مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 10: دسویں داستان

دسویں داستان

خبر پہنچنے میں عمارت بنانے تاج الملوک کی زین الملوک کو

معمار سرائے سخن کا بنیاد اس داستان کے گھر بنانے کی اس طرح رکھتا ہے کہ ایک دن تاج الملوک کے غلاموں میں سے ساعد نام اس بیابان میں سیر کرتا پھرتا تھا۔ ناگاہ اس کی نگاہ کئی لکر ہاڑوں پر کہ لکڑیوں کے بوجھ لیے جاتے تھے، جا پڑی۔ اس نے پوچھا تم کون ہو اور لکڑیاں کہاں لے جاتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا ہم شہر شرقستان کے لکڑہارے ہیں، ہمارا یہی کسب ہے۔ اسی سے ہمارے لڑکے پالے جاتے ہیں، دانہ پانی کھاتے پیتے ہیں۔ اس نے کہا آج تم یہ گٹھے میرے آقا کے باورچی خانے میں لے چلو، دولت خانہ اس کا نزدیک ہے، اس نے اس ویرانے میں ایک شہر آباد کیا ہے، واجبی قیمت ملے گی، بلکہ ایسا انعام پاؤگے کہ پھر کہیں اپنی لکڑیاں بیچنے نہ جاؤگے۔ انہوں نے کہا ہماری تمام عمر اسی کام میں اسی بیابان سے لکڑیاں لے جانے میں گزری ہے، لیکن آبادی کا یہاں نشان نہ دیکھا نہ سنا۔ ساعد نے کہا ذرا تم آگے بڑھ کر دیکھو، میرے کہنے کا کچھ اثر ظاہر ہو تو بہتر، نہیں تو تمہارے پھر آنے سے کوئی مانع نہ ہوگا۔

لکڑہارے انعام کے لالچ سے ساعد کے آگے ہولیے، پھر تھوڑی سی دور جا کر سب یکبارگی پکار اٹھے کہ نعوذباللہ من الشیطان الرجیم۔ اے انجان تم ہم کو آگ میں جھونکنے کو کیوں لیے جارہے ہو، چولہے میں انعام اور بھاڑ میں پڑے اکرام۔ بس ہمیں معاف کرو، ہم نے پھر پایا۔ ساعد نے کہا یہ شعلہ آتش نہیں حویلی کے جواہرات کی چمک ہے، تم ہر گز اندیشہ نہ کرو اور میرے ساتھ چلے آؤ۔ وہ اس کے کہنے سے کچھ اور بھی بڑھے، آگے ساری زمین سونے کی نظر آئی۔ سب نے اس کی بات سچی پائی۔ قدم اٹھائے بے دھڑک چلے۔ آخر وہ حضور میں ان کو لے گیا۔ تاج الملوک نے ایک ایک تھان بیش قیمت دے کر رخصت کیااور فرمایا اگر تم یہاں آیا کرو تو اس سے دونا ہر روز پایا کرو۔ لکڑ ہاروں نے جب پہلے دن ایسا انعام پایا اور آئندہ امید بندھی، اپنا وطن چھوڑکر ہر ایک وہاں آرہا۔ خبر ان کے ہمسائے میں پھیلی اور جابجا منتشر ہوئی۔ غرض جو کوئی اس شہر کے دیکھنے کو جاتاہرگز وہاں سے پھر کر گھر نہ آتا اور وہیں رہتا۔ کوتوال شرقستان کا روز رعیت کے بھاگنے کی خبر وزیر کے حضور میں کہتا۔ چنانچہ ایک دن اس نے خبر دی کہ آج کی رات ہزار گھر اہل حرفہ کے خالی ہوئے اور وہ بھاگ گئے۔ وزیر نے کہا کچھ یہ بھی تو جانتا ہے کہ کہاں جاتے ہیں تب وہ بولا کہ غلام نے سنا ہے، کسی نے درندوں کے جنگل میں دس کوس تک سونے کی زمین بناکر اس پر اس طرح کا شہر آباد کیا ہے اور ایک قصبہ اور باغ بھی جواہر کا ایسا بنایا ہے کہ روئے زمین پر ویسا دوسرا نہیں، جو دیکھتا ہے یہ مطلع پڑھتا ہے:

