لندن سے واپسی
بعد ان سیروں کے ایک دن خیال آیا۔ جو روپیہ میں زادِ راہ کے لیے لایا تھا، بہت خرچ ہوا، تھوڑا سا باقی رہا۔ اب مصلحت یہی ہے کہ یہاں سے چل دیجیے۔ جب یہ بھی اُٹھ جائے گا، نہ رہنے میں لطف ہے نہ جانا بن پڑے گا۔ یہ سوچ کر اٹھارھویں تاریخ جنوری کے روانگی کا عزم مصمم کیا۔ اس وقت سے وہاں کی ہر چیز کو کمال محبت سے دیکھتا تھا اور دل سے کہتا ایک دن وہ ہو گا کہ دیکھنے ان پریوں اور بازار اور گاڈیوں اور راہوں دلکش اور دوست آشناؤں سے جدا پڑوں گا جیسے مردے کے لیے سامان تجہیز و تکفین کا کرتے ہیں۔ اپنے سامانِ سفر میں مستعد تھا اور خشکی کی راہ سے ارادہ سفر کا کیا۔ بوچڑ صاحب اور دوستوں نے راہ دریا سے چلنے کو کہا۔ مگر میں نے سوچا دیکھی ہوئی راہ کیا فائدہ پھر دیکھنا۔ آخر اٹھارھویں جنوری کے خشکی کی راہ سے اور اسباب بھاری اپنا بوچڑ صاحب کو سونپا کہ کسی کے جہاز پر رکھ کر ہندوستان میں میرے پاس بھیج دینا۔ اسباب ضروری ایک پٹاری چرمی میں رکھ کر اپنے ساتھ لیا۔ ایک جام شراب وین دوستوں کے ساتھ پی کر گاڈی میل کوچ پر سوار ہوا۔ وقت روانگی بوچڑ صاحب، راچر صاحب اور کئی دوست افسوس کھا کر رنج جدائی سے رونے لگے۔ میں بھی وہاں سے چلتے وقت ایسا ملول ہوا جیسے حضرت آدم بہشت سے نکلے۔ چونکہ ملتے ملاتے دوستوں سے رخصت لیتے مجھ کو دیر ہوئی، گاڈی میل کوچ آدمیوں سے بھر گئی۔ کہیں جگہ باقی نہ رہی۔ ناچار کوچوان کے پاس بیٹھا مگر دل پر مفارقت دوستوں کا قلق تھا۔ برف ایسا برستا کہ تمام راہ میں میری داڑھی مونچھ پر جم گیا۔ ڈیڑھ پہر رات گئے کرکوزانڈر میں پہنچا۔ وہ مقام لندن سے چوبیس کوس تھا۔ وہاں سے ایک مزدور نے میرا اسباب میل کوچ سے اتار کر اپنی گاڈی پر رکھ کر مجھ کو ساتھ لے کر سرائے فلکن میں پہنچایا۔ میرے نوکر نے کہا کیا کیا کھانا لاؤں۔ میں نے کہا سردی مارا، برف کا ستایا ہوں، آتش پرستی کروں گا۔ پہلے آگ لا، ا س کے پاس بیٹھ کر تاپوں گا۔ اس نے آتشدان میں آگ جلائی۔ قریب اس کے بیٹھ کر ایسی مجھ کو آرام آئی کہ آگ مجھ کو مثل آتش پرست عزیز ہو گئی۔ ہر شخص گاڈی سے اتر کو خوشی میں مشغول ہوا مگر مفارقت میں ان دوستوں اور شہر جنت نشاں سے رنجیدہ اور چپ بیٹھا تھا۔
ایک شخص جبالڑکو اپنی نوکری پر جاتا تھا، مجھ کو رنجیدہ دیکھ کر قریب آ بیٹھا۔ ہنگامۂ صحبت گرم کیا۔ میں نے اس کی میٹھی باتیں سن کر غم کو دل سے مٹا دیا۔ اس کے ساتھ شراب شیریں دوستوں کو یاد کر کے پی اور ان کے حق میں دعا دی۔ پھر وہاں سے شہر لندن کی محبت سے دل اٹھایا۔ دو پہر رات کو دھویں کے جہاز پر سوا ر ہوا۔ نام اس کا مکس تھا۔ حال جہاز والوں کا بسب برف کے متغیر ہوا۔ برف سطح جہاز پر چار چار انگل جم گیا۔ رسیاں جہاز کی برف جمیں ٹکڑا بلور کا معلوم ہوتیں۔ یہاں تک کہ صبحی جہاز جزیرہ فال مت میں پہنچا۔ چاروں طرف اس کے پہاڑ تھا۔ وہاں طوفان جہاز کو آفت نہیں پہنچاتا ہے مگر بغیر ہوائے موافق کے جہاز وہاں سے نہیں ہلتا ہے۔ پہاڑوں پر سبزی تھی۔ دل کو اس سے راحت آتی۔ رستے بازار کے لطیف تمام تھے۔ آدمی خوبصورت و خوش کلام تھے۔ وہاں سے لاڈنیکم صاحب مع اپنی میم صاحب کے اور ولیم سیڈ صاحب اور کئی صاحب مع بی بیوں اپنی کے سوار جہاز پر ہوئے۔ جہاز مصر کی طرف چلا۔ بعد دو ایک دن کے ایک شہر میں پہنچا۔ نام اس کا ویگوتھا۔ حاکم وہاں کے اسپانیل تھے، وہ بھی ہیں قوم انگریزوں سے۔ جہاز اس جزیرے میں خط پہنچانے کے لیے ٹھہرا۔ خطوں کو اس طرف ایک چھوٹی ناؤ پر لاد کر روانہ کیا۔ بندہ بھی اس شہر کی سیر کو اس پر سوار ہو کر کنارے اترا۔ شہر دیکھا، پر سبزہ و گلہائے خنداں مگر بسبب بے انتظامی اور لڑئی بھڑائی کے ویران۔ ایک قلعہ پرانا تھا ٹوٹا پھوٹا ہوا۔ توپوں کو کھود کر زمین میں گاڑا۔ مجھ کو دیکھنے ویرانے ملک اور بے سرو سامانی سپاہ سے لکھنؤ یاد آیا۔ دائیں بائیں پھرا، دو رنڈیوں حسین کو دیکھا۔ کمر ان کی مانند چیتے کی کمر کے تھی۔ آنکھ بھون ان کی ہرن کی سی۔ دل اگرچہ صورت دیکھنے ان کے سے نہ بھرا۔ مگر خیال روانگی جہاز کا آیا کہ مبادا جہاز رواں ہوئے۔ اسی سوچ میں تھا کہ جہاز کی توپ کا دھماکہ کان تلک پہنچا۔ یہ دستور ہے کہ جب جہاز کا لنگر کھولتے ہیں لوگوں کی اطلاع کے واسطے توپ چھوڑتے ہیں۔ تاکہ جو کوئی کہیں گیا ہوئے جلدی سے چلا آئے، اپنے تئیں جہاز پر پہنچائے۔ توپ کی آواز سنتےہی گرتے پڑتے میں جہاز پر آیا۔ جہاز وہاں سے چل نکلا۔ رات کو طوفان آیا، ہوائے مخالف کا غلبہ ہوا۔ مگرجہاز تباہی سے بچ کر بخیریت رواں تھا۔ مجھ کو خیال زندگی کا آیا کہ اسی طرح جہاز عمر بہا جاتا ہے۔ لزبن
ستائیسویں جنوری 1838ء کی شہر لزبن میں پہنچا۔ وہ ہے دار السلطنت پرتکیزوں کا۔ وہاں جہاز تھے اور بھی کئی۔ ایک ڈونگی پرتکیزوں کی ہمارے جہاز کو راہ بتانے آئی۔ لزبن کنارے دریا ٹیکس کے ہے۔ دائیں طرف اس کے شہر اور پہاڑ جانب چپ کے ہے۔ ڈونگی پرتکیزی اس لیے رہنمائی جہاز کو مقرر تھی کہ اس دریا میں کہیں پانی تھوڑ اتھا۔ کہیں اندازہ سے بیشتر۔ جب جہاز ہمارا وہاں پہنچا، ہوا کا زور تھا مگر استادی کپتان سے جہاز سلامت رہا۔ ہمارےکپتان اور ناخدائے پرتکیز سے کسی بات پر تکرار ہوئی۔ یہ تو ڈم ڈم کہتے اکثر، طرف ثانی کہتا فوٹر فوٹر۔ پہلے پرمٹ کی جگہ نظر آئی۔ وہ ایک میدان چٹانوں پتھر سے برابر تھا۔ اس میں ایک گھوڑا مع سوار کے پتھر سے تراشا کھڑا کیا۔ نیوٹن صاحب سوداگر میرے دوست تھے۔ وہ اس شہر میں تشریف رکھتے۔ جب میرے آنے کی خبر پائی، بہت تکلف سے دعوت میری کی۔ کئی طرح کا کھانا میرے لیے پکوایا۔ جب اس کو کھایا، دل کو بھایا۔ پھر سیر شہر کو چلا۔ وہاں کے آدمیوں کو کج اخلاق پایا۔ حسن و جمال عورتوں کا بہ نسبت لندن کے کم تھا۔ بار برداری کی گاڈیوں میں بیل لگے تھے۔ رستے بازار کے صاف ستھرے تھے مگر دکانیں بمقابلہ لندن اور فرانس کے بد قرینے۔ ایک کلیسا عجب وضع کا بنا تھا۔ تصویریں حضرت عیسیٰ اور مریم اور حواریوں کی نفیس بنی ہوئی رکھیں، ان پر کام سونے کا۔ دو تین باغ دیکھے، بہت اچھے تھے۔ حاکم اور فرماں روا وہاں کے مثل لندن۔ ایک رنڈی کم سن تھی، تناسب اعضا اور جمال بدنی نہیں رکھتی تھی۔ بلکہ فربہ اور جسیم تھی۔ کنارے دریا کے ایک مکان بنواتی۔ وہ نہایت خوش قطع اور نادر تھا۔ بسبب کمی روپیہ کے ان دنوں بننا اس کا موقوف تھا۔ میں نے اس کو خوب دیکھا۔
ایک دن ناچ گھر کا تماشا دیکھنے گیا۔ شہزادی حاکمہ بھی آئی۔ میرے قریب بیٹھی۔ شوہر اس کا ایک امیر زادہ، بہت خوبصورت اور وجیہ ہمراہ تھا؛ سن و سال میں بیس برس کا۔بندہ آدھی رات تک کیفیت دیکھتا رہا۔ پھر اٹھ کر باہر آیا اور ملاح سے کہا کہ ناؤ پر سوار کر کے مجھ کو جہاز تک پہنچا دے۔ اس نے انکار کر کے کہا کہ رات کو ہمارے شہر میں کسی کو ناؤ پر نہیں چڑھاتے۔ اکبارگی مینھ بھی برسنے لگا۔ تب میں مجبور ہو کر سرا میں شب باش ہوا۔ صبحی اٹھ کر پھر سیر کو چلا۔ مکانات دیکھے، اوندھے پڑے۔ حال ان کا پوچھا، لوگوں نے کہا اسّی برس کا عرصہ ہوا کہ یہاں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا، ساٹھ ہزار آدمی اس میں مر گئے، بہت مکان اس میں گر گئے۔ پانی دریا کا اپنے ٹھکانے سے ہٹ گیا تھا۔ بعد اس کے اس آبادی کا جو تم دیکھتے ہو، اتفاق ہوا۔ یہ حال دیکھ کر گھبرایا۔
دوسرے دن تیسرے پہر تک پھر سیر کرتا رہا۔ بعد اس کے جہاز وہاں سے رواں ہوا۔ میں اس پر سوار ہوا۔ کتنے صاحب اور بی بیاں اور بھی تھیں۔ بی بی اسمٹ بھی مع دونوں بیٹیوں پریزاد کے اس پر سوار ہوئیں۔ حرکتِ جہاز سے دونوں پریاں متلی اور ابکائی میں گرفتار ہوئیں۔ جہاز پر چڑھ کر نہایت بیزار ہوئیں۔ سچ ہے سواری جہاز کی عورتوں کو بہت ایذا دیتی ہے۔ مجھ کو ان کی بے چینی سے بے قراری تھی۔ دو تین دن میں جہاز جاتے جاتے تیسرے پہر کو قریب شہر کندس کے ٹھہرا۔ کئی اسپانیوں نے کشتیوں کو ہمارے جہاز پاس پہنچایا۔ اکثر صاحب واسطے سیر شہر کے ناؤ پر سوار ہوئے۔ ہم بھی مدت سے مشتاق اس شہر کے دیکھنے کے تھے۔ ناؤ پر چڑھے بعد اس کے مینھ آیا۔ ہر شخص جہاز پر پھر گیا۔ مگر بندہ ناؤ پر بیٹھا رہا۔ اسپانیل جو ملاح تھے اپنی زبان میں باہم باتیں کرتے اور میرے مونھ کی طرف دیکھتے، بلا تحاشا ناؤ کو کنارے لیے جاتے۔ ہر چند میں نے کنارے جانے سے انکار کیا، پر انھوں نے میری بات نہ سنی۔ ظاہراً معلوم ہوتا کہ کنارے لے جا کر گھڑی اور اسباب طلائی میرا چھین لیتے اور جان سے ہلاک کرتے۔ ناگاہ جہاز کے چھوٹے کپتان نے میرے حال پر رحم کیا، چھوٹی ناؤ پر سوار ہو کر میری ناؤ کو خار آہنی سےاپنی طرف کھینچ کر جہاز پر پہنچایا اور اس آفت سے مجھ کو بچایا۔ بسبب مینھ کے اس شہر میں جانے کا اتفاق نہ پڑا، مگر سامنے سے بخوبی نظر آتا۔ عمارت عالیشان، وہاں حسن و جمال کی کان تھی۔لاڈ بیرن شاعر نے وہاں کے حسن کی تعریف کی ہے۔ دادِ سخنوری دی ہے۔ جبالٹر
اکیسویں تاریخ جنوری 1838ء کے دو گھڑی رات رہے میں جاگا۔ جہاز کے قریب بڑا سا پہاڑ نظر آیا۔ میں متحیر ہوا کہ یہ پہاڑ کہاں سے آیا۔ پوچھنے سے معلوم ہوا کہ یہی ہے قلعہ جبالٹرکا۔ یہ شہر سابقاً ترک کے عمل میں تھا۔ جبالٹر مخفف ہے جبال ٹائر کا۔ ٹائر نام حاکم کا تھا، یہ قلعہ اسی کے نام پر مشہور ہوا، پس جبال ٹائر کہلایا۔ اب بسبب کثرت استعمال کے جبالٹر نام پڑ گیا۔ ترک سے انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ جب جہاز وہاں پہنچا سب لوگ ناؤ پر سوار ہوئے، قلعہ کی سیر کو چلے۔ بی بی اسمٹ کی دو بیٹیاں بھی اتریں، میں نے ان سے کیفیتیں جہاز کی پوچھیں۔ انھوں نے کہا ہم نے توبہ کی کہ پھر جہاز پر نہ سوار ہوں کبھی۔ قلعہ کے دروازے پر ایک چوکیدار بیٹھا تھا، سب کو اندر جانے دیا مگر مجھ کو روکا۔ اس وجہ سے کہ میں پروانۂ سند نہ رکھتا۔ میں نے کہا اپنی خوشی سے تیرے پاس بیٹھا ہوں، کہیں نہیں جاتا ہوں۔ مگر میرے کھانے پینے کی فکر کر۔ بعد دو گھڑی کے ایک انگریز آیا۔ میری وضع سے حال لیاقت دریافت کر کے دلاسا دینے لگا اور ایک بلند کرسی پر بٹھلا کر کہا تم کچھ رنج اور فکر نہ کرو، میں حاضر ہوں تمھاری خدمت گزاری کو۔ ناگاہ پرنکل صاحب میرے دوست نظر آئے۔ ولایت سے ہندوستان آتے تھے۔ مجھ کو اس حال میں دیکھ کر تسلی دینے لگے کہ ہم جاتے ہیں تمہاری تدبیر کے لیے۔ یہ کہہ کر وہاں کے حاکم پاس گئے، میرے لیے پروانہ لکھوا کر چھڑا لائے اور سرا میں اپنےمقام پر لے گئے۔ تعریف مہربانی انگریزوں کی کیا کروں، یاراے زبان نہیں رکھتا ہوں۔ پرنکل صاحب سے اور مجھ سے فقط شناسائی تھی، نہ رتبہ اتحاد و فرطِ دوستی۔ پاس شناسائی سے انھوں نے مجھ کو چھڑایا۔ ہندوستان میں ایسی محبت اپنے ہم جنسوں سے کوئی نہیں کرتا۔ میں جب تک دم میں دم رکھتا ہوں، دم شکر گزاری ان کے کا بھرتا ہوں۔
قلعہ جبالٹر کا یہ حال دیکھا کہ توپ کے گولوں کا انبار تھا۔ ہر چہار طرف اس کے توپیں لگیں۔ آدمی مقرر ہیں، چوکی پہرے کی تھیں۔ گرد قلعہ کے پہاڑ ہیں، ان کے گرد دریائے قہار۔ دریا میں چاروں طرف جہاز جنگی حفاظت کےلیے رہتے ہیں مستعد اور تیار۔ بلندی قلعہ کی چودہ سو فٹ کی۔ ایک مکان اَور اس کے سوائے ہے، اس کے گرد بھی توپیں ہیں۔ اونچائی اس کی گیارہ سو پچیس فٹ کی ہے۔ اس پر سے جہاز تینتیس کوس کے مفاصلے کے نظر آتے ہیں۔ پہاڑ میں بڑے بڑے غار ہیں۔ انگریزوں نے اسے تراش کر عمارت سنگی بنائی ہے استوار۔ اس میں لوہے کی گاڈیوں پیچدار پر توپیں لگائی ہیں۔ جدھر کل گاڈی کی پھیرتے ہیں، مونھ توپ کا بھی ادھر پھر جاتا ہے۔ سوا ان کے اور بھی توپیں ہیں۔ چاروں طرف پہاڑ کے سمندر ہے مگر ایک طرف سوکھی رہگذر ہے۔ ادھر سے قریب شہر اسپانیل ہے۔ وہاں سے پاؤ کوس پر عمل اسپانیل کا ہے۔ جب چاہتے ہیں اس راہ خشک کو بھی پانی لا کر بند کر دیتے ہیں۔ کسی غیر قوم آدمی کو رات کے رہنے کا وہاں حکم نہیں۔ دن کو اسپانیل یہاں کی سیر کو جاتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والے بھی عمل اسپانیل میں کھیتی کرتے ہیں، دن ہی کو چلے آتے ہیں۔ لارڈ بنکم صاحب حسبِ اتفاق ان دونوں اس قلعہ میں آیا تھا۔ قلعہ دار مراسم مہمانداری میں بہ دل و جان مصروف ہوا۔ قواعد پلٹوں نمبر تینتیس، چھیالیس، باون، اکیاسی، بیاسی کی دکھلائی۔ لارڈ صاحب نے قواعد دیکھ کر بہت خوش ہوکر عنایت مبذول فرمائی۔ جو مسافر وہاں پہنچے، چاہیے کہ ضرور اس قلعہ کو دیکھے۔ اگر بارہ لاکھ آدمی اس پر حملہ کریں، میری عقل ناقص میں یہ ہے کہ ہرگز فتحیاب نہ ہوئیں۔ بلکہ سابق اسپانیل اور فرانسیس اور پرتکیز نے مل کر اس کو گھیرا تھا، دو تین برس تک لڑتے رہے مگر فتحیاب نہ ہوئے۔ آخر ناامید پھر گئے۔ غرض کہ ایسا قلعہ مستحکم روئے زمین میں کہیں نہیں ہے۔ ہم نے کرایہ جہاز کا کرلوزاند سے جبا لٹر تک ایک سو اسی روپیہ دیے۔ وہاں سے اسپٹ فابہ جہاز پر سوار ہو کر تیسری فروری کو آگے چلے۔ کرایہ جہاز کا جبرالٹر سے مالٹا تک کا ایک سو تیس روپئے ٹھہرائے۔ وقت روانگی جہاز کے، دو تین عورتیں اسپین کی نظر آئیں۔ جمال میں غیرتِ مہرتاباں تھیں۔ دل میرے سے بے اختیار شور اٹھا کہ پھر ان کا دیکھنا کاہے کو میسر آوے گا۔ راہ میں جہاز پر سے پہاڑ اسپین کے نظر آتے۔ زیادتی برف باری سے سپید ہوئے تھے۔
چوتھی فروری کو جہاز ہمارا قریب شہر الجر کے کہ کوہستان ہے، پہنچا۔ سابق وہ عمل عرب میں تھا۔ اہل عرب زمانہ حکومت اپنی میں جہازوں کو لوٹتے، آدمیوں کو جان سے مار ڈالتے۔ جو کوئی زندہ رہتا اس کو غلام بنا کر زندگی بھر نہ چھوڑتے۔ اس سبب سے جہاز اس راہ سے نہ جاتے۔ اسی خیال سے فرانسیس اس شہر کو اپنے قبض و تصرف میں لائے۔ اب جہاز اس راہ سے بخیریت جاتا ہے۔ کوئی مزاحمت نہیں پہنچاتا ہے۔
ساتویں فروری کو جہاز قریب اس قلعہ کے پہنچا کہ ڈزرٹا نام رکھتا۔ خوب مضبوط بنا۔ اس کے برابر ایک شہر بسا۔ جھول نام، بہت آباد عمل عرب میں تھا۔ اس سے ایک شہر لطافت بنیاد خوب آباد توئس نام رکھتا۔ چند روز پیشتر وہاں عربوں سے لڑتے تھے۔ دونوں طرف سے ہزاروں آدمی کام آئے۔ سوا اس کے اور شہر بہتیرے دیکھے کہ بہت آباد اور عرب کے عمل میں تھے۔ اس کے بعد شہر حبش اور اٹلی اور اٹنا پہاڑ نظر آیا۔ اس سے شعلہ آگ کا نکلتا، مگر بہ جہت دوری اور تاریکی ابر غلیظ کے دھویں کی صورت دکھائی دیتا۔ مالٹا
آٹھویں فروری 1838ء کو ڈیڑھ پہر رات گئے، مالٹا میں پہنچا۔ جہاز سے اترا۔ دوسرا جہاز ملیزر نام اسکندریہ تک ایک سو بیس روپیہ کرایہ پر ٹھہرا کر اسباب اپنا اس پر لے گیا۔ اس وقت سب صاحبان عالیشان نے میری سفارش کی چٹھی کرنیل لو صاحب رزیڈنٹ لکھنؤ کے نام پر لکھ کر مرحمت فرمائی۔ لارڈ بنکم صاحب نے بھی چٹھی میں بہت طرح سے سعی کی۔ ان صاحبوں کی خوبیوں کو میں بیان نہیں کر سکتا ہوں کہ مجھ مسافر پر کیا کیا عنایت فرمائی۔ میں ملیزر جہاز کے کپتان سے دوپہر کی رخصت لے کر مالٹا کی سیر کرنے چلا۔ کپتان صاحب نے مجھ سے چلتے وقت کہا کہ اگر تم کو آنے میں عرصہ کھچے گا، جہاز روانہ ہووے گا، تم کو یہیں رہنا پڑے گا۔ میں ڈرتے ڈرتے سیر کو گیا۔ شہر دیکھا آباد خُجستہ بنیاد۔ فرش بازار سنگ مرمر سے بنا۔ دو طرفہ میوہ فروشوں کی دکان پر میوہ چنا۔ زیادتی میوہ جات سے بازار باغ معلوم ہوتا۔ دیکھتے دیکھتے کلیسائے سنٹ جان تک پہنچا۔ وہ بہت قدیمی رومن کا بنایا ہوا تھا۔ عمارت اس کی بلند، کنگرے فلک پیوند۔ تصویریں حواریوں وغیرہ کی رکھیں۔ بندگی کے لیے کھڑے تھے صاحبان دین۔ دوسری طرف ایک مکان میں گیا، وہاں پادریوں نے ترک دنیا کر کے رہنا اختیار کیا۔ گوشہ تنہائی میں تجرد سے موافقت کر کے تعلقات دنیا سے ہاتھ اٹھایا۔ ان کے معتقد اور مرید کھانا بھیجتے ہیں اور غذائے نفیس ان کو کھلاتے ہیں۔ دنیا داروں سے ان کو زیادہ موٹا اور فربہ پایا۔ سمجھا کہ گوشہ کو بیٹھنا محض کھانوں لطیف اور زیادتی معتقدوں کے لیے تھا۔ ان سے یہ حرکت بد نظر آئی۔ ماباپ نے کس محنتوں سے ان کی پرورش کی، اس خیال سے کہ بوڑھاپے میں ہمارے کام آویں۔ افسوس کہ وہ جوان ہو کر اس سعادت سے باز رہیں بلکہ آپ اوروں کے ٹکڑوں پر نظر لگاویں۔ میرے نزدیک بہتر وہ شخص ہے کہ باوجود تعلق دنیوی اور بارِ عیال و اطفال کے فکر عاقبت سے غافل نہ ہو۔ سوائے اپنی جورو کے اور کسی عورت پر مائل نہ ہو، عذابِ خدا تعالیٰ سےہمیشہ ڈرتا رہے، حتی الامکان بندگان خدا سے نیکی کرتا رہے۔ درحقیقت وہ پادری گوشہ نشین مانند سانڈوں بنارس کے موٹے تازے نظر آئے۔ بے محنت باربرداری کے دانہ گھاس غیروں کا کھا کر موٹے ہوتے ہیں۔ بعد اس کے اور تین مکانوں عالیشان کی سیر کی۔ عمارت ان کی پسند طبیعت آئی۔ پھر وہاں سے اس سرا میں کہ لارڈ بنکم صاحب تشریف رکھتے تھے، گیا۔ ان سے اور ان کی بی بی سے رخصت چاہنے والا ہوا۔ دونوں صاحبوں نے اس فقیر کو شراب وین پلائی۔ جدائی میری سے رنجش خاطر بہم پہنچائی، مجھ کو بھی رقت آئی۔ اس لیے کہ جہاز پر ہر روز لارڈ صاحب اور بی بی ان کی شراب وین پلاتی تھیں اور باتوں عنایت آمیز سے دل میرا خوش فرماتی تھیں۔ خدا ان کو آفات زمانہ سے بچاوے اور ہمیشہ روز عیش و عشرت دکھلاوے۔ ناگاہ آواز توپ جہاز کی کان میں آئی۔ واماندوں نے روانگی جہاز کی خبر پائی۔ بندہ مضطرب ہو کر لارڈ صاحب کے پاس سے اٹھ کر کنارے دریا کے آیا۔ لنگر جہاز کا کھلا دیکھا اور قریب روانگی کے تھا۔ ایک اور جہاز جنگی ایشیہ نام وہیں قیام رکھتا۔ نول صاحب کپتان اس کے نے مجھ کو بڑے اصرار سے جہاز پر بلایا اور اس کا تماشا دکھلایا۔ چوراسی ضرب توپ اس میں لگیں۔ جہاز مضبوطی میں جوں قلعہ آہنیں۔ ازانجا کہ ہمارا جہاز آمادۂ روانگی تھا، زیادہ ٹھہرنا مناسب نہ جانا۔ ایک دو کلمہ کہہ سن کر اپنے جہاز پر سوار ہوا، کپتان نے کہا۔ اگر تم آنے میں ایک لحظہ دیر کرتے، جہاز روانہ ہوتا۔ تم ہر گز ہم تک نہ پہنچتے، مانند پادریوں سائل نان طلب کے یہیں اوقات گزاری کرتے۔ بندہ درگاہ الٰہی میں شکر بجا لایا اور جہاز پر سوار ہو کر آگے چلا۔ اسکندریہ
تیرھویں تاریخ فروری 1838ء کےجہاز ہمارا شہر اسکندریہ میں پہنچا۔ جہاز سے اتر کر مع دوست و احباب روانہ شہر ہوا۔ کنارے دریا کے لڑکے عرب کے گدھے کرائے کے لیے ہوئے کھڑے تھے۔ ہر وضع و شریف کو ان پر سوار کر کر لے جاتے۔ ہر چند ابتدا میں اُس سواری سے نفرت ہوئی، لیکن بموجب ہر ملکے و ہر رسمے کے آخر ہم نے بھی گدھوں کی سواری کی اور سرا کی راہ لی۔ گلی کوچے تنگ اور راہی بہت تھے۔ اس لیے لڑکے گدھے والے آگے بجائے بچو بچو کے یمشی یمشی پکارتے، لوگوں کو آگے سے ہٹاتے، نہیں تو گذرنا اُس راہ سے دشوار تھا۔ بندہ راہ بھر اُس شہر کا تماشا دیکھتا چلا۔ کنارے شہر کے محمد علی شاہ مصر کے دو تین مکان بنائے ہوئے نظر آئے۔ ایک قلعہ قدیمی تھا، وہیں اُس میں توپیں ناقص از کار رفتہ پڑیں۔ محمد علی شاہ بادشاہ مصر کا ہے۔ بہتّر برس کی عمر رکھتا ہے۔ بہت صاحب تدبیر و انتظام ہے، جہاز جنگی اُس کے پُر استحکام۔ صفائی اور سب باتوں میں مثلِ جہازِ انگریزی۔ مگر افسروں جہاز کی پوشاک نفاست میں بہ نسبت جہازیوں انگریزی کے کم تھی۔ عقلِ شاہ مصر پر صد ہزار آفریں کہ ایسی باتیں رواج دیں۔ غرض کہ دیکھتا بھالتا گدھے پر سوار سرا میں پہنچا۔ اسباب اُتارا۔ پھر سیر کرنے کنارے دریا کے آیا۔ کپتان ملریز جہاز کے سے ملاقات ہوئی۔ اس نے نہایت اشتیاق سے یہ بات فرمائی کہ آؤ میں نے ذکر تمھارا یہاں کے بڑے صاحب سے کیا ہے اور تمھاری تلاش میں تھا۔ بندہ بپاسِ خاطر اُن کی ہمراہ ہو کر بڑے صاحب کی ملاقات کو گیا۔ بڑے صاحب اور میم اُن کی نے نہایت عنایت فرمائی اور وقت شام کے دعوت کی۔ بندے نے قبول کر کے مان لی۔ بعد اس کے صاحب موصوف سے یہ غرض عرض کی کہ میں ارادہ رکھتا ہوں یہاں کے مکانوں اور عجائبات کو دیکھوں۔ کوئی آدمی ہوشیار اپنا میرے ساتھ کیجیے کہ ایسے مکانات اور اشیائے عجیب مجھ کو دکھلاوے۔ انھوں نے ایک آدمی رفیق اپنا میرے ساتھ کیا۔ نام اس کا مصطفیٰ تھا کہ یہ شخص اچھی طرح سے سب مکان تم کو دکھلائے گا۔ میں نے مصطفیٰ کے ساتھ باہر آ کر پوچھا۔ وطن تیرا کہاں ہے اور نام تیرا کیا۔ اس نے کہا وطن میرا حبش ہے اور نام مصطفیٰ۔ ہندی زبان میں بات کی۔ مجھے حیرت تھی کہ رہنے والا حبش کا ہے اردو زبان کیونکر جانتا ہے۔ پھر اس نے چٹھی نیک نامی اپنی کی دکھلائی۔ اُس میں تعریف چستی اور چالاکی اُس کی لکھی تھی کہ یہ شخص بہت کار دان اور دانا ہے۔ ساتھ ہمارے ہندوستان، ایران، توران، انگلستان، فرانسیس میں پھرا ہے۔ میں نے چٹھی دیکھ کر اُس سے حال لندن کا پوچھا کہ آیا وہ شہر تجھ کو کچھ بھایا۔ کہا وصف اُس کا ہرگز نہیں قابلِ بیان ہے۔ فی الواقعی وہ ملکِ پرستان ہے۔ جن کا میں نوکر تھا انھوں نے لندن میں تین ہزار روپے مجھ کو دیے تھے۔ میں نے سب پریزادوں کی صحبت میں صرف کیے۔ یہ سن کر ہم سب ہنسے اور اُس کے ساتھ باہر آئے۔ وہ باہر نکل کر دوڑا۔ عرب بچوں کو جو گدھے کرائے کے اپنے ساتھ رکھتے، دو چار لات مکّے مار کر اپنے ساتھ مع تین گدھوں تیز قدم کے لایا۔ مجھ کو اور ہیڈ صاحب اور پرنکل صاحب کو ان پر سوار کر کے چلا اور گدھوں کو ہانک کر دوڑایا۔ اتنے میں ہیڈ صاحب کا گدھا ٹھوکر کھا کر گرا اور ہیڈ صاحب کو گرایا۔ وہ بچارے گر کر بہت نادم اور شرمندہ ہوئے۔ مصطفیٰ نے دو تین کوڑے اس گدھے والے کو مارے، وہ بلبلا کر زمین پر گرا۔ زمیں کا چھلا اُچھل کر ہیڈ صاحب کے کپڑوں پر پڑا۔ وہ بہت ناخوش ہوئے اور جس سرا میں اترے تھے، پھر گئے۔ میں نے مصطفیٰ سے کہا اس قدر ظلم و بدعت بے جا ہے۔ کہا قوم عرب بد ذات اور شریر ہوتے ہیں، بغیر تنبیہ کے راستی پر نہیں آتے۔ میں نے کہا تم بھی اسی قوم سے ہو، انھیں کی سی خلقت رکھتے ہو۔ جواب دیا اگرچہ وطن میرا بھی یہی ہے مگر میں نے اور شہروں میں رہ کر خُو یہاں کی سر سے دور کی ہے۔ پھر میں نے مصطفیٰ سے کہا میرا قصد ہے حمام میں نہانے کا۔ وہ ایک حمام میں لے گیا، اندر اس کے حوض بھرا پانی کا تھا۔ راہ فواروں سے پانی بہتا۔ کئی ترک کنارہ اُس کے بیٹھے لطف کر رہے تھے۔ کوئی قہوہ، کوئی چپک پیتا۔ بندہ نے موافق قاعدہ مقرر کے وہاں جا کر کپڑے نکالے۔ پانچ چھ حمامی مالشِ بدن میں مشغول ہوئے۔ اپنی زبان میں کچھ گاتے جاتے مگر مضامین اس کے میری سمجھ میں نہ آتے۔ جب وہ ہنستے، میں بھی ہنستا، جب وہ چپ رہتے، میں بھی چپ رہتا۔
میں نے کہا مصطفیٰ سے کہ ان سے کہہ دے موافق رسم اس ملک کے بدن ملیں۔ کسی طرح سے کمی نہ کریں، ان رسموں سے مجھ کو پرہیز نہیں۔ مذہب سلیمانی میں ہر امر موقوف ہے ایک وقت کا۔ ایک وقت وہ ہوا کہ میں جہاز میں میلا کچیلا تھا۔ ایک وقت یہ ہے کہ نہا رہا ہوں۔ میں ان کو راضی کروں گا خوب سا انعام دوں گا۔ انھوں نے بموجب کہنے کے بدن خوب سا ملا اور اچھی طرح نہلایا۔ بعد فراغت کے ایک اور مکان میں لے گئے۔ اس میں فرش صاف تھا۔ گرد اُس کے تکیے لگے۔ اُس پر بٹھلا کر پوشاک پہنائی۔ مجھ کو اُس سے راحت آئی۔ بعد ایک دم کے تین لڑکے خوبصورت کشتیاں ہاتھ میں لے کر آئے۔ ایک میں قہوہ، دوسرے میں شربت، تیسرے میں قلیاں چپک رکھ لائے۔ فقیر نے شربت اور قہوہ پیا۔ حقہ چپک کا دم کھینچا۔ پھر ایک خوشبو مانند عطر کے مانگ کر لگائی۔ بتیاں اگر وغیرہ کی جلائی۔ حمام کیا بجائے خود ایک بہشت تھا۔ دل میں خیال آیا اگر شاہدِ شیریں ادا غم زدہ ہو، یہ مقام غیرت دہِ روضۂ رضواں کا ہو۔ دو گھڑی وہاں ٹھہرا پھر باہر نکل کر کئی روپئے حمامیوں کو دے کر بڑے صاحب کے مکان پر آیا۔ نام ان کا ٹن بن صاحب تھا۔ کپتان صاحب جنھوں نے میری تقریب کی تھی وہ بھی موجود تھے۔ جا بجا کی باتیں اور ذکر رہے۔ بعد اس کے میں نے ٹن بن صاحب سے پوچھا کہ یہاں افسران فوج سے تمھاری ملاقات ہے یا نہ۔ انھوں نے کہا، آگے مجھ سے اُن سے بہت دوستی تھی مگر ان کی حرکتوں سے طبیعت کو نفرت ہوئی۔ اس واسطے اُن سے ملاقات ترک کی۔ اکثر وہ لوگ میرے مکان پر آ کر شراب برانڈی پیتے اور چپک کے اتنے دم کھینچتے کہ مکان دھویں سے سیاہ ہوتا۔ لا چار میں نے ان سے کنارہ کیا۔ اے عزیزانِ ذی شعور! اگر جناب رسول مقبول اجازت شراب نوشی کی دیتے، یہ لوگ شراب پی کر مست ہو کر کیا کیا فساد برپا کرتے۔ باوجود ممانعت کے یہ حرکتیں کرتے ہیں۔ اگر منع نہ ہوتا خدا جانے کیا فتنہ و غضب نازل کرتے، لڑ لڑ مرتے۔ چنانچہ راہ میں اکثر ترک دیکھنے میں آئے۔ قہوہ خانوں میں شراب بھی ہوتی ہے اُس کو لے کر پیتے تھے۔
