بالِ جبریل · علامہ محمد اقبال

Chapter 4: منظومات

دُعا

(مسجدِ قُرطُبہ میںلِکھّی گئی)

ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضومیری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہُوصُحبتِ اہلِ صفا، نُور و حضور و سُرورسر خوش و پُرسوز ہے لالہ لبِ آبُجوراہِ محبّت میں ہے کون کسی کا رفیقساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزومیرا نشیمن نہیں درگہِ میر و وزیرمیرا نشیمن بھی تُو، شاخِ نشیمن بھی تُوتجھ سے گریباں مرا مطلعِ صُبحِ نشورتجھ سے مرے سینے میں آتشِ ’اَﷲ ھو‘تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغتُو ہی مری آرزو، تُو ہی مری جُستجوپاس اگر تُو نہیں، شہر ہے ویراں تمامتُو ہے تو آباد ہیں اُجڑے ہُوئے کاخ و کُوپھر وہ شرابِ کُہن مجھ کو عطا کر کہ مَیںڈھُونڈ رہا ہوں اُسے توڑ کے جام و سُبوچشمِ کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظرجلوَتیوں کے سُبو، خلوَتیوں کے کُدوتیری خدائی سے ہے میرے جُنوں کو گِلہاپنے لیے لامکاں، میرے لیے چار سُو!فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیاحرفِ تمنّا، جسے کہہ نہ سکیں رُو بُرو

مَسجدِقُرطُبہ

(ہسپانیہ کی سرزمین، بالخصوص قُرطُبہ میں لِکھّی گئی)

سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثاتسِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و مماتسِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاںجس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہسِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائناتتُو ہو اگر کم عیار، مَیں ہُوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات، موت ہے میری براتتیرے شب وروز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہُنرکارِ جہاں بے ثبات، کارِ جہاں بے ثبات!اوّل و آخر فنا، باطن و ظاہر فنانقشِ کُہن ہو کہ نَو، منزِل آخر فنا

ہے مگر اس نقش میں رنگِ ثباتِ دوامجس کو کِیا ہو کسی مردِ خدا نے تماممردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرامتُند و سبک سَیر ہے گرچہ زمانے کی رَوعشق خود اک سَیل ہے، سَیل کو لیتاہے تھامعشق کی تقویم میں عصرِرواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیؐعشق خدا کا رُسول، عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکرِ گِل تابناکعشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کاسُ الکِرامعشق فقیہِ حرم، عشق امیرِ جُنودعشق ہے ابن السّبیل، اس کے ہزاروں مقامعشق کے مِضراب سے نغمۂ تارِ حیاتعشق سے نُورِ حیات، عشق سے نارِ حیات

اے حَرمِ قُرطُبہ! عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خِشت و سنگ، چِنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خُونِ جگر سے نمودقطرۂ خُونِ جگر، سِل کو بناتا ہے دلخُونِ جگر سے صدا سوز و سُرور و سرودتیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوزتجھ سے دِلوں کا حضور، مجھ سے دِلوں کی کشودعرشِ معلّیٰ سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کفِ خاک کی حد ہے سِپہرِ کبُودپیکرِ نُوری کو ہے سجدہ میّسر تو کیااس کو میّسر نہیں سوز و گدازِ سجودکافرِ ہندی ہُوں مَیں، دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلٰوۃ و دُرود، لب پہ صلوٰۃ و دُرودشوق مری لَے میں ہے، شوق مری نَے میں ہےنغمۂ ’اَﷲ ھُو‘ میرے رَگ و پَے میں ہے

تیرا جلال و جمال، مردِ خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل، تُو بھی جلیل و جمیلتیری بِنا پائدار، تیرے سُتوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہُجومِ نخیلتیرے در و بام پر وادیِ اَیمن کا نورتیرا منارِ بلند جلوہ گہِ جبرئیلمِٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سرِّ کلیمؑ و خلیلؑاس کی زمیں بے حدود، اس کا اُفُق بے ثُغوراس کے سمندر کی موج، دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب، اس کے فسانے غریبعہدِ کُہن کو دیا اس نے پیامِ رحیلساقیِ اربابِ ذوق، فارسِ میدانِ شوقبادہ ہے اس کا رحیق، تیغ ہے اس کی اصیلمردِ سپاہی ہے وہ اس کی زِرہ ’لَا اِلہ‘سایۂ شمشیر میں اس کہ پنہ ’لَا اِلہ‘

تجھ سے ہُوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپِش، اس کی شبوں کا گدازاس کا مقامِ بلند، اس کا خیالِ عظیماس کا سُرور اس کا شوق، اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں، کارکُشا، کارسازخاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیازاس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نوازنرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجورزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک بازنُقطۂ پرکارِ حق، مردِ خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ، عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہ

کعبۂ اربابِ فن! سطوَتِ دینِ مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہِ گردُوں اگر حُسن میں تیری نظیرقلبِ مسلماں میں ہے، اَور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردانِ حق! وہ عَربی شہسوارحاملِ ’ خُلقِ عظِیم‘، صاحبِ صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمزِ غریبسلطنتِ اہلِ دل فقر ہے، شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیَتِ شرق و غربظُلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہُو کی طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط، سادہ و روشن جبیںآج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزالاور نگاہوں کے تِیر آج بھی ہیں دل نشیںبُوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگِ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے

دیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں، آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہےعشقِ بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں!دیکھ چُکا المنی، شورشِ اصلاحِ دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقشِ کُہن کے نشاںحرفِ غَلط بن گئی عِصمتِ پیرِ کُنِشتاور ہُوئی فکر کی کشتیِ نازک رواںچشمِ فرانسیس بھی دیکھ چُکی انقلابجس سے دِگرگُوں ہُوا مغربیوں کا جہاںملّتِ رومی نژاد کُہنہ پرستی سے پیرلذّتِ تجدید سے وہ بھی ہوئی پھر جواںرُوحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابرازِ خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زباںدیکھیے اس بحر کی تہ سے اُچھلتا ہے کیاگُنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!وادیِ کُہسار میں غرقِ شفَق ہے سحابلعلِ بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پُرسوز ہے دُخترِ دہقاں کا گیتکشتیِ دل کے لیے سَیل ہے عہدِ شبابآبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالمِ نَو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحَر بے حجابپردہ اُٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگیرُوحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلابصُورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خُونِ جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خُونِ جگر کے بغیر

قید خانے میں معتمدؔکی فریاد

معتمدؔ اشبیلیہ کا بادشاہ اور عربی شاعر تھا۔ہسپانیہ کے ایک حکمران نے اس کو شکست دے کر قید میں ڈال دیا تھا۔ معتمدؔ کی نظمیں انگریزی میں ترجمہ ہوکر “وِزڈم آف دی ایسٹ سِیریز” میں شائع ہو چکی ہیں

اک فغانِ بے شرر سینے میں باقی رہ گئیسوز بھی رُخصت ہُوا، جاتی رہی تاثیر بھیمردِ حُر زنداں میں ہے بے نیزہ و شمشیر آجمَیں پشیماں ہوں، پشیماں ہے مری تدبیر بھیخود بخود زنجیر کی جانب کھِنچا جاتا ہے دلتھی اسی فولاد سے شاید مری شمشیر بھیجو مری تیغِ دو دم تھی، اب مری زنجیر ہےشوخ و بے پروا ہے کتنا خالقِ تقدیر بھی!

