بالِ جبریل · علامہ محمد اقبال

Chapter 2: غزلیات — حصہ دوم

’ ما از پئے سنائیؔ و عطّارؔ آمدیم‘

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سوداغلَط تھا اے جُنوں شاید ترا اندازۂ صحرا

خودی سے اس طلسمِ رنگ و بُو کو توڑ سکتے ہیںیہی توحید تھی جس کو نہ تُو سمجھا نہ مَیں سمجھا

نِگہ پیدا کر اے غافل تجلّی عینِ فطرت ہےکہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا

رقابت عِلم و عرفاں میں غلَط بینی ہے منبر کیکہ وہ حلّاج کی سُولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں، غلامی میںزِرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا

نہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی کیتن آساں عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف اَولیٰ!

بہت دیکھے ہیں مَیں نے مشرق و مغرب کے میخانےیہاں ساقی نہیں پیدا، وہاں بے ذوق ہے صہبا

نہ ایراں میں رہے باقی، نہ تُوراں میں رہے باقیوہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصر و کسریٰ

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہےگلیمِ بُوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہراؓ!

حضورِ حق میں اسرافیل نے میری شکایت کییہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا

نِدا آئی کہ آشوبِ قیامت سے یہ کیا کم ہے’گرفتہ چینیاں احرام و مکّی خفتہ در بطحا‘!

لبالب شیشۂ تہذیبِ حاضر ہے مئے ’لا‘ سےمگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ ’اِلّا‘

دبا رکھّا ہے اس کو زخمہ‌ور کی تیز دستی نےبہت نیچے سُروں میں ہے ابھی یورپ کا واوَیلا

اسی دریا سے اُٹھتی ہے وہ موجِ تُند جولاں بھینَہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

غلامی کیا ہے؟ ذوقِ حُسن و زیبائی سے محرومیجسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پرکہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بِینا

وہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمّت سےزمانے کے سمندر سے نکالا گوہرِ فردا

فرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھّر ہوگئے پانیمری اِکسیر نے شیشے کو بخشی سختیِ خارا

رہے ہیں، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تکمگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدِ بیضا

وہ چنگاری خس و خاشاک سے کس طرح دب جائےجسے حق نے کِیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا

محبّت خویشتن بینی، محبّت خویشتن داریمحبّت آستانِ قیصر و کسریٰ سے بے پروا

عجب کیا گرمہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں’کہ برفتراکِ صاحب دولتے بستم سرِ خُود را‘

وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نےغُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخروہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ

سنائیؔ کے ادب سے میں نے غوّاصی نہ کی ورنہابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لُولوئے لالا


یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیزاندیشۂ دانا کو کرتا ہے جُنوں آمیز

گو فقر بھی رکھتا ہے اندازِ ملوکانہنا پُختہ ہے پرویزی بے سلطنتِ پرویز

اب حُجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقیخُونِ دلِ شیراں ہو جس فقر کی دستاویز

اے حلقۂ درویشاں! وہ مردِ خدا کیساہو جس کے گریباں میں ہنگامۂ رستاخیز

جو ذکر کی گرمی سے شُعلے کی طرح روشنجو فکر کی سُرعت میں بجلی سے زیادہ تیز!

کرتی ہے ملوکیّت آثارِ جُنوں پیدااللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیز

یوں دادِ سخن مجھ کو دیتے ہیں عراق و پارسیہ کافرِ ہندی ہے بے تیغ و سناں خُوں‌ریز


وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوںخدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوں

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گاوہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبُوں

حیات کیا ہے، خیال و نظر کی مجذوبیخودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناگُوں

عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کروہ چاہتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ میں نہ رہوں

ضمیرِ پاک و نگاہِ بلند و مستیِ شوقنہ مال و دولتِ قاروں، نہ فکرِ افلاطوں

سبق مِلا ہے یہ معراجِ مصطفیٰؐ سے مجھےکہ عالمِ بشَرِیّت کی زد میں ہے گردُوں

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شایدکہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کُنْ فَیَکُوںْ‘

علاج آتشِ رومیؔ کے سوز میں ہے تراتری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اُسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشناُسی کے فیض سے میرے سبُو میں ہے جیحوں


عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیںوہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تُو کہ مَیں

وہ شبِ درد و سوز و غم، کہتے ہیں زندگی جسےاُس کی سحَر ہے تو کہ مَیں، اُس کی اذاں ہے تُو کہ مَیں

کس کی نمود کے لیے شام و سحر ہیں گرمِ سَیرشانۂ روزگار پر بارِ گراں ہے تُو کہ مَیں

تُو کفِ خاک و بے بصر، مَیں کفِ خاک و خودنِگرکِشتِ وجود کے لیے آبِ رواں ہے تُو کہ مَیں


(لندن میں لکھّے گئے)

تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزرمصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض، اُس کی جزا کچھ اور ہےحُور و خِیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر

گرچہ ہے دلکُشا بہت حُسنِ فرنگ کی بہارطائرکِ بلند بال، دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کُشادِ شرق و غربتیغِ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سُرورایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!


