بالِ جبریل · علامہ محمد اقبال

Chapter 1: غزلیات — حصہ اول

اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریںنفَسِ سوختۂ شام و سحَر تازہ کریں

پھُول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگرمردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر


میری نوائے شوق سے شورِ حریمِ ذات میںغلغلہ ہائے الاماں بُت کدہ صفات میں

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میںمیری نگاہ سے خلل تیری تجلّیات میں

گرچہ ہے میری جستجو دَیر و حرم کی نقش بندمیری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں

گاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجودگاہ اُلجھ کے رہ گئی میرے توہّمات میں

تُو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیامیں ہی تو ایک راز تھا، سینۂ کائنات میں


اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرامجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالیخطا کس کی ہے یا رب! لامکاں تیرا ہے یا میرا؟

اُسے صبحِ ازل انکار کی جُرأت ہوئی کیونکرمجھے معلوم کیا، وہ راز داں تیرا ہے یا میرا؟

محمدؐ بھی ترا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرامگر یہ حرفِ شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا؟

اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشنزوالِ آدمِ خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟


گیسوئے تاب‌دار کو اور بھی تاب‌دار کرہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر

عشق بھی ہو حجاب میں، حُسن بھی ہو حجاب میںیا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

تُو ہے محیطِ بےکراں، میں ہُوں ذرا سی آبُجویا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

میں ہُوں صدَف تو تیرے ہاتھ میرے گُہر کی آبرومیں ہُوں خزَف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر

نغمۂ نَو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہواس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر

باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوںکارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر

روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عملآپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر


اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری فریادنہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

یہ مُشتِ خاک، یہ صرصر، یہ وسعتِ افلاککرم ہے یا کہ سِتم تیری لذّت ایجاد!

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گُلیہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِ مُراد؟

قصور وار، غریب الدّیار ہُوں لیکنترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

مری جفا طلَبی کو دعائیں دیتا ہےوہ دشتِ سادہ، وہ تیرا جہانِ بےبنیاد

خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیںوہ گُلِستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صّیاد

مقامِ شوق ترے قُدسیوں کے بس کا نہیںاُنھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد


کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کاکیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

وہ عشق جس کی شمع بُجھا دے اجل کی پھُونکاُس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

میری بساط کیا ہے، تب و تابِ یک نفَسشُعلے سے بے محل ہے اُلجھنا شرار کا

کر پہلے مجھ کو زندگیِ جاوداں عطاپھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہویا رب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!


پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائےجو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

نہ کر دیں مجھ کو مجبورِ نوا فردوس میں حُوریںمرا سوزِدُروں پھر گرمیِ محفل نہ بن جائے

کبھی چھوڑی ہُوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کوکھٹک سی ہے جو سینے میں، غمِ منزل نہ بن جائے

بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کویہ میری خود نِگہداری مرا ساحل نہ بن جائے

کہیں اس عالمِ بے رنگ و بُو میں بھی طلب میریوہی افسانۂ دُنبالۂ محمل نہ بن جائے

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیںکہ یہ ٹُوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے


دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقیدل ہر ذرّہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی

متاعِ دین و دانش لُٹ گئی اللہ والوں کییہ کس کافر ادا کا غمزۂ خُوں‌ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری، وہی نا محکمی دل کیعلاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوزِ آرزو پیدا نہیں ہوتاکہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اُٹھّا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌زاروں سےوہی آب و گِلِ ایراں، وہی تبریز ہے ساقی

نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

فقیرِ راہ کو بخشے گئے اسرارِ سُلطانیبَہا میری نوا کی دولتِ پرویز ہے ساقی


لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقیہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بنداب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقیشیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہیرہ گئے صوفی و ملّا کے غلام اے ساقی

عشق کی تیغِ جگردار اُڑا لی کس نےعِلم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

سِینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیاتہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی

تُو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی!


مِٹا دیا مرے ساقی نے عالمِ من و توپِلا کے مجھ کو مئے ’لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ھُو‘

نہ مے، نہ شعر، نہ ساقی، نہ شورِ چنگ و ربابسکُوتِ کوہ و لبِ جُوے و لالۂ خودرُو!

گدائے مےکدہ کی شانِ بے نیازی دیکھپہنچ کے چشمۂ حیواں پہ توڑتا ہے سبو!