عبد الرّحمٰن اوّل کا بویا ہُوا کھجور کا پہلا درخت

سرزمینِ اندلس میںیہ اشعار جو عبد الرحمٰن اوّل کی تصنیف سے ہیں، ’تاریخ المقری‘ میں درج ہیں مندرجہ ذیل اردو نظم ان کا آزاد ترجمہ ہے ( درخت مذکور مدینتہ الزّہرا میں بویا گیا تھا)

میری آنکھوں کا نُور ہے تُومیرے دل کا سُرور ہے تُواپنی وادی سے دُور ہوں مَیںمیرے لیے نخلِ طُور ہے تُومغرب کی ہوا نے تجھ کو پالاصحرائے عرب کی حُور ہے تُوپردیس میں ناصبور ہوں مَیںپردیس میں ناصبُور ہے توغُربت کی ہوا میں باروَر ہوساقی تیرا نمِ سحَر ہو

عالَم کا عجیب ہے نظارہدامانِ نِگہ ہے پارہ پارہہمّت کو شناوری مبارک!پیدا نہیں بحر کا کنارہہے سوزِ دُروں سے زندگانیاُٹھتا نہیں خاک سے شرارہصُبحِ غُربت میں اور چمکاٹُوٹا ہُوا شام کا ستارہمومن کے جہاں کی حد نہیں ہےمومن کا مقام ہر کہیں ہے

ہسپانیہ

( ہسپانیہ کی سرزمین لِکھّے گئے )( واپس آتے ہوئے)

ہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہےمانندِ حرم پاک ہے تُو میری نظر میںپوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیںخاموش اذانیں ہیں تری بادِ سحَر میںروشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیںخیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ و کمر میںپھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حِنا کی؟باقی ہے ابھی رنگ مرے خُونِ جگر میں!کیونکر خس و خاشاک سے دب جائے مسلماںمانا، وہ تب و تاب نہیں اس کے شرر میںغرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے و لیکنتسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ حضَر میںدیکھا بھی دِکھایا بھی، سُنایا بھی سُنا بھیہے دل کی تسلّی نہ نظر میں، نہ خبر میں!

طارق کی دُعا

(اندلس کے میدانِ جنگ میں)

یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندےجنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائیدونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریاسِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائیدو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کوعجب چیز ہے لذّتِ آشنائیشہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومننہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائیخیاباں میں ہے مُنتظر لالہ کب سےقبا چاہیے اس کو خُونِ عرب سے

کیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتاخبر میں، نظر میں، اذانِ سحَر میںطلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کووہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میںکُشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کوہلاکت نہیں موت ان کی نظر میںدلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کر دےوہ بجلی کہ تھی نعرۂ ’لَاتَذَر‘ میںعزائم کو سینوں میں بیدار کر دےنگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!

لینن

( خدا کے حضور میں)

اے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیاتحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تِری ذاتمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغّیر تھے خرد کے نظریاتمحرم نہیں فطرت کے سرودِ اَزلی سےبِینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتاتآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہُوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافاتہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہُوئے بندےتُو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات!اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پُوچھوںحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالاتجب تک میں جِیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ باتگفتار کے اسلوب پہ قابُو نہیں رہتاجب رُوح کے اندر متلاطم ہوں خیالاتوہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبودوہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگیمغرب کے خداوند درخشندہ فِلِزّاتیورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہےحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلماترعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میںگِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عماراتظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہےسُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجاتیہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومتپیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساواتبے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاسکیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحاتوہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محرومحد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخاراتہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلاتآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخرتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا ماتمیخانے کی بُنیاد میں آیا ہے تزَلزُلبیٹھے ہیں اسی فکر میں پِیرانِ خراباتچہروں پہ جو سُرخی نظر آتی ہے سرِ شامیا غازہ ہے یا ساغر و مِینا کی کراماتتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقاتکب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟دُنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات!

فرشتوں کا گیت

عقل ہے بے زمام ابھی، عشق ہے بے مقام ابھینقش گرِ اَزل! ترا نقش ہے نا تمام ابھیخلقِ خدا کی گھات میں رِند و فقیہ و مِیر و پیرتیرے جہاں میں ہے وہی گردشِ صُبح و شام ابھیتیرے امیر مال مست، تیرے فقیر حال مستبندہ ہے کُوچہ گرد ابھی، خواجہ بلند بام ابھیدانش و دِین و علم و فن بندگیِ ہُوس تمامعشقِ گرہ کشاے کا فیض نہیں ہے عام ابھیجوہرِ زندگی ہے عشق، جوہرِ عشق ہے خودیآہ کہ ہے یہ تیغِ تیز پردگیِ نیام ابھی!

فرمانِ خدا

(فرشتوں سے)

اُٹھّو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دوکاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دوگرماؤ غلاموں کا لہُو سوزِ یقیں سےکُنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دوسُلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہجو نقشِ کُہَن تم کو نظر آئے، مِٹا دوجس کھیت سے دہقاں کو میسرّ نہیں روزیاُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دوکیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردےپِیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دوحق را بسجودے، صنَماں را بطوافےبہتر ہے چراغِ حَرم و دَیر بُجھا دومیں ناخوش و بیزار ہُوں مَرمَر کی سِلوں سےمیرے لیے مٹّی کا حرم اور بنا دوتہذیبِ نوی کارگہِ شیشہ گراں ہےآدابِ جُنوں شاعرِ مشرِق کو سِکھا دو!

