کام نہ کیجیو کہ شہزادوں کی مانند داغ لعنت اٹھائے، ہر کس وناکس کے روبرو رسوا ہو۔