امینِ راز ہے مردانِ حُر کی درویشیکہ جبرئیلؑ سے ہے اس کو نسبتِ خویشی

کسے خبر کہ سفینے ڈبو چُکی کتنےفقِیہ و صوفی و شاعر کی نا خوش اندیشی

نگاہِ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اڑ جائیںنہ آہِ سرد کہ ہے گوسفندی و میشی

طبیبِ عشق نے دیکھا مجھے تو فرمایاترا مَرض ہے فقط آرزو کی بے نیشی

وہ شے کچھ اور ہے کہتے ہیں جانِ پاک جسےیہ رنگ و نم، یہ لہُو، آب و ناں کی ہے بیشی


پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمنمجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمن

پھُول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطاراُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن

برگِ گُل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبحاور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن

حُسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیےہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھّے کہ بَن

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگیتُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

من کی دنیا! من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوقتن کی دنیا! تن کی دنیا سُود و سودا، مکر و فن

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیںتن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دَھَن جاتا ہے دَھَن

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راجمن کی دنیا میں نہ دیکھے مَیں نے شیخ و برہَمن

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ باتتُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن


(کابل میں لِکھّے گئے)

مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کامرّوت حُسنِ عالم‌گیر ہے مردانِ غازی کا

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سےسبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

بہت مدّت کے نخچیروں کا اندازِ نگہ بدلاکہ مَیں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا

قلندر جُز دو حرفِ لااِلہ کچھ بھی نہیں رکھتافقیہِ شہر قاروں ہے لُغَت ہائے حجازی کا

حدیثِ بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ کونہ کر خارا شگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا

کہاں سے تُونے اے اقبالؔ سِیکھی ہے یہ درویشیکہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا


عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بمعشق سے مٹّی کی تصویروں میں سوزِ وم بہ دم

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشقشاخِ گُل میں جس طرح بادِ سحَرگاہی کا نَم

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوکاور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم

دل کی آزادی شہنشاہی، شِکَم سامانِ موتفیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم!

اے مسلماں! اپنے دل سے پُوچھ، مُلّا سے نہ پوچھہوگیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم


دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہےپھر اِس میں عجب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے

ہے ذوقِ تجلّی بھی اسی خاک میں پنہاںغافل! تُو نِرا صاحبِ ادراک نہیں ہے

وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشنپُرکار و سخن ساز ہے، نم ناک نہیں ہے

کیا صُوفی و مُلّا کو خبر میرے جُنوں کیاُن کا سرِ دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے

کب تک رہے محکومیِ انجم میں مری خاکیا مَیں نہیں، یا گردشِ افلاک نہیں ہے

بجلی ہوں، نظر کوہ و بیاباں پہ ہے میریمیرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے

عالَم ہے فقط مومنِ جاں‌باز کی میراثمومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہیِ!


ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیقیہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب‌خانے میںفقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

علاجِ ضعفِ یقیں ان سے ہو نہیں سکتاغریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق

مُریدِ سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائبخدا کرے کہ مِلے شیخ کو بھی یہ توفیق

اُسی طلسمِ کُہن میں اسیر ہے آدمبغَل میں اس کی ہیں اب تک بُتانِ عہدِ عتیق

مرے لیے تو ہے اقرار بالِلّساں بھی بہتہزار شُکر کہ مُلّا ہیں صاحبِ تصدیق

اگر ہو عشق تو ہے کُفر بھی مسلمانینہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق


پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہیتُو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی

کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیریمومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسامومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماںمومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

مَیں نے تو کِیا پردۂ اسرار کو بھی چاکدیرینہ ہے تیرا مَرضِ کور نگاہی


(قُرطُبہ میں لِکھّے گئے)

یہ حُوریانِ فرنگی، دل و نظر کا حجاببہشتِ مغربیاں، جلوہ ہائے پا بہ رکاب

دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جامہ و ستارہ ہیں بحرِ وجود میں گرداب

جہانِ صوت و صدا میں سما نہیں سکتیلطیفۂ ازَلی ہے فغانِ چنگ و رباب

سِکھا دیے ہیں اسے شیوہ ہائے خانقہیفقیہِ شہر کو صوفی نے کر دیا ہے خراب

وہ سجدہ، روحِ زمیں جس سے کانپ جاتی تھیاُسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب

سُنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نےدیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشۂ سیماب

ہوائے قُرطُبہ! شاید یہ ہے اثر تیرامری نوا میں ہے سوز و سُرورِ عہدِ شباب


دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاریمِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری

دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تکنہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری

مَشامِ تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کاظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہُوئے تاتاری

اس اندیشے سے ضبطِ آہ مَیں کرتا رہوں کب تککہ مُغ زادے نہ لے جائیں تری قسمت کی چنگاری

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ درویشی بھی عیّاری ہے، سُلطانی بھی عیّاری

مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادیکہ ظاہر میں تو آزادی ہے، باطن میں گرفتاری

تُو اے مولائے یثرِبؐ! آپ میری چارہ‌سازی کرمِری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زُناّری


خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیںجو ناز ہو بھی تو بے لذّتِ نیاز نہیں

نگاہِ عشق دلِ زندہ کی تلاش میں ہےشکارِ مُردہ سزاوارِ شاہباز نہیں

مِری نوا میں نہیں ہے ادائے محبوبیکہ بانگِ صورِ سرافیل دل نواز نہیں

سوالِ مے نہ کروں ساقیِ فرنگ سے میںکہ یہ طریقۂ رِندانِ پاک باز نہیں

ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومتِ عشقسبب یہ ہے کہ محبّت زمانہ ساز نہیں

اک اضطرابِ مسلسل، غیاب ہو کہ حضورمیں خود کہوں تو مری داستاں دراز نہیں

اگر ہو ذوق تو خلوت میں پڑھ زبورِ عجمفغانِ نیم شبی بے نوائے راز نہیں


میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صفآہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیںڈھُونڈ چُکا میں موج موج، دیکھ چُکا صدف صدف

عشقِ بُتاں سے ہاتھ اُٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جانقش و نگارِ دَیر میں خُونِ جگر نہ کر تلَف

کھول کے کیا بیاں کروں سِرِّ مقامِ مرگ و عشقعشق ہے مرگِ با شرف، مرگ حیاتِ بے شرف

صحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہُوا یہ راز فاشلاکھ حکیم سربجیب، ایک کلیم سربکف

مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئیاب بھی درختِ طُور سے آتی ہے بانگِ’ لاَ تَخَفْ‘

خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگسُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف


(یورپ میں لِکھّے گئے)

زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزینہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحَرخیزی

کہیں سرمایۂ محفل تھی میری گرم گُفتاریکہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی

زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا!طریقِ کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہوجُدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

سوادِ رومۃُ الکبریٰ میں دلّی یاد آتی ہےوہی عبرت، وہی عظمت، وہی شانِ دل آویزی


یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاکمشکل ہے گزر اس میں بے نالۂ آتش ناک

نخچیرِ محبّت کا قصّہ نہیں طُولانیلُطفِ خلشِ پَیکاں، آسودگیِ فِتراک

کھویا گیا جو مطلب ہفتاد و دو ملّت میںسمجھے گا نہ تُو جب تک بے رنگ نہ ہو ادراک

اک شرعِ مسلمانی، اک جذبِ مسلمانیہے جذبِ مسلمانی سِرِّ فلک الافلاک

اے رہروِ فرزانہ، بے جذبِ مسلمانینے راہِ عمل پیدا نے شاخِ یقیں نم‌ناک

رمزیں ہیں محبّت کی گُستاخی و بےباکیہر شوق نہیں گُستاخ، ہر جذب نہیں بےباک

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جُنوں میرایا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک!


کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوریکمالِ ترک ہے تسخیرِ خاکی و نوری

مَیں ایسے فقر سے اے اہلِ حلقہ باز آیاتمھارا فقر ہے بے دَولتی و رنجوری

نہ فقر کے لیے موزُوں، نہ سلطنت کے لیےوہ قوم جس نے گنّوایا متاعِ تیموری

سُنے نہ ساقیِ مہ‌وَش تو اور بھی اچھّاعیارِ گرمیِ صُحبت ہے حرفِ معذوری

حکیم و عارف و صُوفی، تمام مستِ ظہورکسے خبر کہ تجلّی ہے عین مستوری

وہ مُلتفت ہوں تو کُنجِ قفَس بھی آزادینہ ہوں تو صحنِ چمن بھی مقامِ مجبوری

بُرا نہ مان، ذرا آزما کے دیکھ اسےفرنگ دل کی خرابی، خرد کی معموری


عقل گو آستاں سے دُور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیں

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلبآنکھ کا نور دل کا نور نہیں

عِلم میں بھی سُرور ہے لیکنیہ وہ جنّت ہے جس میں حور نہیں

کیا غضب ہے کہ اس زمانے میںایک بھی صاحبِ سُرور نہیں

اک جُنوں ہے کہ باشعور بھی ہےاک جُنوں ہے کہ باشعور نہیں

ناصبوری ہے زندگی دل کیآہ وہ دل کہ ناصبور نہیں

بے حضوری ہے تیری موت کا راززندہ ہو تُو تو بے حضور نہیں

ہر گُہر نے صدَف کو توڑ دیاتُو ہی آمادۂ ظہور نہیں

’اَرِنی‘ میں بھی کہہ رہا ہوں، مگریہ حدیثِ کلیمؑ و طُور نہیں


خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیںتُو آبجُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

