فسانۂ عجائب
By رجب علی بیگ سرور
Cover: A page of the Dastan-i Amir Hamza (Hamzanama) (c. 1567-1582), opaque watercolour on cloth by Unknown Mughal painter (16th century) · Wikimedia Commons · Public domain (Mughal work of the 1570s)
Rajab Ali Beg Suroor's Tale of Wonders (1824) is a fairy-tale romance in which a prince sets out to find the beloved he has seen in a dream, and meets magicians, jinn and rival kings on the way. It is the best-known example of Lucknow's ornate rhymed prose, and its opening chapters also describe the city itself.
Summary written with Claude Sonnet 5.5.
Table of contents
- 1: زمزمہ پردازی عندلیب نغمہ سرا کی
- 2: کیفیت شہر بے نظیرکی (بیان لکھنؤ)
- 3: وجہِ تالیف اس قصۂ بے نظیر کی
- 4: آغاز داستان
- 5: جَولانی سَمَندِ تیز رفتار ِقلم کی
- 6: وطن آوارہ ہونا نو گرفتارِ محبت کا
- 7: رِہا ہونا اس گرِفتار دامِ سحر کا
- 8: رخصت ہونا جان عالم کا ملکہ نگار سے
- 9: بیانِ جلسۂ شادی اُس وطن آوارہ کا
- 10: شرح جگر خراشیٔ مصائب دیدۂ روزگار
- 11: نقل سوداگر کی بیٹی کی
- 12: حالِ خُسراں مآل مجسٹن کے بیٹے کا
- 13: عزمِ وطن شاہ زادۂ جانِ عالم کا
- 14: وُرودِ موکبِ جاہ و جلالِ شاہ زادۂ خجستہ خِصال
- 15: داستانِ حیرت بیاں
- 16: فسانۂ سلطانِ یمن
- 17: ناقہ بِٹھانا تقدیر کا پھر اُسی دشتِ پُر خوف و خطر میں
- 18: روانہ ہونا شہ زادۂ جانِ عالم کا اُس دشت سے
- 19: حکایتِ پُر عبرت، جاں سوز، حیرت اَفزا، غم اندوز؛ یعنی سانِحۂ برادرانِ تَواَم
- 20: حکایتِ پُر شکایت چھوٹے بھائی کی
- 21: بیانِ حال اُس غَریق بحر ملال کا
- 22: پہنچنا شہ زادۂ والا جاہ کا مَرکبِ صبا پر
- 23: وُروٗدِ عَساکِرِ فیروزی اثر صحرائے ہمیشہ بہارمیں
- 24: حکایَتِ ہوش رُبا، نقلِ عبرت خیز، حیرت افزا قاضیٔ متشرِّع اور مُفتی صاحبِ وَرع کی
- 25: اب تماشا ہے نہ سیر ہے، خاتمہ بِالخیر ہے