بالِ جبریل · علامہ محمد اقبال

Chapter 3: رباعیات

رہ و رسمِ حرم نا محرمانہکلیسا کی ادا سوداگرانہتبرّک ہے مرا پیراہنِ چاکنہیں اہلِ جُنوں کا یہ زمانہ

ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جاتڑپ جا، پیچ کھا کھا کر بدل جانہیں ساحل تری قسمت میں اے موجاُبھر کر جس طرف چاہے نِکل جا!

مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوںجہاں‌بِیں ہُوں کہ خود سارا جہاں ہُوںوہ اپنی لامکانی میں رہیں مستمجھے اتنا بتا دیں مَیں کہاں ہُوں!

خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیںخدا کے سامنے گویا نہ تھا مَیںنہ دیکھا آنکھ اٹھا کر جلوۂ دوستقیامت میں تماشا بن گیا مَیں!

پریشاں کاروبارِ آشنائیپریشاں تر مری رنگیں نوائی!کبھی مَیں ڈھونڈتا ہوں لذّتِ وصلخوش آتا ہے کبھی سوزِ جُدائی!

یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینییقیں، اللہ مستی، خود گُزینیسُن، اے تہذیبِ حاضر کے گرفتارغلامی سے بَتر ہے بے یقینی

عرب کے سوز میں سازِ عجم ہےحرم کا راز توحیدِ اُمَم ہےتہی وحدت سے ہے اندیشۂ غربکہ تہذیبِ فرنگی بے حرم ہے

کوئی دیکھے تو میری نَے نوازینفس ہندی، مقامِ نغمہ تازینِگہ آلُودۂ اندازِ افرنگطبیعت غزنوی، قسمت ایازی!

ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دلاسی جلوَت میں ہے خلوَت نشیں دلاسیرِ دوش و فردا ہے و لیکنغلامِ گردشِ دوراں نہیں دل

ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہےتری پرواز لولاکی نہیں ہےیہ مانا اصل شاہینی ہے تیریتری آنکھوں میں بےباکی نہیں ہے

نہ مومن ہے نہ مومن کی امیریرہا صُوفی، گئی روشن ضمیریخدا سے پھر وہی قلب و نظر مانگنہیں ممکن امیری بے فقیری

خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائیخودی کی خلوَتوں میں کبریائیزمین و آسمان و کُرسی و عرشخودی کی زد میں ہے ساری خُدائی!

نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میںخرد کھوئی گئی ہے چار سُو میںنہ چھوڑ اے دِل فغانِ صُبح گاہیاماں شاید مِلے، ’اللہ ھُو‘ میں!

جمالِ عشق و مستی نَے نوازیجلالِ عشق و مستی بے نیازیکمالِ عشق و مستی ظرفِ حیدرؓزوالِ عشق و مستی حرفِ رازی

وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہےمری بجلی، مرا حاصل کہاں ہےمقام اس کا ہے دل کی خلوَتوں میںخدا جانے مقامِ دل کہاں ہے!

سوارِ ناقہ و محمل نہیں مَیںنشانِ جادہ ہوں، منزل نہیں مَیںمری تقدیر ہے خاشاک سوزیفقط بجلی ہوں مَیں، حاصل نہیں مَیں

ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہےترا دَم گرمیِ محفل نہیں ہےگزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُورچراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے

ترا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُوفروغِ دیدۂ افلاک ہے تُوترے صیدِ زبوں افرشتہ و حُورکہ شاہینِ شہِ لولاکؐ ہے تُو!

محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہےمسلمانوں میں خُوں باقی نہیں ہےصفیں کج، دل پریشاں، سجدہ بے ذوقکہ جذبِ اندرُوں باقی نہیں ہے

خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جامقامِ رنگ و بُو کا راز پا جابرنگِ بحر ساحل آشنا رہکفِ ساحل سے دامن کھینچتا جا

چمن میں رختِ گُل شبنم سے تر ہےسمن ہے، سبزہ ہے، بادِ سحَر ہےمگر ہنگامہ ہو سکتا نہیں گرمیہاں کا لالہ بے سوزِ جگر ہے

خرد سے راہرو روشن بصر ہےخرد کیا ہے، چراغِ رہ گزر ہےدرُونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیاچراغِ رہ گزر کو کیا خبر ہے!