طلسمِ گُنبدِ گردُوں کو توڑ سکتے ہیںزُجاج کی یہ عمارت ہے، سنگِ خارہ نہیں

خودی میں ڈُوبتے ہیں پھر اُبھر بھی آتے ہیںمگر یہ حوصلۂ مردِ ہیچ کارہ نہیں

ترے مقام کو انجم شناس کیا جانےکہ خاکِ زندہ ہے تُو، تابعِ ستارہ نہیں

یہیں بہشت بھی ہے، حُور و جبرئیل بھی ہےتری نگہ میں ابھی شوخیِ نظارہ نہیں

مرے جُنوں نے زمانے کو خوب پہچاناوہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

غضب ہے، عینِ کرم میں بخیل ہے فطرتکہ لعلِ ناب میں آتش تو ہے، شرارہ نہیں


یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہیکہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سےجو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو رُوسیاہی

نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تُو نےمجھے کیا گِلہ ہو تجھ سے، تُو نہ رہ‌نشیں نہ راہی

مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیرِ تربیت ہیںوہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسمِ کجکلاہی

یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تُو کرکہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریقِ خانقاہی

تُو ہُما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیرینہیں مصلحت سے خالی یہ جہانِ مُرغ و ماہی

تُو عَرب ہو یا عجَم ہو، ترا ’ لَا اِلٰہ اِلاَّ‘لُغَتِ غریب، جب تک ترا دل نہ دے گواہی


تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہترا گُنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہ

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تراکہاں سے آئے صدا ’لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ‘

خودی میں گُم ہے خدائی، تلاش کر غافل!یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ

حدیثِ دل کسی درویشِ بے گِلیِم سے پُوچھخدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ

برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کریہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کُلاہ

نہ ہے ستارے کی گردش، نہ بازیِ افلاکخودی کی موت ہے تیرا زوالِ نعمت و جاہ

اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم‌ناکنہ زندگی، نہ محبّت، نہ معرفت، نہ نگاہ!


خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیںترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیراحیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حِفظِ خودی سے ہے ورنہگُہَر میں آبِ گُہَر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردشِ خُوں ہے اگر تو کیا حاصلحیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروسِ لالہ! مُناسب نہیں ہے مجھ سے حجابکہ مَیں نسیمِ سحَر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگوہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبالِؔ بے نوا لیکنعطائے شُعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں


نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہےخراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدیمجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلَک نے اُن کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیںخبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کانہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اِسی خطا سے عتابِ مُلُوک ہے مجھ پرکہ جانتا ہُوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنّائے سَروری، لیکنخودی کی موت ہو جس میں وہ سَروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میریوگرنہ شعر مرا کیا ہے، شاعری کیا ہے!


نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیےجہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کے لیے

یہ عقل و دِل ہیں شرر شُعلۂ محبّت کےوہ خار و خَس کے لیے ہے، یہ نیستاں کے لیے

مقامِ پروَرشِ آہ و نالہ ہے یہ چمننہ سیرِ گُل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے

رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تکترا سفینہ کہ ہے بحرِ بے کراں کے لیے!

نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کوترس گئے ہیں کسی مردِ راہ‌داں کے لیے

نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوزیہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

ذرا سی بات تھی، اندیشۂ عجم نے اسےبڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے

مِرے گُلو میں ہے اک نغمہ جبرئیل آشوبسنبھال کر جسے رکھّا ہے لامکاں کے لیے


تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیںوہ جلوہ‌گاہ ترے خاک‌داں سے دور نہیں

وہ مرغزار کہ بیمِ خزاں نہیں جس میںغمیں نہ ہو کہ ترے آشیاں سے دور نہیں

یہ ہے خلاصۂ علمِ قلندری کہ حیاتخدنگِ جَستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں

فضا تری مہ و پرویں سے ہے ذرا آگےقدم اُٹھا، یہ مقام آسماں سے دور نہیں

کہے نہ راہ‌نُما سے کہ چھوڑ دے مجھ کویہ بات راہروِ نکتہ‌داں سے دُور نہیں


(یورپ میں لِکھّے گئے)

خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہسِکھائی عشق نے مجھ کو حدیثِ رِندانہ

نہ بادہ ہے، نہ صُراحی، نہ دورِ پیمانہفقط نگاہ سے رنگیں ہے بزمِ جانانہ

مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھکہ مَیں ہوں محرمِ رازِ دُرونِ میخانہ

کلی کو دیکھ کہ ہے تشنۂ نسیمِ سحَراسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ

کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضورسب آشنا ہیں یہاں، ایک مَیں ہوں بیگانہ

فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہَر جاؤںمرے جُنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ

مقامِ عقل سے آساں گزر گیا اقبالؔمقامِ شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ


افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخر

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا!سوزو تب و تاب اول، سوزو تب و تاب آخر!