اگر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

اور اس کے دریائے سخاوت کی لہر دور نہیں کہ نام حاتم طائی کا آب جوئے زمانے سے لے جائے اور پانی اس کے بحر عدالت کا بعید نہیں کہ نقش عدل نوشیروان کا لوح جہاں سے مٹائے۔ وزیر نے اس بات کو باور نہ کیا، کہا جو کام کہ طاقت بشری سے باہر ہو، انسان کی کیا مجال کہ کر سکے۔ کوتوال نے مکرر عرض کی کہ متواتر خبر پہنچی ہے، جھوٹ کیونکر ہوگی۔ جو قادر کریم عورت کو مرد بنا سکتا ہے اور مرد کو عورت وہ اگر دولت دنیوی کو کہ بمنزلہ ایک عورتِ شکیلہ کے ہے، کسی مرد کے مطیع کردے تو عجب کیا ہے :

نہ پوچھ چرخ ہوا ہے کمینہ پرور کیوں بہانہ بے سببی بس ہے اس کے دینے کا

کیا آپ نے اس شہزادے کا قصہ جس نے ایک دیو سے علامت مرد کی لے کر اپنی شادی کی تھی نہیں سنا۔ وزیر نے کہا وہ کیونکر ہے۔ حکایت

کوتوال نے عرض کی کہ اگلے وقت میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے محل سرا میں سو رنڈیاں صاحب جمال بے مثال تھیں، پر کسی کے اولاد نہ ہوتی تھی۔ خدا کی قدرت کاملہ سے ایک حسین اور جوان کو اس میں سے حمل رہا۔ نو مہینے کے بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی۔ اسی طرح تین بار جنی مگر لڑکا پیدا نہ ہوا۔ جب چوتھی بار حمل رہا، بادشاہ نے قسم کھائی کہ اگر اس مرتبہ بیٹی جنی تو اس کو اس کی ماں سمیت جان سے مار ڈالوں گا۔ تقدیر کی نیرنگی سے اس بار بھی لڑکی پیدا ہوئی لیکن نہایت خوبصورت پری طلعت۔ اس کی ماں نے جان کے خوف سے لڑکا مشہور کیا اور نجومیوں کو تاکید کی کہ بادشاہ کو سمجھا دوکہ دس برس تک اس لڑکی کا منہ نہ دیکھنا آپ کو اچھا نہیں۔ چنانچہ نجومیوں نے بادشاہ کی خدمت میں اس طرح عرض کیا۔ حضرت نے بھی مانا اور ویسا ہی کیا۔

القصہ جب لڑکی ہوشیار ہوئی اور اس کے دیدار کی منادی کے تھوڑے دن رہے، جب ماں نے بیٹا کہلوانے کی وجہ اس کو سمجھا دی اور کہا کہ اے بیٹی تو بادشاہ کے حضور مردانی وضع میں آیا جایا کیجو کہ میری اور تیری زندگی رہے اور جان بچے۔

چنانچہ لڑکی ایام معہودہ کے بعد اسی وضع سے بادشاہ کی خدمت میں کبھی کبھی جانے آنے لگی، لیکن مُجرا کر کے جلدی سے چلی آتی اور دیر تک نہ رہتی۔ آخر اس دختر پسرنُما کی نسبت دوسرے بادشاہ کی بیٹی سے کی۔ جب شادی کے دن نزدیک آ پہنچے، بادشاہ نے اس کو لباس شاہانہ پہنایا اور سونے کے ہودے پر بٹھا کر تجمل بادشاہی سے دلہن کے ملک کو روانہ ہوا۔

لڑکی کبھی اس حالت پر ہنستی اور کبھی روتی۔ ایک رات کسی ویرانے میں اتفاق رہنے کا ہوا۔ لڑکی مارے شرم کے کہ آخرکار زندگانی وبال جان ہوگی، چپکے سے اٹھ کر اس بیابان میں چلی گئی، اس ارادے سے کہ کوئی درندہ کھا جائے۔ جاتے جاتے ایک درخت کے تلے کہ وہ دیو کے رہنے کا مکان تھا پہنچی۔ وہ اس کے حسن پر دیوانہ ہو گیا اور آدمی کی صورت بن کر لڑکی کے آگے آکراس کا حال پوچھنے لگا۔ اس نے ساری حقیقت بیان کی، یہ سن کر دیو کا دل بھر آیا اور بولا اگر تو امانت میں خیانت نہ کرے اور اس پر قول دےتو اپنی علامت کسی حکمت سے تیرے لگاؤں اور تیری علامت آپ اختیار کروں۔ لڑکی دیو کے کہنے کے موافق عمل میں لائی۔ اس نے بھی وعدہ پورا کیا۔ پھر وہاں سے خرم و خنداں وہ اپنے ڈیرے میں آئی۔

