اے بادِ صبا! کملی والےؐ سے جا کہیو پیغام مراقبضے سے اُمّت بیچاری کے دِیں بھی گیا، دنیا بھی گئی
یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لبِ ساحل نے دیاہے دُور وصالِ بحر ابھی، تُو دریا میں گھبرا بھی گئی!
عزّت ہے محبّت کی قائم اے قیس! حجابِ محمل سےمحمل جو گیا عزّت بھی گئی، غیرت بھی گئی، لَیلا بھی گئی
کی ترک تگودو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھی مِلیآوارگیِ فطرت بھی گئی اور کشمکشِ دریا بھی گئی
نکلی تو لبِ اقبالؔ سے ہے، کیا جانیے کس کی ہے یہ صداپیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی، دل محفل کا تڑپا بھی گئی
یہ سرودِ قُمری و بُلبل فریبِ گوش ہےباطنِ ہنگامہ آبادِ چمن خاموش ہے
تیرے پیمانوں کا ہے یہ اے مئے مغرب اثرخندہ زن ساقی ہے، ساری انجمن بے ہوش ہے
دہر کے غم خانے میں تیرا پتا مِلتا نہیںجُرم تھا کیا آفرینش بھی کہ تو رُوپوش ہے
آہ! دنیا دل سمجھتی ہے جسے، وہ دل نہیںپہلوئے انساں میں اک ہنگامۂ خاموش ہے
زندگی کی رہ میں چل، لیکن ذرا بچ بچ کے چلیہ سمجھ لے کوئی مِینا خانہ بارِ دوش ہے
جس کے دم سے دلّی و لاہور ہم پہلو ہوئےآہ، اے اقبالؔ! وہ بُلبل بھی اب خاموش ہے
نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
پُختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقلعشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشقعقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
عشق فرمودۂ قاصد سے سبک گامِ عملعقل سمجھی ہی نہیں معنیِ پیغام ابھی
شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبیتو ہے زُنّاریِ بُت خانۂ ایّام ابھی
عُذرِ پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقیہے ترے دل میں وہی کاوشِ انجام ابھی
سعیِ پیہم ہے ترازُوئے کم و کیفِ حیاتتیری میزاں ہے شمارِ سحَر و شام ابھی
ابرِ نیساں! یہ تنک بخشیِ شبنم کب تکمرے کُہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
بادہ گردانِ عجَم وہ، عَربی میری شرابمرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے آشام ابھی
خبر اقبالؔ کی لائی ہے گلستاں سے نسیمنَو گرفتار پھڑکتا ہے تہِ دام ابھی
پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کرچشمِ مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر
تُو جو بجلی ہے تو یہ چشمک پنہاں کب تکبے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر
نفَسِ گرم کی تاثیر ہے اعجازِ حیاتتیرے سینے میں اگر ہے تو مسیحائی کر
کب تلک طُور پہ دریُوزہ گری مثلِ کلیماپنی ہستی سے عیاں شعلۂ سینائی کر
ہو تری خاک کے ہر ذرّے سے تعمیرِ حرمدل کو بیگانۂ اندازِ کلیسائی کر
اس گُلستاں میں نہیں حد سے گزرنا اچھّاناز بھی کر تو بہ اندازۂ رعنائی کر
پہلے خوددار تو مانندِ سکندر ہو لےپھر جہاں میں ہَوسِ شوکتِ دارائی کر
مِل ہی جائے گی کبھی منزلِ لیلیٰ اقبالؔ!کوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر
پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہوغنچہ ہے اگر گُل ہو، گُل ہے تو گُلستاں ہو
تُو خاک کی مُٹھّی ہے، اجزا کی حرارت سےبرہم ہو، پریشاں ہو، وسعت میں بیاباں ہو
تُو جنسِ محبّت ہے، قیمت ہے گراں تیریکم مایہ ہیں سوداگر، اس دیس میں ارزاں ہو
کیوں ساز کے پردے میں مستور ہو لَے تیریتُو نغمۂ رنگیں ہے، ہر گوش پہ عُریاں ہو
اے رہروِ فرزانہ! رستے میں اگر تیرےگُلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو
ساماں کی محبّت میں مُضمَر ہے تن آسانیمقصد ہے اگر منزل، غارت گرِ ساماں ہو
کبھی اے حقیقتِ منتظَر! نظر آ لباسِ مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
طرَب آشنائے خروش ہو، تُو نَوا ہے محرمِ گوش ہووہ سرود کیا کہ چھُپا ہوا ہو سکوتِ پردۂ ساز میں
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہکہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں
دمِ طوف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اَثرِ کہننہ تری حکایتِ سوز میں، نہ مری حدیثِ گداز میں
نہ کہیں جہاں میں اماں مِلی، جو اماں مِلی تو کہاں مِلیمرے جُرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاںنہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زُلفِ ایاز میں
جو میں سر بسجدہ ہُوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صداترا دل تو ہے صنَم آشنا، تجھے کیا مِلے گا نماز میں
تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیاجو فغاں دلوں میں تڑپ رہی تھی، نوائے زیرِ لبی رہی
ترا جلوہ کچھ بھی تسلّیِ دلِ ناصبور نہ کر سکاوہی گریۂ سحَری رہا، وہی آہِ نیم شبی رہی
نہ خدا رہا نہ صنَم رہے، نہ رقیبِ دَیر و حرم رہےنہ رہی کہیں اسَدُ اللّہی، نہ کہیں ابولہَبی رہی
مرا ساز اگرچہ ستم رسیدۂ زخمہ ہائے عجم رہاوہ شہیدِ ذوقِ وفا ہوں مَیں کہ نوا مری عَربی رہی
گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہےقلب کو لیکن ذرا آزاد رکھ
عقل کو تنقید سے فرصت نہیںعشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
اے مسلماں! ہر گھڑی پیشِ نظرآیۂ ’لاَ یُخلِفُ الْمِیْعَاد‘ رکھ
یہ ’لِسان العصر‘ کا پیغام ہے“اِنَّ وعْد اللہِ حقٌ یاد رکھ”