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہےشمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

میخانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیںلاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر

کیا دبدبۂ نادر، کیا شوکتِ تیموری!ہوجاتے ہیں سب دفتر غرقِ مئے ناب آخر

خلوت کی گھڑی گزری، جلوت کی گھڑی آئیچھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر!

تھا ضبط بہت مشکل اس سیلِ معانی کاکہہ ڈالے قلندر نے اسرارِ کتاب آخر


ہر شے مسافر، ہر چیز راہیکیا چاند تارے، کیا مرغ و ماہی

تُو مردِ میداں، تُو میرِ لشکرنوری حضوری تیرے سپاہی

کچھ قدر اپنی تُو نے نہ جانییہ بے‌سوادی، یہ کم نگاہی!

دنیائے دُوں کی کب تک غلامییا راہبی کر یا پادشاہی

پیرِ حرم کو دیکھا ہے میں نےکِردار بے سوز، گُفتار واہی


ہر چیز ہے محوِ خود نمائیہر ذرّہ شہیدِ کبریائی

بے ذوقِ نمود زندگی، موتتعمیرِ خودی میں ہے خدائی

رائی زورِ خودی سے پربتپربت ضعفِ خودی سے رائی

تارے آوارہ و کم آمیزتقدیرِ وجُود ہے جُدائی

یہ پچھلے پہر کا زرد رُو چاندبے راز و نیازِ آشنائی

تیری قندیل ہے ترا دلتُو آپ ہے اپنی روشنائی

اک تُو ہے کہ حق ہے اس جہاں میںباقی ہے نُمودِ سِیمیائی

ہیں عقدہ کُشا یہ خارِ صحراکم کر گِلۂ برہنہ پائی


اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ

تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایااہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ

یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائییہ بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ

غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانیشاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ

اے لآ اِلہٰ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میںگفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھےکھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ

رازِ حرم سے شاید اقبال با خبر ہےہیں اس کی گفتگو کے اندر محرمانہ


خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پُوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

مقامِ گُفتگو کیا ہے اگر مَیں کیمیاگر ہوںیہی سوزِ نفَس ہے، اَور میری کیمیا کیا ہے!

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اُس میںنہ پُوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشمِ سُرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میںتو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے

نوائے صُبح‌گاہی نے جگر خُوں کر دیا میراخدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے!


جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہیکھلتے ہيں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو ، غزالی ہوکچھ ہاتھ نہيں آتا بے آہ سحر گاہی

نوميد نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ!کم کوش تو ہيں ليکن بے ذوق نہيں راہی

اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھیجس رزق سے آتی ہو پرواز ميں کوتاہی

دارا و سکندر سے وہ مرد فقير اولیہو جس کی فقيری ميں بوئے اسد اللہی

آئين جوانمردں ، حق گوئی و بے باکیاللہ کے شيروں کو آتی نہيں روباہی


مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیاتھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈُوب جا تُو بھیکہ اس جنگاہ سے مَیں بن کے تیغِ بے نیام آیا

یہ مصرع لِکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پریہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا

چل، اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والےوہ محفل اُٹھ گئی جس دم تو مجھ تک دَورِ جام آیا

دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنایہ اک مردِ تن‌آساں تھا، تن‌آسانوں کے کام آیا

اسی اقبالؔ کی مَیں جُستجو کرتا رہا برسوںبڑی مُدّت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا


نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں رہتا نہیں باقیکہ میری زندگی کیا ہے، یہی طُغیانِ مشتاقی

مجھے فطرت نَوا پر پے بہ پے مجبور کرتی ہےابھی محفل میں ہے شاید کوئی درد آشنا باقی

وہ آتش آج بھی تیرا نشیمن پھُونک سکتی ہےطلب صادق نہ ہو تیری تو پھر کیا شکوۂ ساقی!

نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سےکہ بجلی کے چراغوں سے ہے اس جوہر کی برّاقی

دلوں میں ولولے آفاق‌گیری کے نہیں اُٹھتےنگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو اندازِ آفاقی

خزاں میں بھی کب آ سکتا تھا میں صیّاد کی زد میںمری غمّاز تھی شاخِ نشیمن کی کم اوراقی

اُلٹ جائیں گی تدبیریں، بدل جائیں گی تقدیریںحقیقت ہے، نہیں میرے تخّیل کی یہ خلّاقی


فطرت کو خِرد کے رُوبرو کرتسخیرِ مقامِ رنگ و بو کر

تُو اپنی خودی کو کھو چکا ہےکھوئی ہوئی شے کی جُستجو کر

تاروں کی فضا ہے بیکرانہتُو بھی یہ مقام آرزو کر

عُریاں ہیں ترے چمن کی حوریںچاکِ گُل و لالہ کو رفو کر

بے ذوق نہیں اگرچہ فطرتجو اس سے نہ ہو سکا، وہ تُو کر!