دوسرے دن گدھے پر سوار ہو کر شہر کا تماشا دیکھنے گیا۔ آدمیوں کو میلے اور کثیف کپڑے پہنے پایا۔ اکثروں کو نابینا دیکھا۔ سبب اُس کا یہ قیاس میں آیا کہ اس شہر میں ہوا تند چلتی ہے، مٹی کنکریلی اُڑ کر آنکھوں میں پڑتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ وہاں کے اپنی اولاد کی ایک آنکھ یا اگلے دانت بخوفِ گرفتاری نوکری فوج محمد علی شاہ کے پھوڑ توڑ ڈالتے ہیں۔ اس عیب سے نوکری بادشاہی سے کہ بد تر غلامی سے ہے، بچاتے ہیں۔ لباس وہاں کے لوگوں کا میرے پسند نہ آیا۔ کثیف اور کالا مانند لباس مشعلچیوں کے تھا۔ قواعد پلٹنوں کی دیکھی، مثل قواعد فوج انگریزی کے تھی۔ ہر ایک سپاہی کے کندھے پر بندوق فرانسیسی۔ سب جوان، جسیم اور موٹے مگر قد و قامت کے چھوٹے۔ کپڑے پرانے، سڑیل پہنے۔ افسر اُن کے بھی ویسے ہی کثیف پوش تھے۔ اگر ایسے لوگ توانا اور قوی فوج انگریزی میں ہوں، بادشاہ روئے زمین کے مقابلہ میں عاجز ہوں اور زبوں۔ مگر یہاں خرابی میں مبتلا تھے، کوئی کسی کو نہ پوچھتا۔ کوئی شخص نوکری فوج شاہی میں بخوشی نہیں قبول کرتا ہے۔ شاہ مصر زبردستی نوکر رکھتا ہے اس لیے کہ خوفِ مضرت و ہلاکت و قلتِ منفعت ہے۔ لوگ اپنی اولاد کو عیبی کرتے ہیں یعنی آنکھ یا دانت توڑتے ہیں تا کہ نوکرئ سپاہ سے بچیں۔ نوکر ہونے کے ساتھی دائیں ہاتھ پر سپاہی کے بموجب حکم شاہی کے داغ دیا جاتا ہے۔ پھر عمر بھر اُسی نوکری میں رہتا ہے، ماں باپ عزیز و اقربا پاس نہیں جا سکتا ہے۔ چھاؤنی فوج کی مانند گھر سوروں کے مٹی اینٹ سے بنی۔ ہر ایک کوٹھری میں سوا ایک آدمی کے دوسرے کی جگہ نہ تھی۔ اونچاؤ اُس کا ایسا کہ کوئی آدمی سیدھا کھڑا نہ ہو سکتا۔ کھانے کا یہ حال تھا کہ شام کو گوشت چاول کا ہریسہ سا پکتا، طباقوں میں نکال کر رکھ دیتے۔ ایک طباق میں کئی آدمیوں کو شریک کر کے کھلاتے۔ معاذ اللہ یہ نوکری کیا بد تر ہے۔ اکبارگی اپنے تئیں دریا یا کنویں میں گرانا بہتر ہے۔ اُس شاہِ والا شان سے یہ امر بعید نظر آتا ہے کہ لوگوں کو زبردستی سے نوکر رکھتا ہے اور ان پر جبر کرتا ہے۔
خیر بندہ تماشا دیکھتے ہوئے باہر شہر کے گیا۔ ایک گورستان دیکھا۔ اُس میں ہزاروں قبریں نظر آئیں۔ دیکھنے والے کو باعثِ حیرت تھیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا اس قدر زیادتی قبروں کا سبب کیا۔ دریافت ہوا کہ یہاں اکثر وبا آتی ہے، ہزاروں آدمیوں کو ہلاک کرتی ہے۔ مکینوں کی اُسی سے آبادی ہے۔ اسکندریہ آباد کیا ہوا اسکندر کا ہے۔ وقت آباد کرنے کے ایک بڑا سا پتھر کھڑا کیا تھا۔ اب تلک قائم اور کھڑا ہے۔ راہوں اور کوچوں میں تنگی ہے۔ اس سبب سے بیشتر وبا آتی ہے۔ آدمی وہاں کے مفلس و پریشان اکثر تھے۔ بعضے راہ میں فاقہ مست اور خراب پڑے ہوئے مثلِ سگانِ بازاری ہندوستان کے، دیکھنے اُن کے سے سخت تنفّر ہوا۔ آگے بڑھا، ایک اور پرانا تکیہ دیکھا، وہاں فرانسیسوں نے محمد علی شاہ کی اجازت سے قبروں کو کھودا ہے۔ مُردوں کو شیشہ کے صندوق میں رکھا پایا ہے۔ ظاہراً ہزار دو ہزار برس پہلے مُردوں کو شیشے کے صندوقوں میں رکھ کے دفن کرتے تھے۔ نہیں مردے صندوقوں میں کیوں کر نکلتے۔ اگرچہ عمارت اُس شہر کی شکستہ ویران تھی۔ مگر آبادی زمانہ سابق سے خبر دیتی۔ کئی وجہوں سے ثابت ہوتا کہ یہ شہر اگلے دنوں میں پُر عمارت اور خوب آباد ہوگا۔ اس واسطے کہ جا بجا اینٹ کا اور پتھر کا نشان تھا۔ زمین کے نیچے سے اکثر سنگِ مرمر نکلتا۔ ان دنوں کئی مکان کوٹھی فرانسیسوں اور انگریزوں کے خوب تیّار ہوئے ہیں۔ سو اُن کے اور سب مکان ٹوٹے پھوٹے ہیں۔ محمدی