کئی روز کے بعد برات اپنی منزل مقصود کو پہنچی اور شادی سے فراغت کر کے بادشاہ اپنے ملک کو پھر آیا۔ شہزادہ نقلی چند مدت وہیں رہا، جب اس کا ایک لڑکا پیدا ہوا تب قصد وطن کا کیا اور منزلیں طے کرنے لگا۔ جب اس جنگل میں پہنچا، اسی درخت کے نیچے گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ دیو بڑھیا کے بھیس میں رونی شکل بنائے بیٹھا ہے۔ شہزادی نے کہا، اے دیو میں نے تیری مہربانی سے اپنے دل کی مراد بھر پائی، اب اپنی چیز لے اور میری مجھے دے۔ دیو نے کہا اب میں اس کام سے گزر گیا۔ تقدیر میں یہی لکھا تھا۔ تب اس نے پوچھا وجہ اس کی کیا ہے مفصل بیان کرو۔ وہ بولا کہ میں اسی صورت سے تیرا منتظر یہاں بیٹھا تھا، ناگاہ ایک دیو پہاڑ سا آیا۔ اس کے دیکھنے سے مجھ پر شہوت غالب ہوئی اور مارے مستی کے رہ نہ سکا۔ اس نے بھی دوڑ کر مجھے چھاتی سے لگا لیا۔ آخر شربت وصل پلایا، میں اب اگر علامت مردی کی لگا لوں تو جانے کس وقت جی سے ہاتھ اٹھاؤں۔ اس کے سوا یہ عقدہ مجھ پر کھلا کے مردوں سے رنڈیاں شہوت میں زیادہ ہیں۔ اب جا اپنی راہ لے میں نے اپنی چیز تجھ ہی کو بخشی۔

وزیر نے کہا، خدا کی قدرت معمور اور برحق ہے۔ مجھے کچھ اس میں شک نہیں لیکن محال چیزوں کا آدمی سے موجود ہونا عقل میں نہیں آتا، کوئی دانا اس کو نہیں مانتا۔ شاید تو نے چڑے اور فقیر کی کہانی نہیں سنی۔ کوتوال نے عرض کیا فرمائیے۔ حکایت

وزیر نے کہا، حضرت سلیمانؑ کے عہد میں چڑیا کا جوڑا ایک روز راہ میں بیٹھا دانہ کھاتا تھا۔ ایک فقیر جبہ پوش کو دور سے آتے دیکھا۔ مادہ نے نر سے کہا خبردار! دشمن آتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ پنجۂ بلا میں گرفتار کرے۔ نر بولا کہ اس خدا دوست سے کچھ اندیشہ نہیں۔ جو خدا کی راہ پر چلتے ہیں وہ کسی کی ایذا کے روادار نہیں ہوتے۔ انہی باتوں میں تھے کہ فقیر آ پہنچا اور بغل سے ایک سونٹا نکال ایسا پھینک مارا کہ نر کا ایک بازو ٹوٹ گیا۔ بہرحال اس ظالم کے ہاتھ سے بھاگ کر گرتا پڑتا حضرت سلیمانؑ بادشاہ کے پاس گیا۔ پہلے تو جا کے دعا دی پھر یہ عرض کی کہ فلانے درویش نے بےتقصیر میرا بازو توڑ ڈالا ہے۔

بادشاہ نے فرمایا اس کو حاضر کرو۔ چنانچہ حضور میں اسے لے آئے، تب حضرت نے غضب سے فرمایا کہ تونے اس کو کیوں مارا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ اگر میں نے اس کو مارا تو کیا ظلم کیا، کیونکہ انسان کی خوراک ہے۔

