ہندوستان کی سیر
ستائیسویں تاریخ اپریل کی ناؤ پر سوار ہو کر آگے چلا۔ اس پر ایسا ہجوم آدمیوں کا تھا کہ جنبش کرنا محال ہوا۔ ہزار خرابی سے نو کوس بعد پنولی میں پہنچ کر اترا۔ وہاں سے ڈھرّہ پہاڑ کا تین کوس تھا۔ دوسرے دن پا پیادہ بارہ کوس راہ چل کر بڑگاوں تک آیا اور مقام کیا۔ تیسرے دن پھر بارہ کوس کی منزل طے کر کے پونا میں داخل ہوا۔ پنولی سے یہاں تک زمین اور پہاڑ سبزہ زار، سڑک وسیع اور صاف ہموار تھی۔ قرینے سے دریافت ہوتا کہ بگھی اس راہ سے آتی جاتی۔ یہ رستہ مانند راہ ولایت لندن کے تھا۔
میں نے پونا پہنچ کر ایک دن مقام کیا۔ یہ شہر پرانا ہندوؤں کا لبِ دریا ہے۔ ہر ایک مکان ہندوؤں کا رفیع الشان بنا ہے۔ چھاؤنی انگریزوں کی شہر سے باہر دو کوس کے فاصلے پر ہے۔ یہاں میں نے چاہا گھوڑا خرید کرنا مگر قابل سواری کے ہاتھ نہ لگا۔ لاچار وہاں سے پیدل روانہ ہوا۔ سات کوس طے کر کے موضع لونی میں پہنچا۔ بعد پونا کے راہ میں نشیب و فراز تھا۔ دو عورتیں مرہٹوں کی نوجوان گھوڑوں پر سوار ہتیار باندھے جاتیں۔ عجب عورتیں کہ جرأت و مردانگی میں مردوں سے سبقت لے گئیں۔ لونی سے گیارہ کوس چلا۔ کڑے گانو میں آ کر ٹھہرا۔ صبح اٹھ کر بعادت مقرری راہ چلتا تھا۔ وقت دوپہر اور شدت دھوپ کا ہوا۔ ہزار خرابی سے ریت کے جنگل میں قدم اٹھاتا تھا۔ ناگاہ ایک طرف غول آہوؤں کا نظر آیا۔ ایک ان میں سے سیاہ رنگ تھا۔ میں نے چاہا شکار کرنا اس کا۔ اس خیال سے اس طرف جا کر ایک گولی ماری، اس ہرن کے لگی مگر باوجود گولی کھانے اور زخمی ہونے کے بھاگا۔ میں نے یہ سمجھ کر کہ آخر کہیں گر پڑے گا، اس کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ دوڑتے دوڑتے دور تک گیا۔ کوہستان اور ریگستان میں پہنچ کر تھک گیا۔ ہرن نظر سے غائب ہو گیا۔ دوڑنے اور دھوپ کی گرمی سے ایسا غلبہ پیاس کا ہوا کہ قریب ہلاکت پہنچا بلکہ مرنے میں کچھ باقی نہ رہا تھا۔ مگر صبر کر کے ایک درخت سایہ دار کے تلے لیٹا۔ لیٹنے کے ساتھ ہی بے ہوش ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب ہوش آیا، پانی کی تلاش میں چلا۔ دور سے ایک تالاب سا دیکھا، قریب اس کے جا کر سوکھا پایا۔ مگر جابجا کیچڑ چہلا تھا۔ گڑھوں میں ہاتھ پانوں ڈال کر پانی ڈھونڈنے لگا۔ حسب اتفاق ایک گڑھے میں کیچڑ ملا ہوا پانی تھوڑا سا ملا۔ جلدی سے اس میں مونھ میں ڈال کر گدلا پانی پیا، میرے نزدیک آب حیات سے بہتر تھا۔ گویا اس کے پینے سے دوبارہ زندہ ہوا۔ بعد اس کے اپنے تئیں اس گڑھے میں گرا کر سارا بدن تر کیا۔ پھر اس درخت کے سایہ میں آ کر لیٹا اور سویا۔ شام کو آگے چلنے کی نیت کی۔ مگر اعضا نے یارائے حرکت نہ دی۔ لاچار وہاں رہ گیا۔ رات کے کھانے کو دو میناؤں کا شکار کیا۔ آگ پتھر سے نکال کر گوشت ان کا کباب کر کے کھایا اور اسی گڑھے سے پانی پی کر رات کو وہیں سو رہا۔ ہر چند خوف جانورون درندہ سے نیند نہ آئی۔ مگر جوں توں کر کے رات بسر کی۔ صبح اٹھ کر راہ راست تلاش کرنے لگا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے راستہ پر آ پہنچا۔ دوپہر کو سپا میں پہنچ کر ٹھہرا۔ دودھ دہی میٹھے کو جی چاہا۔ ہر چند تلاش کیا پر اس اجاڑ گانوں میں ہر گز میسر نہ آیا۔ فقط دال خشکے پر قناعت کی، رات وہاں کاٹی۔ علی الصباح اٹھ کر چلا۔ راہ میں قافلہ بنجاروں کا دیکھا۔ عورت لڑکے ملا کر قریب دو سو آدمیوں کے تھے۔ اناج شکر گھی اور اَور جنس بیلوں اور چھکڑوں پر لادے تھے۔ کئی گائے بکریاں اور کتے ہمراہ رکھتے۔ میں مدت سے جویائے صحبت اس قوم کا تھا۔ ملنا قافلہ کا غنیمت جان کر ان کے ساتھ ہوا اور کہا کہ میں ارادہ رکھتا ہوں تمھارے ساتھ چلنے کا۔ انھوں نے پہلو تہی کی کہ ہم آہستہ آہستہ منزل چلتے ہیں۔ آپ قطع مسافت میں تیز روی رکھتے ہیں۔ اس صورت میں ہمارا تمھارا ساتھ نہ نبھے گا۔ میں ان کی پیروی پر راضی ہو کر ساتھ لگا۔ منزل بہ منزل جاتا تھا، یہاں تک کہ ہڑھے میں پہنچا۔ آخر صحبت برآر نہ ہوئی، دیکھنے حرکات بد ان کی تاب نہ آئی۔ تفصیل اس کی یہ کہ وہ بنجارے باوجود یہ کہ ہندو تھے مگر بیلوں چھکڑوں اور گون لدے ہوؤں کو کمال تکلیف دیتے۔ یعنی اگر بیل ساری منزل میں سے کہیں ٹھہر کر چلتے، وہ بے رحم اتنا پیٹتے کہ پیٹھ اور پیٹ بیلوں کے زخمی ہوتے، تو بھی وہ پیٹنے سے باز نہ آتے۔ جب مقام پر پہنچتے تھوڑا سا بھوسا دے کر چرنے کو چھوڑ دیتے۔ ہر گاہ وہ بیل تمام دن محنت بار برداری میں رہیں، شام کو دانہ چارہ آدھا پیٹ پاویں، کیوں کر زیادہ بوجھ اٹھاویں اور جنگل میں خاک چریں کہ قدم اٹھانے کی طاقت نہ رکھیں۔ آپ وہ بنجارے چھکڑے یا بیل پر سوار مقام تک پہنچتے۔ کھانے مزیدار مرغن پکا کر کھاتے اور گھی شکر ملا کر ناک تک بھر لیتے۔ رات کو بیبیاں اپنی گود میں لے کر سوتے۔ زندگی کے مزے اڑاتے۔ اس سے زیادہ کمبختی اور بے رحمی اور کیا ہے کہ بیلوں بےزبانوں باربرداروں کو بھوکا پیاسا رکھتے، آپ پیٹ بھر کھا کر جورو کے ساتھ سو رہتے۔ دوسرے دن پھر انھیں پر سوار ہو کر آگے چلتے اور تھوڑے توقف میں بہت سا مارتے۔ میں حال ان کا دیکھ کر سراپا حیرت ہوا۔ اگر ان کے مذہب میں بیل کا گوشت کھانا جائز ہوتا، نہیں معلوم کیا مفسدہ برپا کرتے اور بیلوں کو کس طرح ستاتے۔ گاؤ پرستی ان کے ہاں حکمِ شاستر ہے، اس پر یہ حالِ ابتر ہے۔ شاید اگر یہ حکم نہ ہوتا، ہر ایک بیلوں کے حق میں قسائی بنتا۔ یہ طرفہ ماجرا ہے اور قصہ نیا ہے کہ آپ ان بےزبانوں پر اتنا ظلم و ستم کرتے ہیں اور انگریزوں اور مسلمانوں کو گاؤ خوری پر طعنہ دیتے ہیں۔ جو کوئی بیل کو ذبح کرے بہتر اس سے کہ تمام عمر باربرداری اور محنت فاقہ کشی میں رکھے۔ انگریز کھانے نفیس بیلوں کو کھلا کر پالتے ہیں، بعد اس کے ایک جائے مقرر پر لے جا کر بیچ سے ایک پتھر ان کے سر پر دے مارتے ہیں۔ بیل فی الفور مر جاتا ہے، کچھ صدمہ اور رنج نہیں پاتا ہے۔ اس صورت میں کس کا ظلم زیادہ ہوتا ہے اور قصور کس کا بہت پایا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ میں بڑہی پہنچ کر تاب بے رحمی ان کی نہ لایا، وہاں سے ساتھ ان کا چھوڑ کر آگے چلا۔ اورنگ آباد
بارہ کوس چل کردہ گانو میں آیا۔ وہاں سے نو کوس راہ چل کر اورنگ آباد پہنچا۔ تامس صاحب کپتان رسالے ساتویں کے نے چکس صاحب کو ایک خط لکھا تھا۔ وہ میرے پاس بندھا تھا۔ چکس صاحب اورنگ آباد میں رہتے۔ نظام کی پیدل فوج میں کپتان تھے۔ خیال آیا کہ ان کے پاس جاؤں، خط ان کا ان کو پہنچاؤں۔ پھر دل نے یہ کہا اگر تو خط ان کے پاس لے گیا، وہ اپنے مکان پر اتاریں گے۔ تکلیف مہمانداری کی اٹھاویں گے اور اس شہر میں دو تین روز رہنے کا ارادہ تھا۔ اس سبب سے یہ بہتر معلوم ہوا کہ پہلے کہیں اور اتروں، بعد اس کے خط ان کے پاس لے جاؤں۔ قریب دروازہ شہر پناہ کے ایک فقیر کا مکان تھا۔ وہ صاحب کمالوں میں مشہور وہاں تھا۔ میں بھی لباس بدویون عرب کا پہنے ہوئے تھا اور صورت فقیروں کی رکھتا۔ وہاں جا کر سلام کے بعد کہا میں مسافر اس شہر میں تازہ وارد ہوا ہوں، اترنے کی جگہ چاہتا ہوں۔ شاہ صاحب نے جواب دیا کہ کیا مضائقہ اتر رہنے کا، اس درخت کے نیچے اتر؛ مگر میں مقدور مہمانی کا نہیں رکھتا ہوں۔ تم آپ اپنے کھانے پینے کی فکر کرو۔ میں غنیمت سمجھا، درخت کے نیچے کمل بچھا کر بیٹھا۔ رات بھر وہاں رہا۔
صبحی اٹھ کر دولت آباد جانے کا قصد کیا۔ اس واسطے کہ قریب دولت آباد کے مقبرہ شاہ اورنگ زیب عالمگیر اور مزار ولیون کامل کا تھا۔ اورنگ آباد سے دولت آباد نو کوس کا فاصلہ رکھتا۔ گٹھری کپڑوں کی اور لوٹا تانبے کا شاہ صاحب کے پاس لے جا کر کہا: میرا قصد ہے اورنگ آباد جا کر زیارت مزار عالمگیر اور ولیوں کا، لہذا امیدوار ہوں کہ ایک دو روز اسباب اپنا امانتاً آپ کے پاس رکھوں۔ انھوں نے کہا: ہمارا ہرج کیا، لیکن جس دن سے اس حاجی پاجی نے مجھ کو فریب دیا میں نے ہر کسی کی امانت رکھنا موقوف کیا۔ ایسا نہ ہو تم بھی ویسا کرو اور مجھ کو ستاؤ۔ میں نے پوچھا اس حاجی نے آپ کو کیا ایذا دی اور خدمت شریف میں کیا تقصیر کی۔ سابق ازیں ایک حاجی فقیروں کی صورت میرے پاس آ کر اترا۔ تمھاری طرح دولت آباد جانے کے وقت اپنا اسباب میرے تفویض کر گیا۔ جب وہاں سے پھرا سب اسباب اپنا لیا پھر اس کافر نے دغا دی۔ اشرفی اور روپوں کا دعوئے باطل کیا، محکمہ کوتوالی میں نالش کر کے مجھ کو گرفتار کروایا۔ ازانجا کہ جھوٹ کو سچ کے سامنے فروغ نہیں ہوتا، آخر دعوے بے جا سے شرمندہ ہو کر آپ ہی قید ہوا۔ اس سبب سے ڈرتا ہوں کہ مبادا تم بھی وہاں سے پھر کر دعویٰ روپوں کا کرو اور میری عزت پر حرف لاؤ۔ مجھ کو اس کلام سے شبہ ہوا کہ شاید یہ شخص چور ہے بصورت فقیر بنا۔ اس کے امتحان کے لیے کنارہ گیا، شیشے کی پچاس گولیوں کو روپے پیسے کی طرح ایک پتھر سے گول اور چپٹا کیا اور ایک روپیہ بازار سے خوردہ کر کے پیسے ان میں ملائے۔ ایک تھیلی میں رکھ کر مونھ اس کے پر لاکھ لگائی، اس پر مہر اپنی کر دی۔ اس کو گٹھری میں رکھ کر شاہ صاحب پاس لے گیا۔ بطریق امانت ان کے سپرد کر کے رخصت ہوا۔ انھوں نے گٹھری ہاتھ میں رکھ لی، گراں وزن سمجھ کر دو چار سواروں کے سامنے جو ساتھ ان کے بھنگ پیا کرتے تھے، یہ بات کہی۔ تم سب شاہد رہو، اس شخص کی گٹھری میں نہیں روپیا پیسا ہے۔ اگر آئندہ دعوے کرے بیجا ہے۔ میں نے کہا سچ یونہی ہے، سوا دو چار پیسے کے اس میں کچھ نہیں ہے۔ یہ کہہ کر راہی ہوا، دولت آباد جا پہنچا۔ راہ میں کئی سرائیں دیکھیں، شاہ عالمگیر کی بنوائیں۔ بسبب بے مرمتی کے ہر ایک جابجا سے ٹوٹی اور خراب پڑی۔ یقین کہ اورنگ آباد اور دولت آباد زمانہ سابق میں خوب آباد ہوں گے، اس لیے کہ اب تک نشان عمارتون قدیم کا ہے باقی۔ قریب اورنگ آباد شاہ عالمگیر نے ایک مکان عالیشان بنوایا ہے۔ چاروں طرف قطعات مستحکم رکھتا ہے۔ اندر اس کے ایک حوض، مقابل اس کے ایک مسجد فلک توامان ہے۔ رہتے ہیں اس میں قرآن خواں۔ مسافر وہاں جا کر ٹھہرتے ہیں، حوض سے پانی لے کر وضو کر کے نماز مسجد میں پڑھتے ہیں۔ میں بھی اس مکان میں گیا۔ سہ پہر تک بیٹھا رہا۔ بعد اس کے ایک ولی کے مزار پر گیا، نام اس کا فراموش ہوا۔ مجاور درگاہ کے ساتھ ہوئے، تربت تک لے گئے۔ گنبد کے اندر انڈا شتر مرغ کا لٹکتا، برابر اس کے جھبّا مقیش کا گلدستہ کی طرح لگا۔ چادریں پھولوں اور کمخاب کی تربت پر بچھیں، ایک طرف بتیاں اگر کی جلتیں۔ میں نے اندر جا کر فاتحہ پڑھا اور تھوڑی دیر ٹھہرا۔ تین روپے کی مٹھائی مول لے کر فاتحہ دے کر مجاوروں کو تقسیم کر دی، بعد اس کے کچھ خیرات بھی ان کو دی۔ انھوں نے تھوڑے پھول اور ٹکڑا چادر تربت کا پھاڑ کر مجھ کو تبرک دیا، میں اس کو لے کر باہر آیا۔ ہر چند ارادہ یہ تھا کہ سب ولیوں کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھتا مگر سوال اور تقاضائے مجاوروں سے تنگ آیا اور خوفِ صرفِ زائد سے باز رہا۔فقط اورنگ زیب کے مقبرہ پر گیا۔ گرد قبر کے کٹھرا لکڑی کا لگا۔ مقبرہ چنداں نفیس نہ تھا۔ میں دیکھنے اُس کے سے عبرت پذیر ہوا کہ یہ بادشاہ ہندوستان کا کتنے ملک زور شمشیر سے اپنے قبضہ میں لایا۔ اپنے زمانہ میں کس طرح غلبہ رکھتا تھا۔ اب خاک میں ملا۔ یارائے حس و حرکت، جنبش دست و پا کی طاقت نہیں رکھتا۔ دنیا عجب مقام ہے، ہر ایک کا یہی انجام ہے۔ یہ سوچ کر باہر آیا۔ تھوڑی دور چلا، ایک باغ نظر آیا۔ اس کے اندر جا کر دیکھا۔ ہر طرف دیوار پختہ رکھتا، ہر سمت مکان نفیس بنا۔ درمیان باغ کے مقبرہ زیب النسا دختر عالمگیر کا تھا۔ وہ سارا مع تربت کے سنگِ مرمر سے تیار ہوا۔ چھت اور فرش سنگ مرمر کا تھا۔ گرد قبر کے حوض بھی اُسی کا اور ہر طرف تربت کے فوارہ پانی کا۔ چنانچہ ایک فوارے میں میں نے منہ لگا کر پھونکا، دوسرے فوارے سے پانی نکلا۔ بہ سبب بے مرمتی کے گرد جمی تھی بلکہ ہر چیز میں شکستگی آئی۔ اغلب کہ اب بھی اگر کوئی درستی کرے، آب و تابِ اول پر آوے، فوارے بھی جاری ہوویں۔ اس لیے کہ ابھی تک نقصان سے بچے ہیں۔ سبحان اللہ جب تیار ہوا ہو گا، کیا نفیس بنا ہو گا کہ اب تک اس میں وہی رونق باقی ہے۔ طبیعت کو دیکھنے سے فرحت آتی ہے۔ ان دنوں نظام الملک آصف جاہ حاکم حیدر آباد سنگ مرمر وغیرہ وہاں کھدواتا ہے اور اپنے باپ کے مقبرے پر لگاتا ہے۔ اگر چندے یہی حال رہے گا، یہ مقبرہ ویران اور برباد ہو گا۔ ایک دن وہ تھا کہ باپ زیب النسا کا دبدبۂ عالمگیری اور کشور کشائی رکھتا، کسی کو دم مارنے کا امکان نہ تھا۔ آج وہ روز ہے کہ اُس کے لختِ جگر کے مقبرے سے پتھر کھودے لیے جاتے ہیں، خوف خدا دل میں نہیں لاتے ہیں۔ وہ کچھ خبر نہیں رکھتا۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ بموجب مذہب سلیمانی یوسف کمل پوش کے ہر امر ہر ایک وقت پر مقرر ہے، بُرا ہو یا بہتر۔ ایک وقت وہ تھا کہ یہ مقبرہ بنا، ایک یہ ایام ہیں کہ خراب ہوا۔ دنیا مقام پاداش ہے نہ جائے بود و باش۔ اے مغرور! غرّہ نہ کر اپنے کاموں کا کہ ایک وقت سزا پاوے گا۔ اس باغ سے باہر ہے ایک تالاب اور بہت سے باغ اور عمارات قدیمی۔ میں نے ان سبھوں کی گنتی نہ کی۔ سارا دن اُن مکانوں کی سیر میں آخر کیا۔
