مصر
اٹھارویں تاریخ فروری کو دو گھڑی رات گئے مصر میں پہنچے، شکرانہ خدا کا بجا لائے۔ گرد مصر کے دیوارِ شہر پناہ عظیم الشان ہے۔ شام سے پھاٹک بند ہوتا ہے، اس وقت اندر جانے کا کسی کو نہ امکان ہے۔ ہم سخت متحیر ہوئے کہ اندر شہر کے کیوں کر پہنچے۔ ہل صاحب مصر کی سرا کے باورچی ایک راہ جانتے تھے، اُدھر لے گئے۔ ہم سب دیوار پر چڑھے، اندر شہر کے کودے۔ خدا نے بڑا فضل کیا کہ چوکیداروں نے نہیں دیکھا۔ ورنہ بلا تحاشا گولی مارتے۔ شاہ مصر سے اجازت اُس کی رکھتے۔ ہم ہل صاحب کے ساتھ ان کی سرا میں گئے۔ میز پر کھانا کھانے بیٹھے۔ کئی انگریز ترکی لباس پہنے کھا رہے تھے۔ ہم ابتداءً ان کو ترک سمجھے، جب وہ کلام کرنے لگے، انگریز ثابت ہوئے۔ ملازم شاہ مصر کے تھے۔ تمغہ بادشاہی نمایاں رکھتے۔ مگر دو شخص نوجوان بیس برس کے بے تمغہ تھے۔ اُن سے فقیر نے پوچھا کہ تم یہاں کیوں اور کس لیے آئے۔ جواب دیا سیر کے لیے۔ باپ ہمارا صاحب دولت و حشمت ہے۔ ہم کو سیر ملکوں کی اُس کی اجازت ہے۔ چنانچہ ہم سیر ملکوں کے لیے پھرتے ہیں۔ تلاش کسی بات کی نہیں رکھتے ہیں۔ مجھ کو اِس بات سے حیرت آئی کہ اس عمر میں لڑکے ہندوستان کے کھیل کود میں مشغول رہتے ہیں۔ لہو و لعب میں ایسے مبتلا کہ اپنے تئیں نہیں پہچانتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں کہ باوجود ثروت و عیش کے اپنے اوپر تکلیف گوارا کر کے شہروں میں پھرتے ہیں۔ تجربہ نیک و بد زمانہ کا حاصل کرتے ہیں۔ انھیں باتوں سے انگریز جہاں میں قابض اور مسلط ہوئے ہیں۔ میں نے ان کی صحبت میں سے کئی پیالے شراب وین پی کر دل کو راحت دی۔ پھر نیند آئی، سو رہا۔ صبح اٹھا۔ عمارت سرا کی دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں ملاح نیل نے آ کر ہل صاحب سے انعام مانگا۔ ہل صاحب نے اس کو گالیاں دیں اور مارا۔ ایک خر مہرہ انعام نہ دیا۔ مجھ کو اس بات سے رنج ہوا مگر ملّاح کے عوض لڑنا مناسب نہ سمجھا۔ بعض انگریز مردم آزار، سنگدل جو ہندوستان یا عربستان یا اور جگہ جاتے ہیں، بے وجہ ناحق لوگوں کو ستاتے ہیں۔ بخوفِ شاہ انگلستان لوگ اُن کی خاطر کر جاتے ہیں مگر عمل انگریزی میں ظلم و جبر نہیں کر سکتے ہیں۔ ہل صاحب عملداری انگریز میں اگر ملّاح کو مارتے، وہ بھی ایسا گھونسا اُن کے مونھ پر مارتا کہ دانت ٹوٹتے مگر یہاں پاسداری شاہ انگلش سے کسی کو طاقت مقابلہ کی نہیں۔ عالی ظرف باوجود اقتدار و اختیار کے کسی کو نہیں ستاتے ہیں۔ اگر ایک شخص کوتاہی دست یا خوف حاکم کے سے ایذا رسانی سے باز رہے، اُس کی کوئی کیا تعریف کرے کہ اور کے خوف سے ہے۔ قابل تعریف وہ ہے کہ باوصف حکومت و اختیار کے کسی کو نہ ستاوے بلکہ مطیع ہونے اور فرماں برداری آدمیوں کا شکر خدا کی درگاہ میں بجا لاوے۔ عجز و انکسار کو مصاحب دائمی کرے۔ خلاصہ یہ کہ انتیسویں تاریخ فروری ۱۸۳۸ء کے بموجب رسم اس ملک کے ہم گدھے پر سوار ہوئے اور عنایت پرنکل صاحب سے ایک چوبدار بادشاہی راہ بتانے کے لیے ساتھ لے کر بازار کا تماشا دیکھنے چلے۔ ہر ایک دکان اور تنگی راہ وہاں کی اور خرید و فروخت اشیا کی مثل بنارس کے تھی۔ مگر ساخت بازار میں البتہ صورت دوسری یعنی یہاں درمیان دکانوں کے چھپر گھاس پھوس کا ڈالا ہے۔ بہ سبب اُس کے مینھ اور غبار سے صحن بازار کا بچتا ہے۔ دکانیں حلوائیوں اور باورچیوں کی مانند دکانوں ہندوستان کے آباد۔ نان بائیوں کی دکان پر ترک و عرب روٹی کھا رہے تھے دل شاد۔ چھوارا بیچنے والے دکانوں پر بیٹھے چھوارا بیچتے، مکھیوں کے اُن کے پاس ہجوم تھے۔ راہ میں ہندوستان کی طرح جا بجا اسباب عمدہ رکھے۔ کسی طرف سے بگھیوں کے رستے نہ تھے۔ ایک آدھ راہ سے بگھی شاہ مصر کی بدشواری جا سکتی۔ قصابوں کی یہ صورت تھی کہ میلے کپڑے پہنے اور ایک چتھڑا میلا گوشت پر ڈالے گوشت بیچ رہے تھے۔ آبادی شہر مصر کی ایسی ہے کہ شہر بھر کی چھت ایک دوسری سے ملی ہے۔ اگر کوئی چھت پر چڑھے۔ سب چھتوں پر بے تکلّف جا سکے۔ اس کثرتِ آبادی سے یہ بات ثابت ہوتی کہ فصل گرمی میں نہایت گرمی ہوتی ہو گی۔ سیر کرتے ہوئے ایک قدیمی مکان میں گیا۔ زبانی لوگوں کے ثابت ہوا کہ فرعون کے زمانہ کا بنا تھا۔ بلندی اور گنبد اُس مکان کے جامع مسجد شاہجہان آباد سے زیادہ۔ گردا گرد اُس کے دیوار پختہ ایستادہ۔ مکان عالیشان تھا۔ در و دیوار میں جا بجا نشانِ خون نمایاں۔ بہت سے تابوت وہاں رکھے۔ عبرت ہوتی اُن کے دیکھنے سے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ در و دیوار میں خون لگنے کا سبب کیا۔ لوگوں نے بیان کیا کہ ایک قوم عرب نام اس کا مملوک تھا۔ مدّت سے اس شہر میں رہتی، شجاعت و بہادری میں بے نظیر تھی۔ اطاعت بادشاہ کی بسبب جرأت کے نہ کرتے۔ سب سات سو نفر تھے۔ آخر ایک دن شاہ مصر نے اُن سے فریب کیا یعنی بہانہ دعوت سے سب کو اُس مکان میں بلایا۔ جب وہ سب جمع ہوئے۔ دروازے بند کروا دیے اور اپنے لوگوں کو دیواروں پر چڑھایا۔ گولی، نیزے، تلوار سے اُن کو مروایا۔ وہ زخموں سے چور دوڑے دوڑے پھرتے۔ یہ دھبّے اُنھی کے خون کے ہیں، جو دکھائی دیتے۔ یہ حال سن کر میں نے بہت افسوس کیا کہ یہ امر دانائی و شجاعت سے دور ہے بہت سا۔ اوّل عنایت و مہربانی سے بلانا، پھر دغا بازی سے قتل کرنا خلاف دیانت و امانت کے ہے۔ جو اپنے کہے پر قائم نہ رہے، کتّے سے بد تر ہے۔ اس واسطے کہ کتّا حق نمک ملحوظ رکھتا ہے، پس یہ شخص کتّے سے بھی برا ہے۔ دنیا ناپائدار ہے۔ کسی کو یہاں قرار نہیں ہے۔ افسوس کہ اس پر بھی آدمی نہیں سمجھتے ہیں۔ ظلم و بدعت پر آمادہ ہو قتلِ انسان کرتے ہیں۔ بالاتفاق ہر مذہب میں ثابت ہے کہ کوئی گناہ قتل بنی آدم سے نہیں زیادہ ہے۔ باوجود اس کے جس کو دیکھیے از راہِ نفسانیت خوں ریزی پر آمادہ ہے۔ انسان نمونہ قدرت کاملہ حق تعالیٰ کا ہے۔ جو اس کو قتل کرتا ہے دونوں جہاں میں منھ اُس کا کالا ہے۔
قصہ مختصر وہاں سے پھر کر اُس بازار میں آیا کہ لونڈی غلاموں کے بکنے کا وہ مقام تھا۔ بردہ فروش لونڈیاں علانیہ بیچتے ہیں، خوف حاکم و عسس نہیں رکھتے ہیں۔ جو لونڈیاں خوبصورت کم سن دیکھتے ہیں، اُن کو علیحدہ ایک مکان میں پردہ نشین کرتے ہیں۔ جس خریدار کو صاحب عزّت و ثروت جانتے ہیں، اُس مکان میں لے جا کر دکھلاتے ہیں۔ باقی اور لونڈیاں سر بازار بٹھلا کر بیچتے ہیں۔ لوگ دیکھ بھال کر مول لیتے ہیں۔ حال اُن بے چاریوں کا اُن ظالموں کے ہاتھ سے متغیر تھا۔ کسی کا بہ سبب فاقہ کشی کے بدن میں فقط چمڑا رہا، کسی کا سارا بدن ننگا۔ بندہ کپڑے سپید انگریزی پہنے تھا۔ اظہارِ خریداری لونڈی خوبصورت کا کیا۔
بردہ فروشوں نے اندر مکان کے لے جا کر لونڈیاں خوبصورت دکھلائیں۔ صورت شکل میں سب پری کے مانند تھیں مگر بسبب تکلیف دینے اُن ظالموں کے روٹی کپڑے سے سوکھ کر پوست و استخواں رہیں۔ سب کی سب میری طرف دیکھ کر عاجزی سے اشارہ خریداری اپنی کا کرتیں۔ میں دیکھنے حال تکلیف اور مصیبت اُن پریوں سے سخت رنجیدہ ہو کر باہر آیا۔ بخدا اگر مجھ کو مقدور ہوتا ان ستمگاروں ناخدا ترس سے سب کو مول لے کر آزاد کر دیتا، مگر لاچار ہوا کہ اتنا روپیہ کہاں سے لاتا۔ بجز غم کھانے کے چارہ نہ دیکھا۔ دل میں تعجب آیا کہ اس قدر زیادتی لونڈیوں کا باعث کیا۔ لوگوں نے کہا محمد علی شاہ مصر کا جس ملک کو فتح کرتا ہے۔ اُس شہر کے زن و مرد پکڑ لاتا ہے۔ اُن کو درماہے کے عوض سپاہیوں کو تقسیم کر دیتا ہے۔ ہر ایک سپاہی اُن کو اس بازار میں لا کر سر دست ان ظالموں کے ہاتھ کم قیمت پر بیچ جاتا ہے۔ یہ بتدریج بیچتے ہیں، قیمت زیادہ لیتے ہیں۔ شاہ مصر کی دانائی سے بعید معلوم ہوتا ہے کہ رعیت پر اس قدر ظلم گوارا کرتا ہے، با وصف کمال ہوشیاری کے خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس ظلم سے قیام سلطنت اس کی کا کیوں کر ہوتا ہے۔ آخر ایک دن خدا فریاد مظلوموں کی سنے گا۔ ان اعمالوں سے سلطنت اُس کی خاک میں ملا وے گا۔