مرا سبوچہ غنیمت ہے اس زمانے میںکہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدُو

میں نَو نیاز ہوں، مجھ سے حجاب ہی اَولیٰکہ دل سے بڑھ کے ہے میری نگاہ بے قابو

اگرچہ بحر کی موجوں میں ہے مقام اس کاصفائے پاکیِ طینت سے ہے گُہَر کا وضو

جمیل تر ہیں گُل و لالہ فیض سے اس کےنگاہِ شاعرِ رنگیں نوا میں ہے جادو


متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندیمقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیایہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی

حجاب اِکسیر ہے آوارۂ کوئے محبّت کومِری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میںکہ شاہیں کے لیے ذلّت ہے کارِ آشیاں‌بندی

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھیسِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی

زیارت‌گاہِ اہلِ عزم و ہمّت ہے لحَد میریکہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی

مِری مشّاطگی کی کیا ضرورت حُسنِ معنی کوکہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حِنابندی


تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہوہ ادب گہِ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہ

یہ بُتانِ عصرِ حاضر کہ بنے ہیں مدرَسے میںنہ ادائے کافرانہ، نہ تراشِ آزرانہ

نہیں اس کھُلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغتیہ جہاں عجب جہاں ہے، نہ قفَس نہ آشیانہ

رگِ تاک منتظر ہے تری بارشِ کرم کیکہ عجم کے مےکدوں میں نہ رہی مئے مغانہ

مرے ہم صفیر اسے بھی اثَرِ بہار سمجھےانھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ

مرے خاک و خُوں سے تُونے یہ جہاں کِیا ہے پیداصِلۂ شہید کیا ہے، تب و تابِ جاودانہ

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیںنہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایتِ زمانہ


ضمیرِ لالہ مئے لعل سے ہُوا لبریزاشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنیکِیا ہے اس نے فقیروں کو وارثِ پرویز

پُرانے ہیں یہ ستارے، فلک بھی فرسُودہجہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نَوخیز

کسے خبر ہے کہ ہنگامۂ نشور ہے کیاتری نگاہ کی گردش ہے میری رستاخیز

نہ چھین لذّتِ آہِ سحَرگہی مجھ سےنہ کر نِگہ سے تغافل کو التفات آمیز

دلِ غمیں کے موافق نہیں ہے موسمِ گُلصدائے مُرغِ چمن ہے بہت نشاط انگیز

حدیثِ بے خبراں ہے، تو با زمانہ بساززمانہ با تو نسازد، تو با زمانہ ستیز


وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بےنیازیمرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نَےنوازی

میں کہاں ہوں تُو کہاں ہے، یہ مکاں کہ لامکاں ہے؟یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ‌سازی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیںکبھی سوز و سازِ رومیؔ، کبھی پیچ و تابِ رازیؔ

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میںاُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی

نہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میںکوئی دِلکُشا صدا ہو، عجَمی ہو یا کہ تازی

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسایہ سپہ کی تیغ بازی، وہ نگہ کی تیغ بازی

کوئی کارواں سے ٹُوٹا، کوئی بدگماں حرم سےکہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی


اپنی جولاں‌گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میںآب و گِل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں

بے حجابی سے تری ٹُوٹا نگاہوں کا طلسماک رِدائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں

کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیامہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

عشق کی اِک جَست نے طے کر دیا قصّہ تماماس زمین و آسماں کو بےکراں سمجھا تھا میں

کہہ گئیں رازِ محبّت پردہ دارِیہاے شوقتھی فغاں وہ بھی جسے ضبطِ فغاں سمجھا تھا میں

تھی کسی درماندہ رہرو کی صداے دردناکجس کو آوازِ رحیلِ کارواں سمجھا تھا میں


اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانیہے دانشِ بُرہانی، حیرت کی فراوانی

اس پیکرِ خاکی میں اک شے ہے، سو وہ تیریمیرے لیے مشکل ہے اُس شے کی نگہبانی

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تکتُو نے ہی سِکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی

ہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصلکیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

مجھ کو تو سِکھا دی ہے افرنگ نے زِندیقیاس دَور کے مُلّا ہیں کیوں ننگِ مسلمانی!

تقدیر شکن قُوّت باقی ہے ابھی اس میںناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زِندانی

تیرے بھی صنم خانے، میرے بھی صنم خانےدونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی


یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے لیکنکیوں خوار ہیں مردانِ صفا کیش و ہُنرمند

گو اس کی خُدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھدنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند

تو برگِ گِیاہے ندہی اہلِ خرد رااو کِشتِ گُل و لالہ بہ بخشد بخرے چند

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گُلگوںمسجد میں دھرا کیا ہے بجز مَوعظہ و پند

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسّرتاویل سے قُرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

فردوس جو تیرا ہے، کسی نے نہیں دیکھاافرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مُدّت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکرکر دے اسے اب چاند کی غاروں میں نظربند

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر مَلکوتیخاکی ہُوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربیگھر میرا نہ دِلّی، نہ صفاہاں، نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حقنے اَبلہِ مسجد ہُوں، نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوشمیں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے کہ اک بندۂ حق بین و حق اندیشخاشاک کے تودے کو کہے کوہِ دماوند

ہُوں آتشِ نمرود کے شُعلوں میں بھی خاموشمیں بندۂ مومن ہوں، نہیں دانۂ اسپند

پُر سوز و نظرباز و نِکوبین و کم آزارآزاد و گرفتار و تہی کِیسہ و خورسند

ہر حال میں میرا دلِ بے قید ہے خُرّمکیا چھینے گا غُنچے سے کوئی ذوقِ شکر خند!

چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔکرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا مُنہ بند!