دوسرے روز حالِ عجیب ایک پہاڑ کا سنا کہ دیوؤں کا تراشا تھا۔ نہایت مشتاق ہو کر اس کی سیر کرنے گیا۔ پہاڑ دیکھا، آدھ کوس کے گھیر میں تھا۔ اُس پر مکانات عالیشان سہ منزلے پہاڑ سے ترشے بنے۔ ستون بھی پتھر کے تھے۔ بُت بڑے بڑے قد آدم بلکہ زیادہ اس سے، سنگ کوہ کے تراشے جا بجا کھڑے۔ ایسا ہی ایک طرف دیو ہرا پہاڑ کا ترشا بنا۔ ہاتھیون پیل قد کے سر پر رکھا۔ وہ بھی پہاڑ سے ترشے تھے۔ قد و قامت میں برابر ہاتھی کے تھے۔ اندر بت خانہ کے ایک بڑا بت سنگی رکھا۔ ہندوؤں میں کیلاس نام اس کا مشہور ہوا۔ برہمن اُس میں رہتے ہیں۔ شام کو چراغ اُس میں جلاتے ہیں۔ باہر سے وہ بت خانہ چھوٹا دکھائی دیتا ہے مگر بھیتر سے جگہ ہزاروں آدمیوں کی اور بہت وسعت رکھتا۔ تصویر جانوروں کی مثل بندر وغیرہ کے ترشی تھیں۔ بخدا میں نے ایسی مورتیں کہیں نہیں دیکھیں۔ در حقیقت یہ کام بشر کا نہ تھا۔ شاید جنات اور دیوؤں نے تراشا۔ حال اس کا سن کر میں قصّہ جانتا تھا، آنکھوں سے دیکھ کر یقین لایا۔ اگر لاکھوں آدمی برسوں تراشتے، ویسی صورتیں اور مکان ہرگز نہ بنا سکتے۔ اندر اُس بت خانہ کے نہر تھی، جاگہ نہانے ہندوؤں کی۔ ہندو ملکون دور دراز سے یہاں آ کر نہاتے ہیں۔ اپنے زعم میں گناہون تمام عمر سے اس غسل سے پاک اور مبرّا ہو جاتے ہیں۔ اسی سیر و تماشے میں پہر دن باقی رہا۔ میں اطراف پہاڑ کما ینبغی نہ دیکھنے پایا، اس لیے قصد شب باشی کا وہاں کیا۔ چھرّے بندوق سے کئی کبک شکار کر لایا، نمک ایک فقیر سے لے کر اُن کا کباب بنایا۔ روغنی روٹی کے ساتھ جو پاس بندھی تھی کھا کر پانی اس چشمہ سے پیا اور مقام کیا۔ رات کے وقت اکثر الّو اور چمگیدڑ اُڑتے اور وہ بت دیوؤں کی طرح ہیبت ناک نظر آتے مگر دیو و پری اصلی کا نشان نہ پایا۔ صبحی اُٹھ کر پھر سیر میں مشغول ہوا۔ اکثر مورتیں ایسی نظر آئیں کہ بعضی سر بعضی دھڑ نہ رکھتیں۔ دریافت ہوا کہ شاہ عالمگیر نے توپ کے گولوں سے اُن کو بے سروپا کیا، کسی کا سر اُڑ گیا، کسی کا پانو اُکھڑ گیا۔ مکانات ٹوٹے، ستون گرے پڑے۔ ایک سمت ایک مکان تھا ترشا پہاڑ کا۔ اس کے گنبد پاس کڑیاں ترشیں پتھر کی لگیں۔ بعینہ کڑیان چوبی معلوم ہوتیں۔ اُس میں ایک بت عظیم الشان تھا۔ وہ مکان کوٹھری بڑھئی کی کہلاتا۔ لوگوں سے معلوم ہوا جس کی یہ سب صنعت ہے اُسی کی یہ صورت ہے۔ ایک نجّار تھا، جس نے پہاڑ تراشا۔ تصویر ایک بخیل کی بڑھئی کی کوٹھری میں کھڑی بہت خوب بنی تھی۔ لاغری اور نحافت سے ہر جوڑ بدن کا نظر آتا۔ ایک روپیہ ہاتھ میں لیے مٹھی زور سے بند کیے تھا۔ دو ہندو وہاں رہتے تھے۔ ان سے میں نے حالات اُس پہاڑ کے پوچھے۔ چونکہ عقل و خرد نہ رکھتے، حال مفصل بیان نہ کر سکے۔ اسی قدر کہا کہ یہ دیوؤں کا کام ہے، ہزاروں برس سے بنا۔ اُس صحرا میں ایک تالاب بھی تھا اور میدان میں وسعت زیادہ۔ اس قرینے سے مجھ کو ثابت ہوا کہ سابق وہ مقام عملداری ہندوؤں میں آباد ہوا ہو گا۔ گردشِ زمانہ سے اب ویران ہوا۔ نام و نشان باقی نہ رہا۔ میں نے بہت ملکوں میں سفر کیا مگر ویسے بت اور بت خانہ اور پہاڑ کہیں نہ دیکھے۔ لہٰذا بندہ شائقوں کو اطلاع دیتا ہے کہ جو کوئی اورنگ آباد کی طرف جاتا ہے اس کو چاہیے کہ اس پہاڑ پر جاوے۔ سیر و تماشا وہاں کا ضرور دیکھے۔ اورنگ آباد سے اُتر طرف تھا۔ بارہ کوس فاصلہ رکھتا۔
وہاں سے پھر قلعہ دولت آباد میں آیا۔ صورت اُس کی یہ کہ ایک پہاڑ تھا انڈے کی طرح نیچے سے کم عرض اوپر سے چوڑا۔ حاکموں نے تراش کر اس کا قلعہ اور مکان بنوایا۔ جا بجا توپیں لگیں، بلندی میں ہمتائے چرخِ بریں۔ اگر اس قلعہ میں کوئی مثل انگریزوں کے بندوبست کرتا، کسی کو یارائے مقابلہ اُس سے نہ ہوتا۔ اب اس میں قبضہ نظام الملک کا ہے۔ ویران اور خراب پڑا ہے۔ حفاظت کے لیے برائے نام سو سپاہی نجیب دروازہ پر بیٹھے ہیں۔
عجب سپاہی کہ بندوقیں ان کی زنگ آلودہ، کپڑے کالے، میلے کچیلے پہنے ہیں۔ جب میں نے وہاں پہنچ کر اندر جانے کا قصد کیا، انھوں نے روکا کہ بے اجازت اور پروانگی نظام الملک کے کسی کو حکم نہیں اندر جانے کا۔ اس سبب سے میں اندر اُس کے جا نہ سکا۔ باہر سے بلندی اور وسعت اس کی دیکھتا رہا۔ گرد دولت آباد کے دیوار شہر پناہ پختہ ہے، آٹھ سات ہزار آدمی اس میں بستا ہے۔ جب فقیر ان سیروں سے فراغت کر چکا، اورنگ آباد میں جس فقیر کے مکان پر اُترا تھا آنے کا ارادہ کیا۔ راہ میں ایک عورت نوجوان مرہٹن پری زاد، زعفرانی اطلس کے کپڑے پہنے ہوئے ملی۔ نیزہ ہاتھ میں لیے ایک کمیت گھوڑے پر سوار جاتی تھی۔ شعر:
جمالش چو در نیم روز آفتاب کرشمہ کناں نرگسِ نیم خواب
عجب حسن و جمال درخشاں رکھتی کہ دیدۂ خورشید نے اس کی طرف ٹکٹکی باندھی۔ چہرہ اس کا درمیان بالون عنبریں کے یوں چمکتا جیسے سورج کالی گھٹا سے نکلا۔ زیور خورشید طلائی بالوں میں گندھا عجب کیفیت دکھاتا۔ انداز اُس کا معشوقانہ تھا، دل دیکھتے ہی لوٹ جاتا۔ جدھر آنکھ اُٹھا کر دیکھتی، فتنہ بپا کرتی۔ فقیر جونہی چار چشم ہوا، آئینہ ساں حیران ہو کر دیکھتا رہا۔ جب قریب آ پہنچی، میں نے بے اختیار شوق سے یہ بات کہی: اگر اجازت پاؤں کچھ آپ کی خدمت میں عرض کروں۔ نگاہ تیز سے میری طرف دیکھا اور اشارے سے حکم کیا۔ میں نے کہا: اُس مصور بیچوں پر صد آفریں کہ تیری یہ تصویر کھینچی نازنین۔ اس کلام سے وہ معشوقہ ہنس کر کہنے لگی: اے فقیر صاحب کمال! سچ بتا کہ عمل مرہٹوں کا ہندوستان میں کب ہوگا اور کتنے دنوں میں انگریزوں پر زوال آوے گا۔ میں نے کہا: اے جان! جب میرا نکاح تیرے ساتھ ہووے گا، عمل انگریزوں کا ہندوستان میں نہ رہے گا۔ اُس نے کہا: فقیر کو نہ چاہیے ایسی خوش طبعی اور استہزا۔ میں نے کہا: تمھاری خاطر نازک میں رنج نہ آوے۔ سابق میں رہتا تھا بیچ صحبت پریوں کے۔ ہر وقت ان کے جمال کا تماشائی اور ہم کلام تھا۔ شامت اعمال سے وہاں سے نکلا۔ پھر وہاں جانے کی آرزو رکھتا ہوں۔ خدا سے استمداد چاہتا ہوں۔ یعنی انگلستان میں تھا۔ وہاں کی رنڈیون پری وشوں کا جمال دیکھتا۔ اس وقت جو تجھ کو دیکھا، دل میں ولولہ آیا۔ اس سبب سے حرفِ شوق بے اختیار زبان سے نکلا۔ بعد اس گفتگو کے اُس معشوقہ رعنا نے ہوا کی طرح گھوڑا تیز کیا اور یوسف حلیم کمل پوش آہ و فغاں کرتا اورنگ آباد کی طرف چلا۔
جب قریب شہر آ پہنچا، ایک پرانا مقبرہ دیکھا۔ وسعت اور صفائی خوب رکھتا۔ دو تربوز مول لے کر پانی اُن کا پیا۔ اتنے میں ایک فقیر جو وہاں رہتا تھا ملا، بہت اخلاق سے پیش آیا۔ حقہ پانی سامنے لایا تخمیناً نود سالہ تھا مگر سن اپنا سو برس کا بتلایا۔ نور الٰہی پیشانی اس کی سے چمکتا۔ عقل و دانائی سے بہرہ کامل رکھتا۔ ایسا خوش زبان اور شیریں بیان تھا کہ بندہ صحبت اُس کی غنیمت سمجھا۔ اُس مقبرہ میں دو قبریں تھیں۔ ساتھ ساتھ اُس کے جا کر دیکھیں۔ حال قبروں کا پوچھا۔ اُس نے جواب دیا کہ میں نے حال صاحب قبر کا اپنا سا پایا ہے۔ اس سبب سے یہاں رہنا اختیار کیا ہے۔ اسی گفتگو میں تھا کہ میں نے ایک تربوز اُس کے آگے رکھا اور تنباکو تھوڑا اپنے پاس سے نکال چلم بھر اس کے آگے کیا اور مستفسر حال اس کے کا ہوا۔ اُس مرد دانا نے مجھ کو فقیر جان کر کہا: اگرچہ میں یہ شیوہ و عادت نہیں رکھتا ہوں کہ کسی سے حال اپنا بیان کروں، لاکن تم کو زیادہ شائق پاتا ہوں قصہ اپنا کہہ سناتا ہوں۔ میری کیفیت یہ ہے کہ لڑکپن سے جوانی تک سایہ پدری میں فارغ البال اور آسائش سے رہا۔ سوائے تلاوت قرآن شریف اور تحصیلِ فنونِ سپہ گری کے پچیس برس تک کوئی کام نہ رکھتا۔ باپ میرا نظام الملک کی سرکار میں امتیازیوں میں نوکر تھا بلکہ اُس زمانہ میں کوئی بسبب آسودگی کے نوکری کی پروا نہ رکھتا۔ رئیس قدر دان جویائے اہل سیف و قلم کے رہتے، ہر ایک کی بقدرِ لیاقت عزت کرتے۔ سلطنت ہندوستان میں انگریزوں کا کچھ دخل نہ تھا، کوئی ان کا نام و نشان نہ جانتا۔ حسب اتفاق ایک میرے عزیز کی برات تھی، محفل رقص و سماع گرم ہوئی۔ میں بھی بمقتضائے قرابت شریکِ صحبت ہوا، ناچ ایک رنڈی کا دیکھتا رہا۔ نام اُس کا تراب کنور تھا۔ ایک بارگی تیر عشق اُس کے کا دل میں لگا۔ تمام رات اُس کے منہ پر ٹکٹکی باندھے رہا اور پوشیدہ اُس سے کہا کہ فلانے دن میں کسی باغ میں محفل جماؤں گا، دوست آشناؤں کو بلاؤں گا۔ چاہتا ہوں کہ تم بھی اُس دن شریکِ محفل ہو، حال دوستون پر مہربانی کرو۔ اُس نے کہا بہت اچھا ضرور آؤں گی۔ مجھ کو تو بے تابی تھی۔ بروز مقرر مجلس آراستہ کی۔ دوستوں کو تکلیف تشریف آوری کی دی۔ تراب کنور بموجب وعدہ آئی۔ رات بھر محفلِ عشرت گرم رہی۔ اس صحبت میں مجھ کو اُس پر اور زیادہ شیفتگی ہوئی۔ بہت سا زرِ نقد خرچ کیا۔ ذائقۂ وصال سے چاشنی یاب ہوا۔ دل یہ چاہتا کہ جس طرح سے قابو پاؤں اُس کے ساتھ نکاح کر لوں۔ والد بزرگوار نے یہ حال سنا۔ وعظ و نصیحت سے سمجھایا اور اس امر بےجا سے تابمقدور منع کیا۔ جب میرے خیال میں نہ آیا، لاچار انھوں نے بہت رُپیا خرچ کر کے اس رنڈی کے ساتھ میرا نکاح کر دیا۔ مدت تک میں عیش کرتا رہا، اُس کی صحبت سے حظ زندگی اُٹھاتا۔ بعد چند روز حضرت قبلہ گاہی نے کار سرکاری پر قضا کی، ساری جمع اُن کی میرے ہاتھ لگی۔ میں اس روپے کا ملنا غنیمت سمجھا، دوستوں کی مہمانداری میں مشغول ہوا۔ ایک سال میں سب اُڑایا۔ اس عرصہ میں اُس رنڈی کا دل ایک حریف ہم صحبت پر آیا، بد بات کا سامنا ہوا۔ چونکہ مجھ کو اُس کے ساتھ عشق تھا، حرفِ شکایت زبان پر نہ لایا۔ جب سب نقد و جنس خرچ ہو چکا، خوابِ غفلت سے سمجھ کر چونکا۔ ایک گھوڑا باقی تھا، اُس پر سوار ہو کر تلاش روزگار کو نکلا۔ سعی سفارش چاہنے لگا۔ سوائے بیس تیس روپے کے روزگار میسر نہ آتا۔ سخت حیران ہوا مگر اُس کو نہ اختیار کیا۔ اس وقت اس رنڈی نے بھی راہِ بے مروتی میں قدم رکھا۔ ترکِ محبت کا قصد کیا۔ میں نے کہا تجھ سے میرا نکاح ہوا ہے، تو نے مفارقت کا کس طرح ارادہ کیا ہے۔ جواب دیا ہم نے نکاح کو بالائے طاق رکھا۔ جب تک تو مال رکھتا، قابلِ صحبت تھا۔ اب اوقات گزاری کیوں کر کرے گا۔ دوست آشنا بھی جو شریکِ خوان تھے آنکھ چرانے لگے۔ لاچار بندے نے دنیائے دوں سے دل اٹھایا۔ اس گوشے میں بیٹھ رہا۔ نظم:
جہاں را ندیدم وفاداریے نخواہد کس از بیوفا یاریے بریدم ز ہر آشنائے شمار بس ست آشنائے من آمرزگار
اب میں یہاں رہتا ہوں۔ خداوند تعالیٰ کو اپنا رفیق جان کر چاہتا ہوں کہ ساری عمر اس جا رہوں اور بعد مرگ یہیں دفن ہوں۔ حال ان دو قبروں کا یہ ہے کہ ایک قبر اس میں سے ایک رئیس زادہ کی ہے۔ دوسری قبر کتّے کی۔ میں نے کہا قبر کتّے کی آدمی کے برابر بنانا کیا ضرور تھی۔ تب اُس نے یوں حقیقت حال کہی کہ حیدرآباد میں ایک امیر صاحبِ ثروت تھا۔ سرکار نظام الملک سے در ماہہ بیش قرار پاتا۔ سوا اس کے پانسو گھوڑے اپنی سرکار میں داغ کروائے۔ بارگیر ان پر مقرر کیے۔ یہ فائدہ علاوہ درما ہے اس کے سے تھا۔ ایک بیٹا عاشق مزاج رکھتا۔ بعد مرنے اُس امیر کے سارا مال و متاع بیٹے کے ہاتھ لگا، وہ نوجوان اور کمسن تھا۔ چندا بائی کی ایک نوچی پر عاشق زار ہوا۔ تھوڑی مدت میں سب مال و اسباب لٹایا۔ جب نقد و جنس باقی نہ رہا، گھوڑوں کو بیچا۔ آخر چندو لال نائب نظام الملک نے اُس کی بد وضعی سے آگاہ ہو کر نوکری سے معزول کیا۔ ناچار یہ شخص بھی حیران پریشان ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا۔ ملکون دور و دراز میں مثل شاہجہاں آباد، اکبر آباد وغیرہ بتلاشِ روزگار پھرتا رہا اور ایک کتّا ولایتی ساتھ لیا، نام اُس کا شیرا تھا۔ حسبِ اتفاق کہیں روزگار خاطر خواہ نہ ہوا۔ اورنگ آباد آ کر بسبب مفلسی کے گھوڑا بیچا اور کنجِ عزلت میں گوشہ نشین ہوا۔ نوبت فقر و فاقہ کی پہنچی۔ بہ سبب امارت مزاج کے طبیعت کسی سے سوال کرنے کو نہ چاہتی۔ کتّا ولایتی جو رفیق تھا۔ رات کو نکلتا، نان بائیوں کی دکان سے روٹی مونھ میں لے کر اپنے مالک پاس لاتا۔ نان بائی کتّے کی چالاکی سے حیران تھے۔ پتہ اور نشان نہ پاتے۔ اورنگ آباد میں شہرہ ہوا تیزی اور چالاکی کتّے کا۔ لوگوں نے پکڑنے اُس کے کا فکر کیا۔ وہ کتّا دن کو باہر نہ نکلتا اس سبب سے کسو نے اس کا پتا نہ پایا۔ بعد چند روز کے اورنگ آباد میں چکلہ دار نیا سرکار نظام الملک سے مقرر ہو کر آیا۔ اس گوشہ نشین کے بزرگوں اور حال ریاست اُس کے سے خوب آگاہ تھا۔ اس شخص نے ایک پرچہ کاغذ پر حال اپنا لکھا اور اس کے پاس بھجوایا۔ حاکم نے اطلاع پا کر بہت عزت سے اُس کو اپنے پاس بلایا۔ حسبِ لیاقت درماہہ مقرر کیا اور اپنی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا۔ تائید بخت سے پھر امیر ہوا۔ تھوڑے دنوں بعد کتّا مرا، صاحب اپنے کو داغِ مفارقت دے گیا۔ اُس نے بہت ماتم کیا۔ عزّت و آبرو سے آدمیوں کی طرح یہاں دفن کیا اور مقبرہ بنوا دیا۔ برابر اُس کی قبر کے اپنے لیے قبر کی جگہ تجویز کی اور وارثوں سے وصیت کر دی کہ بعد از مرگ مجھ کو بھی یہیں دفن کیجیو، یہ قول میرا یاد رکھیو۔ نہیں تو فردائے قیامت تمھارا دامن گیر ہوں گا، درگاہ خدا میں تمھاری نالش کروں گا۔ انھوں نے اقرار کیا کہ تمھارا کہنا عمل میں آوے گا۔ بعد چند روز وہ بھی مر گیا۔ بموجب وصیت وارثوں نے اُس کو یہاں لا کر دفن کیا۔ ان دونوں قبروں سے ایک قبر اُس کی ہے، دوسری قبر کتّے کی۔ حال اس شخص کا میرے حال سے مشابہت رکھتا ہے اس سبب سے یہ فقیر یہاں کا مجاور ہوا ہے، تابہ زندگی یہیں رہے گا۔ بعد مرنے کے بھی یہیں دفن ہو گا۔ دوستوں سے وصیت کر چکا ہوں کہ بعد مرنے کے مجھ کو اسی مقبرہ میں دفن کر دیں، یہ کلام دھیان رکھیں۔ اُس شہر میں وہ مقبرہ کتّے کا مشہور تھا۔ میں نے یہ حال سن کر دل میں خیال کیا، کیا اچھا کتّا تھا کہ اپنے مالک کا حق نمک ادا کیا۔ بلکہ اس نے ایسی رفاقت کی کہ عزیزوں قریبوں سے نہ ہو سکتی۔ گو کتّا تھا پر سیرت میں آدمی سے اچھا تھا۔ خیال آیا میں بھی یہاں بیٹھ رہوں، اس درویش صاحب کمال سے جدا نہ ہوں۔ پھر دل نے کہا: اے یوسف کمل پوش! اوقات اپنی یہاں بیٹھ کر ضائع کرنا سیرون جہاں سے محروم رہنا ہے۔ لنجوں کی طرح بیٹھنا، اوروں کے ہاتھ تاکنا جواں مردی سے بعید ہے۔ تماشائے جہاں قابلِ دید ہے۔ چل پھر کر کوششِ بازو سے کچھ پیدا کیا چاہیے۔ غریب و غربا کو اپنی وجہ سے آرام پہنچانا چاہیے۔ مثل شیروں کے شکار کر کے آپ کھا اور اوروں کو کھلا۔ نہ اپنے تئیں گیدڑ کی طرح پست حوصلہ بنا۔ دل کے سمجھانے سے میں اُس ارادہ سے باز آیا۔ اپنے اوپر جبر کر کے اس فقیر سے رخصت ہوا۔