آگے چلا، ایک مکان بادشاہی دیکھا۔ نیا بنا تھا۔ ہر ستون اور فرش اس کا ترشا سنگ مرمر کا۔ یقین کہ بعد تیاری کے بہت خوب ہو گا۔ سنگِ مرمر جا بجا سے بہت تلاش سے بہم پہنچایا۔ وہ مکان نہایت عالیشان تھا۔ اُس کے بعد ایک اور عمارت نظر آئی۔ پاس اُس کے دکان نان بائی کی۔ میں نے پوچھا یہ مکان کس کا ہے۔ لوگوں نے اظہار کیا دیوانے تمام شہر کے اُس میں قید رہتے ہیں۔ جو مسافر اِدھر سے گزرتے ہیں۔ نان بائی کی دکان سے روٹی مول لے کر اُن کو کھلاتے ہیں۔ میں نے بھی اُس دکان سے روٹی مول لی، اُس مکان میں جانے کی نیّت کی۔ اندر گیا۔ دیوانوں کو دیکھا، کتّوں کی طرح دست و پا زنجیر میں بندھے، چٹائی پر بیٹھے۔ گلوں میں طوق آہنی پڑے۔ کثافت سے کپڑوں میں جوں پڑی تھیں۔ مکھیوں کے غول ہر ایک پاس بھن بھنا رہے تھے۔ اسی طرح دوسری طرف رنڈیاں دیوانیاں گرفتار۔ وہ بھی یوں ہی بحالِ زار۔ ان قیدیوں کا حال دیکھ کر مجھ کو عبرت آئی۔ روٹی ہر ایک کے سامنے پھینک دی۔ ایسے بھوکے تھے کہ جلدی سے روٹی منھ میں ڈال کر کتّو ں کی طرح نگل گئے۔ اُن کے لیے سرکار شاہ مصر سے کھانا مقرر تھا مگر کارندوں کی بد دیانتی سے ایک ٹکڑا روٹی کا بھی اُن کو نہ ملتا۔ خوراک اُن کی مسافروں کے آنے پر ہے۔ سوبھی جو مسافر نرم دل اُس راہ سے گزرتا ہے اور حال اُن کا سنتا ہے، اِس مکان میں جا کر اُن کو روٹی کھلاتا ہے نہیں تو اپنی راہ چلا جاتا ہے۔ ان میں ایک جوان وجیہ، لئیق، ترکی نزاد عمر میں چالیس برس کا، اسی حال میں مبتلا تھا۔ اُس کے پاس جا کر میں نے حال پوچھا۔ زبان ترکی سے کچھ کلام کیا مگر میں اس کو نہ سمجھا۔ بہرحال وہ شخص عقل و ہوش رکھتا، نا حق اُس مکان میں قید تھا۔ یہ ثابت ہوا کہ مصر میں اگر کسی کو کسی سے عناد ہوتا ہے، قاضی کو رشوت دے کر اُس کو دیوانہ ظاہر کر کے اس مکان میں قید کرواتا ہے۔ مجھے تعجب اور تاسف آتا ہے کہ رعیت پر، خاص دیوانوں پر اتنا ظلم ہوتا ہے۔ مگر بڑا صاحب جو وہاں رہتا ہے، شاہ مصر سے اُن کے مقدمے میں کچھ نہیں کہتا ہے۔ سوا اس کے اکثر انگریز اور اُس راہ سے گزرتے ہیں۔مگر اُن دیوانوں کے حق میں شاہ مصر سے کلمۃ الخیر نہیں بولتے ہیں۔ باوجودے کہ نیّت صاحبان انگریز کی رفاہیتِ خلائق پر مصروف ہے اور باگ ارادے اُن کے کی بہودِ خلقت پر معطوف ہے۔ جو کوئی اُن بچاروں کو اُس مصیبت سے چھڑا لے، دنیا و آخرت میں اجرِ عظیم پاوے۔
