کہتے ہیں کہ پورب کے شہزادوں میں کسی شہر کا بادشاہ زین الملوک نام، جمال اس کا جیسے ماہِ منیر، عدل و انصاف اور شجاعت و سخاوت میں بے نظیر۔ اس کے چار بيٹے تھے۔ ہر ایک علم و فضل میں علامہ زمان اور جوانمردی میں رستم دوراں۔ خدا کی قدرت کاملہ سے اور ایک بیٹا آفتاب کی طرح جہاں کا روشن کرنے والا اور چودھویں رات کے چاند کی طرح دنیا کے اندھیرے دور کرنے والا پیدا ہوا۔
قمر اس کی جبین سے داغ کھائے مہ نو پیش ابرو سر جھکائے اگر چین جبین اس کی بنائے مصور چین کا چیں بول جائے بلا انگیز دو آنکھیں جادو آمیز مئے گلرنگ سے دو جام لبریز کبھی دیکھی تھی اس گلرو کی کاکل پریشان آج تک ہے حال سنبل جہاں مجروح ہو تیغ نظر سے پلک سے پار ہو خنجر جگر سے وہ مکھڑا مہر اگر دیکھے تو تھرّائے قمر کے چہرے کا بھی رنگ اڑ جائے عجب انداز سے تل گال پر تھا کہ گنج حسن پر کالا ہو بیٹھا وہ سینہ تختۂ بلور سا صاف یہ کیا کہتا ہوں میں ہیرا تھا شفاف ریاض حسن کا سرو سر افراز غرض وہ تھا سراپا مایہ ناز
بادشاہ نے باغ باغ ہو کر جشن کیا اور نجومیوں کو بلا کر کہا کہ اس کی لگن دیکھو۔ ہر ایک نے کنڈلی کھینچ کر اس کا نام تاج الملوک رکھ دیا اور کچھ انگلیوں پر گن گنا کے عرض کی کہ یہ باغ عالم میں گل تازہ ہے، اس کے نصیبوں میں دولتِ دنیاوی بے اندازہ ہے۔ صاحب ہمت اس طرح کا نہ کوئی ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ یقین ہے کہ ایسا شہریار ہو تو عالم جنات بھی مطیع اور فرماں بردار ہو مگر ایک قباحت بھی اس کے ساتھ ہے۔ جب بادشاہ کی اس پر نظر پڑے تو فوراً بادشاہ کی آنکھوں سے بینائی جاتی رہے۔ بادشاہ نے کچھ شاد کچھ ناشاد ہو کر ان کو رخصت کیا اور وزیر سے فرمایا کہ ایک محل میں بتفاوت تمام ہماری گزرگاہ سے اُس کی ماں سمیت رکھو۔ چنانچہ موجب ارشاد کے وزیر عمل میں لایا۔
چند سال کے بعد وہ نونہال باغ سلطنت کا کمال ناز و نعمت سے پرورش پا کر ہوائے علم و ہنر سے سے سر سبز ہوا۔ ایک روز اس کو شکار کی خواہش ہوئی، سوار ہو کر جنگل میں گیا اور شکار کے پیچھے گھوڑا اٹھایا۔ سچ ہے کہ ہونے والی بات بے ہوئے نہیں رہتی:
تقدیر کے لکھے کو امکان نہیں دھوتا
اتفاقاً بادشاہ بھی اسی دن شکار کو سوار ہوئے تھے۔ ایک ہرن کے پیچھے گھوڑا ڈالے اسی طرف کو آنکلے۔ مشہور ہے کہ کانے چوٹ کنوڈے بھینٹ۔ جونہی شہزادے پر نگاہ پڑی آنکھوں کی بصارت جاتی رہی۔ ارکان دولت نے شہزادے کو دیکھ کر بادشاہ کے نابینا ہونے کا سبب دریافت کیا، حضرت نے فرمایا کہ لازم یوں تھا کہ بیٹے کو دیکھ کر باپ کی آنکھیں اور روشن ہوں، سو یہ طرفہ ماجرا ہے کہ برعکس ظہور میں آیا۔ پس اب یہ بہتر ہے کہ اِس کو میرے ممالک محروسہ سے نکال دو اور اس کی ماں کے واسطے خدمت جاروب کشی کی مقرر کرو۔
یہ فرما کے بادشاہ الٹے پاؤں تخت گاہ کی طرف پھر آیا اور اسے دل سے نکال دیا۔