اورنگ آباد میں اس فقیر کے مکان پر آیا جس کے پاس گٹھری اور لوٹا چھوڑ گیا تھا۔ اُس سے ملاقات کی اور گٹھری اپنی مانگی۔ وہ ظاہر میں فقیر باطن میں چور تھا۔ شیطان کو تعلیم برائیوں کی کرتا۔ چیں برجبیں و ترش رو ہو کر کہنے لگا: تم اپنا اسباب لو، اسی وقت میرے مکان سے نکلو۔ تم چور اور راہزن معلوم ہوتے ہو۔ اگر نہ مانو گے، کوتوالی چبوترے میں کہہ دوں گا۔ قید ہو گے۔ ہر چند میں نے کہا: حضرت مجھ سے کیا قصور ہوا جو باعثِ خفگی ٹھہرا۔ انھوں نے کچھ نہ سنا، اُسی غصہ میں گٹھری لا دی۔ میں نے کھول کر دیکھی تھیلی پیسوں اور چپٹے شیشے کی، منھ پر لاکھ بدستور لگی تھی۔ مگر مہر میرے نام کی بالکل بگڑی۔ ظاہراً اُس درویش مکّار نے تھیلی روپے اشرفی کی سمجھی۔ لاکھ جس پر مہر میری لگی تھی توڑ کر تھیلی کھولی۔ جب اس میں کچھ جمع نہ دیکھی، شرمندہ ہو کر لاکھ بدستور جما دی۔ مگر مہر میری اُس کے پاس نہ تھی، وہ کیوں کر بن سکتی۔ اس سبب سے حرف مہر کے مٹے تھے۔ ہم دیکھتے ہی دریافت کر گئے کہ اس نابکار کو برد ہاتھ نہ لگی۔ اس لیے دل میں رنجش آئی۔ اصل یہ ہے کہ مجھ کو تجربہ اُس کی دیانت داری کا منظور تھا۔ ورنہ شیشے کی گولیوں کو چپٹا کر کے پیسوں کے ساتھ بھرنا کیا ضرور تھا۔ اب اے صاحبان عقل و شعور! ملاحظہ فرماؤ کہ ان لوگوں نے ظاہر میں فقیری کا جامہ پہنا ہے، باطن میں چوری اور غارت گریٔ خلق مدعا ہے۔ نہیں تو فقیر کو کیا کام تھا کہ میری گٹھری غائبانہ کھول کر دیکھتا۔ میں نے اکثر فقیرون ہندوؤں کو دیکھا کوئی اُلٹا درخت سے لٹکا، کوئی شدّت گرمی میں آگ میں بیٹھا۔ اسی طرح فقر ائے اہل اسلام کو بھی اپنے طور پر عبادت میں غرق پایا۔ آخر جب امتحان کیا، سب کا مکر و فریب پایا۔ جب وہ فقیر شیطان سیرت نہایت بدمزہ ہوا۔ اُس کے مکان کے قریب ایک کھنڈر تھا، اسباب اپنا بندہ وہاں اُٹھا کر لے گیا اور گھوڑے کی تلاش کرنے لگا۔ ایک شخص حیدرآباد کا رہنے والا نوکر نظام الملک کا اورنگ آباد میں تعینات تھا۔ اُس سے حال خرید و فروخت گھوڑوں کا پوچھا۔ اُس نے مجھ کو اپنا ہم وطن سمجھ کر بہت خاطر داری کر کے کہا: اندک صبر کرو اور چندے یہاں رہو۔ میں تمھارے لیے گھوڑا قدم باز ٹھہرائے دیتا ہوں۔ جہاں سے بنتا ہے تلاش کیے لاتا ہوں۔ پھر کہا ایک گھوڑا چہار سال فلانے جمعدار پاس ہے۔ ہاتھ پاؤں سے صاف ہے۔ مگر عیب نحوست رکھتا ہے۔ جو اس کو مول لیتا ہے، نوکری سے برطرف ہوتا ہے اور اس کے گھر کوئی مر جاتا ہے۔ اس لیے میں تمھارے واسطے نہیں لے سکتا۔ ورنہ بہت خوب ہے اور قیمت مناسب پر ٹھہر جاتا۔ جس نے ان دنوں اُس کو مول لیا تھا، نوکری سے چھٹ گیا اور لڑکے اُس کے نے انتقال کیا۔ اب وہ ارادہ رکھتا ہے کہ گولی بندوق سے اُس کو مار ڈالے۔ میں یہ سنتے ہی اُس کا طالب ہوا اور بیس روپے کو مول لیا۔ بہ جہت نحوست فہمی اُس شخص کے بھوکوں کا مارا تھا، میرے پاس دانہ گھاس پیٹ بھر کھا کر قد و قامت خوب نکالا۔ میں چند روز وہاں رہا۔ کوچہ و بازار کا تماشا دیکھا۔
ایک دن عالمگیر اورنگ زیب کی بی بی کے مقبرے پر گیا۔ فرش اور چھت سنگ مرمر کا تھا۔ اگرچہ بسبب کہنگی کے آب و تاب اولیٰ نہ رکھتا مگر تاہم بہتر اور نقشہ اُس کا مانند روضۂ تاج بی بی کے تھا۔ کاریگری اور صنعتوں کے سوا وہ صناعی میں اس سے کہیں زیادہ۔ اورنگ آباد پہاڑ کے نیچے بسا ہے۔ دیوار شہر پناہ اور دروازہ آمد و رفت کا پختہ بنا ہے۔ اب جا بجا سے اس میں بھی نقصان آیا۔ زمانہ سابق میں خوب آباد ہو گا۔ اس سر زمین میں میوے تروتازہ مثل نارگی و سیب وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اس زمین کو تیار کرے، میوے ولایتی پیدا ہوویں۔ اس زمانہ میں مکان اور عمارت اس کی ٹوٹی پھوٹی ہے۔ رئیسوں سے نام و نشان نہیں باقی ہے۔ مگر رہنے چکلہ دار کے سے البتہ آبادی ہے۔ اس کے نوکرون ذی رتبہ سے جو وہاں رہتے ہیں سپید پوشی ہے۔ شام کو چوک میں جماؤ ہوتا ہے۔ ہنگامہ خرید و فروخت اسباب گرمی پاتا ہے۔ رنڈیاں سات سنگار کرکے اپنے اپنے کوٹھوں کھڑکیوں پر بیٹھتی ہیں، اپنے تئیں آراستہ کر کے راہیوں کو دکھاتی ہیں۔ مرد نوجوان تماش بین گھوڑوں پر سوار ہو کر بناؤ کر کے آتے ہیں، گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ رنڈیوں سے اشارے کنائے کرتے جاتے ہیں۔ ان کا حال دیکھ کر مجھ کو افسوس آیا کہ ان میں اور لندن کے لڑکے اور جوانوں میں فرق ہے زمین و آسمان کا۔ یہ لوگ اپنی اوقات بیجا باتوں میں برباد کرتے ہیں۔ وہ عاقل ایک لحظہ تحصیل علم و ہنر سے خالی نہیں رہتے ہیں۔ اسی سبب سے اِن کے لیے ہمیشہ ذلت و خواری بڑھتی ہے، اُن کے واسطے ہمیشہ رونق اور ترقی ہوتی ہے۔
بعد اس سیر و تماشے کے کپتان جاکس صاحب کے مکان پر گیا۔ ان کے نام کا خط تامس صاحب کا لکھا میرے پاس تھا۔ وہ اُس وقت گھر میں تشریف نہ رکھتے۔ کہیں گئے تھے۔ میں ٹھہر گیا، ان کے آنے کا منتظر ہوا۔ ایک ساعت کے بعد اپنی میم صاحب کے ساتھ بگھی پر سوار آئے۔ میرا حال پوچھ کر بہت عنایت سے پیش آئے۔ شکوہ و شکایت کرنے لگے کہ تم اتنے دنوں سے اس شہر میں آئے تھے، پہلے سے ہمارے پاس کیوں نہ چلے آئے، ہم تمھارے لیے خیمہ کھڑا کروا دیتے، مکانات عمدہ اور عجائبات اس شہر کے تم کو دکھلاتے۔ میں نے جواب دیا: میرے آنے سے تم کو یہ سب تصدیعہ ہوتا، اس سبب سے میں نے اب تک حاضر ہونے میں تامل کیا۔ شام کے وقت کھانا منگوایا۔ آپ مع میم صاحب کے میرے ساتھ کھانا کھایا اور نہایت اصرار سے مجھ کو کھلایا۔ ان کی میم مزاج خلیق رکھتیں۔ تھوڑے دنوں سے ان کے نکاح میں آئی تھیں۔ ان دونوں میاں بیوی نے میرے حال پر بہت عنایت فرمائی۔ ساری رات ان کی صحبت میں گزری۔ ایلچ پور
صبحی ان سے رخصت ہو کر اپنے کھنڈر میں آیا۔ گھوڑے نو خرید پر سوار ہو کر ایلچ پور چلا۔ راہ میں اندارے زینہ دار پختہ دیکھے، بہت خوب اور مستحکم بنے۔ مگر بعضے قابل پانی پینے کے تھے، بعضے خراب پڑے۔ سبب اس کا یہ کہ مسافر نالائق جو اس راہ سے نکلتے، انھیں کنووں میں زینے سے اتر کر گوشہ سمجھ بول و براز کرتے تھے۔ اس واسطے بعضوں کا پانی بدبو کرتا، کثیف اور خراب پڑا تھا۔ اس راہ میں اکثر کوہستان تھا۔ سننے میں آیا کہ بسبب رہزنوں کے گزر مسافروں کا اس راہ میں دشوار تھا۔ مگر اب انگریزوں کی شکایت سے نظام الملک نے حفاظت راہ کے لیے جا بجا سوار مقرر کیے ہیں۔ کنوؤں پر اکثر چوکی پہرے بٹھلائے ہیں تاکہ مسافر با امن و امان راہ سے گزریں، انداروں میں بول و براز نہ کریں۔ انگریزوں کی عقل کو سراہا چاہیے کہ انھوں نے اپنی عملداری میں اور غیروں کے ملک سے راہزن اور ڈکیت نکلوا دیے۔ تمام راہ زمین قابل زراعت نظر آئی۔ مگر ظلمِ عاملون سے خراب پڑی تھی، رعیت برباد ہو کر اجڑ گئی۔ کہیں بھی خوب آبادی نہ تھی، بلکہ گانوں کے گانوں اجڑے پڑے تھے۔ مواضع آبادان مسکنِ دام ودد ہوئے۔ اگر کوئی تردد اس زمین کا کرے، منفعت قرار واقعی ہوئے۔ عامل کو تہ اندیش ناعاقبت بیں، رعیت کا اسباب لوٹ لیتے ہیں۔ اسی کو منفعت سمجھتے ہیں۔ غافل اس بات سے کہ در حقیقت ملک اجاڑتے ہیں، نقصان سرکار کا کرتے ہیں۔ اگر ملک آباد اور تردد زمین کا ہوتا اس سے چار چند روپیہ آتا۔
یہ حالات دیکھتے چلتے چلتے بڑوڑ میں آیا۔ اورنگ آباد سے پانچ کوس تھا۔ دوسرے دن دس کوس چلا، ویاڑی میں آ پہنچا۔ وہاں سے دس کوس کے بعد جعفر آباد میں آ کر ٹھہرا۔ یہ موضع بہ نسبت اور گانو کے آباد پایا۔ ایک پرانا قلعہ اور تالاب اس میں بنا تھا۔ بسبب عرصہ کھچنے بارش مینہ کے پانی کم رہا تھا۔ جعفر آباد سے دس کوس آگے بڑھا، چکلے میں آیا۔ وہاں سے سات کوس چل کر امر پور پہنچا۔ وہاں سے لکھن بارہ جو سات کوس تھا آیا۔ پھر نو کوس راہ چلا، بڑگانو میں داخل ہوا۔ وہاں سے سات کوس کی منزل طے کر کے اکولا میں رات کاٹی۔ اکولا سے قبضہ دہنڈا میں آیا، نو کوس کا فاصلہ تھا۔ وہاں سے دس کوس بعد کپس تلی میں آیا۔ کپس تلی سے گیارہ کوس بڑھا، ایلچ پہنچا۔ یہ راستہ مانند سڑک ملک انگریزی کے برابر اور صاف نہ تھا۔ میں نے بسبب نشیب و فراز راہ کے اور گڑھوں اور پہاڑ کے رنج بہت پایا۔
ایلچ پور قریب پہاڑ کے واقع ہوا ہے۔ معتدل یہاں کی آب و ہوا ہے۔ زمانۂ سابق میں اغلب کہ خوب آباد ہوگا، اس لیے کہ اب تلک بھی کچھ آباد و معمور تھا۔ عمارت اور مکان قدیمی گر گئے مگر آبادی سابق سے خبر دیتے۔ یہاں فوج نظام الملک تعینات رہتی ہے، قواعد انگریزی سیکھتی ہے۔ انگریز قواعد سکھانے کے لیے نوکر ہوئے ہیں۔ یہاں کا لشکر درماہہ ماہ بماہ سرکار سے پاتا ہے۔ قریب پہاڑ کے ایک میدان خوب صاف ہے۔ اس میں چشمہ پانی کا شیریں اور شفاف ہے۔ پہاڑ پر ہر قسم کے جانور شکاری موجود تھے جیسے ہرن، نیل گائے، پاڑھے۔ اگر کسی کا اس راہ سے گزر ہو اور شوق شکار کا اس کو بیشتر ہو، چاہیے کہ اس پہاڑ پر جاوے، جانوروں کا شکار کرے۔ اس واسطے کہ وہ جگہ نفیس اور نادر ہے، محل تماشائے قدرت قادر ہے۔ غریب آدمی اس جنگل اور پہاڑ سے بانس اور لکڑیاں وغیرہ کاٹ کر بیلوں پر لاد لاتے ہیں، شہر میں لا کر بیچ جاتے ہیں۔ اسی طرح سے اوقات گزاری اپنی کرتے ہیں۔ میں نے دو تین دن ایلچ پور میں مقام کیا۔ سیر و شکار میں مشغول رہا اور بسبب تکلیف راہ کے ایک آدمی صاحب خان نامی نوکر رکھا۔ ناگپور
بعد اس کے ناگپور چلا۔ اول منزل دس کوس چل کر چاند آور میں آیا۔ وہاں سے نو کوس راہ طے کر کے نیر میں پہنچا۔ راہ میں بسبب کمی بارش کے کنویں سوکھ گئے تھے، لہذا پانی کی طرف سے تکلیف کھنچتے رہے۔ سوا اس کے ساری راہ میں جنگلا تھا اور خوف و خطر شیر اور چیتے اور جانورون درندہ۔ کہیں عمل نظام الملک کا، کہیں کسی راجہ کا، کہیں کہیں انگریزی تھا۔ نیر سے دس کوس چلا قصبہ وردہ میں آیا۔ وہاں سے گیارہ کوس کے بعد کرنجہ میں پہنچا۔ وہاں سے گیارہ کوس آگے چلا، کنڈل واری میں آیا۔ دس کوس آگے بڑھا، دامنہ تک آیا۔ دس کوس آگے چلا، ناگپور پہنچا۔
شہر سے باہر ایک سرا میں اترا، نزدیک اس کے ایک تالاب دلچسپ تھا۔ چونکہ اس سال مینہ کم برسا۔ پانی کنوؤں کا خشک ہوا، اس لیے زن و مرد شہر کے اسی تالاب سے پانی بھر لے جاتے۔ ناگپور سے دو تین منزل پیشتر میں نے بازار گانو میں سنا کہ ایک شیر ہے، مسافروں کو ہلاک کرتا مگر گانو کے آدمیوں کو نہیں ستاتا۔ گائے بکریوں کو نہ کھاتا۔ اس کے پکڑنے کے لیے ناگپور کے راجہ نے قریب سو پیادوں کے مقرر کیے تھے۔ وہ لوگ کہیں پتا اور سراغ شیر کا نہ پاتے۔ اس سے مجھ کو ثابت ہوا کہ وہ شیر نہ تھا بلکہ کوئی رہزن اپنے تئیں صورت شیر بنا کر مسافروں کو مارتا اور اسباب ان کا لوٹ لے جاتا۔ اگر میں کچھ دنوں وہاں رہتا اور دو تین آدمیوں کو شریک حال اپنا پاتا،اس رہزن شیر لباس کا پتا لگاتا اور ضرور اس کو گرفتار کرتا۔ بسبب تنہائی اور رواروی راہ کے لاچار پڑا۔ ظاہراً وہ شخص وہاں کے حاکم سے سازش رکھتا۔ ورنہ کیا امکان کہ پتا اس کا نہ لگتا۔
ناگپور کے قرب وجوار سب زمین ریگستان اور کوہستان ہے اور جا بجا شور، زراعت کا اس میں نہیں نام و نشان ہے۔ انھی وجہوں سے اس شہر میں شدت حرارت ہے۔ آدمیوں میں مثل وحشیوں کے ہرگز نہ آدمیت و لیاقت ہے۔ مکانات ان کے مانند ڈھابلی کبوتر اور مرغوں کے تنگ و تاریک تھے۔ طرفہ یہ کہ راجہ کے مکانات ویسے ہی بنے۔ میں نے جب راجہ کا مکان دیکھا، قید خانہ نیو کیڈ لندن کا یاد آیا کہ وہ بھی اس سے سو گنا بہتر تھا۔ اس کے مکان کے سامنے ایک میدان پڑا۔ شام کو راجہ اپنے مکان کے باہر آ بیٹھتا۔ میدان میں سوار متلاشیٔ روزگار جمع ہوتے، اپنے اپنے کمال اور کرتب دکھلاتے۔ راجہ جس کسی کو پسند کرتا نوکر رکھ لیتا۔ سوار و پیادہ راجہ کے نوکر وردی انگریزی پہنے تھے، عجب بد قطع جانور کی شکل معلوم ہوتے۔ رستے بازار کے نہایت تنگ تھے۔ شام کو مرہٹے عزت دار گھوڑوں پر سوار سیر کرنے آتے۔ ان کی ایسی قطع حماقت کی تھی کہ حماقت چہروں سے برستی۔ ایک پرانا قلعہ تھا، اس میں لشکر انگریزوں کا رہتا۔ اگرچہ وہ قلعہ قابل تعریف کے نہیں، مگر انگریزوں نے اس میں توپیں جمائیں۔ شہر سے تین کوس نکل کر دریائے کابٹی ہے۔ اس کے نزدیک فوج انگریزی کی چھاؤنی ہے، سوار پیادے اور توپ خانہ اور بہت گورے اس میں رہتے ہیں۔ بسبب قرب کابٹی کے اس کو چھاؤنی کابٹی کہتے ہیں۔