ذوق و شوق

(ان اشعار میں سے اکثر فلسطین میں لِکھّے گئے)

’دریغ آمدم زاں ہمہ بوستاںتہی دست رفتن سوئے دوستاں‘

قلب و نظر کی زندگی دشت میں صُبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نُور کی ندّیاں رواںحُسنِ اَزل کی ہے نمود، چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سُود ایک نگاہ کا زیاںسُرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحابِ شبکوہِ اِضم کو دے گیا رنگ برنگ طَیلساںگرد سے پاک ہے ہوا، برگِ نخیل دھُل گئےریگِ نواح کاظمہ نرم ہے مثلِ پرنیاںآگ بُجھی ہُوئی اِدھر، ٹُوٹی ہُوئی طناب اُدھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جِبرئیل، تیرا مقام ہے یہیاہلِ فراق کے لیے عیشِ دوام ہے یہی

کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکُہنہ ہے بزمِ کائنات، تازہ ہیں میرے وارداتکیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہلِ حرم کے سومناتذکرِ عرب کے سوز میں، فکرِ عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیّلاتقافلۂ حجاز میں ایک حُسینؓ بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فراتعقل و دل و نگاہ کا مُرشدِ اوّلیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دِیں بُت کدۂ تصوّراتصدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبر حُسینؓ بھی ہے عشقمعرکۂ وجُود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق

آیۂ کائنات کا معنیِ دیر یاب تُونکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بُوجلوَتیانِ مدرسہ کور نگاہ و مُردہ ذوقخلوَتیانِ مے کدہ کم طلب و تہی کدُومَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہُوؤں کی جُستجوبادِ صبا کی موج سے نشوونَمائے خار و خسمیرے نَفس کی موج سے نشوونَمائے آرزوخُونِ دل و جگر سے ہے میری نَوا کی پرورشہے رگِ ساز میں رواں صاحبِ ساز کا لہُو’فُرصتِ کشمکش مدہ ایں دلِ بے قرار رایک دو شکن زیادہ کُن گیسوے تابدار را‘

لَوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتابگُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حبابعالَمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرّۂ ریگ کو دیا تُو نے طلوعِ آفتابشوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمودفقرِ جُنیدؒ و بایزیدؒ تیرا جمالِ بے نقابشوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجابتیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطرابتِیرہ و تار ہے جہاں گردشِ آفتاب سےطبعِ زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے

تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم نخیلِ بے رُطَبتازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کُہَن ہُواعشق تمام مصطفیؐ، عقل تمام بُولَہبگاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب، عشق کی انتہا عجبعالمِ سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگِ آرزو، ہجر میں لذّتِ طلبعینِ وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جُو رہی میری نگاہِ بے ادبگرمیِ آرزو فراق، شورشِ ہاے و ہُو فراقمَوج کی جُستجو فراق، قطرے کی آبرو فراق!

پَروانہ اور جُگنو

پروانہپروانے کی منزل سے بہت دُور ہے جُگنوکیوں آتشِ بے سوز پہ مغرور ہے جُگنو

جُگنواللہ کا سَو شکر کہ پروانہ نہیں مَیںدریُوزہ گرِ آتشِ بیگانہ نہیں مَیں

جاوید کے نام

خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغخودی کے سوز سے روشن ہیں اُمتوں کے چراغیہ ایک بات کہ آدم ہے صاحبِ مقصودہزار گُونہ فروغ و ہزار گُونہ فراغ!ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازیخراب کر گئی شاہیں بچے کو صُحبتِ زاغحیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقیخدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغٹھہَر سکا نہ کسی خانقاہ میں اقبالؔکہ ہے ظریف و خوش اندیشہ و شگُفتہ دماغ

گدائی

مے کدے میں ایک دن اک رندِ زِیرک نے کہاہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیاتاج پہنایا ہے کس کی بے کُلاہی نے اسےکس کی عُریانی نے بخشی ہے اسے زرّیں قبااس کے آبِ لالہ گُوں کی خُونِ دہقاں سے کشیدتیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیااس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہُوئیدینے والا کون ہے، مردِ غریب و بے نَوامانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراجکوئی مانے یا نہ مانے، مِیرو سُلطاں سب گدا!

مُلّا اور بہشت

مَیں بھی حاضر تھا وہاں، ضبطِ سخن کر نہ سکاحق سے جب حضرتِ مُلّا کو مِلا حکمِ بہشتعرض کی مَیں نے، الٰہی! مری تقصیر معافخوش نہ آئیں گے اسے حُور و شراب و لبِ کشتنہیں فردوس مقامِ جَدل و قال و اقولبحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشتہے بد آموزیِ اقوام و مِلل کام اس کااور جنّت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کُنِشت!

دین وسیاست

کلیِسا کی بُنیاد رُہبانیت تھیسماتی کہاں اس فقیری میں مِیریخصومت تھی سُلطانی و راہبی میںکہ وہ سربلندی ہے یہ سربزیریسیاست نے مذہب سے پِیچھا چھُٹرایاچلی کچھ نہ پِیرِ کلیسا کی پیریہُوئی دِین و دولت میں جس دم جُدائیہوَس کی امیریِ، ہوَس کی وزیریدُوئی ملک و دِیں کے لیے نامرادیدوئی چشمِ تہذیب کی نابصیرییہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کابشیری ہے آئینہ دارِ نذیری!اسی میں حفاظت ہے انسانیت کیکہ ہوں ایک جُنیّدی و اردشیری

اَلْاَرْضُ للہ!

پالتا ہے بیج کو مٹّی کی تاریکی میں کونکون دریاؤں کی موجوں سے اُٹھاتا ہے سحاب؟کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگارخاک یہ کس کی ہے، کس کا ہے یہ نُورِ آفتاب؟کِس نے بھردی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیبموسموں کو کِس نے سِکھلائی ہے خُوئے انقلاب؟دِہ خُدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیںتیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں

ایک نوجوان کے نام

ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانیِلہُو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانیامارت کیا، شکوہِ خسروی بھی ہو تو کیا حاصلنہ زورِ حیدری تجھ میں، نہ استغنائے سلمانینہ ڈھُونڈ اس چیز کو تہذیبِ حاضر کی تجلّی میںکہ پایا مَیں نے استغنا میں معراجِ مسلمانی

عقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میںنظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میںنہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہےاُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میںنہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پرتو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

نصیحت

بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقابِ سالخورداے ترے شہپر پہ آساں رفعتِ چرخِ بریںہے شباب اپنے لہُو کی آگ میں جلنے کا نامسخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیںجو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پِسَر!وہ مزا شاید کبوتر کے لہُو میں بھی نہیں

لالۂ صحرا

یہ گُنبدِ مِینائی، یہ عالمِ تنہائیمجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائیبھٹکا ہُوا راہی مَیں، بھٹکا ہُوا راہی تُومنزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی!خالی ہے کلیموں سے یہ کوہ و کمر ورنہتُو شعلۂ سینائی، مَیں شعلۂ سینائی!تُو شاخ سے کیوں پھُوٹا، مَیں شاخ سے کیوں ٹُوٹااک جذبۂ پیدائی، اک لذّتِ یکتائی!غوّاصِ محبّت کا اللہ نِگہباں ہوہر قطرۂ دریا میں دریا کی ہے گہرائیاُس موج کے ماتم میں روتی ہے بھَنْور کی آنکھدریا سے اُٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائیہے گرمیِ آدم سے ہنگامۂ عالم گرمسُورج بھی تماشائی، تارے بھی تماشائیاے بادِ بیابانی! مجھ کو بھی عنایت ہوخاموشی و دل سوزی، سرمستی و رعنائی!

