مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیاتری تقدیر کی مجھ کو خبر کیاکلی گُل کی ہے محتاجِ کشود آجنسیمِ صبحِ فردا پر نظر کیا!
فراغت دے اُسے کارِ جہاں سےکہ چھُوٹے ہر نفَس کے امتحاں سےہُوا پِیری سے شیطاں کُہنہ اندیشگُناہِ تازہ تر لائے کہاں سے!
دِگرگُوں عالمِ شام و سحَر کرجہانِ خشک و تر زیر و زبر کررہے تیری خدائی داغ سے پاکمرے بے ذوق سجدوں سے حذَر کر
غریبی میں ہُوں محسودِ امیریکہ غیرت مند ہے میری فقیریحذر اُس فقر و درویشی سے، جس نےمسلماں کو سِکھا دی سر بزیری!
خرد کی تنگ دامانی سے فریادتجلّی کی فراوانی سے فریادگوارا ہے اسے نظّارۂ غیرنِگہ کی نا مسلمانی سے فریاد!
کہا اقبالؔ نے شیخِ حرم سےتہِ محرابِ مسجد سو گیا کوننِدا مسجد کی دیواروں سے آئیفرنگی بُت کدے میں کھو گیا کون؟
کُہن ہنگامہ ہائے آرزو سردکہ ہے مردِ مسلماں کا لہُو سردبُتوں کو میری لادینی مبارککہ ہے آج آتشِ ’اَللہ ھُو، سرد
حدیثِ بندۂ مومن دل آویزجِگر پُرخوں، نفَس روشن، نِگہ تیزمیَسّر ہو کسے دیدار اُس کاکہ ہے وہ رونقِ محفل کم آمیز
تمیزِ خار و گُل سے آشکارانسیمِ صُبح کی رَوشن ضمیریحفاظت پھُول کی ممکن نہیں ہےاگر کانٹے میں ہو خُوئے حریری
نہ کر ذکرِ فراق و آشنائیکہ اصلِ زندگی ہے خود نُمائینہ دریا کا زیاں ہے، نے گُہر کادلِ دریا سے گوہر کی جُدائی
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہےخودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہےعبَث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداںتو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟
خِرد دیکھے اگر دل کی نگہ سےجہاں رَوشن ہے نُورِ ’لا اِلہ‘ سےفقط اک گردشِ شام و سحر ہےاگر دیکھیں فروغِ مہر و مہ سے
کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کرکبھی دریا کے سینے میں اُتر کرکبھی دریا کے ساحل سے گزر کرمقام اپنی خودی کا فاش تر کر!