عمر راجہ ناگپور کی تخمیناً تیس برس کی ہے۔ طبیعت اس کی مائل عیش و عشرت ہوئی ہے۔ ایک مکان رنڈیوں سے بھرا ہے۔ اب تلک تلاش اوروں کی رکھتا ہے۔ چنانچہ حال میں ایک رنڈی نہایت حسین بنارس سے آئی تھی۔ راجہ کے منظور نظر ہوئی۔ ایسا اس پر فریفتہ اور مبتلا ہوا کہ ایک لحظہ مفارقت اس کی گوارا نہیں کرتا۔ جو کچھ اس رنڈی کو منظور ہوتا ہے، بدل و جان اس کو بجا لاتا ہے۔ بموجب حکم اس کے کبھی باغ میں جاتا ہے، کبھی قریب تالاب کے مکان بنواتا ہے۔ غرض کہ بہر صورت اس کی اطاعت میں ایسا مصروف رہتا ہے کہ عقل میں نہیں آتا ہے۔ شہر میں کوئی ہتیار باندھے نہیں نکل سکتا ہے۔ یہ حکم راجہ کا ہے۔ شہر سے باہر ایک تالاب اور تھا۔ دونوں تالابوں پر چوکی پہرہ بیٹھا۔ آدمی یا جانور کو حکم نہانے بلکہ پانو دھونے کا ان میں نہ تھا۔ جس کا جی چاہتا، پانی پینے کا البتہ وہاں سے لے جاسکتا۔ کامٹی
ایک دن بندہ چھاؤنی کابٹی کا تماشا دیکھنے گیا۔ قبریں انگریزوں کی دیکھ کر سخت ملول ہوا کہ یہ لوگ کس قدرراہ دور و دراز سے بامید بہبود یہاں آئے ہوں گے۔ کامیاب ہوکرارادہ پھرنے ملک اپنے کا رکھتے ہوں گے مگر صیادِ اجل نے مہلت نہ دی، وطن جانے کی نوبت نہ آئی۔ اسی حال میں دوست لندن کے یاد آئے، آنسو بے اختیار بہے۔ بعد ایک ساعت کے خیال آیا کہ اس رنج و غم سے فائدہ کیا۔ بہتر یہ ہے کہ دوا دلِ غمگین کی کروں اور طبیعت کو بہلاؤں۔ قریب چھاؤنی کے جا کر ایک بوتل شراب وین کی خرید کی اور بھر کر سامنے رکھ لیا۔ اپنا چپک مصری، دوستوں کو یاد کر کے کئی پیالے شراب وین کے پیے۔ بعد اس کے چپک پینے میں مشغول ہو کرغم دل سے دور کیے۔ بقول حافظ شیراز، بیت:
اے نورچشم! من سخنے ہست گوش کن تا ساغرت پرست بنوشاں ونوش کن
دو چار گھڑی اسی چین اور خوشی میں اوقات گزاری کی۔ پھراسی کیفیت و سرور میں گھوڑے پر سوار ہو کر باگ اس کی ڈھیلی کی۔ سوجھائی نہیں دیتا کہ گھوڑا کدھر جاتا۔ اُس نے چلتے چلتے ایک پھسلنے پتھر پر پاؤں رکھا اور پھسل پڑا۔ میں بھی اُس پر سے گر کرزخمی ہوا۔ تھوڑی ون وہیں زخم میں پلا کر خوب مضبوط باندھا۔ پھر گھوڑے پر سوار ہو کرسٹک کو چلا۔ وہاں سے نو کوس تھا۔ اثنائے راہ میں بہ سبب نہ برسنے مینہ کے حال آدمیوں اور جانوروں کا پریشان پایا۔ کنویں سوکھ گئے تھے، اس سبب سے راہ میں پانی کہیں نہ ملتا۔ اکثر جانور پرند نظر آئے کہ شدّت پیاس سے درخت پر سے گر کر مر گئے۔ میں نے جیوں تیوں سٹک میں پہنچ کر مقام کیا۔
دوسرے دن گیارہ کوس چل ڈونگر تال میں آیا۔ راہ میں سارا جنگل اور پہاڑ تھا۔ وہاں ایک جانور بصورت شیر گھانس میں چھپا نظر آیا۔ گھوڑے سے اُتر کر گھوڑا نوکر کے حوالے کیا۔ آپ پیدل ہو کر پہاڑ پر ایک پتھر مشبک کی آڑ میں بیٹھا، بندوق کو گولی سے بھرا، پتھر کے سوراخ سے مونھ بندوق کا نکالا،تاک کراس جانور کا شکار کیا۔حسب اتفاق گولی کا زخم کاری لگا۔ جانوراچھل کرگرا مگر میں خوف سے قریب اُس کے نہ گیا۔ ایک اور گولی ماری، یہاں تک کہ سرد ہوا۔ تب پاس اس کے جا کر دیکھا، چیتا تھا۔ قد و قامت میں بہت بڑا۔ اُس کو ساتھ اپنے ڈونگرتال لوا لایا اور ایک رو پیہ مزدوری دے کے چمڑا اُس کا نکلوا لیا۔
دوسرے دن ڈونگر تال سے دسں کوس آگے چلا۔ موضع کڑھے میں آ کر ٹہرا۔ اُس دن مینہ خوب برسا تھا۔ راہ بھرعجب حال دیکھا۔ لاش ہندؤوں کی جا بجا پڑی۔ کوئی تڑپ رہا، کسی کی جان نکلی۔ گوشت بدن اُن کے کا گیدڑ اور جانور کھا گئے۔ کوئی شفیق نہ تھا کہ اُن کے حال پررحم کرے۔
ایک شخص ان میں سے ہوش و حواس بجا رکھتا۔ میں نے اُس سے استفسارِ حال کیا۔ اُس نے کہا: ہم لوگ ہندو ہیں۔ رامیشر سے تیرت کر کے آتے ہیں۔ اپنے قافلہ کے ساتھ کاشی جی جاتے تھے۔ یہاں آ کر بیمار ہوئے۔ ساتھی ہمارے ہم کو اس حال میں چھوڑ کر چلے گئے۔ اب ہم اس عذاب و مصیبت میں گرفتار ہیں۔ زندگی سے بیزار ہیں۔ بہتیرے پڑے پڑے بسبب بھوک و پیاس کے مر گئے۔ بہتوں کو جانور درندے ہلاک کر گئے۔ گوشت بدن کا کچھ کھایا، کچھ چھوڑ گئے۔ ہڈیوں کو بھی توڑ گئے۔ بعضے مانند میرے حالت نزع میں تڑپ رہے ہیں، موت آنے کی راہ دیکھتے ہیں۔ مجھ کو دل میں رنج آیا کہ افسوس اس حالت میں کوئی نہیں اُن کا پوچھنے والا۔ با وجود یہ کہ ہندوؤں کے غول تیرت کیے ہوئے اُس راہ سے نکلتے تھے اور وہ گرفتاران مصیبت حال اپنا کہہ کر رام و لچھمن کا واسطہ دلاتے تھے۔ مگر کوئی متوجّہ حال نہ ہوا اور کسو نے اُن کے حال پر رحم نہ کیا۔ بندہ اُن ہندوؤں کی سخت دلی سے متحیر ہوا کہ باوجود بھگتی اور تیرت رامیشر کے اپنی ہم قوموں کا حال نہ پوچھا۔ رامیشر اور کاشی جانے سے کیا فائدہ، جو دل میں اُس سے سختی آئی زیادہ۔ چاہیے تھا کہ اگردل سخت پتھرسا ہوتا، تیرت سے موم ساملائم ہو جاتا۔ یہاں برعکس ہویدا ہوا کہ تیرت سے اور زیادہ کڑا ہوا۔
صاحبانِ انصاف ملاحظہ کریں کہ ایسے امور بے رحمی اور شقاوت کس مذہب میں جائز ہیں۔ ان سے زیادہ سخت دل اور نالائق کون ہوگا کہ اپنے ہم مذہب اور ساتھیوں پر اتنا ظلم روا رکھا۔ میں نے بہت ملکوں میں پھر کر بے رحمی میں بدویون عرب کو مستثنیٰ کیا تھا، مگر حال ہندوؤں کا دیکھ کر ہندوستانیوں پر ختم بے مروتی کا کیا۔ اس سے زیادہ یہ ماجرا کہ جس کو کچھ مقدور ہوا، کمینہ ہو یا اشراف، شریف ہو یا اجلاف، ہندی نزاد اُس کی خوشامد کہہ کر دماغ اُس کا آسمان پر پہنچاتے ہیں، شرافت اور کمینگی کا ہرگز پاس نہیں کرتے ہیں۔ سامنے خداوند پیرمرشد کہتے ہیں، غائبانہ ہزاروں گالیاں دیتے ہیں۔ زبان سے وہ قال ومقال ہے، دل میں یہ خیال ہے۔ انھی حرکات سے خداتعالیٰ نے ان پر غضب نازل کیا، سلطنت ہندوستان کی بیچ قبضہ وتصرف انگریزوں کے لایا۔ یہ ملک وسیع ایسا نہ تھا کہ بآسانی جماعت قلیل سے انگریزوں کے ہاتھ لگتا مگر ان کی طرف بہ سبب نیک طینتی کے تائید الٰہی ہے اور ان پر حرکاتِ ظلم ان کے سے تباہی آئی۔ کوئی کسی سے موافقت نہیں رکھتا ہے، بھائی بھائی سے کنائی کاٹتا ہے۔ ظاہر میں اپنے تئیں بھگت اور پرہیز گار بناتے ہیں، باطن میں ہر رشتہ نفس سے دام فریب بنتے ہیں۔ یہ پرہیزگاری ظاہرنمائی کی آخرت میں کیا فائدہ دے گی۔ بموجب مثل ہندی “دیا دھرم نہیں تورے من میں، کیا دیکھے تو مکھ درپن میں”۔ زیادہ اس سے لکھنا فضول ہے، کلام طویل کرنا عاقلوں کے سامنے نامقبول ہے۔
خلاصہ یہ کہ دس کوس راہ طے کر کے مو ضع کرہی سے سنہی میں آیا۔ یہاں سے عمل راجوں کا تھا۔ خلقت یہاں کی نرالی اور انداز نیا ہے۔ بے زجر اور تنبیہ کے کام نہیں نکلتا ہے۔ راہ میں مَیں نے کنوؤں پر جا کر لوگوں سے بہ خوشامد پانی مانگا، کسو نے ازراہ بد ذاتی گھونٹ بھرپانی نہ پلایا۔ بلکہ ٹرہ پن سے جواب سخت دیا۔ بنیوں کی دکانوں پر جا کر نرمی اور لجاجت سے رات بھراُتر رہنے کی اجازت چاہی، اُنھوں نے بھی میرا کہنا خیال میں نہ لا کر انکار کی۔ جب میں نے دیکھا کہ آشتی سے کام نہیں چلتا، انگریزی کپڑے پہن کر اپنے تئیں صوبے دار فوج انگریزی کا ظاہر کیا۔ جہاں کہیں جاتا، اہل حرفہ کو گالیاں دیتا بلکہ جوتیاں مارتا؛ کوئی سرتابی نہ کر سکتا۔ سب موم کی طرح پگھل کر فرمانبرداری کرتے، دل و جان سے اطاعت میں مشغول رہتے۔ اسی طرح تلنگے انگریزی جس گانوں میں جاتے ہیں، بیگاری پکڑ کر اس پر اسباب اپنا لاد کرمنزل تک لے جاتے ہیں، ایک کوڑی بھی مزدوری نہیں دیتے ہیں۔ جب دکان پر بنیوں کی پہو نچتے ہیں گالیاں بے سبب دے کر قرارواقعی تنبیہ اُن کی کرتے ہیں۔ آٹا بہ نسبت اور خریداروں کے ارزاں مول لیتے ہیں، چلتے وقت انعام میں گالیاں دے جاتے ہیں، میرے نزدیک بہت اچھا کرتے ہیں۔ وہ نالائق، بد ذات بغیر اس کے نہیں مانتے ہیں۔ سابق بندہ بدزبانی اور بے رحمی انگریزوں سے ہندوستان میں شاکی تھا۔ رودادِ سفر اور سابقے اُن لوگوں سے ثابت ہوا کہ بغیر بد زبانی اور بے رحمی کے کام نہیں نکلتا ہے۔ اگر کوئی صد ہا روپیہ خرچ کرے ویساہرگز اجرائے کار نہیں ہوتا ہے۔ غریب مسافر جو ٹٹوؤں پر سوار آتے تھے، محافظانِ راہ زیادہ قیمت ٹٹو سے محصول لیتے پھر بھی نجات نہ دیتے۔ ایک شخص نے میرے سامنے تین روپے کا ایک چھوٹا ٹٹو مول لیا تھا، چوکیداروں نے چارروپیہ اس کا محصول لیا۔ آخر اُس بچارے نے حیران ہوکرٹٹو کو ایک طرف چھوڑ دیا کہ اس آفتِ جان سے میں در گزرا۔ جابجا مجھ سے بھی چوکیداروں سے تکرار ہوئی مگر میں وضع ہندوستان سے بخوبی آگاہ تھا، اس سے اُن ظالموں سے نجات پائی۔ اگر کوئی اپنی بی بی ان راہوں میں ساتھ لے جاوے، سخت خرابی میں گرفتار ہووے۔ اگر گھوڑے ٹٹو پر سوار چلے، دونا قیمت سے محصول دے۔ اگر کوئی عورت اکیلی اس راہ سے سفر کرے، ممکن نہیں کہ گزر سکے۔ غرض کہ ہر منزل میں محافظ مثل منکرنکیر تھے، مسافراُن کی ایذارسانی سے دلگیر تھے۔ راجہ ہائے ہندوستان شامت اعمال اپنے سے محکوم انگریزوں کے ہوئے۔ ورنہ کیا مجال کہ ایسا ملک فسیح الفضا انگریز فوجِ قلیل سے لے سکتے۔ یقین کے انھی حرکتوں سے ہمیشہ فرماں روا اوروں کے رہیں، ظلم و جبرغیروں کے اپنے اوپر سہیں۔ جبل پور
قصہ مختصر بندہ سنہی سے نو کوس چلا، نراین گنج میں پہنچا۔ وہاں سے نو کوس کی منزل طے کرکے گنیش گنج آیا، پھرنو کوس کے بعد دہوبان میں اُترا، وہاں سے دس کوس چل کر چری بُدی میں پہنچا۔ پھردس کوس منزل کر کے جھبل پور میں مقام کیا۔وہ نواح دل کو بھایا۔ اُس پار جھبل پور کے دریائے نربدا تھا۔ میں شکارمیں مشغول ہوا۔ یہ دریا مقام پوجا ہے اور نہانے ہندوؤں کا ہے۔ فی الواقعی پانی اس کا مزیدار اور میٹھا ہے۔ ہندو راہونِ دور سے آکر اس دریا میں نہاتے ہیں، اپنے نزدیک اس پانی سے سارے گناہوں کو دھو جاتے ہیں۔ ایک دن میں نے نربدا پر مقام کیا، شکار کر کے کئی جانور پکڑ لایا۔ ایک جگہ گنجان درختوں کا سایہ اور خوب سبزہ تھا، اُتر کر شکاری جانوروں کا کباب بنا کر کھایا اور شب باش ہوا۔ بندہ جب نربدا پہنچا، گرمی کا غلبہ تھا۔ اسی سبب سے پانی دریا کا گھٹ گیا، یہاں تک کہ پہاڑ دریائی جونربدا میں تھا نظر آتا۔ کشتی کا رستہ مسدود تھا۔ دوسرے دن خاص جھبل پور میں آ کر ایک بنیے کی دکان پر اترا، راہ کی ماندگی سے سستایا۔ اُس دن ابر تھا، دل میں یہ خیال آیا کہ راہ کے چلنے سے ماندہ ہوا ہوں، بہتر یہ کہ ایک آدھ روز یہاں چین کروں۔ بنیے کی دکان کو صاف کروایا، عرقِ انگور پینے میں مصروف ہوا۔ گویون خوش آواز کو بلا کر راگ سننے لگا۔ آنب، خربوزے مول لے کر آپ کھائے، باقی گویوں اورنوکرکو تقسیم کردیے۔ اسی عیش ونشاط میں دو تین پیادے کوتوالی کے آ کر پوچھنے لگے: تم کون ہو، کیا پیشہ رکھتے ہو، کہاں سے آئے، کہاں جاتے ہو۔ میں نے کہا: مسافر ہوں، بنبئی سے آتا ہوں بنارس جاتا ہوں۔ تم کو میرے پیشہ اور مقام سکونت سے کیا کام، اس سے کیا غرض و انجام۔ وہ موذی تقریر بیجا سے باز نہ آئے، بلکہ تھوڑی دیر بعد کہنے لگے: ہمارے ساتھ چلو تم کو کوتوال نے بلایا ہے۔ میں نے ان کا کلام پوچ و لچر سمجھ کر یہ کہا: اگر کوتوال کو تحقیقات منظور ہوئے، میرے پاس آ کر حال پوچھ جائے۔ میں اُس کے پاس ہر گز نہ جاؤں گا، اپنے عیش میں خلل نہ لاؤں گا۔ میں نے کسی کی چوری نہیں کی اور تھیلی نہیں کاٹی کہ کوتوال نے مجھ پر طلبی بھیجی۔ شام تک اُسی کیفیت میں رہا، رات کو کھانا کھا کر سویا۔ صبحی گھوڑے پر سوار ہو کر آگے چلا۔ انھی پیادوں نے آ کر روکا کہ کوتوال کا حکم نہیں تمھارے جانے کا۔ میں نے کچھ نہ سنا، اپنا رستہ لیا۔ دو کوس تک پیادے ساتھ آئے، بعد اس کے پھر گئے۔ ظاہراً معلوم ہوا کہ کوتوال جھبل پور کا مسافروں کو تہمت دزدی سے گرفتار کرتا تھا اور اُن سے دھمکا کرشوت لیتا تھا۔ مگر مجھ سے اُس کو کچھ وصول نہ ہوا۔ جھبل پور اگرچہ بہت وسعت نہیں رکھتا ہے مگر آباد اچھا ہے۔ کسی انگریز نے اُس کا چوک بنوایا ہے۔ بہت نادر نقشہ اُس کا ہے۔ چوطرفہ دیوار ہے، اندر اس کے دکانیں اور بازار ہے۔ ہر قسم کی چیز اُس میں رکھی ہے، شام کو آدمیوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ جھبل پور سے آگے رستہ ہموار ہے، دو طرفہ درخت آنب کے سایہ دار۔ مسافر سایہ میں راہ چلے۔ جہاں چاہے آنب کھائے اور ٹھہرے۔ اُس سال درختوں میں آنب لدے تھے۔ مسافر راہ چلتے آنب کھاتے جاتے۔ یہاں پہاڑ سیاہ بہت نظر آئے۔
میں جھبل پور سے چلا۔ نو کوس کے بعد سہوڑا میں پہنچا۔ پھر نو کوس چل کر دنیڑی آیا۔ وہاں سے آٹھ کوس چلا، سہا گنج میں گیا۔ وہاں سے دس کوس آگے بڑھا، مہیر میں پہنچا۔ مہیر موضع آبادان ہے، ایک راجہ ہندو حاکم ہے وہاں۔ اُس نے ایک چھوٹا سا قلعہ پختہ مضبوط بنوایا ہے، ہزاروں طوطوں نے اُس کی دیوار کے رندوں میں آشیانہ بنایا ہے۔ گرد قلعہ کے خندق گہری پانی سے بھری ہے۔ آدمی اُس موضع کے نادان، بدقطع اور احمق ہیں گویا حیوان مطلق ہیں۔ ایک شب بندہ وہاں رہا۔ صبحی پانچ کوس بڑھ کر امرپٹن میں آیا۔ یہاں بھی عمل ایک راجہ کا، انتظام ملک خاک نہ تھا۔ عملداری راجاؤں کی۔ انھی راہوں میں مسافر اکثر مارے جاتے ہیں۔ راہزن اسباب راہیوں کا لوٹ لے جاتے ہیں۔ کوئی شنوائی نہیں کرتا ہے کہ یہ کیا ظلم و فساد ہوتا ہے۔ امرپٹن میں پہنچ کر ایک درخت کے نیچے سو رہا۔ آدھی رات کو بیدار ہوا۔ ایسی چاندنی کھلی تھی کہ رات دن معلوم ہوئی۔ آدمی کو آواز دے کر جگایا۔ میں نے اُس نے دونوں نے جانا کہ تڑکا ہوا۔ وہاں سے اُسی وقت چل کھڑا ہوا۔ جب دو کوس نکل آیا دو آدمی جنگلی لٹیرے ملے۔ ایک ایک لاٹھی لوہا لگی ہوئی، کندھوں پر رکھے۔ آواز دی کہ اے مسافر! گھوڑا اور اسباب اپنا ہم کو دے، سیدھی طرح گھر کی راہ لے نہیں تو ہم تجھ کو مار ڈالیں گے، گھوڑا اور سب اسباب لے لیویں گے۔ میرے پاس چقماق بھری ہوئی اور سب ہتیار تھے۔ دل میں ہراس نہ لایا اُن کی اس گفتار سے بلکہ یوں جواب دیا: تم اپنی راہ جاؤ، میرے نزدیک مت آؤ۔ ورنہ ایک کو گولی سے ماروں گا، دوسرے کا تلوار سے کام تمام کر دوں گا۔ انھوں نے یہ سن کر دو کوس تک پیچھا کیا۔ میں بھی اُن کے مقابلہ سے غافل نہ ہوا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ شخص ہوشیار ہے، اسباب اس کا لینا دشوار ہے، آپس میں کچھ صلاح کی اور اپنی راہ لی۔ میں درگاہ الٰہی میں شکر بجا لا کر آگے بڑھا، لیکن ابھی تک صبح صادق کا پتا نہ تھا۔ تب یہ بات ثابت ہوئی کہ چلتے وقت رات بہت باقی تھی۔ تھوڑی دور آگے چلا۔ دیکھا کہ ایک مہاجن راہ میں بیٹھا مع متعلقوں کے رو رہا ہے۔ میں نے پوچھا حال کیا ہے۔ اُس نے کہا میں ناگپور جاتا تھا۔ جب یہاں آ کر پہنچا دو ڈکیت آئے، اسباب میرا لوٹ لے گئے اور لاٹھی لوہے کی لگی ہوئی سے مجھ کو زخمی کیا۔ اب مجھے کچھ نہیں بن پڑتا، اگر کچھ خرچ پاس ہوتا گھر پھر جاتا یا منزل مقصود تک پہنچتا، سخت حیران ہوں، الٰہی کیا کروں۔ میں اس کا حال دیکھ بہت کُڑھا مگر کچھ نہ بن آیا۔ لاچار اپنا رستہ لیا۔