ساقی نامہ

ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہاراِرم بن گیا دامنِ کوہسارگُل و نرگس و سَوسن و نسترنشہیدِ ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میںلہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میںفضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرورٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُوروہ جُوئے کُہستاں اُچکتی ہوئیاَٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئیاُچھلتی، پھِسلتی، سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نِکلتی ہوئیرُکے جب تو سِل چِیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چِیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقی لالہ فام!سُناتی ہے یہ زندگی کا پیامپِلا دے مجھے وہ میء پردہ سوزکہ آتی نہیں فصلِ گُل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیرِ حیاتوہ مے جس سے ہے مستیِ کائناتوہ مے جس میں ہے سوزوسازِ ازلوہ مے جس سے کھُلتا ہے رازِ ازلاُٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سے

زمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے، ساز بدلے گئےہُوا اس طرح فاش رازِ فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگپُرانی سیاست گری خوار ہےزمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہےگیا دَورِ سرمایہ داری گیاتماشا دِکھا کر مداری گیاگراں خواب چِینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے اُبلنے لگےدلِ طُورِ سینا و فاراں دو نِیمتجلّی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زُنّار پوشتمدّن، تصوّف، شریعت، کلامبُتانِ عَجم کے پُجاری تمام!حقیقت خرافات میں کھو گئییہ اُمّت روایات میں کھو گئیلُبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیبمگر لذّتِ شوق سے بے نصیب!بیاں اس کا منطق سے سُلجھا ہُوالُغَت کے بکھیڑوں میں اُلجھا ہُواوہ صُوفی کہ تھا خدمتِ حق میں مردمحبّت میں یکتا، حِمیّت میں فردعَجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہےمسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہیِ

شرابِ کُہن پھر پِلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیا!مجھے عشق کے پَر لگا کر اُڑامری خاک جُگنو بنا کر اُڑاخِرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پِیروں کا استاد کرہری شاخِ مِلّت ترے نم سے ہےنفَس اس بدن میں ترے دَم سے ہےتڑپنے پھٹرکنے کی توفیق دےدلِ مرتضیٰؓ، سوزِ صدّیقؓ دےجگر سے وہی تِیر پھر پار کرتمنّا کو سِینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوزِ جگر بخش دےمرا عشق، میری نظر بخش دےمری ناؤ گِرداب سے پار کریہ ثابت ہے تُو اس کو سیّار کربتا مجھ کو اسرارِ مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تَر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بے تابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوَت و انجمن کا گدازاُمنگیں مری، آرزوئیں مریاُمیدیں مری، جُستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالانِ افکار کا مرغزارمرا دل، مری رزم گاہِ حیاتگمانوں کے لشکر، یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیراسی سے فقیری میں ہُوں مَیں امیرمرے قافلے میں لُٹا دے اسےلُٹا دے، ٹھِکانے لگا دے اسے!

دما دم رواں ہے یمِ زندگیہر اک شے سے پیدا رمِ زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شُعلے میں پوشیدہ ہے موجِ دُودگراں گرچہ ہے صُحبتِ آب و گِلخوش آئی اسے محنت آب و گِلیہ ثابت بھی ہے اور سیاّر بھیعناصر کے پھندوں سے بیزار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسِیرمگر ہر کہیں بے چگُوں، بے نظیریہ عالَم، یہ بُت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خُو نہیںکہ تُو مَیں نہیں، اور مَیں تُو نہیںمن و تُو سے ہے انجمن آفریںمگر عینِ محفل میں خلوَت نشیںچمک اس کی بجلی میں، تارے میں ہےیہ چاندی میں، سونے میں، پارے میں ہےاسی کے بیاباں، اسی کے بَبُولاسی کے ہیں کانٹے، اسی کے ہیں پھُولکہیں اس کی طاقت سے کُہسار چُورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جُرّہ شاہینِ سیماب رنگلہُو سے چکوروں کے آلُودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دُورپھَڑکتا ہُوا جال میں ناصبُور

فریبِ نظر ہے سکُون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرّۂ کائناتٹھہَرتا نہیں کاروانِ وجودکہ ہر لحظہ ہے تازہ شانِ وجودسمجھتا ہے تُو راز ہے زندگیفقط ذوقِ پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت، حضَر ہے مجازاُلجھ کر سلجھنے میں لذّت اسےتڑپنے پھٹرکنے میں راحت اسےہُوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااُتر کر جہانِ مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاقِ دوئی سے بنی زوج زوجاُٹھی دشت و کہسار سے فوج فوجگُل اس شاخ سے ٹُوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھُوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتاُبھرتا ہے مِٹ مِٹ کے نقشِ حیاتبڑی تیز جولاں، بڑی زود رساَزل سے اَبد تک رمِ یک نفَسزمانہ کہ زنجیرِ ایّام ہےدَموں کے اُلٹ پھیر کا نام ہے

یہ موجِ نفَس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے، تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے، رازِ درُونِ حیاتخودی کیا ہے، بیداریِ کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوَت پسندسمندر ہے اک بُوند پانی میں بنداندھیرے اُجالے میں ہے تابناکمن و تُو میں پیدا، من و تُو سے پاکازل اس کے پیچھے، اَبد سامنےنہ حد اس کے پیچھے، نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیسِتم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسّس کی راہیں بدلتی ہوئیوما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگِ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگِ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکِرن چاند میں ہے، شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈُوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فرازوپس و پیش سےاَزل سے ہے یہ کشمکش میں اسِیرہُوئی خاکِ آدم میں صُورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے

خودی کے نِگہباں کو ہے زہرِ نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دُنیا میں گردن بلندفرو فالِ محمود سے درگزرخودی کو نِگہ رکھ، ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائقِ اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم، یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیرِ فرمانِ موتیہ عالم، یہ بُت خانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیںمسافر! یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے، تُو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کرطلسمِ زمان و مکاں توڑ کرخودی شیرِ مولا، جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید، آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیرِ وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخیِ فکر و کردار کایہ ہے مقصدِ گردشِ روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتُو ہے فاتحِ عالمِ خوب و زِشتتجھے کیا بتاؤں تری سرنوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ، گُفتار زنگفروزاں ہے سِینے میں شمعِ نفَسمگر تابِ گُفتار کہتی ہے، بس!’اگر یک سرِ مُوے برتر پَرمفروغِ تجلّی بسوزد پَرم،

زمانہ

جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہقریب تر ہے نُمود جس کی، اُسی کا مشتاق ہے زمانہمِری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیںمَیں اپنی تسبیحِ روز و شب کا شُمار کرتا ہوں دانہ دانہہر ایک سے آشنا ہوں، لیکن جُدا جُدا رسم و راہ میریکسی کا راکب، کسی کا مَرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہنہ تھا اگر تُو شریکِ محفل، قصور میرا ہے یا کہ تیرامِرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر میء شبانہمِرے خم و پیچ کو نجومی کی آنکھ پہچانتی نہیں ہےہدَف سے بیگانہ تِیر اُس کا، نظر نہیں جس کی عارفانہشفَق نہیں مغربی اُفق پر یہ جُوئے خوں ہے، یہ جوئے خوں ہے!طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہوہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کِیا ہے فطرت کی طاقتوں کواُسی کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہہوائیں اُن کی، فضائیں اُن کی، سمندر اُن کے، جہاز اُن کےگِرہ بھنور کی کھُلے تو کیونکر، بھنور ہے تقدیر کا بہانہجہانِ نَو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہےجسے فرنگی مُقامِروں نے بنا دیا ہے قِمار خانہہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہےوہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ

فرشتے آدم کو جنّت سے رُخصت کرتے ہیں

عطا ہُوئی ہے تجھے روزوشب کی بیتابیخبر نہیں کہ تُو خاکی ہے یا کہ سیمابیسُنا ہے، خاک سے تیری نمود ہے، لیکنتری سرِشت میں ہے کوکبی و مہ تابیجمال اپنا اگر خواب میں بھی تُو دیکھےہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابیگِراں بہا ہے ترا گِریۂ سحَر گاہیاسی سے ہے ترے نخلِ کُہَن کی شادابیتری نوا سے ہے بے پردہ زندگی کا ضمیرکہ تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مِضرابی

رُوحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھمشرق سے اُبھرتے ہوئے سُورج کو ذرا دیکھاس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھُپا دیکھایّامِ جُدائی کے سِتم دیکھ، جفا دیکھبے تاب نہ ہو معرکۂ بِیم و رجا دیکھ!

ہیں تیرے تصرّف میں یہ بادل، یہ گھٹائیںیہ گُنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیںیہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیںتھیں پیشِ نظر کل تو فرشتوں کی ادائیںآئینۂ ایّام میں آج اپنی ادا دیکھ!

سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارےدیکھیں گے تجھے دُور سے گردُوں کے ستارےناپید ترے بحرِ تخیّل کے کنارےپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارےتعمیرِ خودی کر، اَثرِ آہِ رسا دیکھ!

خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میںآباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہُنر میںجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میںجنّت تری پنہاں ہے ترے خُونِ جگر میںاے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ!

نالندہ ترے عُود کا ہر تار ازل سےتُو جنسِ محبّت کا خریدار ازل سےتُو پِیرِ صنم خانۂ اسرار ازل سےمحنت کش و خُوں ریز و کم آزار ازل سےہے راکبِ تقدیرِ جہاں تیری رضا، دیکھ!

پِیرومُرید

مریدِ ہندیچشمِ بینا سے ہے جاری جُوئے خُوںعلمِ حاضر سے ہے دِیں زار و زبُوں!

پیرِرُومیعلم را بر تن‌زنی مارے بودعلم را بر دل‌زنی یارے بود

مریدِہندیاے امامِ عاشقانِ دردمند!یاد ہے مجھ کو ترا حرفِ بلندخُشک مغز و خشک تار و خشک پوستاز کجا می آید ایں آوازِ دوست،دَورِ حاضر مستِ چنگ و بے سُروربے ثبات و بے یقین و بے حضورکیا خبر اس کو کہ ہے یہ راز کیادوست کیا ہے، دوست کی آواز کیاآہ، یورپ بافروغ و تاب ناکنغمہ اس کو کھینچتا ہے سوئے خاک

پیرِ رومیبر سماعِ راست ہر کس چِیر نیستطعمۂ ہر مُرغکے انجیر نیست

مریدِ ہندیپڑھ لیے مَیں نے علومِ شرق و غربرُوح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

پیرِ رومیدستِ ہر نا اہل بیمارت کُندسُوئے مادر آکہ تیمارت کُند

مریدِہندیاے نِگہ تیری مرے دل کی کشادکھول مجھ پر نکتۂ حُکمِ جہاد

پیررومینقشِ حق را ہم بہ امرِ حق شکنبر زُجاجِ دوست سنگِ دوست زن

مریدِ ہندیہے نگاہِ خاوراں مسحُورِ غربحُورِ جنّت سے ہے خوشتر حُورِ غرب

پیرِرومیظاہرِ نُقرہ گر اسپید است و نودست و جامہ ہم سیہ گردد ازو!

مریدِ ہندیآہ مکتب کا جوانِ گرم خُوں!ساحرِ افرنگ کا صیدِ زبُوں!

پیرِرومیمُرغ پَر ناُرستہ چُوں پرّاں شودطعمۂ ہر گُربۂ درّاں شود

مریدِ ہندیتا کجا آویزشِ دین و وطنجوہرِ جاں پر مقدّم ہے بدن!

پیرِرومیقلب پہلو می زند با زر بشبانتظارِ روز می دارد ذہب

مریدِہندیسِرِّ آدم سے مجھے آگاہ کرخاک کے ذرّے کو مہر و ماہ کر!

پیرِرومیظاہرش را پشۂ آرد بچرخباطنش آمد محیطِ ہفت چرخ

مریدِ ہندیخاک تیرے نُور سے روشن بصرغایتِ آدم خبر ہے یا نظر؟

پیرِرومیآدمی دید است، باقی پوست استدید آں باشد کہ دیدِ دوست است

مریدِ ہندیزندہ ہے مشرق تری گُفتار سےاُمتّیں مرتی ہیں کس آزار سے؟

پیرِ رومیہر ہلاکِ اُمّت پیشیں کہ بودزانکہ بر جندل گماں بردند عود

مریدِ ہندیاب مسلماں میں نہیں وہ رنگ و بُوسرد کیونکر ہو گیا اس کا لہُو؟

پیرِرومیتا دلِ صاحبدلے نامد بہ دردہیچ قومے را خدا رُسوا نہ کرد

مریدِ ہندیگرچہ بے رونق ہے بازارِ وجودکون سے سودے میں ہے مَردوں کا سُود؟

پیرِرومیزیرکی بفروش و حیرانی بخرزیرکی ظنّ است و حیرانی نظر

مریدِ ہندیہم نفَس میرے سلاطیں کے ندیممَیں فقیرِ بے کلاہ و بے گِلیم!

پیرِ رومیبندۂ یک مردِ روشن دل شویبہ کہ بر فرقِ سرِ شاہاں روی

مریدِ ہندیاے شریکِ مستیِ خاصانِ بدرمَیں نہیں سمجھا حدیثِ جبر و قدر!

پیررومیبال بازاں را سوے سُلطاں بردبال زاغاں را بگورستاں برد

مریدِ ہندیکاروبارِ خسروی یا راہبیکیا ہے آخر غایتِ دینِ نبیؐ؟

پیرِرومیمصلحت در دینِ ما جنگ و شکوہمصلحت در دینِ عیسیٰؑ غار و کوہ

مریدِ ہندیکس طرح قابُو میں آئے آب و گلکس طرح بیدار ہو سِینے میں دل؟

پیرِرومیبندہ باش و بر زمیں رو چوں سمندچوں جنازہ نے کہ بر گردن برند

مریدِ ہندیسَرِّ دیں ادراک میں آتا نہیںکس طرح آئے قیامت کا یقیں؟

پیرِ رومیپس قیامت شو قیامت را ببیںدیدنِ ہر چیز را شرط است ایں

مریدِ ہندیآسماں میں راہ کرتی ہے خودیصیدِ مہر و ماہ کرتی ہے خودیبے حضور و بافروغ و بے فراغاپنے نخچیروں کے ہاتھوں داغ داغ!