پندرھویں تاریخ فروری ۱۸۳۸ء کی، میں اور پرنکل صاحب، ہیڈ صاحب اور ہل صاحب باورچی سرائے مصر کی کشتی پر سوار ہو کر شہر محمدی کو چلے۔ یہاں سے حال سنیے۔ ناؤ نہر محمدی میں رواں ہوئی۔ کیفیت اُس کی اس طرح پر کہ سابق وہ نہر تھی۔ محمد علی شاہ نے اپنے زمانہ سلطنت میں کھدوائی۔ مردوں اور رنڈیوں کو زور ظلم سے پکڑا، نہر کھودنے میں لگایا۔ سات دن میں اسکندریہ سے محمدی تک نہر کو کھدوایا۔ یہاں سے وہاں تک فاصلہ چوبیس کوس کا تھا۔ اس محنتِ شاقہ رات دن کی میں قریب ساٹھ ہزار آدمیوں کے مرے۔ اب اس نہر میں ناؤ آتی جاتی ہے۔ راہ نہر میں کنارے شہر کے ویرانی گانو کے دہات صوبہ اودھ سے یاد دلاتی۔ بسبب ظلم شاہ مصر کے رعیت برباد ہوئی بلکہ بستی اُجڑ گئی۔ تمام راہ میں دیکھتا گیا۔ زمین قابل زراعت کو اُفتادہ پایا۔ عامل ترددِ زراعت میں رہتے ہیں مگر لوگ بہ سبب سخت گیری اور جبر اُن کے کی کشتکاری سے کنارہ کرتے ہیں۔ شاہِ مصر اگرچہ ہر بات میں مردِ دانا ہے پر رعیت پر سخت ظلم کرتا ہے۔ ہر شخص اُس کے ہاتھ سے دست با خدا ہے۔
فقیر چار روز میں اسکندریہ سے محمدی پہنچا۔ پرمٹ گھاٹ پر ناؤ سے اسباب اُتارا۔ محمدی میں صد ہا زن و مرد نابینا نظر آئے۔ بہتیرے لڑکے بغل میں دابے میلے کپڑے پہنے بیٹھے۔ آدمیت سے مطلق بہرہ نہ رکھتے اور میل بدن کے سبب سے ہر ایک کے کپڑے میں جوں پڑی۔ چنانچہ وہ لوگ جوں مارنے میں مشغول تھے۔ یہ حال دیکھ کر مجھ کو نفرت آئی، طبیعت گھبرائی۔ ایک اور امر عجیب دیکھا۔ جس ناؤ پر علم انگریزی ہوتا کوئی کچھ مزاحم نہ ہوتا، محصول پرمٹ کم دینا پڑتا اور جس کشتی پر نشان ترکوں کا دیکھتے۔ ایذا دے کر محصول زیادہ لیتے۔
سبحان اللہ! جس کو حق تعالیٰ صاحب اقبال کرتا ہے، ہر ایک اُس کا پاس کرتا ہے اور ڈرتا ہے۔ جزیرہ انگریزوں کا چھوٹا اور اُن کے ملکوں کے سامنے کیا اصل رکھتا۔ مگر بہ سبب اقبال بے زوال انگریزوں کے، یہاں کے لوگ ڈرتے ہیں۔ کسی طرح کی تکلیف اور ایذا اُن کے متوسلوں کو نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ محمدی میں ہر چیز کی تجارت ہوتی ہے۔ خلقت خرید و فروخت اسباب کی کرتی ہے۔ میں یہاں سے کشتی رودِ نیل پر سوار ہوا، مصر کو چلا۔ پانی نیل کا شیریں اور ہاضمِ طعام ہے بلکہ مثل معجون کے مقوّی اعضاء رئیسہ اندام ہے۔ اسی سبب سے وہاں کے لوگوں کو توانائی میں اوروں سے زیادہ پایا۔ کنارے نیل کے سبزہ زمرد رنگ نظر آیا۔ سبزہ کنارے گنگا کا اس کو دیکھ کر یاد آیا۔ حق یہ ہے کہ ایسا سبزہ اور میٹھا پانی اس کا ہرگز نہ تھا۔ ملاح عربی بہ نسبت ہندیوں کے ناؤ چلانے میں زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔سر سے پانو تک فقط ایک کرتا پہنتے ہیں۔ وقت ناؤ کھینچنے کے اس کو بھی کمر سے لپیٹتے ہیں، بے شرم و حجاب ننگے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہندوستان یا انگلستان کی رنڈیوں کو اُن کی ناؤ پر سوار ہونا نہ چاہیے۔ کشتی ہماری اُستادی ملاحوں عرب کی سے لطف سے رواں تھی کہ اسی عرصہ میں ایک کشتی عَلَم انگریزی کی نظر آئی۔ اس پر ایک شخص بیٹھا پیالہ شراب کا ہاتھ میں لیے شراب پیتا۔ ایک آدمی نے ہماری ناؤ پر سے اُس کو پکارا۔ وہ زبان انگریزی سن کر بہت خوش ہوا۔ اپنی کشتی ہماری کشتی پاس لایا اور دست بدست ہماری کشتی پر آیا۔ نشے میں ایسا مست تھا کہ وقت آنے کے کپڑا اُس کا پانی نیل میں بھیگ گیا۔ ایک پیالہ شراب وین ہم کو پلائی۔ اُسی کے ہاتھ کی کھینچی تھی۔ بعد اُس کے اپنی ناؤ پر معشوقہ مصری کے پاس گیا۔ ظاہراً وہ شخص فقط تفریح طبع کے لیے پھرتا تھا۔ مجھ کو پینے جام وین سے ایسا لطف اُٹھا کہ سابق ہرگز نہ تھا۔ دل مثل آئینہ زنگ زد و دہ کے صاف ہوا۔ کنارے نیل کے بہت جانور ہیں۔ جو شائق شکار بیشتر ہیں، چاہیے کہ وہاں شکار کریں اور تماشا نیل کا دیکھیں۔ بندہ نے بھی شکار بطخ و قاز وغیرہ کا کیا، بہت محظوظ ہوا۔