دس کوس چل کر نریمان میں آیا۔ سنا کہ ایک سوار سپاہی پیشہ پچاس سواروں کے ساتھ بڑے ٹھاٹ سے گوالیر سے نوکری چھوڑ کر یہاں آیا ہے۔ ارادہ نوکری راجہ کا رکھتا ہے۔ میں نہایت مشتاق دیکھنے اس کے کا ہوا۔ جا کر اُس کو اور اُس کے ہمراہیوں کو دیکھا۔ فی الواقع جوان وجیہ اور دیدارو تھا۔چنانچہ وہاں کے راجہ نے اُس کو پان سو روپے درماہے کا نوکر رکھا اور ہمراہیوں اس کے کا بھی درماہہ حسب لیاقت مقرر کیا۔ بعد اس کے قلعہ اور شہر کی سیر دیکھنے گیا۔ رستہ بازار کا تنگ تھا۔ مکان راجہ کا بہ نسبت اور مکانوں کے اچھا بنا، اگرچہ قابل تعریف نہ تھا۔ گرد قلعہ اور شہر کے خندق کی طرح چاروں طرف دریا ہے۔ پانی اُس میں پتھر اور پہاڑ سے آتا ہے، عجب کیفیت دیتا ہے۔ جب یہ سیروتماشا دیکھ چکا، سات کوس رہ نوردی کر کے منکونا میں آیا۔ بہ سبب گرمی اور نہ برسنے مینھ کے کنویں سوکھے تھے۔ حالات تشنگی شہدائے کربلا کے یاد آئے۔ چھ کوس کے بعد مئو میں پہنچا۔ اس ویرانے گانوں میں بھی پانی کا یہی حال تھا۔ وہاں سے سات کوس چلا، بن منا میں آیا۔ بعد اس کے درمن گنج میں پہنچا۔ چار کوس کا مفاصلہ تھا۔ درمنس صاحب نام کسو انگریز کا ہے، اُس نے یہ گنج ڈالا ہے، اس سبب سے نام اُس کا درمن گنج مشہور ہوا۔ یہاں سے عمل انگریزی تھا۔ پہاڑ پر سے رستہ چلتا ہے، ڈیڑھ کوس تک نشیب و فراز رکھتا ہے۔ جو کوئی اسباب اُس راہ سے لے جاتا ہے، وہاں کے پرمٹ میں محصول دینا پڑتا ہے۔ سابقاً ہندوستانی لوگ مقرر تھے، محصول ہر شے کا لے کر جمع کرتے۔ آخر انھوں نے تغلّب تصرف کیا۔ انگریزوں نے یہ عہدہ اُن سے نکال کر ایک سارجن کو بجائے اُن کے مقرر کیا۔ وہ لیاقت نوشت و خواند کی نہ رکھتا۔ فقط بسبب امانت داری کے معتمد علیہ سرکار کا ہوا۔ ہندوستانی عجب عقل ناقص رکھتے ہیں، اپنے ہاتھ سے اپنے پانو پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ اگر چوری نہ کرتے کیوں اس عہدہ سے موقوف ہوتے۔ وہ پہاڑ رفیع الشان تھا۔ نشیب و فراز بیحد و پایاں رکھتا۔ آدمی بمشکل اس راہ سے جاتا۔ بگھی یا گاڈی کا ہر گز گزر نہ ہو سکتا۔ صاحبان انگریز نے جا بجا سے پہاڑ کاٹ کر رستہ برابر اور ہموار کیا، بلکہ اب بھی درست کرتے جاتے ہیں۔ اس سبب سے اب بگھی چھکڑے بھی اُس راہ سے جا سکتے ہیں۔ میں جب وہاں پہنچا، لوگوں نے آگے بڑھنے سے منع کیا کہ یہاں ایک شیر لاگو رہتا ہے، ہر روز ایک آدمی مارتا ہے۔ تم یہاں ٹھہرو آگے مت بڑھو۔ جب سو پچاس آدمیوں کا جماؤ ہو آگے جانے کا قصد کرو۔ پہلے میں نے اُن کا کہنا خیال نہ کیا کہ میرے پاس بندوق بھری ہے۔ اگر شیر سامنے آوے گا ماروں گا۔ سوا اس کے میں خوفناک مقاموں پر گیا، افضال الٰہی سے ہمیشہ محفوظ رہا۔ یہاں بھی صدمہ سے بچوں گا مگر پھر قول سعدی شیرازی رحمہ اللہ کا یاد آیا، شعر:
گرچہ کس بے اجل نخواہد مرد تو مرو در دہان اژدرہا
اس وجہ سے ٹھہر گیا۔ جب بہت لوگ جمع ہوئے، سب مل کر غُل کرتے ہوئے اُس پہاڑ ناہموار سے نیچے آئے، میں بھی اُن کے ساتھ آیا۔ چڑھاؤ اُتار سے تھک گیا، ایک درخت سایہ دار کے نیچے اُتر رہا۔ آدھی رات کو باران رحمت برسا، میں نے کمل اوڑھ لیا اور وہیں رات بھر بسر کی۔ صبحی اٹھ کر قصد چلنے کا کیا۔ اپنے زانو کے نیچے دو بچھوؤن سیاہ کو بیٹھے پایا۔ فضل الٰہی شامل حال تھا کہ انھوں نے ڈنک نہ مارا۔ میں نے چمٹے سے اُٹھا کر گھاس میں ڈالا پر جان سے ان کو نہ مارا۔ اگرچہ یہ امر خلاف عقل تھا مگر اُس وقت بمقتضائے وحدانیت یہی بہتر معلوم ہوا۔ وہاں سے چستی چالاکی سے سات کوس طے کر کے لال گنج کی سرا میں پہنچا۔ کئی منزل سے ایک صوبہ دار کسی راجہ کا نوکر مع رفیقوں اپنے کے ہمراہ ہمارے تھا۔ اسی طرح ایک کہار بھی دور سے ہمراہ ہمارے آتا۔ میرزا پور کا رہنے والا تھا۔ بہت دنوں کے بعد روپے اشرفی جمع کر کے اور کپڑے نفیس اپنی جورو کے لیے بنوا کر نوکری پر سے گھر اپنے آتا تھا۔ کم بختی نصیبہ سے یہ سمجھ کر کہ گھر قریب آ پہنچا، لال گنج کی منزل میں ہم سے جدا ہو کر شراب نوشی میں مشغول ہوا۔ ہم لوگ سرائے لال گنج ووہیں پہنچے تھے کہ کہار بھی آیا، زخمی روتے پیٹتے۔ میں حال پوچھا۔ کہا کیا کہوں، غضب ہوا۔ میرے سارے روپے اور اشرفیاں دو تین چوروں نے زبردستی چھین لیا اور مجھ کو کر کے ننگا نکال دیا۔ میں نے کہا تو نے ازراہ بے عقلی و احمقی ہمارا ساتھ چھوڑا جو اس مصیبت و تکلیف میں گرفتار ہوا۔ میں بسبب ماندگی راہ کے لاچار ہوا۔ نہیں تو ضرور ان رہزنوں کا پتا لگاتا۔
دل میں خیال آیا کہ عمل انگریزی میں بھی باوجود اس قدر انتظام کے ظلم صریح ہوتا ہے، پس اور حاکمون ہندوستان کو بسبب بے انتظامی کے الزام دینا بیجا ہے۔ اگر انگریز مثل اورنگ زیب عالمگیر کے رہزنوں کو جان سے ماریں تو البتہ اُس پیشہ والے رہزنی سے باز آئیں۔ فقط تہدید زبانی سے کام نہیں نکلتا ہے، انتظام قرار واقعی نہیں ہوتا ہے۔ میرزاپور
الغرض صبحی وہاں سے سات کوس چلا۔ میرزا پور آ کر ایک سرا میں اُترا۔ عجب سرا کہ مکان اُس کے معدن حرارت، بھٹیاریاں ڈائنوں کی صورت میلے کپڑے پہنے۔ سیکڑوں چیلڑ اُس میں بھرے۔ صفائی ستھرائی کی یہ حالت تھی کہ رینٹ ہونٹوں تک لٹکتی۔ کوئی اپنے سر کے بال کھجلاتی، کوئی اپنے چوتڑوں پر ہاتھ دوڑاتی۔ مسافر اپنی شامت سے اگر وہاں آ نکلا، عذاب دوزخ میں گرفتار ہوا یعنی ہر ایک اپنی طرف بلاتی ہے۔ ایک مکان تاریک و تنگ میں اُتارتی ہے۔ وہاں مچھر ہجوم لاتے ہیں۔ ہڈی چمڑا زخمی کر ڈالتے ہیں۔ میں بھی اس سرا میں اُترا۔ ایک تو گرمی مکان اور تکلیف مچھروں سے حیران تھا، دوسرے لید اور گوبر کی بو دماغ کو پریشان کرتی۔ طرفہ اُس پر یہ کہ ہر ایک بھٹیاری آدھی رات تک آپس میں لڑی۔ ان وجہوں سے نیند آنکھ میں حرام ہوئی۔ یہاں کی تکلیف سے لندن کی سرا یاد آئی کہ وہاں کیا کیا آسائش تھی۔ مسافر جب وہاں پہنچتا ہے، ایک شخص سپید پوش دروازے تک آتا ہے۔ بڑی عزت اور تکلف سے دو منزلے مکان بلند میں لے جاتا ہے۔ شیشہ آلات درودیوار میں لگے، کوچ مخملی بچھونوں کی ہر چہار طرف بچھے۔ ہوا کھڑکیوں کی راہ سے جو آتی ہے، مانند نسیم بہشت روح میں قوت دیتی ہے۔ مکھی یا مچھر کا ہر گز اُس میں نام و نشان نہیں۔ نیچے کے مکان میں میزوں پر ہر طرح کے کھانے چنے ہوئے بصد تزئین۔ مسافر کو جس کھانے کی تمنا ہے، میز پر مہیا ہے۔ جب کھانے کی نوبت آئے، ایک پری زاد سامنے بیٹھ کر بین بجائے۔ بعد فراغت کے شراب وین خوشبودار اور میوے ہر قسم کے مزیدار لا کر کھلاتی ہے۔ صبح کے وقت ایک رنڈی نہایت حسین سرہانے آ کر ملائم آواز سے آہستہ آہستہ جگاتی ہے اور آواز “امروز روز خوش” کی مسافر کے کان میں سناتی ہے۔ سوا اُس کے اور پریاں پوشاک نفیس پہنے سامنے آتی ہیں، تراش خراش میں ایک سے ایک نرالے انداز دکھاتی ہیں۔ علاوہ اس سے کوچ گاڈی فرش مخملی وغیرہ کی سواری کے لیے ہر جگہ ملتی ہے۔ ایک دن میں سو کوس کی منزل پر بے رنج و تکلیف پہنچا سکتی ہے۔ مسافر سفر میں ایسی آسائش پاتا ہے کہ گھر بھول جاتا ہے۔ ان سراؤں کو اگر بہشت کہوں بجا ہے اور اگر باغ ارم سے تشبیہ دوں روا ہے۔ انگریز لوگ اگر ہندوستان کے مکانوں اور سراؤں کو ناپسند کریں، ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ لندن کے مکانوں یا سراؤں سے یہاں کا کوئی مکان اور سرا نسبت نہیں رکھتا ہے۔ ؏
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
اُس نواح میں چار کوس کے بعد ہر چیز ملتی ہے، بلکہ جا بجا بستی ہے۔ یہاں اگر مسافر سارا دن چل کر بہ ہزار خرابی سرا میں پہنچے، عذاب دوزخ اور سخت بلا میں مبتلا ہوئے۔ بھلا انگریزوں کو یہ سرا کیوں کر بھاوے جب ہم ہی لوگوں کو پسند نہ آوے۔
قصہ مختصر بندہ ایک دن سیر و تماشے کے لیے وہاں رہا۔ بازار اور دریا کی سیر کو گیا۔ ایک جگہ ایک فقیر فربہ لحیم و جسیم ہندو مذہب بیٹھا تھا، سر سے پانو تک ننگا۔ عورتیں ہندوؤں اور مہاجنوں کی اس کے عضو تناسل کو پوج رہی تھیں، اپنے نزدیک گویا عبادت کرتی تھیں۔ کوئی بہت ذوق و شوق سے اُس کو ہاتھ میں لے کر چومتی، کوئی چاول اور پھول اُس پر چھڑکتی۔ وہ فقیر ننگا عجب صاحب نصیب تھا کہ اندر کے اکھاڑے میں بے پروائی سے بیٹھا، نظارہ جمال پری زادوں کا کرتا۔ ایک نے ان پریوں میں سے گاڈھ دودھ میں قند کا چورہ ملایا، بہت خوشامد و لجاجت سے اُس بے حیا کو پلایا۔ مجھ کو یہ ماجرا دیکھ کر بے اختیار غصہ آیا، یہی جی چاہا کہ اس مردک بے شرم کو ایک لاٹھی ماروں اور رنڈیوں کو اُس کے پاس سے ہٹا دوں۔ پھر جو غور کیا یہ امر مناسب نہ سمجھا، ناچار صبر کیا۔ اس واسطے کہ وہ رنڈیاں بہت حسن اعتقاد سے لنگ پوجتی تھیں، صورت تہدید میں اُس نابکار کو رنج ہوتا اور وہ بھی آزردہ ہوتیں۔ مزاحمت کرنا مناسب نہ دیکھا بلکہ دل میں خیال آیا کہ میں بھی سپہ گری اور دوا دوش ملکوں کی چھوڑوں، ننگا ہو کر اپنے تئیں مہا پرش بناؤں اور ان رنڈیوں حسینوں سے اپنا لنگ پجواؤں، زندگی کا مزہ اور لطف پاؤں۔ نوکری میں اذیت ہے پر اس فقیری میں عجب کیفیت ہے۔ پریاں اطاعت میں حاضر رہتی ہیں، دودھ اور موہن بھوگ لا کر کھلاتی ہیں۔ بھلا یہ مزہ نوکری میں کہاں۔ اِس سے اُس سے تفاوت زمین و آسمان۔ ہندو عجب بے تمیز ہوتے ہیں کہ اپنی جوروؤں کو برہنہ مکار فقیروں پاس بھیج کر لنگ پجواتے ہیں۔ چاہیے تھا اُن کو اس امر بیجا سے روکنا سو برعکس بخوشی اجازت دیتے ہیں۔ ننگے آدمی سے مرد آنکھ بچا جاتے ہیں۔ حیف ہے کہ اس کے پاس رنڈیاں جا کر لنگ پوجیں۔ یہ کیا حرکت لچر ہے اور کیسی رسم ابتر ہے۔ خیر بندہ یہ حال دیکھ کر سرا میں آیا، لوگوں سے یہ قصہ نقل کیا۔ ایک بھٹیاری نے کہا: تم نے ابھی کیا دیکھا، یہ تو ذرا سی بات ہے۔ اگر فلانے گھاٹ پر چھپ کر جاؤ دیکھو ان کی کیا کیا حرکات ہے۔ میں نہایت مشتاق ہوا، رات کو اس گھاٹ پر جا کر مخفی بیٹھا۔ ڈیڑھ پہر رات گئے دو تین جوگی مسنڈے نوجوان مٹھائی ہاتھ میں لیے آئے اور دو تین حسین رنڈیاں مہاجنوں کی بیبیاں ساتھ لائے۔ ایک دونگی پر سوار ہو کر دریا کے پار گئے، ایک باغ میں نفیس بچھونا بچھا کر چین سے بیٹھے۔ بندہ بھی چالاکی کر کے ایک چھوٹی ناؤ پر سوار ہو کر پار اُترا۔ کرائے اُس کے کا ایک روپیہ دیا۔ اُن کی آنکھ سے چھپ کر ایک کنارے بیٹھ رہا۔ انھوں نے مجھ کو نہ دیکھا۔ پہلے سبھوں نے مل کر مٹھائی کھائی، بعد اس کے اُن میں اور رنڈیوں میں بات چیت کی نوبت آئی۔ یہاں تک ہنگامہ عیش و نشاط گرم ہوا کہ جوگیوں نے اُن سے مساس کیا۔ آخر طرفین سے قوائے شہوانی جوش میں آئیں، جوگیوں نے ساق بلوریں اُن پریوں کی ہاتھ میں لے کر کمر سے کمریں ملائیں۔ کیفیتیں صحبت کی اُٹھائیں۔ جام وصال اُن کے سے بادہ نوش ہوئے، ساری فقیری اور جوگ بھولے۔ جب فراغت کر چکے، اس پار آئے۔ رنڈیاں اپنے اپنے گھر گئیں۔ جوگیوں نے ایک درخت کے نیچے آسن مارے اور مونگے کا مالا ہاتھ میں لے کر رام رام جپنے لگے۔ یہ ماجرا دیکھ اول دل میں آیا کہ ضرور ہی ان حرام زادیوں کے حال سے ان کے وارثوں کو خبر کرنا چاہیے۔ پھر یہ سمجھا کہ اگر یہ حال جا کر اُن سے کہوں، وہ بے عقل ہیں۔ شاید برخلافی مذہب باعث خصومت جان کر آمادہ مقابلہ ہوں۔ ناحق بات بڑھے، حاکم تک پہنچے۔ بہرحال اس مقدمہ میں سکوت کرنا بہتر معلوم ہوا، سرا میں آیا۔ ہندو عجب عقل ناقص رکھتے ہیں کہ ننگ و ناموس کا کچھ خیال نہیں کرتے ہیں۔ یعنی ازراہ حماقت جوگیون طویل القامت بدمستوں کو صاحب کمال جانتے ہیں، بے تکلف اپنی جوروؤں کو ان کے پاس بھیج کر خراب کرواتے ہیں۔ بنارس
قصہ مختصر بندہ سرائے میرزا پور سے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے چلا۔ سولہ کوس منزل طے کر کے بنارس پہنچا۔ یہ شہر میرا دیکھا ہوا تھا۔ پر اس بار بھی خوب پھرا اور سیر دیکھتا رہا۔ رستہ بازار کا مانند شہرون ہند کے تنگ تھا۔ الّا خوب آباد ہے اور اسباب سب قسم کا ملتا۔ قصائی جو بکری کا گوشت بیچتے تھے ایک سڑی دکان مثل بیت الخلا پر بیٹھے تھے۔ میلے کچیلے کپڑے پہنے۔ گوشت کو ایک کثیف چیتھڑے پر رکھے ہوئے۔ اوپر سے ایک اور میلا کپڑا اوڑھائے، خریداروں کو اُس کے دیکھنے سے نفرت آتی۔ بیچتے وقت ہزاروں مکھیاں گرتیں، بہتیری اُس میں حل ہوتیں۔ ہندوستان میں یہ شہر عمدہ مشہور ہے۔ جب اُس کا یہ دستور ہے، اَور قصبات و دیہات کا کیا مذکور ہے۔ برخلاف انگلستان کے کہ وہاں قصائی پوشاک سپید اور نفیس پہنے، دکان رشک گلستان پر نفاست سے بیٹھے ہیں۔ ٹکڑے گوشت فربہ کے مانند دستون پھول کے برابر لٹکا کر بیچتے ہیں۔ ایک طرف پارچے اور بھیڑ مسلّم لٹکی، دوسری طرف چٹھی قیمت ہر ایک کی لکھی ہے۔ جو خریدار آتا ہے، بے تکلف چٹھی کے موافق قیمت دے کر ٹکڑا گوشت کا لے جاتا ہے۔ اسی طرح مچھلی اور مرغی بیچنے والوں کا حال ہے۔ وہاں کے سب دکانداروں کی یہی چال ہے۔ دکانوں کو سیسر سے بلند کیا، صفائی سے اُن پر جوبن تھا۔ افسوس کہ ہندوستانی اپنے اپنے فنون میں کاہل ہیں، صفائی ستھرائی ہر چیز کی سے غافل ہیں۔