یہ پِیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوری!صِلہ ان کی کدوی کاوش کا ہے سینوں کی بے نوری

یقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی ہےوہ درویشی، کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری

کبھی حیرت، کبھی مستی، کبھی آہِ سحَرگاہیبدلتا ہے ہزاروں رنگ میرا دردِ مہجوری

حدِ ادراک سے باہر ہیں باتیں عشق و مستی کیسمجھ میں اس قدر آیا کہ دل کی موت ہے، دُوری

وہ اپنے حُسن کی مستی سے ہیں مجبورِ پیدائیمری آنکھوں کی بینائی میں ہیں اسبابِ مستوری

کوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں ورنہنہ تھے ترکانِ عثمانی سے کم ترکانِ تیموری

فقیرانِ حرم کے ہاتھ اقبالؔ آگیا کیونکرمیّسر میر و سُلطاں کو نہیں شاہینِ کافوری


تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیمگزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیم

عقل عیّار ہے، سَو بھیس بنا لیتی ہےعشق بے چارہ نہ مُلّا ہے نہ زاہد نہ حکیم!

عیشِ منزل ہے غریبانِ محبّت پہ حرامسب مسافر ہیں، بظاہر نظر آتے ہیں مقیم

ہے گراں سیر غمِ راحلہ و زاد سے تُوکوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانندِ نسیم

مردِ درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگہے کسی اور کی خاطر یہ نصابِ زر و سیم


ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تہی، زندگی سے نہیں یہ فضائیںیہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پرچمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غممقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیراترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جاکہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

گئے دن کہ تنہا تھا مَیں انجمن میںیہاں اب مِرے رازداں اور بھی ہیں


(فرانس میں لِکھّے گئے)

ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دواموائے تمنّائے خام، وائے تمنّائے خام!

پیرِ حرم نے کہا سُن کے مری رُوئدادپُختہ ہے تیری فغاں، اب نہ اسے دل میں تھام

تھا اَرِنی گو کلیم، میں اَرِنی گو نہیںاُس کو تقاضا روا، مجھ پہ تقاضا حرام

گرچہ ہے افشائے راز، اہلِ نظر کی فغاںہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رِندانہ عام

حلقۂ صُوفی میں ذکر، بے نم و بے سوز و سازمیں بھی رہا تشنہ کام، تُو بھی رہا تشنہ کام

عشق تری انتہا، عشق مری انتہاتُو بھی ابھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام

آہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا رازورنہ ہے مالِ فقیر سلطنتِ روم و شام


خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریلاگر ہو عشق سے محکم تو صُورِ اسرافیل

عذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میںکہ مَیں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

فریب خوردۂ منزل ہے کارواں ورنہزیادہ راحتِ منزل سے ہے نشاطِ رحیل

نظر نہیں تو مرے حلقۂ سخن میں نہ بیٹھکہ نُکتہ‌ہائے خودی ہیں مثالِ تیغِ اصیل

مجھے وہ درسِ فرنگ آج یاد آتے ہیںکہاں حضور کی لذّت، کہاں حجابِ دلیل!

اندھیری شب ہے، جُدا اپنے قافلے سے ہے تُوترے لیے ہے مرا شُعلۂ نوا، قندیل

غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرمنہایت اس کی حُسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ


مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذّتِ اسرار بھی ہے؟

منزلِ راہرواں دُور بھی، دشوار بھی ہےکوئی اس قافلے میں قافلہ سالار بھی ہے؟

بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکۂ دین و وطناس زمانے میں کوئی حیدرِؓ کرّار بھی ہے؟

عِلم کی حد سے پرے، بندۂ مومن کے لیےلذّتِ شوق بھی ہے، نعمتِ دیدار بھی ہے

پیرِ میخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگسُست بنیاد بھی ہے، آئنہ دیوار بھی ہے!


حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہےعکس اُس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

نہ ستارے میں ہے، نَے گردشِ افلاک میں ہےتیری تقدیر مرے نالۂ بے باک میں ہے

یا مری آہ میں کوئی شررِ زندہ نہیںیا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے

کیا عجب میری نوا ہائے سحَر گاہی سےزندہ ہو جائے وہ آتش کہ تری خاک میں ہے

توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسمِ شب و روزگرچہ اُلجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں ہے


رہا نہ حلقۂ صُوفی میں سوزِ مشتاقیفسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی

خراب کوشکِ سُلطان و خانقاہِ فقیرفغاں کہ تخت و مصلّٰی کمالِ زرّاقی

کرے گی داورِ محشر کو شرمسار اک روزکتابِ صُوفی و مُلّا کی سادہ اوراقی

نہ چینی و عربی وہ، نہ رومی و شامیسما سکا نہ دو عالم میں مردِ آفاقی

مئے شبانہ کی مستی تو ہو چکی، لیکنکھٹک رہا ہے دلوں میں کرشمۂ ساقی

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کرکہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

عزیز تر ہے متاعِ امیر و سُلطاں سےوہ شعر جس میں ہو بجلی کا سوز و بَرّاقی


ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاکاگرچہ مغربیوں کا جُنوں بھی تھا چالاک

مئے یقیں سے ضمیرِ حیات ہے پُرسوزنصیبِ مدرسہ یا رب یہ آبِ آتش‌ناک

عروجِ آدمِ خاکی کے منتظر ہیں تمامیہ کہکشاں، یہ ستارے، یہ نیلگُوں افلاک

یہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے کیادماغ روشن و دل تیرہ و نِگہ بےباک

تُو بے بصر ہو تو یہ مانعِ نگاہ بھی ہےوگرنہ آگ ہے مومن، جہاں خس و خاشاک

زمانہ عقل کو سمجھا ہُوا ہے مشعلِ راہکسے خبر کہ جُنوں بھی ہے صاحبِ ادراک

جہاں تمام ہے میراث مردِ مومن کیمیرے کلام پہ حجت ہے نکتۂ لولاک


یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہیک رنگی و آزادی اے ہمّتِ مردانہ!

یا سنجر و طغرل کا آئینِ جہاں‌گیرییا مردِ قلندر کے اندازِ ملوکانہ!

یا حیرتِ فارابیؔ یا تاب و تبِ رومیؔیا فکرِ حکیمانہ یا جذبِ کلیمانہ!

یا عقل کی رُوباہی یا عشقِ یدُاللّٰہییا حِیلۂ افرنگی یا حملۂ ترکانہ!

یا شرعِ مسلمانی یا دَیر کی دربانییا نعرۂ مستانہ، کعبہ ہو کہ بُت خانہ!

مِیری میں فقیری میں، شاہی میں غلامی میںکچھ کام نہیں بنتا بے جُرأتِ رِندانہ


نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہےجو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

صنَم‌کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیلیہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لااِلٰہ میں ہے

وہی جہاں ہے تِرا جس کو تُو کرے پیدایہ سنگ و خِشت نہیں، جو تری نگاہ میں ہے

مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کاوہ مُشتِ خاک ابھی آوارگانِ راہ میں ہے

خبر مِلی ہے خدایانِ بحر و بَر سے مجھےفرنگ رہ گزرِ سیلِ بے پناہ میں ہے

تلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب اپناجہانِ تازہ مری آہِ صُبح گاہ میں ہے

مِرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ نابنہ مَدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے


فِطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاکرکھتی ہے مگر طاقتِ پرواز مِری خاک

وہ خاک کہ ہے جس کا جُنوں صَیقلِ ادراکوہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا چاک

وہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں رکھتیچُنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و خاشاک

اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسوکرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق‌ناک


کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آبادمری نگاہ نہیں سُوئے کوفہ و بغداد

یہ مدرسہ، یہ جواں، یہ سُرور و رعنائیانھی کے دم سے ہے میخانۂ فرنگ آباد

نہ فلسفی سے، نہ مُلّا سے ہے غرض مجھ کویہ دل کی موت، وہ اندیشہ و نظر کا فساد

فقیہِ شہر کی تحقیر! کیا مجال مریمگر یہ بات کہ مَیں ڈھُونڈتا ہوں دل کی کشاد

خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرتِ پرویزخدا کی دین ہے سرمایۂ غمِ فرہاد

کیے ہیں فاش رمُوزِ قلندری میں نےکہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد

رِشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہَمن کا طِلسمعصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد


کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازیگُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندی

خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکیرومی ہے نہ شامی ہے، کاشی نہ سمرقندی

سِکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نےآدم کو سِکھاتا ہے آدابِ خداوندی!


نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازیجیتا ہے رومیؔ، ہارا ہے رازیؔ

روشن ہے جامِ جمشید اب تکشاہی نہیں ہے بے شیشہ بازی

دل ہے مسلماں میرا نہ تیراتُو بھی نمازی، میں بھی نمازی!

میں جانتا ہوں انجام اُس کاجس معرکے میں مُلّا ہوں غازی

تُرکی بھی شیریں، تازی بھی شیریںحرفِ محبّت تُرکی نہ تازی

آزر کا پیشہ خارا تراشیکارِ خلیلاں خارا گدازی

تُو زندگی ہے، پائندگی ہےباقی ہے جو کچھ، سب خاک‌بازی


گرمِ فغاں ہے جَرس، اُٹھ کہ گیا قافلہوائے وہ رَہرو کہ ہے منتظرِ راحلہ!