پیرِرومیآں کہ ارزد صید را عشق است و بسلیکن او کے گُنجد اندر دامِ کس!

مریدِ ہندیتجھ پہ روشن ہے ضمیرِ کائناتکس طرح مُحکم ہو ملّت کی حیات؟

پیرِ رومیدانہ باشی مُرغکانت برچنندغنچہ باشی کود کانت برکننددانہ پنہاں کن سراپا دام شوغنچہ پنہاں کن گیاہِ بام شو

مریدِ ہندیتُو یہ کہتا ہے کہ دل کی کر تلاش’طالبِ دل باش و در پیکار باش‘جو مِرا دل ہے، مرے سینے میں ہےمیرا جوہر میرے آئینے میں ہے

پیرِرومیتُو ہمی گوئی مرا دل نیز ہستدل فرازِ عرش باشد نے بہ پستتُو دلِ خود را دلے پنداشتیجُستجوے اہلِ دل بگذاشتی

مریدِ ہندیآسمانوں پر مرا فکرِ بلندمَیں زمیں پر خوار و زار و دردمندکارِ دنیا میں رہا جاتا ہوں مَیںٹھوکریں اس راہ میں کھاتا ہوں مَیںکیوں مرے بس کا نہیں کارِ زمیںابلہِ دنیا ہے کیوں دانائے دِیں؟

پیرِرومیآں کہ بر افلاک رفتارش بودبر زمیں رفتن چہ دشوارش بود

مریدِ ہندیعلم و حکمت کا مِلے کیونکر سُراغکس طرح ہاتھ آئے سوز و درد و داغ

پیرِرومیعلم و حکمت زاید از نانِ حلالعشق و رِقّت آید از نانِ حلال

مریدِ ہندیہے زمانے کا تقاضا انجمناور بے خلوَت نہیں سوزِ سخن!

پیرِ رومیخلوَت از اغیار باید، نے ز یارپوستیں بہرِ دَے آمد، نے بہار

مریدِ ہندیہند میں اب نُور ہے باقی نہ سوزاہلِ دل اس دیس میں ہیں تِیرہ روز!

پیرِ رومیکارِ مرداں روشنی و گرمی استکارِ دوناں حِیلہ و بے شرمی است

جبریل واِبلیس

جِبریلہمدمِ دیرینہ! کیسا ہے جہانِ رنگ و بُو؟

اِبلیسسوز و ساز و درد و داغ و جستجوے و آرزو

جِبریلہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گُفتگوکیا نہیں ممکن کہ تیرا چاکِ دامن ہو رُفو؟

اِبلیسآہ اے جِبریل! تُو واقف نہیں اس راز سےکر گیا سرمست مجھ کو ٹُوٹ کر میرا سبُواب یہاں میری گزر ممکن نہیں، ممکن نہیںکس قدر خاموش ہے یہ عالَمِ بے کاخ و کُو!جس کی نومِیدی سے ہو سوزِ دُرونِ کائناتاُس کے حق میں ’تَقنَطُوا‘ اچھا ہے یا ’لاتَقنَطُوا‘؟

جِبریلکھو دیے انکار سے تُو نے مقاماتِ بلندچشمِ یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو!

ابلیسہے مری جُرأت سے مشتِ خاک میں ذوقِ نمومیرے فتنے جامۂ عقل و خِرد کا تاروپودیکھتا ہے تُو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شرکون طُوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے، مَیں کہ تو؟خِضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم، دریا بہ دریا، جُو بہ جُوگر کبھی خلوَت میَسّر ہو تو پُوچھ اللہ سےقِصّۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہُو!مَیں کھٹکتا ہُوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرحتُو فقط اَﷲھوٗ، اَﷲھوٗ، اَﷲھوٗ!

اذان

اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نےآدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟کہنے لگا مرّیخ، ادا فہم ہے تقدیرہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوارزُہرہ نے کہا، اور کوئی بات نہیں کیا؟اس کرمکِ شب کور سے کیا ہم کو سروکار!بولا مہِ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینیتم شب کو نمودار ہو، وہ دن کو نمودارواقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سےاُونچی ہے ثُریّا سے بھی یہ خاکِ پُر اسرارآغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میںکھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّارناگاہ فضا بانگِ اذاں سے ہُوئی لبریزوہ نعرہ کہ ہِل جاتا ہے جس سے دلِ کُہسار!

محبت

شہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازیمحبّت کی رسمیں نہ تُرکی نہ تازیوہ کچھ اور شے ہے، محبّت نہیں ہےسِکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازییہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہےتو ہیں علم و حکمت فقط شیشہ بازینہ محتاجِ سُلطاں، نہ مرعوبِ سُلطاںمحبّت ہے آزادی و بے نیازیمِرا فقر بہتر ہے اسکندری سےیہ آدم گری ہے، وہ آئینہ سازی

ستارے کا پیغام

مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکیمِری سرشت میں ہے پاکی و دُرخشانیتُو اے مسافرِ شب! خود چراغ بن اپناکر اپنی رات کو داغِ جگر سے نُورانی

جاوید کے نام

(لندن میں اُس کے ہاتھ کا لِکھّا ہُوا پہلا خط آنے پر)

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کرخدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکُوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کراُٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساںسفالِ ہند سے مِینا و جام پیدا کرمیں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمرمرے ثمر سے میء لالہ فام پیدا کرمرا طریق امیری نہیں، فقیری ہےخودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر!

فلسفہ ومذہب

یہ آفتاب کیا، یہ سِپہرِ بریں ہے کیا!سمجھا نہیں تسلسلِ شام و سحَر کو مَیںاپنے وطن میں ہُوں کہ غریبُ الدّیار ہُوںڈرتا ہوں دیکھ دیکھ کے اس دشت و دَر کو مَیںکھُلتا نہیں مرے سفَرِ زندگی کا رازلاؤں کہاں سے بندۂ صاحب نظر کو میںحیراں ہے بُوعلی کہ میں آیا کہاں سے ہُوںرومی یہ سوچتا ہے کہ جاؤں کِدھر کو مَیں“جاتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک راہرو کے ساتھپہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو مَیں”

یورپ سے ایک خط

ہم خُوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریداراک بحرِ پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومیؔتُو بھی ہے اسی قافلۂ شوق میں اقبالؔجس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومیؔاس عصر کو بھی اُس نے دیا ہے کوئی پیغام؟کہتے ہیں چراغِ رہِ احرار ہے رومیؔ

جوابکہ نَباید خورد و جَو ہمچوں خراںآہُوانہ در ختن چر ارغواںہر کہ کاہ و جَو خورد قرباں شودہر کہ نورِ حق خورد قُرآں شود

نپولین کے مزار پر

راز ہے، راز ہے تقدیرِ جہانِ تگ و تازجوشِ کردار سے کھُل جاتے ہیں تقدیر کے رازجوشِ کردار سے شمشیرِ سکندر کا طلوعکوہِ الونَد ہوا جس کی حرارت سے گدازجوش کردار سے تیمور کا سَیلِ ہمہ گیرسَیل کے سامنے کیا شے ہے نشیب اور فرازصفِ جنگاہ میں مردانِ خدا کی تکبیرجوشِ کردار سے بنتی ہے خدا کی آوازہے مگر فرصتِ کردار نفَس یا دو نفَسعوَضِ یک دو نفَس قبر کی شب ہائے دراز!“عاقبت منزلِ ما وادیِ خاموشان استحالیا غلغلہ در گُنبدِ افلاکِ انداز”!