بنارس میں کنارے گنگا کے ایک مکان عالیشان بنا ہے۔ سابق وہ بت خانہ تھا عالمگیر نے اپنے عہد میں اس کو کھدوا کر بطور مسجد بنوایا ہے۔ اب وہ تماشا گاہ خلائق ہوا۔ بندہ بھی ایک روز اس کو دیکھنے گیا۔ بدویوں کی پوشاک پہنے تھا۔ کئی راجہ ہندو اور مسلمان صاحب آبرو وہاں موجود تھے۔ میری وضع نرالی دیکھ کر حیران ہو کر پوچھنے لگے تم کون ہو کہاں سے آتے ہو۔ میں نے کہا فقیر ہوں پھرتے پھرتے ادھر بھی آ نکلا۔ تمھیں اس تقریر سے غرض کیا۔ انھوں نے نہ مانا زیادہ اصرار کیا۔ میں جواب دیا کہ مرد سیاح جادہ پیما ہوں۔ ملک فرنگستان سے آتا ہوں۔ وہ بہت متعجب ہوئے کہ اللہ بہت دور سے آئے۔ اب بتاؤ کہ انگلستان بنارس کی سی آبادی رکھتا ہے۔ یہاں کا سا مکان اور محل بلند سنگین وہاں بھی بنتا ہے۔ یہ سن کر میں ہنسا۔ انھوں نے تعجب کیا کہ سچ کہو ہنسنے کا باعث کیا ۔ تب تو میں نے کہا وہ ملک روئے زمین میں بہشت خانہ ہے۔ اُس کے سامنے یہ شہر اور عمارت اُس کی پاخانہ ہے۔ اس شہر ناہموار کو اُس سے کیا نسبت، اس میں اُس میں بڑا تفاوت۔ وہاں ایسی فضا اور وسعت ہے کہ گویا نمونہ جنت ہے۔ اگر وہاں ایسی تنگی اور عفونت ہوا ہوتی، انگریزوں کی زیست اصلاً نہ ہوتی۔ یہاں کی سی بے حیائی اگر وہاں کے لوگ کرتے انگریز ان لوگوں کو جان سے مارتے۔ یہاں کے لوگ عجب بے حیا ہوتے ہیں کہ ایک لنگوٹی غرقی سے ستر ڈھاکتے ہیں، اُس سے مقام بول و براز نظر آتے ہیں۔ پر وہ کسی زن و مرد سے شرم و حیا نہیں رکھتے ہیں۔ انگلستان میں مرد اور عورت تہرے چوہرے کپڑے پہنتے ہیں۔ یہ کیا ممکن کہ سارے بدن میں اکہرا کپڑا بھی پہنیں۔ اس سرزمین میں بہ نسبت ہر اقلیم کے میوے اور نعمتوں کی زیادتی ہے، روز بروز ثروت اور حشمت کی ترقی ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اگر وہاں یہ سب امر میسر ہوتے ہیں انگریز کیوں اُس شہر کو چھوڑ کر تلاش معاش میں اور ملکوں میں پھرتے ہیں۔ تم ہندوستانی ہو کر لندن کی تعریف کرتے ہو۔ شاید وہاں انگریزوں کے ساتھ کھانا کھایا اور اُن کے مذہب میں آئے ہو۔ اس سبب سے اُن کا دم بھرتے ہو۔ میں نے کہا تم غلط کہتے ہو، کوئی کسو کے ساتھ کھانے سے اُس کے مذہب میں نہیں آ جاتا ہے۔ مذہب دل سے تعلق رکھتا ہے۔ ساتھ کھانے اور زیادتی صحبت غیر مذہب والے سے مذہب میں کچھ خلل نہیں آتا۔ میں نے اگرچہ انگریزوں کے ساتھ کھایا، پر اس وجہ سے اُن کے مذہب میں نہیں آیا۔ جب تک دل سے ایمان نہ لاؤں اور ان کے مذہب میں نہ آؤں۔ میں مذہب سلیمانی رکھتا ہوں۔ موافق اور مخالف دونوں سے صلح کرتا ہوں۔ میں نے تم سے جو تعریف لندن کی کی، ساری حق اور صحیح تھی۔ اس میں مذہب سے کچھ واسطہ نہیں۔ انگریزوں سے مجھ کو علاقہ نہیں اور یہ جو تم نے کہا کہ اگر انگلستان میں یہ ناز و نعمت ہوتی، انگریز لندن سے کیوں باہر نکلتے۔ صورت اس کی یوں ہے کہ اُس اقلیم کی وسعت پانسو کوس کی ہے۔ ہمیشہ لوگوں کی اولاد بڑھتی ہے۔ اگر سب وہیں رہتے مکان رہنے کے نہ ملتے۔ اس واسطے بعضے اُس شہر کو چھوڑ کر عربستان یا ہندوستان وغیرہ میں جاتے ہیں، نقد و اسباب جمع کرکے پھر اپنی ولایت آتے ہیں۔ اسی سے خیال کرو اگر اُس ملک میں یہ لطف و خوبی نہ ہوتی کیوں انگریز اور شہروں سے روپیہ جمع کرکے وہاں چلے جاتے اور جو کہ سامان خاطر خواہ نہیں پاتے ہیں، جہاں جاتے ہیں وہیں بسر کرتے ہیں۔ اس صورت میں انگریزوں کا اور ملک میں رہنا بلاچاری ہے، گویا بلبل باغ کی رہنے والی کو قفس میں گرفتاری ہے۔ جب پنجرے سے چھوٹے، باغ میں اُڑ جائے۔ انگریز بھی جب طاقت پائیں، ملک بیگانہ سے لندن میں جاویں اور یہ جو ہندی مشہور کرتے ہیں کہ انگریز ہندوستان میں اکثر ثروت پاتے ہیں، لندن سے محتاج آتے ہیں محض جھوٹ کہتے ہیں۔ اُس ملک کا انتظام ایسا کہ جب لڑکا کسی کے ہاں پیدا ہوا، دائی کی گود میں سونپا۔ یہاں تک کہ سنِ شعور کو پہنچا۔ صفائی کا یہ عالم کہ کوئی کپڑا میلا یا متعفن اُس کے پاس تک نہیں آنے پاتا۔ پھر مکتب گلزار آئین میں فرش سفید بچھاتے ہیں، پوشاک صاف ستھری پنہا کر اُس کو پڑھواتے ہیں۔ ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں۔ ناز و نعمت سے پرورش دیتے ہیں، بعد اس کے زیادہ مستعدی کے لیے اسکول بھیجتے ہیں۔ وہاں بھی ہزاروں روپے عوض تعلیم وغیرہ کے دیتے ہیں۔ بعد فراغت ان سب باتوں کے کسی عہدہ ادنیٰ میں سو سوا سو روپے کا نوکر شاہی ہوتا ہے، بتدریج رتبے اور عہدہ اعلیٰ کو پہنچتا ہے۔ بھلا اگر اُن کو دولت و حشمت نہ ہوتی، صورت تعلیم و تربیت اس صرف زائد سے کیوں کر ہوسکتی۔ خُرد بزرگ وہاں کے پُر شرم و حیا۔ لڑکوں کا ایسا فہم رسا کہ ثروت آبائی پر مغرور نہ ہو کر مثل عوام کے ہزاروں محنت و مشقت سے علم و ہنر حاصل کرتے ہیں، باپ اُن کے ان باتوں سے نہایت راضی اور خوش ہوتے ہیں۔ لڑکے ہندوستان کے باپ کی حشمت پر غرہ کرتے ہیں، کسبیوں کی صحبت میں اوقات برباد کرکے انجام کار نہیں سوچتے ہیں کہ بعد باپ کے ہم تدبیر معاش کس ہنر سے کریں گے، زندگی اپنی کیوں کر نباہیں گے۔ طرفہ ماجرا یہ ہے کہ باپ اُن کے اُن کا حال لہو لعب دیکھ کر فکر مآل سے غافل ہوکر خوش ہوتے ہیں۔ درشتی کا کیا مقام، کلمۂ پند و نصیحت بھی نہیں کہتے ہیں۔ کلکتہ
القصہ یہ کلام کرکے اس مکان سے سرا میں آیا، ارادہ کلکتہ جانے کا کیا۔ اس سبب سے کہ میں جریدہ راہ خشکی سے آیا تھا، اسباب ضروری لندن سے اپنے ہمراہ لایا تھا۔ باقی کپڑے اور اسباب اپنا راہ دریا سے کلکتہ میں روانہ کردیا تھا۔ یہاں آکر کپڑے پرانے ہوئے، اس واسطے اور زیادہ ہم کلکتہ جانے پر مستعد ہوئے۔ خرچ راہ کا میرے پاس تھوڑا رہا۔ یقین کہ خشکی کی راہ سے پورا نہ پڑتا۔ اس وجہ سے ناؤ کی تلاش کرنے لگا۔ بہت جستجو سے ثابت ہوا کہ کئی برہمنوں نے شریک ہوکر ایک کشتی ٹھہرائی ہے، کلکتہ کی طرف ان کی جوائی ہے۔ بندہ نے اُن کے پاس جاکر اظہار کیا کہ میں بھی تمھارے ساتھ کلکتہ چلوں گا۔ انھوں نے یہ بات کہی: ہماری تمھاری شرکت نہ نبھے گی۔ تم ترک کہلاتے ہو، گوشت جانوروں کا کھاتے ہو۔ ہم لوگوں کو اس سے نفرت ہے پھر بھلا ہمارے تمھارے کیا لطفِ صحبت ہے۔ میں نے کہا بہر صورت تمھاری اطاعت کروں گا۔ راہ بھر گوشت نہ کھاؤں گا۔ جب یہ قول و قرار ہوچکا، ناؤ کا کرایہ ٹھہرایا۔ پھر پانچویں تاریخ جولائی کے ان برہمنوں کے ساتھ ناؤ پر سوار ہوکر کلکتہ چلا۔ بموجب اقرار ساری راہ روٹی گیہوں کی اور ماش کی دال کھایا۔ زمفری صاحب جو شریک حصہ ہملٹن صاحب کمپنی کے تھے، بسبب بیماری کے ایک بڑی ناؤ پر سوار ہوکر تبدیل آب و ہوا کے لیے نیل کی کوٹھی میں اپنے بھائی ڈاکتر راجڑ صاحب پاس آتے تھے۔ راہ میں اُن سے ملاقات ہوئی۔ دور سے مجھ کو دیکھ کر بہت اشتیاق سے آواز دی کہ اے یوسف کمل پوش سلیمانی مذہب! کہاں جاتے ہو اور کدھر سے آتے ہو۔ میں اُن کی ناؤ پر جاکر دو گھڑی ٹھہرا، حال اپنا بیان کیا۔ پھر رخصت ہوکر اپنی ناؤ پر آیا۔ برہمنوں نے کلام انگریزی جب میری زبان سے سنا، حیران ہو کر پوچھنے لگے سچ کہو تم کون ہو۔ اگر مذہب مسلمانی رکھتے ہو، زبان انگریزی کہاں سے سیکھے ہو۔ میں نے کہا اس کا تعجب کیا۔ بہت مسلمان کلکتہ میں رہتے ہیں، انگریزی بولی بول سکتے ہیں۔ وہ تو بہت گھبرائے تھے۔ پر میرے سمجھانے سے سمجھے۔
چلتے چلتے ناؤ ہماری قریب چنکی پور کے پہنچی۔ بابت محصول پرمٹ کے وہاں روکے گئے اور بہت کشتیاں دیر سے رکیں تھیں۔ اس لیے کہ بے محصول دیے کیوں کر جاسکتیں۔ میں نے پوچھا سبب کیا جو محصول دینے میں اتنا عرصہ کھینچا۔ لوگوں نے کہا بابو فلانا یعنی داروغہ گھاٹ کا ابھی سوتا ہے۔ جب میں نے یہ حال سنا آدمی کے ہاتھ کہلا بھیجا بابو صاحب کتنی دیر میں جاگیں گے۔ دریافت ہوا دو تین گھڑی بعد خوابِ راحت سے فراغت پائیں گے۔ چار نا چار میں نے ناؤ کو ٹھہرایا۔ اسی عرصہ میں ایک فقیر لنگڑے گونگے نے ناؤ کے سامنے آکر اشارے انگلیوں سے سوال کیا۔ مجھ کو اس کی پالنگی اور بے زبانی پر رحم آیا۔ روٹی اور ترکاری منگوا کر دینے لگا۔ اُس حرام زادے نے تکرار کرکے سر ہلایا کہ مجھ کو پیسا دو، روٹی نہ لوں گا۔ کچھ کوڑیاں دیں وہ بھی نہ لیں۔ تب میرے ساتھیوں سے ایک برہمن نے روغنی روٹی نکال کر دی۔ وہ بھی دیکھ کر انکار کی۔ پیسا مانگتا اور کچھ نہ لیتا۔ معلوم ہوا کہ پیٹ بھرا ہے، شرارت اور بدذاتی سے مانگتا ہے۔ ہم نے سکوت کیا اور اُس کو کچھ نہ دیا۔ وہ کسی طرح نہ مانتا، ناؤ پر ڈھیلے پھینکتا۔ ہم اس کے ہاتھوں سے تنگ آئے۔ لاچار ہوکر اس کی پیٹھ پر دو تین کوڑے مارے۔ دکھلانے کو گونگا تھا، کوڑے کھا کر صاف بولنے لگا، لنگڑاہٹ بھی جاتی رہی۔ گالیاں سخت دیتا۔ میں نے خواب سمجھایا کہ اس حرکت سے تو باز آ۔ اُس نے ہرگز نہ مانا اور کہا تم کو تھانہ دار پاس لے چل کر قید کراؤں گا۔ مجھ کو اور زیادہ غصہ آیا، اُس کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر ایک گڑھے کیچڑ بھرے ہوئے میں دے مارا۔ سارا بدن اُس کا کیچڑ سے بھر گیا لیکن اگلی باتوں سے باز نہ آیا۔ آخر میں اُس کی بے حیائی سے لاچار ہوا، چار پیسے دے کر رخصت کیا۔ بعد اس کے کچہری پرمٹ میں آکر کہا: ہم نے چار گھڑی سے ناؤ کو یہاں ٹھہرایا، بابو صاحب ابھی تک آرام خواب میں ہیں، ہم ناحق عذاب میں ہیں۔ نائب اور گماشتوں اس کے نے رنجش سے کہا: سینکڑوں کشتیاں رکی رہیں، تم میں کیا سرخاب کا پر لگا جو اتنی دیر میں گھبرا گئے، ہم تک شکوہ لائے۔ چار گھڑی کیا اگر چار روز بھی تمھاری ناؤ یہاں رہے، بعید نہیں بلکہ حق بجانب ہے۔ میں اُس فقیر کی حرام زدگی سے پہلے ہی سے جل رہا تھا، ان کے کلام سن کر آگ بگولا ہوگیا مگر جواب تند نہ دے سکا، اپنے تئیں سنبھالا۔ بقول شخصے قہر درویش بجان درویش، غصہ ضبط کیا۔ اسکول گھر میں ایک ماسٹر انگریزی لڑکوں کے پڑھانے پر مقرر تھا۔ میں نے لاچار ہو کر اُس کے پاس جا کر زبانِ انگریزی میں کہا: تمھارے شہر میں یہ کیا اندھیر اور زیادتی ہے مسافروں کی ناؤ چار چار روز روکی جاتی ہے۔ بندہ محصول دیتا ہے۔ ناحق داروغہ گھاٹ کشتی روکتا ہے۔ ماسٹر صاحب نے میرے ساتھ بابو کے مکان پر آکر محصول دلوایا اور جھٹ پٹ رَونّا لکھوا کر مجھ کو دیا۔ انگریزوں کی رائے صائب سے یہ امر بعید نظر آتا ہے کہ اُن کی عمل داری میں بسبب غفلت کے ایسا ظلم صریح ہوتا ہے۔ وہ بابو یعنی داروغہ پرمٹ جس کو انگریز جانتا، فی الفور رَونّا کشتی اُس کی لکھوا کر روانہ کرتا۔ مگر ہندوستانیوں پر جبر تھا۔ شاید کوئی انگریز لباس ہندوستانی سے وہاں نہیں آیا۔ نہیں تو حال اُس کا کھل جاتا اور تدارک قرار واقعی ہوتا۔
چلتے چلتے پچیسویں تاریخ جولائی کے، ناؤ ہماری کلکتہ پہنچی۔ دوستوں آشناؤں سے ملاقات ہوئی، سبھوں نے میرے حال پر شفقت کی۔ ہملٹن کمپنی اور کران صاحب نے یہ بات کہی کہ تم کرایہ کی حویلی نہ لو، ہمارے مکان پر اُترو۔ میں نے کثرت صحبت باعثِ کمی الفت سمجھ کر نہ مانا۔ محلہ ٹبک خانہ میں ایک مکان بیس روپے کرایہ کا مع تنخواہ باغبان لے کر رہا۔ بیچ میں عمارت نفیس اور مکان خوش وضع تھے۔ گرداگرد، درخت میوے اور پھولوں کے۔ جب میں لندن جاتا تھا، سیر اس شہر کی بخوبی کرچکا تھا۔ مگر اس خیال سے کہ شاید انقلاب زمانہ سے کچھ صورت بدلی ہو پھر پھرا۔ حال وہاں کا دیکھا۔ جن دو کانوں پر چھپر پڑے تھے، کھپریل بنی۔ جن راہوں میں تنگی تھی، وسعت ہوئی۔ جو دکانیں سابق بدقطع تھیں، اب کی مرتبہ مرتب اور تیار دیکھیں۔ زمانہ عجب انقلاب رکھتا ہے کہ کسی آدمی یا جگہ کو سدا ایک حال پر نہیں چھوڑتا ہے۔ بعد اس کے اور مکانوں میں جن کو پہلے نہیں دیکھا تھا، دوستوں کے ساتھ دیکھنے گیا۔ لطف و صنعت سبھوں کا بنظرِ غور دیکھا۔ چنانچہ مارچ صاحب نے کلڈھال میں، مارس صاحب نے ٹون ہال میں، کران صاحب نے میوزیم اور اَور جاؤں پر لے جاکر تماشا دکھلایا۔ وصف اُن مکانوں کا زبان سے بیان نہیں ہوسکتا۔ بنگالیوں کے لڑکے دیکھے۔ بے تکلف مثل ولایتیوں کے کلام انگریزی کرتے۔ چرچا علم کا روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔ اگر یہی حال بیس برس تک رہتا ہے، یقین کہ وہاں کے رہنے والوں سے کوئی بے علم و جاہل نہ رہے گا بلکہ بجائے خود ہر ایک اُستاد بنے گا۔ لڑکے بنگالیو ں کے شوق دلی سے علم انگریزی پڑھتے ہیں۔ مدرسوں میں اُستاد فارسی خواں بھی نوکر رہتے ہیں۔ علم فارسی لڑکوں کو پڑھاتے ہیں۔ اسی طرح عربی کے لیے عالم کامل جانب شاہِ لندن سے مقرر ہوئے ہیں۔ طالبِ علموں کو صرف نحو، منطق، ریاضی، ہیئت، فلسفہ، حکمت پڑھانے میں مستعد رہتے ہیں۔ اگرچہ بندہ عربی فارسی میں دخل نہیں رکھتا ہے کہ بیان کمالات ان کے کا بتفصیل کرے، مگر ایک عالم کے دو تین شاگردوں سے ملاقات ہوئی، کامل پائی اُن کی عقل و دانائی۔ اس دلیل سے ثابت ہوا حال مستعدی مدرسوں کا کہ جن کے ادنیٰ شاگردوں میں یہ عقل رسا ہے کیا مذکور اُن کے علم و فضیلت کا ہے۔ غرض کہ کوشش انگریزوں سے کلکتہ دارالعلم ہوا ہے۔ قلعہ کلکتہ کا سب قلعوں سے زیادہ مضبوط ہے اور متین، سیکڑوں توپیں اس میں لگیں۔ اگر روپیہ آدمی کے پاس موجود ہو جو چیز کہیں نہیں ملتی، اُس شہر میں میسر آتی ہے۔ عجب نادر شہر اور بستی ہے۔ اگر کسی پاس روپیہ اور مال ہووے وہاں جا کر مزہ زندگانی کا لوٹے کہ ہمہ چیز وہاں ملتی ہے۔ ہر ملک کے آدمیوں کی صورت نظر آتی ہے۔ کنارے گنگا کے چنپا گھاٹ پر ہر روز ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ شامِ اودھ اور صبحِ بنارس بھول جاتی ہے۔ ہر طرف سبزہ اُگا ہے۔ جاڑے گرمی اور ہرفصل میں ہرا رہتا ہے۔ جہاز روم اور روس اور حبش کے یہاں آ کر مقام کرتے ہیں۔ صاحبان انگریز اور بی بیاں بگھی پر سوار ہو کر وہاں ہوا کھانے جاتے ہیں۔ گھوڑے اور بگھی مانند رسم لندن کے یہاں کرایہ پر ملتے ہیں۔ روز بروز سب سامان اور انداز لندن کے سے ہوتے جاتے ہیں۔ صاحب علم اگر اُس شہر میں جائے، ہرگز مفلس و محتاج نہ رہنے پائے۔ سڑکیں یہاں کی ہموار اور صاف، آئینہ مثال۔ کوڑی یا مردے جانور پڑے رہنے کا کیا مجال۔ رستے ایسے ماہی پشت بنے کہ پانی یا جو کچھ اُس پر گرے، دونوں طرف ڈھلے۔ ایک قسم آدمی پہاڑی جوڈھانکر کہلاتے ہیں، سرکار سے کئی ہزار روپے درماہہ سوا چھکڑوں کے پاتے ہیں۔ وہ تمام شہر کا کوڑا اور گندا پانی موریوں کا چھکڑوں پر لاد کر باہر پھینک آتے ہیں۔ اب ہندوستان میں کوئی شہر مقابل اُس کے نہیں نظر آتا ہے، بندہ از راہ انصاف سچ کہتا ہے۔ میں اسی سیر و تماشے میں دو مہینے وہاں رہا اور حال سفر اپنے کا بطور کتاب جمع کرنا چاہا مگر میرے پاس خرچ تھوڑا سا رہ گیا تھا اور کوئی یار و مددگار نہ ہوا۔ لا چار قصد روانگی کا کیا۔