تیری طبیعت ہے اور، تیرا زمانہ ہے اورتیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ

دل ہو غلامِ خرد یا کہ امامِ خردسالکِ رہ، ہوشیار! سخت ہے یہ مرحلہ

اُس کی خودی ہے ابھی شام و سحَر میں اسیرگردشِ دَوراں کا ہے جس کی زباں پر گِلہ

تیرے نفَس سے ہوئی آتشِ گُل تیز ترمُرغِ چمن! ہے یہی تیری نوا کا صِلہ


مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و عامیدیا ہے مَیں نے انھیں ذوقِ آتش آشامی

حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنجکہ تار تار ہُوئے جامہ ہائے احرامی

حقیقتِ اَبدی ہے مقامِ شبیّریبدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

مجھے یہ ڈر ہے مُقامِر ہیں پُختہ کار بہتنہ رنگ لائے کہیں تیرے ہاتھ کی خامی

عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیںشکوہِ سنجر و فقرِ جنیدؒ و بسطامیؒ

قبائے علم و ہُنر لُطفِ خاص ہے، ورنہتری نگاہ میں تھی میری ناخوش اندامی!


ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہِ نوکمال کس کو میّسر ہُوا ہے بے تگ و دَو!

نفَس کے زور سے وہ غُنچہ وا ہُوا بھی تو کیاجسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتَو

نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھیکہ دل کو حق نے کِیا ہے نگاہ کا پَیرو

پنَپ سکا نہ خیاباں میں لالۂ دل سوزکہ ساز گار نہیں یہ جہانِ گندم و جَو

رہے نہ ایبک و غوری کے معرکے باقیہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسروؔ


کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش!اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش

کس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا مقاممسجد و مکتب و میخانہ ہیں مُدّت سے خموش

مَیں نے پایا ہے اُسے اشکِ سحَر گاہی میںجس دُرِ ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش

نئی تہذیب تکلّف کے سوا کچھ بھی نہیںچہرہ روشن ہو تو کیا حاجتِ گُلگُونہ فروش!

صاحبِ ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہےگاہے گاہے غَلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش


تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہیآج اُن خانقہوں میں ہے فقط رُوباہی

نظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میںوہ شبانی کہ ہے تمہیدِ کلیم اللّٰہی

لذّتِ نغمہ کہاں مُرغِ خوش الحاں کے لیےآہ، اس باغ میں کرتا ہے نفَس کوتاہی

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریکایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی

صفَتِ برق چمکتا ہے مرا فکرِ بلندکہ بھٹکتے نہ پھریں ظُلمتِ شب میں راہی


ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگدنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ

چیتے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسّسجی سکتے ہیں بے روشنیِ دانش و فرہنگ

کر بُلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہبُلبل فقط آواز ہے، طاؤس فقط رنگ!


فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہفقر ہے میروں کا مِیر، فقر ہے شاہوں کا شاہ

علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خردفقر کا مقصود ہے عفّتِ قلب و نگاہ

علم فقیہ و حکیم، فقر مسیح و کلیمعلم ہے جویائے راہ، فقر ہے دانائے راہ

فقر مقامِ نظر، علم مقامِ خبرفقر میں مستی ثواب، علم میں مستی گناہ

علم کا ’موجود‘ اور، فقر کا ’موجود‘ اوراَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہ‘ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہ!

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغِ خودیایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ

دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہوتیری نِگہ توڑ دے آئنۂ مہروماہ


کمالِ جوشِ جُنوں میں رہا مَیں گرمِ طوافخدا کا شُکر، سلامت رہا حرم کا غلاف

یہ اتّفاق مبارک ہو مومنوں کے لیےکہ یک زباں ہیں فقیہانِ شہر میرے خلاف

تڑپ رہا ہے فلاطوں میانِ غیب و حضورازل سے اہلِ خرد کا مقام ہے اعراف

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتابگِرہ کُشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف

سُرور و سوز میں ناپائدار ہے، ورنہمئے فرنگ کا تہ جُرعہ بھی نہیں ناصاف


شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیبمقامِ شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب

میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گامسائلِ نظَری میں اُلجھ گیا ہے خطیب

اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طوافمری نوا میں نہیں طائرِ چمن کا نصیب

سُنا ہے میں نے سخن رس ہے تُرکِ عثمانیسُنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعرِ غریب

سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپناستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب!


اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہےشاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات

یا وُسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسلیا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات

وہ مذہبِ مردانِ خود آگاہ و خدا مستیہ مذہبِ مُلّا و جمادات و نباتات