یہ سن کر چڑا بولا کہ اگرچہ میں بیچارہ چھوٹا سا جانور ہوں، پر مجھ کو اس قدر شعور ہے کہ اپنے دوست سے شیر و شکر کی طرح مل جاتا ہوں اور دشمن سے کڑی کمان کے تیر کی طرح بھاگتا ہوں۔ تیری پیوندی گدڑی دیکھ کر میں نے جانا تھا کہ تو خدا کی راہ پر ہے۔ کسی کے حق میں بدی نا کرے گا، لیکن اب مجھ پر کھلا کہ تیرا رہنما فقط شیطان ہے اور گدڑی میں فقط مکرو دغا بھرا ہے۔ اب اس کو اتار رکھ کہ اور کوئی میری طرح سے فریب نہ کھائے اور ترے دامِ مکر میں نہ آ جائے۔

چڑے کی یہ باتیں حضرت کو نہایت پسند آئیں۔ فقیر کو لعنت ملامت کر کے نکال دیا۔ چند روز کے بعد وہی چڑا کہیں چگ رہا تھا۔ کسی درویش نے اس کو کسی طرح پکڑ کر پنجڑے میں بند کیا۔ چڑا سمجھا کہ اب کی تو جان پر آ بنی، یہ سوچ کر کہنے لگا اے مرد خدا! بیچنے سے تجھ کو چنداں نفع نہ ہوگا اور کھانے سے بھی میرے معلوم۔ رکھنا بھی علی ہذا القیاس بے فائدہ ہے۔ پس چند سخن کے ہر ایک دُرّ ِبے بہا ہے، اگر مجھے چھوڑ دے تو کہوں۔ یہ سن کر فقیر بہت خوش ہوا۔ پنجرے سے نکال کر پاؤں پکڑ کر ہاتھ پر بٹھایا اور کہا لو کہو۔ چڑا بولا کہ ایک عالم کہتا ہے کہ خدا چاہے تو بہتر اونٹ کی قطار سوئی کے ناکے سے نکل جائے۔ یہ بات سچ ہے، خدا کی قدرت سے کچھ دور نہيں۔ پر یہ آدمی کی سعی سے ہرگز اعتبار نہ کیا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ جو کام اپنے اختیار میں نہ رہے اس کے واسطے غمگین نہ ہونا چاہیے۔ اے درویش تو مجھ کو چھوڑ دے تو کہوں۔ یہ سن کر آزاد مرد نے اسے آزاد کیا۔

چڑا اڑ کر ایک درخت کی ڈالی پر جا بیٹھا اور بولا فقیر تو بڑا احمق ہے۔ کیا تیری عقل ماری گئی جو ایسا شکار اپنے ہاتھ سے کھویا۔ میرے پیٹ میں ایک لعل بے بہا ہے۔ اگر تو مجھے مار کر کھاتا تو وہ بھی تیرے ہاتھ آتا۔ درویش یہ سن کر ہاتھ ملنے لگا اور یوں کہنے لگا، اے پرند! بھلا میں اس نفع سے گزرا لیکن تو اور باتیں تو کہہ۔ چڑا بولا کہ تیرا دل مانند چکنے گھڑے کے ہے۔ میری باتیں اس پر اثر نہ کریں گی، ناحق کہہ کر کیوں ضائع کروں۔ مثل مشہور ہے کہ اندھے کے آگے روؤ، اپنی آنکھیں کھوؤ۔ اے نادان! ابھی تو میں نے تجھ سے کہا تھا کہ جو چیز اپنے قبضے سے نکل جائے اس کے واسطے نہ پچھتائے۔ اسی دم تو بھول گیا اور یہ نہ سمجھا کہ میں نے لعل کیونکر نگلا ہوگا۔

یہ کہہ کر چڑا تو اڑ گیا اور فقیر نے مایوس ہو گھر کا رستہ لیا۔ اس بات سے اپنی غرض یہ ہے کہ خدا کو سب طرح کی قدرت اور طاقت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ بے تحقیقات بادشاہوں کی جناب میں کچھ عرض معروض نہ کرے۔ اس واسطے تجھ کو لازم ہے کہ پہلے تو جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ آ، پھر عرض کر۔