ساتویں تاریخ ستمبر کی ایک چھوٹی ناؤ کرائے پر ٹھہرا کر گنگا کی راہ سے بنارس چلا۔ اُس سال گنگا بڑی طغیانی پر تھی اور بسبب بڑھنے پاٹ کے آنب کے باغوں میں بہتی۔ یعنی اپنی جگہ اصلی سے بہت بڑھی تھی۔ زور بہنے اپنے کے سے سیکڑوں درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر ڈوبایا۔ دو تین دن تک ہم کو کنارہ نہ نظر آیا۔ لاچار ہو کر ایک آنب کے درخت میں ناؤ کی رسی کو باندھا۔ شب بھر وہاں مقام کیا۔ صبحی پھر روانہ ہوا۔ میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا اس مرتبہ گائے بھینسوں کو پانی میں ڈوبتے، سینکڑوں سانپ بچھو ہماری ناؤ پر چڑھے آتے۔ بہ ہزار خرابی دن رات چل کر دیوان گنج میں بھاؤ سنگھ کی کوٹھی میں ڈاکتر راجڑ صاحب کے پاس پہنچے۔ وہ تجارت نیل اور ریشم کی کرتے تھے۔ راجڑ صاحب اور ان کی میم نے نہایت شفقت و عنایت فرمائی۔ میں نے بہر صورت وہاں آسائش پائی۔ سچ تو یہ ہے کہ بندہ نے ان کی میم صاحب کی سی عورت خلیق کم دیکھی کہ مسافر نوازی میں بدل و جان مصروف ہوئی۔ بندہ تین دن عیش و عشرت میں رہا۔ تفریح طبع کے واسطے شکار بھی کیا۔ رمفری صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، انھوں نے بیماری سابقہ سے صحت پائی تھی۔ بہت گرم جوشی سے پیش آئے۔ دیر تک ذوق شوق سے ہم آغوش رہے۔ بعد تین دن کے فقیر نے نیّت چلنے کی کی، راجڑ صاحب اور میم صاحب سے رخصت چاہی۔ دونوں صاحبوں نے یہ بات کہی، ابھی نہ جاؤ، چند روز یہاں رہو۔ میں نے بہت کہہ سُن کر راضی کیا اور رخصت ہو کر وہاں سے روانہ ہوا۔ حق تعالیٰ راجڑ صاحب اور ان کی میم صاحب کو ترقی مراتب پر پہنچاوے کہ دل اُن کا مسافر نوازی پر مصروف رہتا ہے۔ ولایت میں ان کے بھائی سے بھی ملاقات ہوئی تھی، انھوں نے بھی میرے حال پر کمال مہربانی فرمائی تھی۔
جب بندہ راجڑ صاحب سے رخصت ہو کر کشتی پر سوار ہو کر چلا، راہ میں ایک دن تیسرے پہر دریائے گنگ میں ایک کو ڈوبتے دیکھا۔ ملاحوں سے کہا شاید یہ کوئی آدمی ہے ڈوبتا، اگر کوئی تم میں سے جائے اور اس کو میرے پاس لائے، موافق مقدور کے انعام دوں گا۔ ملاحوں نے جواب دیا: اس دریائے قہار میں اپنے تئیں گرانا عاقبت اندیشی سے دور ہے اور ناؤ کو بھی اس طرف لے چلنا سراپا فتور ہے، مبادا صدمہ پانی کا پہنچے، ناؤ ڈگمگا کے ڈوبے۔ اسی طرح سینکڑوں آدمی ڈوبتے ہیں، ہم کس کس کو دریا سے نکالیں۔ جب ملاحوں نے میری بات نہ سنی اور کسی اور نے بھی اس کی طرف توجہ نہ کی، میں نے بے اختیار ہو کر دل میں کہا اگر طبیب دوا مریض کی نہ کرے مواخذہ دار ہووے۔ میں تیرنے میں دخل رکھتا ہوں۔ اگر اس کو دریا سے نہ نکالوں گنہگار خدا کا ہوں۔ بلا تحاشا آپ دریا میں کودا، اُس ڈوبتی عورت کو نکالا، کنارے لا کر کہا: اگر تجھ کو منظور ہو میری ناؤ پر آ کہ تیری دوا کروں، صورتِ صحت دکھلاؤں۔ اس کمبخت نے نہ مانا، دل میں کچھ اور ہی خیال کر کے کہا: میں کیوں تیری کشتی پر آؤں، تو دھرم میرا برباد کرے گا۔ میں نے دل میں کہا: سبحان اللہ جس سے نیکی کی وہ کچھ اور ہی سمجھے۔ کلام شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا یاد آیا، شعر:
نکوئی با بداں کردن چناں ست
کہ بد کردن بجای نیک مرداں
آدمی کو چاہیے کہ ناقدر دان کے لیے جان اپنی محل ہلاکی میں نہ ڈالے۔ بُروں کے ساتھ برائی سے در گزر نہ کرے۔ یہ حال دیکھ کر اپنی ناؤ پر سوار ہوا اور منزل مقصود کا رستہ لیا۔
چلتے چلے منگیر پہنچا۔ ناؤ سے اُتر کر شہر میں گیا۔ شہر چنداں وسعت نہ رکھتا مگر آباد خوب تھا۔ آب و ہوا وہاں کی اور شہروں سے معتدل اور بہتر تھی۔ قریب اس کے کئی پہاڑ اُن پر سبزی لگی۔ متصل اس سے ایک چشمہ پانی کا خوشگوار، کئی مکان سارجنوں کے اس قرب میں طیار۔ سارجن مع اپنی بی بی لڑکوں کے لبِ جو بیٹھے، مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر آثار شگفتگی اور بشاشت کے نمودار۔ پیشہ ور وہاں کے اپنے اپنے فن میں کمال رکھتے۔ عمدہ عمدہ چیزیں کنارے گنگا کے لا کر مسافرون کشتی نشینوں کے ہاتھ سستی بچتے۔ چنانچہ میرے سامنے پنجرے عجیب و غریب اور گوشت اور مچھلیاں اور سب چیزیں ارزاں بیچیں۔ ایک شخص نے چھ مچھلیاں بڑی ایک روپے کی مول لیں۔ میرے نزدیک اس قیمت پر مفت تھیں۔ وہاں سے ایک پالکی کرایہ کی لے کر سیتا کنڈ کے جنگل میں گیا۔ شہر سے تین کوس پرے تھا۔ وہاں پہاڑ بسبب روئیدگی کے سبز ہو رہے تھے۔ درخت میوؤں سے لدے ہوئے، آواز جانوروں کی موزوں، سبزہ اُگا زمرد گوں۔ ویسی زمین ارم تزئین ہندوستان میں کم نظر آئی، سبزی اور ہوائے ساز گار اس کی دل کو بھائی۔ اُس دشت پُر فضا میں تین چار تالاب برابر تھے۔ خوشگواری میں ایک دوسرے سے بہتر، سرد پانی سبھوں کا۔ الا بیچ والے کا نہایت گرم تھا۔ ووہی سیتا کنڈ کہلاتا، اگر کوئی اُس میں ہاتھ ڈالتا۔ شدّتِ گرمی سے آبلہ پڑ جاتا۔ میں یہ ماجرا دیکھ کر قدرت الٰہی پر غش کر گیا کہ سبھوں میں پانی سرد ہے بیچ میں جلتا آگ سا۔ کئی ٹھلیاں مول لے کر ٹھنڈا اور گرم ملایا۔ جب وہ حد اعتدال پر آیا اُس سے نہایا۔ عجب تاثیر اُس کی تھی کہ کسالت اور ماندگی دور ہوئی۔ بعد اس کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھا شیشہ عرقِ انگور کا جو ساتھ لے گیا تھا کھولا۔ ٹھنڈھا پانی اُس چشمۂ شیریں کا ملا کر دوستوں کو یاد کر کے دو تین پیالے اس کے پیے، زندگی کے مزے اور لطف حاصل کیے۔ جب وہ چشمے خوشگوار اور کوہ و صحرائے سبزہ زار دیکھا، بے اختیار دل میں آیا کہ ساری عمر یہاں بیٹھ کر یادِ خدا میں مصروف رہوں۔ طریقۂ اسلاف پر گلّہ بکریوں اور گھوڑوں کا چراؤں مگر بن نہ پڑا۔ مشکل نظر آیا۔ بعد چار گھڑی کے وہاں سے پھر آیا۔ ناؤ پر سوار ہو کر راہی ہوا۔
عظیم آباد پہنچ کر دو دن سیر کرنے کو رہا۔ وہ شہر کنارے گنگا کے ہے بہت آباد ہوا۔ مگر یہاں کی آب و ہوا میں رطوبت ہے، اکثر لوگوں کو مرض پر صعوبت ہے یعنی رہنے والے یہاں کے اکثر مرض فتق یا فیل پائی میں گرفتار ہیں۔ سبھوں کا رنگ زرد، دبلے اور نزار ہیں۔ قریب اُس کے دانہ پور ہے۔ وہاں انگریزوں کا توپ خانہ اور لشکر ہے۔ آب و ہوا وہاں کی بہ نسبت عظیم آباد کے بہتر ہے۔ یہ سب سیر دیکھ کر بنارس میں آیا۔ یہاں آ کر ایک چھکڑا کرایہ کا ٹھہرایا۔ اسباب اپنا ناؤ اسے اُتار کر اُس پر لادا اور گھوڑا پچھّم کا مول لیا ہوا جو وقت جانے کلکتہ کے یہاں چھوڑ گیا تھا، اُس پر سوار ہو کر دار السلطنت لکھنو چلا۔ عمل انگریزی سے بخوبی نبھ آیا۔ مگر شاہ اودھ کے عمل میں زمینداروں نے جا بجا کوس دو کوس کے بعد بابت کوڑیون محصول کے سخت ستایا۔ ہر چند کہتا تھا میرے چھکڑے میں نہیں کوئی اسباب محصول کا پھر تم کسی چیز کا محصول مانگتے ہو، ناحق اور بے وجہ ستاتے ہو۔ اس کا جواب یہ دیتے تم ہمارے گانو سے آ نکلے ہو، اس کا محصول دو۔ جا بجا اس بات پر تکرار ہوئی پر کسو نے میری بات نہ سنی۔ آخر لا چار ہو کر ایک کتّا ولایتی جو اپنے ساتھ لایا تھا، اُس کے گلے میں رسّی ڈال کر چھکڑہ سے باندھا۔ جہاں کوئی زمیندار رہ گذری کی کوڑیاں مانگتا، میں جواب میں کہتا: یہ کتّا اور چھکڑہ ہے، کپتان ڈاسن صاحب کا۔ سارا اسباب تم کو سونپتا ہوں، میں کپتان صاحب پاس جاتا ہوں۔ تم اس کی حفاظت کرو۔ مبادا کچھ کم ہو، جوابدہی میں پھنسو۔ نام انگریز کا سنتے ہی سب خاموش ہو جاتے۔ نرمی اور ملایمت سے پیش آتے۔ طرفہ تر یہ ماجرا ہے۔ قابل استہزا ہے کہ جو لوگ ملازم شاہ اودھ کی نگاہ بانی کے لیے مقرر ہیں وہ بھی کوڑیاں تحصیلتے ہیں۔ آمادہ تر محافظت راہ کی جیسی جیسی کچھ کرتے ہیں، لوگ خوب جانتے ہیں۔ زمین اس نواح کی قابل زراعت اور بہت بہتر ہے۔ مگر بسبب ظلم عالموں کے ہزاروں بیگھہ خراب افتادہ اور ابتر ہے۔ بلکے گانو کے گانو جا بجا جلے پڑے ہیں۔ سوائے جانورون درندہ کے کہیں آدمی نظر نہیں آتے ہیں۔ شاہ اودھ کی طرف سے جو چکلہ دار آبادی ملک اور تحصیل روپے کے لیے جاتا ہے، حاکم سابق سے زیادہ ظلم و بدعت کرتا ہے۔ اپنی منفعت کے خیال سے خوف خدا اور بادشاہ سے غافل ہوتا ہے، رعیت کو ظلم سے اُجاڑ دیتا ہے۔ عاملوں کے یہ ہتھکنڈے ہیں کہ وقت تردد کے اسامی اور زمینداروں کو دِلاسے سے بلاتے ہیں، پٹہ قبولیت روپے بیگھہ کا لکھواتے ہیں۔ جب غلّہ تیار ہوا، دو روپے بیگھہ مانگتے ہیں۔ اپنے قول و قرار سے بدل جاتے ہیں، اس وجہ سے کسان بھاگتے ہیں۔ زمیندار عاملوں سے مقابلہ کرتے ہیں اور بد قولی کے سبب سے ایک کوڑی نہیں دیتے ہیں۔
عامل فوج بادشاہی بلوا کر گڈھی قلعہ اُن کا کھدواتے ہیں۔ گائے، بیل اور غلّہ ان کا بیچ کر دُگنا تگنا روپیہ بٹھلاتے ہیں۔ زمین یہاں کی قابل زراعت ہے، پر افسوس کہ چکلہ داروں کی بدعت ہے۔ شاہ اودھ بہ سبب کثرت مشاغل کے اس امر سے غفلت رکھتا ہے، ورنہ ان ظالمون بوم ہفت کو اس ظلم ناحق سے متنبہ کرتا۔ لکھنؤ
بندہ یہ حالات دیکھتے قرب و جوار لکھنؤ کے پہنچا، ایک گانو میں آ کر ٹھہرا۔ شکار میں مشغول ہوا۔ ایک چڑیا کو چھرّے سے مارا۔ پچاس آدمی جنگلی دوڑ پڑے۔ ڈھال تلوار ہاتھ میں لیے ہوئے کہ تم نے ہمارے گانو کے جانور کو کیوں مارا۔ سبھوں نے آ کر مجھ کو گھیر لیا۔ میں مقابلہ کرنا اُن سے مناسب نہ سمجھا، نرمی اور آشتی سے پیش آیا۔ لیکن وہ لوگ بد ذاتی سے باز نہ آئے، آمادہ میرے قتل پر تھے۔ کوئی کہتا اس کا سر کاٹ ڈالو۔ کسی کے خیال میں آتا، نہیں زندہ پکڑ لے چلو۔ جب میں نے دیکھا کہ جان مفت جاتی ہے، کوئی تدبیر نہیں بن آتی ہے، انگریزی بولی میں گفتگو کی۔ انھوں نے انگریز سمجھ کر طرح دی اور اپنی راہ لی۔ اُس دن اگر میں اپنے تئیں انگریز نہ بناتا، بے شک و شبہ مارا جاتا۔ اسی طرح سینکڑوں آدمیوں کا خون ہوتا ہے، کوئی کسی کا حال نہیں پوچھتا ہے۔ وہاں سے بچ کر خدا خدا کر کے متصل لکھنؤ کے آیا۔ ایک چٹھی میں کپتان ممتاز خان منگنس صاحب بہادر کو لکھا کہ اگر آپ کی مرضی ہو میں حاضر ہوں، نہیں تو اور کسی طرف جاؤں۔ کپتان صاحب نے اس کے جواب میں چٹھی عنایت آمیز لکھ بھیجی کہ ضرور آؤ، مجھ کو ہے تمھاری انتظاری۔ بندہ بموجب حکم کے اُن کے مکان پر گیا، فیضیاب ملازمت ہوا۔ انھوں نے نہایت مہربانی فرمائی اور دعوت و مہمانی کی۔ ایک خیمہ کھڑا کروایا، اُس میں فقیر کو اُتروایا۔ بعد چند روز میں نے قصد اور سمت کا کیا۔ انھوں نے باز رکھ کر فرمایا: تم یہاں رہو اور اسم سابق اپنے کے درستی کرو۔ بندہ چٹھیاں سفارش کی افسرون ولایت کی لکھی ہوئیں کرنیل لو صاحب، بڑے صاحب اور پاٹن صاحب چھوٹے صاحب کے نام پر لایا تھا۔ دونوں صاحبوں کو لے جا کر دکھلائیں۔ انھوں نے کمال اخلاق اور عنایت سے پیش آکر یہ باتیں کہیں کہ ہم کو شاہ اودھ کی فوج میں سفارش کرنے کا اختیار نہیں۔ مہربانی زبانی اُن کی سے شکر گذار ہوا۔ اگرچہ خوبیٔ ایّام سے کچھ بھی نہ اجرائے کار ہوا۔ میں نے یہ حال کپتان مینگنس صاحب سے کہہ کر رخصت ہونے کا قصد کیا۔ انھوں نے اپنے مکان کے نزدیک ایک مکان کرایہ کا میرے رہنے کے لیے ٹھہرا دیا اور جدا ہونا میرا ہر گز گوارا نہ کیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد تدبیر کر کے سرکار شاہی میں عرضداشت کی اور اسامی قدیمی بحال کروائی۔ یعنی اپنے ہمراہی رسالہ سواروں اور توپ خانہ کی صوبہ داری دی، کھانے میں اپنے ساتھ شریک رکھا۔ چنانچہ آج تک وہی طور چلا آتا ہے کہ بندہ انھیں کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ کپتان صاحب نے جس قدر عنایت میرے حال پر فرمائی زبان طاقت نہیں رکھتی ہے اس کی شکر گزاری کی۔ جب تک جیوں گا اُن کا احسان مند رہوں گا۔ ان دنوں ڈاکتر کاربائن صاحب نے ازراہ اشفاق چٹھی سفارش میری کی افسران فوج انگریزی کے نام پر میرے پاس لکھ بھیجی تھی کہ اگر تم کو منظور ہو اُن کے پاس جاؤ۔ پلٹن انگریزی میں جو قندھار جاتی ہے، تمھاری نوکری ضرور ہو جاوے گی۔ بندہ فقط پابندی مہربانیوں کپتان صاحب موصوف کے سے وہاں جانے سے باز رہا، ورنہ بے شبہ و شک وہاں جاتا۔ اس شہر میں جتنے صاحب لوگ رہتے ہیں میرے اوپر کمال شفقت فرماتے ہیں۔ چنانچہ جس دن بڑے صاحب اور چھوٹے صاحب یعنی کا لفیلڈ صاحب اور دلکی صاحب اس شہر میں آئے تھے، شاہزادہ ولی عہد صاحب عالم بہادر ثریا جاہ اُن کے استقبال کو تھوڑی دور تک گئے تھے۔ بندہ بھی ہمرکاب ظفر انتساب تھا۔ دلکی صاحب نے راہ میں نظر عنایت سے میری طرف دیکھا۔ جب آ کر اپنی کوٹھی میں داخل ہوئے اور کاروبار ضروری سے فراغت کر چکے۔ میری یاد فرمائی اور بلا کر بہت سی مہربانی کے بعد اس کے بڑے صاحب سے میرا ذکر کیا۔ اپنے ساتھ لے جا کر مشرف ملازمت کروایا۔ بڑے صاحب نے بھی قدردانی کی۔ بمقتضائے ریاست قر ب بساط بوسی سے عزت دی۔ بندہ گاہ گاہ اب بھی دلکی صاحب اور کا لفیلڈ صاحب کے پاس جاتا ہے، ووہی عنایت ِ سابقہ اپنے حال پر مبذول پاتا ہے۔ جب سے کا لفیلڈ صاحب اس ملک میں آئے، مزاج محمد علی شاہ بادشاہ اودھ کا انتظام ملکی پر مصروف کر لائے ہیں۔