مسولینی

نُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ذوقِ انقلابنُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، مِلّت کا شبابنُدرتِ فکر و عمل سے معجزاتِ زندگینُدرتِ فکر و عمل سے سنگِ خارا لعلِ نابرومتہ الکبریٰ! دِگرگُوں ہوگیا تیرا ضمیراینکہ می بینم بہ بیدار یست یا رب یا بہ خواب!چشمِ پِیرانِ کُہَن میں زندگانی کا فروغنوجواں تیرے ہیں سوزِ آرزو سے سِینہ تابیہ محبّت کی حرارت، یہ تمنّا، یہ نمودفصلِ گُل میں پھُول رہ سکتے نہیں زیرِ حجابنغمہ ہائے شوق سے تیری فضا معمور ہےزخمہ ور کا منتظر تھا تیری فطرت کا ربابفیض یہ کس کی نظر کا ہے، کرامت کس کی ہے؟وہ کہ ہے جس کی نِگہ مثلِ شُعاعِ آفتاب!

سوال

اک مفلسِ خود دار یہ کہتا تھا خدا سےمَیں کر نہیں سکتا گِلۂ دردِ فقیریلیکن یہ بتا، تیری اجازت سے فرشتےکرتے ہیں عطا مردِ فرومایہ کو مِیری؟

پنچاب کے دہقان سے

بتا کیا تری زندگی کا ہے رازہزاروں برس سے ہے تُو خاک بازاسی خاک میں دب گئی تیری آگسحَر کی اذاں ہوگئی، اب تو جاگ!زمیں میں ہے گو خاکیوں کی براتنہیں اس اندھیرے میں آبِ حیاتزمانے میں جھُوٹا ہے اُس کا نِگیںجو اپنی خودی کو پرکھتا نہیںبُتانِ شعوب و قبائل کو توڑرسُومِ کُہَن کے سلاسل کو توڑیہی دِین محکم، یہی فتحِ بابکہ دنیا میں توحید ہو بے حجاببخاکِ بدن دانۂ دل فشاںکہ ایں دانہ داردزحاصِل نشاں

نادِر شاہ افغان

حضورِ حق سے چلا لے کے لُولوئے لالاوہ ابر جس سے رگِ گُل ہے مثلِ تارِ نفَسبہشت راہ میں دیکھا تو ہو گیا بیتابعجب مقام ہے، جی چاہتا ہے جاؤں برسصدا بہشت سے آئی کہ منتظر ہے تراہرات و کابل و غزنی کا سبزۂ نورسسرشکِ دیدۂ نادر بہ داغِ لالہ فشاںچناں کہ آتشِ او را دگر فرونہ نشاں!

خوشحال خاں کی وصیّت

قبائل ہوں ملّت کی وحدت میں گُمکہ ہو نام افغانیوں کا بلندمحبّت مجھے اُن جوانوں سے ہےستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمندمغل سے کسی طرح کمتر نہیںقہستاں کا یہ بّچۂ ارجمندکہوں تجھ سے اے ہم نشیں دل کی باتوہ مدفن ہے خوشحال خاں کو پسنداُڑا کر نہ لائے جہاں بادِ کوہمُغل شہسواروں کی گردِ سمند!

تاتاری کا خواب

کہیں سجّادہ و عمّامہ رہزنکہیں ترسا بچوں کی چشمِ بے باک!ردائے دِین و ملّت پارہ پارہقبائے ملک و دولت چاک در چاک!مرا ایماں تو ہے باقی ولیکننہ کھا جائے کہیں شُعلے کو خاشاک!ہوائے تُند کی موجوں میں محصورسمرقند و بخارا کی کفِ خاک!’بگرداگردِ خود چندانکہ بینمبلا انگشتری و من نگینم‘

یکایک ہِل گئی خاکِ سمرقنداُٹھا تیمور کی تُربت سے اک نورشفَق آمیز تھی اُس کی سفیدیصدا آئی کہ “مَیں ہوں رُوحِ تیموراگر محصُور ہیں مردانِ تاتارنہیں اللہ کی تقدیر محصورتقاضا زندگی کا کیا یہی ہےکہ تُورانی ہو تُورانی سے مہجور؟’خودی را سوز و تابے دیگرے دہجہاں را انقلابے دیگرے دہ”

حال ومقام

دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریجبندے کو عطا کرتے ہیں چشمِ نِگَراں اوراحوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اورالفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکنمُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اورپرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میںکرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

ابوالعلا معرّیؔ

کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معّریپھل پھُول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقاتاک دوست نے بھُونا ہوا تِیتر اسے بھیجاشاید کہ وہ شاطِر اسی ترکیب سے ہو ماتیہ خوانِ تر و تازہ معّری نے جو دیکھاکہنے لگا وہ صاحبِ عفران و لزوماتاے مُرغکِ بیچارہ! ذرا یہ تو بتا تُوتیرا وہ گُنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟افسوس، صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُودیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشاراتتقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!

سنیما

وہی بُت فروشی، وہی بُت گری ہےسنیما ہے یا صنعتِ آزری ہےوہ صنعت نہ تھی، شیوۂ کافری تھایہ صنعت نہیں، شیوۂ ساحری ہےوہ مذہب تھا اقوامِ عہدِ کُہَن کایہ تہذیبِ حاضر کی سوداگری ہےوہ دُنیا کی مٹّی، یہ دوزخ کی مٹّیوہ بُت خانہ خاکی، یہ خاکستری ہے

پنچاب کے پِیرزادوں سے

حاضِر ہُوا میں شیخِ مجدّدؒ کی لحَد پروہ خاک کہِ ہے زیرِ فلک مطلعِ انواراس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارےاس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرارگردن نہ جھُکی جس کی جہانگیر کے آگےجس کے نفَسِ گرم سے ہے گرمیِ احراروہ ہِند میں سرمایۂ ملّت کا نِگہباںاللہ نے بروقت کیا جس کو خبردارکی عرض یہ میں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کوآنکھیں مری بِینا ہیں، و لیکن نہیں بیدار!آئی یہ صدا سلسلۂ فقر ہُوا بندہیں اہلِ نظر کِشورِ پنجاب سے بیزارعارف کا ٹھکانا نہیں وہ خِطّہ کہ جس میںپیدا کُلَہِ فقر سے ہو طُّرۂ دستارباقی کُلَہِ فقر سے تھا ولولۂ حقطُرّوں نے چڑھایا نشۂ ’خدمتِ سرکار‘!