ایک مکان سودائیوں کا لندن میں دیکھا تھا۔ ہر ایک نفاست سے سنگ مرمر کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ پوشاک نفیس پہنے ہوئے۔ آدمی خدمت کے لیے سرکار سے مقرر تھے۔ ڈاکتر علاج کے واسطے مقرر۔ ہر طرح کی دوا و غذا سرکار سے میسر۔ مکان ایسا صاف اور بہتر تھا مکھی کا ہرگز گزر نہ تھا۔ جب کوئی جنوں سے صحت پاتا ہے اپنے گھر خیریت سے بھیج دیا جاتا ہے یا ملازم سرکاری ہوتا ہے۔ یہاں برخلاف اُس کے عمل میں آتا ہے۔ کوئی اُن دیوانوں کی خبر نہیں لیتا ہے۔ اگر مسافر آ نکلے، ان کو کچھ کھلاوے نہیں تو فاقہ کریں، مصیبت میں رہیں۔ اگر خدا کی قدرت سے بے دوا اور علاج کوئی اچھا ہو جاوے، اس مکان سے نکلنے نہ پائے۔ انگلستان میں کتّے بھی ان دیوانوں سے اچھے رہتے ہیں۔ کھانے کی طرف سے ہرگز تکلیف نہیں کھینچتے ہیں۔ یہ عجب بادشاہ اور عجب کارندے ہیں۔ بنی آدم کو ایسی تکلیف میں ڈال کر روٹی کی خبر نہیں لیتے ہیں۔یہاں کا حال دیکھ کر اُس تہ خانہ میں گیا کہ فرعون علیہ اللعنت نے حضرت یوسفؑ کو اس میں قید کیا تھا۔ دروازہ اس کا ہمیشہ بندرہتا۔ میرے ساتھ چوبدار بڑے صاحب کا تھا۔ اس لیے ایک عورت نے دروازہ کھولا اور ہاتھ میں مشعل لے کر اندر دکھایا۔ میں نے چاروں طرف دیکھا۔ فرش زمین پتھر کا تھا اور وہ تہ خان سنگستان میں بنا۔ بیچوں بیچ اُس کے ایک کنواں گہرا۔
بعد اس کے ایک اور مکان میں گیا۔ وہ دریائے نیل کے پار تھا، پہاڑ کے مانند بڑا اور اونچا۔ تین کنگرے رکھتا۔ مجھ کو نیل کے اترنے میں دیر ہوئی، یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ آدمی پرنکل صاحب کا دوڑا آیا کہ جلدی چلے آؤ نہیں تو درواز ہ شہر پناہ کا بند ہو جائے گا پھر شہر میں پہنچنا دشوار ہوے گا اور پرنکل صاحب کا قصد ہے کل یہاں سے روانگی کا۔ بندہ یہ بات سنتے ہی سیر اُس مکان سے پھرا۔ دروازہ شہر پناہ پر آ پہنچا، پھاٹک بند ہوتا تھا۔ میں چستی سے اندر آیا اور اپنے مقام پر پہنچا۔ بخوبی نہ دیکھنے اُس مکان سے بہت تاسف کیا۔ الّا لاچار ہوا کچھ بن نہ پڑا۔ میرے نزدیک مصر میں یہ طریقہ اچھا ہے کہ رات کو کوئی بے روشنی قندیل کے باہر نہیں نکلتا ہے۔ اگر چوکیدار کسو کو بے قندیل دیکھتے ہیں، بے دھڑک گرفتار کر لیتے ہیں۔ اس سبب سے چور اور شاہ پہچانا جاتا ہے۔ چور چوری نہیں کر سکتا ہے۔ سوا اس کے ہر محلّہ میں ایک پھاٹک لگا ہے۔ رات کو بند ہو جاتا ہے،کوئی ادھر سے اُدھر نہیں جانے پاتا ہے۔ نہ شب کو کوئی تماشا ہے کہ آدمی اس کو دیکھنے نکلے اور سیر کرے۔ مگر ایک امر قابل دید ہے، نادید و ناشنید ہے۔ وہ یہ کہ رات کے وقت ترک اور عرب قہوہ خانوں میں بیٹھ کر حقہ چپک کے دم کھینچتے ہیں اور شراب پیتے ہیں۔ داستان گو اُن کے سامنے قصّہ کہانیاں نادر کہتے ہیں۔ سابق شراب نوشی کا رواج نہ تھا۔ محمد علی شاہ کے زمانہ سے اس کا بہت چرچا ہوا، اس لیے کہ بادشاہ اور شہزادہ ولی عہد علانیہ شراب پیتے ہیں۔ سفر اور حضر میں اس کو ساتھ رکھتے ہیں۔ شاہزادہ ولی عہد محمد ابراہیم نام رکھتا ہے۔ زبانی وہاں کے لوگوں کے، شجاعت و بہادری میں یکتا ہے۔ باوصف اس قدر حکومت و اقتدار کے لڑائی کے وقت سامان آسائش کا ساتھ نہیں لے جاتا ہے۔ خیالِ سبک ساری سے جریدہ رہتا ہے۔ ایک دن لڑائی میں دو تین اونٹ بوجھ سے لدے ہوئے نظر پڑے۔ پوچھا کہ یہ اسباب کس کا اور اونٹ کس کے۔ مصاحبوں نے عرض کیا کہ ان پر اسباب ہمارا لدا ہوا ہے۔ بہت ناخوش ہو کر کہا میں اپنے ساتھ کچھ سامان نہیں رکھتا اور رات کو زمین پر سوتا، تم کو اس قدر اسباب ساتھ لے چلنا کیا ضرور تھا۔ اس آرام طلبی کی وجہ سے اُن کو نوکری سے جواب دیا۔ ازانجا کہ مزاج بادشاہ اور شہزادے کا متوجہ شراب نوشی کے ہے، ساری فوج اور رعیت کو اثر اس کا آیا ہے یعنی ہر ایک شراب پیتا ہے۔ چنانچہ سعدی شیرازی نے فرمایا ہے: النَّــاسُ عَلی دِینِ مُلُوکِــهِم۔
قبل اجلاس اس بادشاہ کے مصر میں انگریزوں کو گھوڑے پر سوار ہونے کا حکم نہ تھا۔محمد علی شاہ نے اپنے عہد سلطنت سے اس بات کو خلاف جان کر انگریزوں کو گھوڑوں کی سواری کا حکم دیا اور بہت سی رسمیں اور حکمتیں ایجاد کیں جو زمانہ سابق مصر میں نہ ہو سکتیں تھیں۔ اُن میں سے ایک یہ امر نیا ہے کہ لوگوں کو توپ اور بندوق ڈھالنا سکھایا ہے۔ چنانچہ توپیں تیار کرواتا ہے، فوج کو قواعد انگریزی سکھلاتا ہے، مصورونِ کامل کو نوکر رکھا ہے۔ رعایا کو حکم دیا ہے کہ اپنے لڑکوں کو فنِ تصویر کشی تعلیم کروائیں۔ لندن کی طرح تصویر مومی بھی اُن سے بنوائیں۔ وہاں آگے لوگ اس فن کو بُرا جان کر نفرت کرتے تھے۔ اب ایسا رواج ہوا کہ ہنر سمجھے۔ جا بجا مدرسہ بنوایا ہے۔ عالموں اور طالب علموں کا درماہہ مقرر کیا ہے۔ بہت سے لڑکے نوکر رکھ کر انگلستان اور فرانس فنِ جہاز رانی سیکھنے کے لیے بھیجے۔ اسی طرح صد ہا امرِ خیر اُس نے اپنی ذات سے رواج دیے۔ غرض کہ بعضی بات میں قابلِ تحسین و آفریں ہے۔ بعض رسمِ ظلم و ستم سے سزاوارِ نفریں۔