نصیرالدین حیدر جو سابق یہاں کے تخت نشین تھے۔ روانہ خلدِ بریں ہو کر دریا پار کی کر بلائے نو تعمیر میں مدفون ہوئے۔ میں ان کا نمک خوار و خدمت گزار تھا۔ نہایت ملول ہو کر اُن کے مقبرے پر گیا۔ دیکھا کہ بجائے فرش حریر و ریشم کے فرش زمین خوابگاہ ہوا اور جسم نازک ان کا جو پھولوں کا ہار بار جانتا، ہزاروں من اینٹ پتھر کے نیچے دبا۔ کوئی رفیقوں اور جلسہ والوں سے پاس نہ رہا۔ دنیا عجب مقام ہے، کبھی اوج کمال پر پہنچاتی ہے، کبھی خاک میں ملاتی ہے۔ ایک دن وہ تھا کہ وہ حضرت ِ خلد منزل تختِ سلطنت ہندوستان پر جلوہ فرما تھے۔ نوکر اور خدمت گزار حسب مراتب اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہو کر تسلیمات بجا لاتے۔ رنڈیاں ناچنے گانے والیاں الحانِ داؤدی اور حسنِ یوسفی سے دل تماشائیوں کا پھسلاتیں۔ جام طلائی و نقرئی میں شراب بھر بھر کر اہل محفل کو بطور دور پلاتیں، وہ خود بدولت کمال عیش و عشرت سے زر ریزی میں مشغول ہوتے۔ فقرا اور مساکین کو دفعتاً تونگر کر دیتے۔ کوئی ہندوستانیوں سے باقی نہ رہا کہ ذلہ ربائے خوانِ انعام شاہ خلد آرامگاہ کا نہ ہوا۔ کوئی اہلِ علم و کمال اس اقلیم میں نہ آیا کہ قدردانی اُس مغفور مبرور سے ترقی مدارج پر نہ پہنچا۔ زندگی میں وہ حال تھا، آج یہ ماجرا نظر آیا کہ جنبشِ دست و پا کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ مثل خزانہ تہ ِ خاک و خشت دبے ہیں۔ بندہ شاہ سلیمان جاہ کا مقبرہ اور حال بے کسی ان کے کا دیکھ کر سخت ملول ہوا اور دیر تک سرہانے قبر کے کھڑے ہو کر روتا رہا۔ حال وفات ان کی کا اس طرح سنا کہ نمک حراموں نے زہر پلا کر مارا۔ افسوس صد افسوس ان کم بختوں نے غضب کیا کہ ایسے بادشاہ ِ فیاض کو یوں برباد کیا۔
بعد انتقال ان کےکے مرزا فریدوں بخت عرف منا جان جو اپنے تئیں صلبِ شاہِ خلد آرام گاہ سے جانتے تھے اور شاہ سلیمان جاہ حالت حیات اپنی میں نوشتہ مہری اپنا متضمن ابطال دعوی فرزندی اُن کی کاسرکار کمپنی میں بھجوا چکے تھے، بے اجازت بڑے صاحب کے آ کر تخت سلطنت پر بیٹھے اور اپنے طور پر مصروفِ نظم و نسق ہوئے۔ بڑے صاحب یعنی کرنیل لو صاحب نے کہا تم کو نہیں مناسب تخت پر بیٹھنا۔ اس لیے کہ تم بموجب نوشتہ شاہ ِ مغفور کے ان کے نطفہ سے نہیں ثابت ہوتے ہو، پس ارادہ سلطنت کا کس دعوے سے رکھتے ہو۔ بہتر یہ ہے کہ اس خیال سے باز آؤ، خیریت سے اپنے گھر جاؤ۔ نہیں تو بعد دو گھڑی کے گرفتار ہو گے، نہایت ذلیل و خوار ہو گے۔ مرزا فریدوں بخت نے کہنا بڑے صاحب کا نہ مانا اور اپنے تئیں مستحقِ سلطنت جانا۔ لاچار بڑے صاحب نے اپنے ہمراہی پلٹنوں اور توپ خانہ کو حکم دیا۔ یکایک گولی اور گولہ برسنے لگا۔ مصطفی ٰ خان قندھاری رسالہ دار اسی جھگڑے میں مارے گئے اور بہت لوگ ناحق مفت کام آئے۔ تختِ زرنگار اجلاسِ شہر یار گولے توپ سے پرزے پرزے ہوا۔ فریدوں بخت مع بادشاہ بیگم دادی اپنی کے گرفتار ہو آیا۔ بعد اس کے لو صاحب نے بموجبِ حکم شہنشاہ انگلستان نصیرالدولہ بہادر کو تخت سلطنت پر بٹھلایا۔ تمام اختیار امورِ سلطنت کا اُن کو دیا۔ چنانچہ یہاں کے اب ووہی فرماں روا ہیں، صاحبِ سکّہ و لِوا ہیں۔ کسی نے سکّہ اُن کا یوں کہا، بندہ نے یادداشت کے لیے اس رسالہ میں لکھا، فرد:
بجو د و کرم سکہ زد در جہاں محمد علی بادشاہ زماں
محمد علی شاہ نے ابتدائے جلوس اپنے سے روشن الدولہ نائب شاہ خلد منزل کو عہدۂ نیابت سے معزول کیا اور سبحان علی خاں کمبو مشیر اُس کے کو بسبب مفسدی طینت اس کی کے مع اہل و عیال گنگا پار کر دیا۔ حکیم مہدی علی خاں منتظم الدولہ بہادر کو فرخ آباد سے بلا کر بجائے روشن الدولہ کے عہدۂ وزارت پر سرفراز کیا۔ چند روز خان مسطور نے نہایت خوش سلیقگی سے کاروبارِ وزارت نباہا، پر افسوس اجل نے مہلت نہ دی تھوڑے دنوں کے بعد قضا کی۔ بعد اُن کے بھتیجے اُن کے منور الدولہ بہادر نے خلعتِ نیابت سے سربلندی پائی، اپنے چچا کے طور پر انھوں نے بھی یہ خدمت انجام دی۔ اگرچہ مقلد مجتہد کے مثل نہیں ہو سکتا، الّااثر اس کا کچھ آ جاتا ہے۔ اسی طرح ان دنوں منور الدولہ اگرچہ مستعد رہتے ہیں، پر اجرائے کار میں اپنے چچا کو نہیں پہنچتے ہیں۔ عظیم اللہ خاں جو قدیم سے رفیق شاہ حال تھے، ابتدائے تخت نشینی شاہ زمان سے مالا مال اور نہال ہوے۔ داروغگی دیوان خانہ ٔ سلطانی کی انھیں کے پانام ہے۔ سوا اُس کے اور کار خانجات کا انھیں کے حوالہ سرانجام ہے۔ بادشاہ کے مزاج میں نہایت دخل رکھتے ہیں، جلوت و خلوت میں باریاب ہوتے ہیں۔ جب سے محمد علی شاہ نے تخت سلطنت پر اجلاس فرمایا ہے، رومی دروازے کے سامنے دولت خانہ میں ایک امام باڑہ قبر اپنی کا اور مسجد اور دروازہ، جواب رومی دروازے کا اور دکانیں اور بازار بطور امام باڑہ اور مکانات آصف الدولہ بہادر کے بنوایا ہے اور اب تک بنتا جاتا ہے۔ اگر چہ امام باڑہ ٔ آصف الدولہ کو نہیں پہنچتا ہے مگر تاہم قابل تماشا ہے اور بہت بلکہ اور سب عمارتون اس شہر سے نفیس بنا ہے۔ عمارت عالی شان رکھتا ہے۔ آگے اس مقام کا نام جمنیا باغ تھا، اب بسبب بننے امام باڑہ کے خطاب اُس کا حسین آباد ہوا۔ بڑے صاحب کی کوٹھی مقام بیلی گارد اور دولت خانہ بادشاہی سے حسین آباد تلک سڑک وسیع بنی ہے۔ ایسی ہمواراور درست ہوئی کہ اندھا بھی اُس پر بے تکلف دوڑتا چلا جائے، کہیں ٹھوکر نہ کھائے۔ دو طرفہ راہ میں دو دو تین تین گز کے فاصلہ پر لکڑیاں گڑی ہیں، رات کو اُن پر لالٹینیں روشن ہوتی ہیں۔ اَور راہوں کی درستی کا بھی حکم ہوا ہے۔ جابجا رستہ بنتا جاتا ہے، چنانچہ لکھنؤ سے شاہجہان پو ر تک سڑک بنتی آتی ہے۔ تھوڑے دنوں میں لائق آمدورفت بگھیوں کے ہوئی جاتی ہے۔ غرض کہ مزاج بادشاہ کا ہر صورت سے رعایا پروری پر مصروف ہے اور عنان عزیمت کی رفاہیتِ خلائق پر معطوف۔ گرفتاری رہزنوں اور قزاقوں اور کھود ڈالنے گڈھی زمینداروں سرکشوں کے لیے بہ تاکید ِ اکید حکم دیا ہے۔ بموجبِ حکم محکم قزاق ہر شہر سے پکڑے آتے ہیں اور قلع وقمع گڈھیوں کا ہوتا ہے۔ ان دنوں بندہ بھی دو تین دفعہ ہمراہ کپتان منگنس صاحب اورر اجہ درسن سنگھ غالب جنگ کی زمینداروں اور رہزنوں کے پکڑنے کو گیا تھا۔ ایک دن موضع سریان میں گڈھی کھودنے اور گرفتاری امام بخش زمیندار کے واسطے گیا۔ دیکھا کہ گڈھی بہت مضبوط بنی، گرد اُس کے چاروں طرف خندق گہری کھدی۔ ہر سمت اس کے جنگلا تھا۔ دیکھنے والے کا دم رکتا۔ اُس گڈھی میں آٹھ سو آدمی بندوقچی تھے۔ ملازم بادشاہی اُس کی گرفتاری کو تین ہزار آدمی مع دس ضرب توپوں کے گئے۔ بعضے عاقلوں اور بھائیوں اُس کے نے اُس کو سمجھایا کہ تو لڑائی سے باز آ، مقابلہ فوج بادشاہی نہ کر سکے گا۔ اُس کوتاہ اندیش نے ہرگز نہ مانا۔ ہمراہی اُس کے سب گڈھی سے نکل گئے۔ فقط سولہ آدمی امام بخش کے ساتھ گڈھی میں رہ کر گولیاں مارتے۔ ادھر سے تین ہزار آدمی مستعد تھے۔ اُن کے سوا دس ضرب توپ کے گولے پڑتے۔ آخر وہ سولہ آدمی اما م بخش سمیت مارے گئے اور فوج بادشاہی سے دو آدمی کام آئے اور کتنے زخمی ہوئے۔ حق یہ ہے کہ گڈھی والوں نے بہت جرأت کی لیکن فوج بادشاہی کے سامنے ان کی کیا حقیقت تھی۔ اگر چند روز حکم بادشاہ کا یوں ہی جاری رہے گا، رہزنوں اور ڈکیتوں کا ممالک محروسہ بادشاہی میں نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ ملک کا انتظام بخوبی ہو ئے گا، روپیہ سرکاری بے کدو کا وش تحصیل آئے گا۔
اس اطراف و جوار میں لکھنؤ بھی غنیمت ہے کہ یہاں کچھ ایجاد و صنعت ہے۔ لیکن جو قدرت اختراعی اور صنعت و کاریگری فقیر نے ملک انگلستان میں دیکھی، یہاں عشر عشیر اس کی بھی نہ پائی۔ شمہ یہ کہ وہاں کلیں آہنی توپ اور بندوق اور تلوار اور کاغذ اور کپڑے وغیرہ کی کھڑی کی ہیں کہ گھڑی بھر میں اس سے ایک رقم کی ہزاروں چیزیں بنتی ہیں۔ یہاں کوئی اس کی خبر نہیں رکھتا ہے بلکہ نام و نشان بھی نہیں جانتا ہے۔ رئیس ہندوستان کے خوابِ خرگوش میں پڑے رہتے ہیں۔ بٹیر یا مرغ یا کبوتر یا پتنگ بازی وغیرہ میں عمر برباد کرتے ہیں۔ کوئی تحصیل علم و ہنر کا شوق نہیں رکھتا ہے۔ امورات کار آمدنی اور فنون سپاہ گری یا شکار شیر وغیرہ سے کاہلی کرتا ہے۔ صد آفریں امیران انگلستان پر کہ ان میں سے کوئی تمام دن میں ایک گھڑی اپنی برباد نہیں کرتا ہے، ہر کوئی اپنے کام میں شام تلک مصروف رہتا ہے۔ رات کو عیش و عشرت کرتے ہیں۔ خیال سیر ملکوں کا سر میں رکھتے ہیں۔ عورتیں ان کی بھی تضیع اوقات نہیں کرتی ہیں، علم و ہنر میں مشغول رہتی ہیں۔ بہ خلاف ہندوستان کے کہ مرد یہاں کے امور بے جا میں صرف اوقات کرتے ہیں اور اپنی عورتوں کو ایک مکان میں قید کرکے دنیا اور ما فیہا سے غافل کر دیتے ہیں۔ سوائے دیوارِ خانہ یا چھت آسمان کے ان کو نظر نہیں آتا ہے۔ ہر مرد اس پردہ نشینی کو باعث عصمت بی بی سمجھتا ہے۔ در حقیقت ان کو سیکھنے علم و ہنر سے باز رکھتا ہے۔ میرے نزدیک یہ خیال بے جا ہے کہ پردہ نشینی باعث عفت کا ہے۔ بلکہ جو عورت بالطبع عفیفہ اور صالحہ بنے، اگر ہزار مردون بد میں بیٹھے عصمت اس کی قائم رہے اور بد طینت عورت کو کوئی لاکھ پردے میں چھپائے، وہ اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہ آئے۔ ولایت لندن میں ایک عورت حسینہ ناکدخدا غیر مردوں کے ساتھ ایک بگھی میں بیٹھ کر جس ملک میں چاہے چلی جاوے، ہرگز اس سے کسی طرح کا فساد یا حرکت بد واقع نہ ہونے پائے۔ اس لیے کہ مرد نیک کار ہیں اور عورتیں حیادار۔ پس کیوں کر امر نا مناسب کا خیال آوے۔ یہاں پردہ نشینی میں کیا کیا خرابیاں ہوتی ہیں، انجام کار ذلت اور رسوائیاں ہوتی ہیں۔ اگر یہاں کی عورتیں علم رکھتی ہوتیں اور بے پردہ باہر نکلتیں، ہرگز ایسا فساد نہ ہوتا۔ بھلا اس پردہ نشینی میں کیا فائدہ نکلا۔ حقیقت میں مرد نادانی کرتے ہیں کہ عورتوں اپنی کو ایک مکان تنگ پنجرے سے میں قید کرکے تماشائے عجائبات زمانہ سے باز رکھتے ہیں۔ کیا اندھیر ہے کہ آپ سیر دیکھتے پھرتے ہیں اور اپنے ہم جنسوں یعنی عورتوں کو اجازت نہیں دیتے ہیں۔ کافی ہے ان کو یہ پند “ہر چہ بر خود نہ پسندی، بر دیگرے مپسند”۔
ہر چند حال بہت تھا، لاکن اسی قدر لکھنا مناسب سمجھا۔ اس فقیر نے نہایت خون جگر کھایا، تب جا کر یہ رسالہ مختصر تیار ہوا۔ امید ہے کہ ارباب خرد اس کو پسند کریں، عیب گیری میں نہ مصروف ہوویں۔ اب بھی یوسف حلیم کمل پوش سلیمانی مذہب ارادہ سیر ملک سیہ پوشوں کا رکھتا ہے اور ایران و توران و استنبول اور روس و ماژندران وغیرہ کے جانے پر آمادہ ہے۔ بسب لاچاری اور نہ بہم پہنچنے زاد راہ کے یہاں پڑا ہے۔ امیر اور رئیس ہندوستان کے ایسے خیال کب رکھتے ہیں کہ خرچ راہ کا اور ایک محرر کامل ہمراہ میرے کر کے رخصت کریں۔ بندہ ملکوں میں پھرے اور بے کم و کاست حال ہر جا کا اپنی آنکھ سے دیکھ کر بیان کرے۔ اگر یاورئ بخت سے کوئی متکفل خواہش میری کا ہوا، فبہا، نہیں تو فقیر تھوڑے دنوں میں راہی ہوگا۔ خدا مسبب الاسباب ہے، کوئی سبب کر دے گا۔ پاجامہ فقیری پہن کر سیر ملکوں کی کرے گا۔ ایک دن وہ تھے کہ میں انگلستاں میں پریوں کے ساتھ چلتا پھرتا تھا، رات کو نفیس باجوں کی آواز سنتا تھا؛ ایک یہ وقت ہے کہ اس مکان نا ہموار میں چڑیلوں کے پڑوس رہ کر صورت کریہہ ان کی دیکھتا ہوں اور رات کو ان کی آپس کی لڑائی کے شور و غل سے سونے نہیں پاتا ہوں۔ ولایت لندن میں پریوں کی سیر دیکھتا، دکانون خوش قطع کے نظارے کرتا۔ بارش برف کا عجب عالم تھا۔ نسیم خوش گوار بہار سے دل شگفتہ ہوتا۔ سیکڑوں بگھیاں اور گھوڑے نفیس نظر آتے۔ راگ معشوقوں کے دل میں اثر کرتے۔ یہاں بجائے گھوڑوں کے گدھے اینٹوں کے لدے رات کو دوڑتے دکھائی دیتے ہیں اور بجائے پریوں کے چڑیلوں کے مونھ نظر پڑتے ہیں۔ جس مکان میں رہتا ہوں قریب اس کے اجلاف لوگ رہتے ہیں۔ ان کی عورتیں رات کو شراب پی پی کر درجہ بدرجہ ہمسایوں کو گالیاں دیتی ہیں۔ اگر بالفرض تھک کر چپ رہتی ہیں، مرد ان کے بد مست ہو کر آلہا گاتے ہیں، دماغ کو پریشان کرتے ہیں۔