سیاست

اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروریشاطر کی عنایت سے تو فرزیں، میں پیادہبیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ ناچیزفرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!

فَقر

اک فقر سِکھاتا ہے صیّاد کو نخچیریاک فقر سے کھُلتے ہیں اسرارِ جہاں گیریاک فقر سے قوموں میں مسکینی و دِلگیریاک فقر سے مٹّی میں خاصیّتِ اِکسیریاک فقر ہے شبیّری، اس فقر میں ہے مِیریمیراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیّری!

خودی

خودی کو نہ دے سیم و زر کے عوضنہیں شُعلہ دیتے شرر کے عوضیہ کہتا ہے فردوسیِ دیدہ وَرعجَم جس کے سُرمے سے روشن بصر“ز بہرِ درم تُند و بدخو مباشتُو باید کہ باشی، درم گو مباش”

جُدائی

سُورج بُنتا ہے تارِ زر سےدُنیا کے لیے رِدائے نوریعالم ہے خموش و مست گویاہر شے کو نصیب ہے حضوریدریا، کُہسار، چاند، تارےکیا جانیں فراق و ناصبوریشایاں ہے مجھے غمِ جُدائییہ خاک ہے محرمِ جُدائی

خانقاہ

رمز و اِیما اس زمانے کے لیے موزُوں نہیںاور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن’قُم بِاذنِ اللہ‘ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئےخانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن!

اِبلیس کی عرضداشت

کہتا تھا عزازیل خداوندِ جہاں سےپرکالۂ آتش ہُوئی آدم کی کفِ خاک!جاں لاغر و تن فربہ و ملبُوس بدن زیبدل نزع کی حالت میں، خِرد پُختہ و چالاک!ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعتمغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک!تجھ کو نہیں معلوم کہ حُورانِ بہشتیویرانیِ جنت کے تصوّر سے ہیں غم ناک؟جمہور کے اِبلیس ہیں اربابِ سیاستباقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک!

لہُو

اگر لہُو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراساگر لہُو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواسجسے مِلا یہ متاعِ گراں بہا، اُس کونہ سیم و زر سے محبّت ہے، نے غمِ افلاس

پرواز

کہا درخت نے اک روز مُرغِ صحرا سےسِتم پہ غم کدۂ رنگ و بو کی ہے بنیادخدا مجھے بھی اگر بال و پر عطا کرتاشگُفتہ اور بھی ہوتا یہ عالمِ ایجاددیا جواب اُسے خوب مُرغِ صحرا نےغضَب ہے، داد کو سمجھا ہُوا ہے تُو بیداد!جہاں میں لذّتِ پرواز حق نہیں اُس کاوجود جس کا نہیں جذبِ خاک سے آزاد

شیخِ مکتب سے

شیخِ مکتب ہے اک عمارت گرجس کی صنعت ہے رُوحِ انسانینُکتۂ دلپذیر تیرے لیےکہہ گیا ہے حکیمِ قاآنیؔ“پیشِ خورشید بر مکش دیوارخواہی ار صحنِ خانہ نورانی”

فلسفی

بلند بال تھا، لیکن نہ تھا جسور و غیورحکیم سِرِّ محبّت سے بے نصیب رہاپھرا فضاؤں میں کرگس اگرچہ شاہیں وارشکارِ زندہ کی لذّت سے بے نصیب رہا

شاہِیں

کِیا میں نے اُس خاک داں سے کناراجہاں رزق کا نام ہے آب و دانہبیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کوازل سے ہے فطرت مری راہبانہنہ باد بہاری، نہ گُلچیں، نہ بُلبلنہ بیماریِ نغمۂ عاشقانہخیابانیوں سے ہے پرہیز لازمادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاریجواں مرد کی ضربتِ غازیانہحمام و کبوتر کا بھُوکا نہیں مَیںکہ ہے زندگی باز کی زاہدانہجھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنالہُو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہیہ پورب، یہ پچھم چکوروں کی دنیامِرا نیلگوں آسماں بیکرانہپرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں مَیںکہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

باغی مُرید

ہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھیگھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشنشہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہمانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمننذرانہ نہیں، سُود ہے پیرانِ حرم کاہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجنمیراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشادزاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن!

ہارون کی آخری نصیحت

ہاروں نے کہا وقتِ رحِیل اپنے پِسر سےجائے گا کبھی تُو بھی اسی راہ گزر سےپوشیدہ ہے کافر کی نظر سے ملَکُ الموْتلیکن نہیں پوشیدہ مسلماں کی نظر سے

ماہرِ نفسیات سے

جُرأت ہے تو افکار کی دنیا سے گزر جاہیں بحرِ خودی میں ابھی پوشیدہ جزیرےکھُلتے نہیں اس قُلزُمِ خاموش کے اسرارجب تک تُو اسے ضربِ کلیمی سے نہ چِیرے

یورپ

تاک میں بیٹھے ہیں مُدّت سے یہودی سُودخوارجن کی رُوباہی کے آگے ہیچ ہے زورِ پلنگخود بخود گرنے کو ہے پکّے ہُوئے پھل کی طرحدیکھیے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ!

آزادیِ افکار

جو دُونیِ فطرت سے نہیں لائقِ پروازاُس مُرغکِ بیچارہ کا انجام ہے اُفتادہر سینہ نشیمن نہیں جبریلِ امیں کاہر فکر نہیں طائرِ فردوس کا صیّاداُس قوم میں ہے شوخیِ اندیشہ خطرناکجس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزادگو فکرِ خدا داد سے روشن ہے زمانہآزادیِ افکار ہے اِبلیس کی ایجاد

شیر اور خچّر

شیرساکنانِ دشت و صحرا میں ہے تُو سب سے الگکون ہیں تیرے اَب و جَد، کس قبیلے سے ہے تو؟

خچّرمیرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضوروہ صبا رفتار، شاہی اصطبَل کی آبرو!

چیونٹی اورعقاب

چیونٹیمَیں پائمال و خوار و پریشان و دردمندتیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند؟

عقابتُو رِزق اپنا ڈھُونڈتی ہے خاکِ راہ میںمَیں نُہ سِپِہر کو نہیں لاتا نگاہ میں!


فطرت مری مانندِ نسیمِ سحرَی ہےرفتار ہے میری کبھی آہستہ، کبھی تیزپہناتا ہوں اطلس کی قبا لالہ و گُل کوکرتا ہوں سرِ خار کو سوزن کی طرح تیز

کل اپنے مُریدوں سے کہا پِیرِ مغاں نےقیمت میں یہ معنی ہے دُرِناب سے دہ چندزہراب ہے اُس قوم کے حق میں میء افرنگجس قوم کے بچّے نہیں خوددار و ہُنرمند

The end.