جوانوں کو مری آہِ سحَر دےپھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دےخدایا! آرزو میری یہی ہےمرا نورِ بصیرت عام کر دے

تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہیمری دنیا فُغانِ صبح گاہیتری دنیا میں مَیں محکوم و مجبورمِری دنیا میں تیری پادشاہی!

کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں مَیںغلامِ طغرل و سنجر نہیں مَیںجہاں بِینی مری فطرت ہے لیکنکسی جمشید کا ساغر نہیں مَیں

وہی اصلِ مکان و لامکاں ہےمکاں کیا شے ہے، اندازِ بیاں ہےخِضَر کیونکر بتائے، کیا بتائےاگر ماہی کہے دریا کہاں ہے

کبھی آوارہ و بے خانماں عشقکبھی شاہِ شہاں نوشیرواں عشقکبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوشکبھی عُریان و بے تیغ و سناں عشق!

کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشقکبھی سوز و سرُور و انجمن عشقکبھی سرمایۂ محراب و منبرکبھی مولا علیؓ خیبر شکن عشق!

عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کرشریکِ زمرۂ ’لَا یحْزَنُوْں‘ کرخرد کی گُتھّیاں سُلجھا چُکا مَیںمرے مَولا مجھے صاحِب جُنوں کر!

یہ نکتہ میں نے سیکھا بُوالحسن سےکہ جاں مرتی نہیں مرگِ بدن سےچمک سورج میں کیا باقی رہے گیاگر بیزار ہو اپنی کِرن سے!

خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سےبڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سےخدا جانے مجھے کیا ہو گیا ہےخرد بیزار دل سے، دِل خرد سے!

خدائی اہتمامِ خشک و تر ہےخداوندا! خدائی دردِ سر ہےولیکن بندگی، استغفراللہ!یہ دردِ سر نہیں، دردِ جگر ہے

یہی آدم ہے سُلطاں بحر و بَر کاکہوں کیا ماجرا اس بے بصر کانہ خود بیں، نَے خدا بیں نے جہاں بیںیہی شہکار ہے تیرے ہُنر کا!

دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہےاسی سے ریشۂ معنی میں نَم ہےاگر کوئی شعیب آئے میَسّرشبانی سے کِلیمی دو قدم ہے

رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہےوہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہےنماز و روزہ و قربانی و حجیہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے

کھُلے جاتے ہیں اسرارِ نہانیگیا دَورِ حدیثِ ’لن ترانی‘ہوئی جس کی خودی پہلے نموداروہی مہدی، وہی آخر زمانی!

زمانے کی یہ گردش جاودانہحقیقت ایک تُو، باقی فسانہکسی نے دوش دیکھا ہے نہ فردافقط امروز ہے تیرا زمانہ

حکیمی، نامسلمانی خودی کیکلیمی، رمزِ پنہانی خودی کیتجھے گُر فقر و شاہی کا بتا دوںغریبی میں نگہبانی خودی کی!

ترا تن رُوح سے ناآشنا ہےعجب کیا! آہ تیری نارسا ہےتنِ بے رُوح سے بیزار ہے حقخدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے

اقبالؔ نے کل اہلِ خیاباں کو سُنایایہ شعرِ نشاط آور و پُر سوز و طرب ناکمَیں صُورتِ گُل دستِ صبا کا نہیں محتاجکرتا ہے مرا جوشِ جُنوں میری قبا چاک

ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہےبتا، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہےسمندر سے مِلے پیاسے کو شبنمبخِیلی ہے یہ رزّاقی نہیں ہے

دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کرحریمِ کبریا سے آشنا کرجسے نانِ جویں بخشی ہے تُو نےاُسے بازُوئے حیدرؓ بھی عطا کر